PDA

View Full Version : افسانہ



گلاب خان
02-21-2011, 12:00 AM
تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ تھک کر چور ہو گیا تو میں رک گیا، وہ بھی رک گیا۔ سڑک کنارے ایک تھڑے پر بیٹھ گیا، وہ بھی بیٹھ گیا۔
مجھے اس کا ساتھ پسند نہیں، بڑا نکتہ چین ہے، بات بات پر ٹوکتا ہے۔ لیکن وہ میری مجبوری ہے، میں اس سے پیچھا چھڑا نہیں سکتا۔
میں نے گردوپیش پر نگاہ ڈالی۔ پاکستان کا حسین ترین شہر اسلام آباد میرے ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ کیوں نا اسلام آباد پر ایک کہانی لکھوں، دفعتاً مجھے خیال آیا۔
”اونہوں!“ وہ بولا۔ ”یہ ہمارا شہر نہیں ہے۔“
”کیوں؟“ میںنے غصے سے اسے دیکھا۔
”اس میں اپنوں کا رنگ نہیںہے، بیگانہ ہے۔“
”اسلامی مملکت کا دارالخلافہ ہے بھئی۔“
”صرف نام کا اسلامی ہے۔ مساوات کا بیری ہے۔“
”ذات پات کا شوقین ہے۔ اونچ نیچ کا مارا ہوا۔“
”کون سی ذات پات؟“ میں نے پوچھا۔
”عہدوں کی، گریڈوں کی، تم اس پر کہانی نہیں لکھ سکتے۔“
”کہانی تو اپنوں کی ہوتی ہے۔ بے گانوں کی نہیں۔“
میںنے اس کی بات کا جواب نہ دیا۔
دیر تک ہم دونوں چپ چاپ بیٹھے رہے۔
میری مشکل یہ ہے کہ جب تک مرکزی خیال نہ ہو، میں کہانی نہیں لکھ سکتا۔ اگر کہانی کے پاس کچھ کہنے کو نہیں تو کیا فائدہ۔ گونگی کہانی کو کوئی کیا کرے۔ پھر یہ بھی ہے کہ کہانی چیخ کر نہ بولے، لب نہ کھولے، آنکھ سے بولے، اکھ نال گل کر گئی۔
کئی ایک دن سے میں کہانی کی تلاش میں تھا۔ کیا لکھوں، کس موضوع پر لکھوں، ایسی بین بجاﺅں کہ سانپ نکل آئے۔
”وہ ہنسا بولا۔ ”بغل میں کٹورہ۔“
”کہاں ہے کٹورہ؟“ میں نے پوچھا۔
اس نے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔ ”تم اس موضوع پر کیوں نہیں لکھتے؟ سارے لکھار اس پر لکھتے ہیں۔ آج کے دور کامن بھاتا موضوع ہے۔ آج کے بوٹے پر لگا ہوا پھل ہے۔“
میں نے مڑ کر دیکھا، درختوں کے پیچھے کچی آباد تھی۔ انتظامیہ نے اسے درختوںاور دیواروں کے پیچھے چھپا رکھا تھا تاکہ دودھ میںمکھی کوئی نہ دیکھ لے۔
میں سڑک کے نیچے اتر گیا۔ درختوں کے جھنڈ سے دیکھا۔ وہاں بیس تیس جھونپڑے تھے۔ دو رویہ مکانوں کے درمیان میں کھلا میدان تھا۔میدان میںیہاں وہاں چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ تو لوگ بیٹھے تھے۔ حقے چل رہے تھے، بچے چارپائیوں کے ارد گرد دوڑ رہے تھے، چیخ رہے تھے، چلا رہے تھے۔ عورتیں اوپن ایئر باورچی خانوں میں چولہوں پر ہانڈیاں چڑھائے بیٹھی تھیں۔ ہاتھ چل رہے تھے، چوڑیاں چھنک رہی تھیں، باتیں ہو رہی تھیں۔
”ارے باﺅ جی!“ قریب ہی سے آواز آئی، دیکھا تو پاس ہی ایک بڈھا بیٹھا جوتے گانٹھ رہا تھا۔
”کس سے ملنا ہے؟“ مجھے اس نے پوچھا۔
”کسی سے بھی نہیں۔“
”پھر کیا دیکھ رہا ہے تو؟“
”دیکھ رہا ہوں، کتنی غربت ہے، کتنا دکھ ہے۔“
”کہاں ہے دکھ؟“ وہ بولا۔ ”یہاں تو میلہ لگا ہوا ہے، بابو جا، سارے اسلام آباد کا چکر لگا، گھوم پھر کر دیکھ، کہیں بھی ایسا ملہ نہیں لگا ہوگا۔ سب کمروں میں بند ہیں، نہ بول نہ بلارا، بوہے بندے، ہونٹ بند، دل بند۔
اور بابو یہ کچی آبادی جو تو دیکھ رہا ہے۔ یہ آبادی نہیںہے، یہ تو ایک کنبہ ہے، ایک کو پیڑ ہووے ہے تو دوجا درد سے ہائے ہائے کرے ہے۔ ایک کا چولہا نہیں جلے ہے تو دوجا ہانڈی میں ایک مٹھ اور دال ڈال لے ہے۔ تو غربت کو کیا سمجھے ہے بابو۔ غربت میں لوگ ایک دوجے کے نیڑے ہو جاویں ہیں۔ امارت میں دور ہٹ جاویں ہیں۔
اور تجھے پتہ ہے بابو۔ پاکستان پر کیا بپتا پڑی ہوئی ہے۔ ہمیں جنے کی ضرورت تھی۔ اس سے زیادہ مل گیا، زیادہ مل جائے تو شرجاگ اٹھتے ہیں۔ فساد کے بلبلے پیدا ہوجاویں ہیں۔
”تو مسلمان ہے کیا؟“ بڈھے نے پوچھا۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”پھر تو اس کو جانتا ہے؟“
”کس کو؟“
”وہ جو سب سے بڑا بندہ تھا۔ جو اللہ کا پیارا تھا۔ اللہ نے کہا میرے پیارے بندے، بول تو کیا چاہتا ہے، تو جو مانگے گا، ملے گا۔ جو چاہے گا، ہوگا۔ بتا امارت میں رہنا چاہے گا یا غربت میں۔ اس نے غربت مانگ لی، غربت میں کوئی صفت ہوگی تو اس نے غربت مانگی۔“
مایوس ہو کر میں پھر چل پڑا۔
کہانی ڈھونڈ میرے سر پر جنون بن کر سوار تھی۔
چلتے چلتے میں رک گیا، وہ بھی رک گیا۔
میرے سامنے وہ کھڑی تھی۔
گلاب کا ایک بوٹا، اوپر ایک ڈوڈی۔ ادھ کھلی، ادھ بند، ادھ گلابی، ادھر ہری۔
ہونٹ بند تھے۔ آنکھیں باتیں کر رہی تھیں۔
انگلیوں سے میگنیٹک لہریں نکل رہی تھیں۔
”آﺅ!“ وہ بولی، ”میں ہوں وہ کہانی جسے تم ڈھونڈ رہے ہو۔“
”اونہوں! مت جاﺅ، مت جاﺅ۔“ میرے ساتھ زیر لبی میں بولا۔ ”اس کی کہانی تو تم سالہا سال سے لکھ رہے ہو۔“
”میری کہانی۔“ وہ بولی۔ ”سبھی لکھ رہے ہیں، نہ جانے کب سے لکھ رہے ہیں، لیکن کوئی لکھ نہیں پایا۔“
اور میری کہانی لکھی جاتی تو آج میں صرف آرائش و زیبائش نہ سمجھی جاتی۔ میری حیثیت دیکھن دکھن تک محدود نہ ہوتی۔ تیرے بھائی بند مجھے خوش وقتی نہ سمجھتے۔“
اس نے ایک سرد آہ بھری۔ مجھے سب باہر سے دیکھتے ہیں۔کسی نے میرے اندر جھانک کر نہیں دیکھا۔ کسی نے مجھے نہیں جانا۔“ وہ خاموش ہوگئی، دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ دفعتاً اس نے سر اٹھایا اور میرے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی۔
”میںتجھے جانتی ہوں۔“ وہ بولی۔ ”تو ایلی ہے نا۔ میں ایلن ہوں۔ سنا تونے، میں ایلن ہوں۔“
اس نے ایک پوز بنایا اور یوں کھڑی ہوگئی جیسے مٹھاس کی اک پھوار ہو۔
مجھے ایسا لگا جیسے ورق میں لپٹی ہوئی مصری کی ڈلی ہو۔ جی میں آیا کہ منہ میں ڈال کر چوس جاﺅں۔“
دفعتاً میرا ساتھی بولا۔ ”ہوش کر، میرا تو منہ ہی نہیں۔ جب تھا، تب جرا¿ت نہ تھی۔ اب خالی جرا¿ت کا جھنجھنا بجانے سے فائدہ؟“
”دیکھا!“ وہ بولی۔ ”مجھ میں دونوں روپ ہیں۔ دیوی بھی ہوں، ناری بھی ہوں، انگاروں سے بھسم بھی کرسکتی ہوں۔ سوکھے کو ہرا بھرا بھی کرسکتی ہوں۔ میں تیری کہانی ہوں۔
میرے ہوتے ہوئے تو کسی اور پر کہانی نہیں لکھ سکتا۔“
”میں لکھوں گا تجھ پر کہانی۔“ میں نے کہا۔
”رک جا!“ میرا ساتھی بولا، اس نے میرا بازو تھام لیا۔
”بے شک، یہ رنگ رس بھری کہانی ہے لیکن یہ ایسی کہانی ہے جسے صرف بیتا جاسکتا ہے، لکھا نہیںجاسکتا۔ تو بیتنے میں کھو جائے گا، لکھنے کا ہوش نہیں رہے گا۔“
شام پڑ چکی تھی، پتہ نہیں شام اتنی اداس کیوں ہوتی ہے، مدھم اداسی، میٹھی اداسی۔ ایسے لگتا ہے جیسے شام نے بال کھیر رکھے ہوں۔ چہرہ سستا ہوا ہو۔ انتظار، مایوسی بھرا انتظار۔
راگ ودھیا والوں نے شام کے راگ میں آگ لگارکھی ہے۔ پتہ نہیں کیوں، وہ تو بڑے سیانے ہیں، پر مجھے لگتا ہے جیسے شام آگ نہیں، سلگن ہے۔ مدھم سلگن جیسے دیئے میں تیل نہ رہا۔ سوکھی بتی سلگ رہی ہو۔
دکان میںاندھیرا گاڑھا ہوتا جارہا تھا۔ ایک بتی سلگ رہی تھی۔ وہ تجوری کھولے بیٹھا گن رہا تھا۔
میرا ساتھی بولا۔ ”رک جاﺅ۔ اس سیٹھ کو دیکھ رہے ہو نا۔“
”دیکھ رہا ہوں۔“ میں نے کہا۔
”تم نے اس پر کبھی کہانی نہیں لکھی۔“
”اس کی کوئی کہانی ہوتو لکھوں۔“
”سبھی لکھتے ہیں۔“
”ہاں بالکل لکھتے ہیں پر وہ کہانی نہیںہوتی۔ غم و غصے کا اظہار کہانی نہیںہوتی۔ کہانی نعرے نہیں لگاتی، اودھم نہیں مچاتی، اشتعال پر نہیںابھارتی، مزاحمت کے جھنجھٹ میں نہیںپڑتی۔ کہانی تو اک چھوٹا سا چشمہ ہوتی ہے۔ جو دھرتی سے ابلتا نہیں، رستا ہے، بوند بوند رستا ہے۔ ہمدردی کا چشمہ دکھ بھرے لگاﺅ کا چشمہ۔ بھیگ ہی بھیگ۔
”جھوٹ بولتے ہو۔“ اس نے مجھے ڈانٹا۔ ”تمہاری کسی کہانی میں بھیگ نہیںہوتی۔ سوکھی کاٹھ۔“
”سچ کہتے ہو۔ میںاپنی کسی کہانی میں بھیگ پیدا نہ کرسکا۔ قاری کو بھگو نہ سکا۔ لاکھ کوششیں کیں پر بات نہ بنی۔ بیسیوں لکھیں پر کہانی نہ لکھ سکا۔“
”جھک مارتے رہے۔“ وہ بولا۔
نہیںجھک نہیںمارا۔“
”تو پھر....“
”چمکیلی باتیں کرتا رہا۔ دکھاوے کی باتیں۔ توجہ طلبی کی باتیں، پھلجھڑیاں چلاتا رہا، دیکھو میری طرف دیکھو۔“
”اپنی ڈگڈگی بجاتا رہا نا، کہانی اپنی بات نہیں ہوتی۔“ وہ بولا۔ ”دوجوں کی بات ہوتی ہے۔ کیا تم اپنی بات کرنے سے کبھی نہیںاکتائے؟“
”کیا مطلب؟“ میںنے غصے سے پوچھا۔
”اب بھی تو کہانی کے پردے میں تم اپنی بات کر رہے ہو۔ سیٹھ کی بات کیوں نہیںکرتے۔“
”کیوں کہتے ہو کہ اس میں کوئی کہانی نہیں ہے۔“
”یہ تو دولت کا قیدی ہے۔ دولت نے اسے ہائی جیک کر رکھا ہے۔ اس بے چارے میں تو میں بھی نہیں رہی۔ دل کی جگہ پیسہ ٹک ٹک کر رہا ہے۔ دنیا سے بھی گیا، خود بھی گیا، بے چارہ مظلوم۔“
”اس کی مظلومیت پر کہانی لکھو۔“
”نہ نہ نہ نہ۔“
”کیوں، کیا لکھ نہیں سکتے؟“
”لکھ سکتا ہوں۔“
”پھر لکھتے کیوں نہیں؟“
”کس سے ڈرتے ہو؟“
”ان سے ڈرتا ہوں جو اسے ظالم سمجھے ہیں۔“
کھڑاک سے دکان کا دروازہ بند ہو گیا۔
”وہ دیکھ، وہ....“ وہ چلایا۔ ”تیرا موضوع۔“
میںنے سر اٹھایا۔ سامنے دربار جھلمل جھلمل کر رہا تھا۔
”نہیں!“ میں نے زیرلب کہا۔ ”یہ میرا موضوع نہیںہے، یہ داتا لوگ ہیں۔ بزرگ ہیں، اللہ والے ہیں، یہ چوتھی سمت میں جیتے ہیں۔ زیادہ دیکھتے ہیں، زیادہ سنتے ہیں، زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ زماں اور مکاں سے بے نیاز ہیں۔ ان کا میں احترام کرتا ہوں لیکن میں ان کو سمجھ نہیں سکتا۔ ان کے بارے میں میںمنہ کھولوں، نہ نہ نہ بھائی۔ چھوٹا منہ اور بڑی بات۔“
”تم داتا کو کیوں دیکھتے ہو؟ بزرگ کو کیوں دیکھتے ہو؟“ وہ بولا۔ ”کرامتوں کو کیوں دیکھتے ہو؟ معجزوں کو کیوں دیکھتے ہو۔
تم اس بندے کو کیوں نہیں دیکھتے جو داتا کی اوٹ میں بیٹھا تھا۔ جو اتنا عظیم تھا کہ ا س نے داتا کا مرتبہ پا لیا۔
”سب داتاﺅں کی باتیں کرتے ہیں۔ سرکار قبلاﺅں کی باتیں کرتے ہیں۔ باباﺅں کی باتیں کرتے ہیں۔ کرامتوں کے چھنکنے چھنکاتے ہیں۔ اس عظیم بندے کی بات تو کوئی نہیںکرتا جس نے انہیں بابا بنا دیا۔ سرکار قبلہ بنا دیا۔ سلطان الہند بنا دیا، داتا بنا دیا، تو اس بندے کی بات کیوں نہیںکرتا؟“ اس کی آواز میںغصہ کھول رہا تھا۔
ہم دونوں درگاہ میں داخل ہوچکے تھے۔
ہمیں دیکھ کر درگاہ کا متولی بوڑھا اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ زیر لب بڑبڑایا۔ ”وہ بندہ تو ایک ہی ہے، ایک ہی ہے جسے دو جہانوں کا مالک بنا دیا گیا۔ پر وہ بندہ بن کر جیا۔ صرف بندہ بن کر، نہ بابا بنا نہ سرکارقبلہ بنا، نہ داتا بنا نہ کرامتیہ بنا، نہ معجزاتی بنا۔ صرف بندہ۔ ” صرف بندہ، صرف بندہ، صرف بندہ۔“ گنبد چلایا۔
”صرف بندہ، صرف بندہ۔“ باہر سے آواز آئی جیسے آسمانوں میں گنبد کی آواز کی گونج تھرتھرا رہی ہے۔
ساری کائنات اس گونج سے بھری ہوئی تھی۔ ”صرف بندہ، صرف بندہ۔“

این اے ناصر
05-05-2012, 12:57 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔