PDA

View Full Version : ڈاکٹرسمیرا درانی



گلاب خان
02-21-2011, 12:27 AM
امریکی جاسوس اور پاکستانیوں کے سفاک قاتل نامعلوم ”ریمنڈ ڈیوس“ جو جاسوسی آلات سمت پکڑے جانے کے بعد عدالتی مراحل سے گزر رہا ہے۔ امریکہ کی ساری حکومت اور اعلیٰ قیادت سی آئی اے کے اس کرائے کے قاتل کے چھڑانے کے لئے پاکستان پر غیر معمولی دباﺅ ڈال رہی ہے یہی وجہ ہے کہ سینیٹر جان کیری نے پولیس تفتیش کے مطابق قاتل ثابت ہو جانے والے ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں کئی ٹیکنیکل سوالات کا جواب نہیں دیا جبکہ پاکستان کے قابل فخر سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس میں ڈھولک کی تھاپ پر نہیں ڈنکے کی چوٹ پر واضح کیا کہ ریمنڈ ڈیوس کو وہ استثنیٰ حاصل نہیں جو امریکی مانگ رہے ہیں اور نہ ہی ریمنڈ ڈیوس کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ معاملہ ذاتی انا کا نہیں پاکستان کے وقار کا ہے۔
مگر مقامِ افسوس ہے کہ امریکی تلوے چٹنے کی خواہش میں بے قرار پی پی پی سیکرٹری اطلاعات نے اپنےبونے قد کے ساتھ بڑے بھونڈے انداز میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کے حق میں ایسے ایسے قانونی دلائل کتابوں سے نکال کر پیش کرنے کی کوشش کی جیسے وہ اچانک خارجہ امور کی بھی ماہر بن گئی ہوں اور پھر منظم انداز میں منعقد کی گئی پریس کانفرنس کے کچھ دیر بعد ہی اپنے تمام موقف کو ذاتی قرار دیدیا۔ سچ تو یہ ہے کہ فوزیہ وہاب نے ”امریکی گشتی سفیر“ جسے انگریزی میں ایمبیسڈر ایٹ لارج کہتے ہیں بننے کی تمام صلاحیتوں کا پوری ڈھٹائی کے ساتھ کھل کر اظہار کیا ہے جس پر پاکستانی قوم اور عوام کا ردعمل اخبارات میں جبکہ نوجوان نسل کے جذبات موبائل فونوں پر کئے جانے والے ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے سامنے آ چکے ہیں۔
امریکی اہلکار نے لاہور میں دن دہاڑے دو پاکستانیوں کو قتل کیا تو اس کے حراست میں لئے جانے کے فوراً بعد امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے حکومت پاکستان کو فون کر کے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ ماخوذ امریکی ایک سفارتی اہلکار ہے اس لئے اسے ویانا کنونشن میں دئیے جانے والے استثنیٰ کے تحت رہا کردیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر پاکستان کے لئے امریکی امداد خطرے میں پڑ سکتی ہے اس کے بعدایک امریکی سنیٹر نے اپنی حکومت سے کھل کر یہ مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد کا بازو مروڑنے میں کوئی تاخیر نہ کرے اور اس کی سول اور فوجی امداد بند کر دے امریکی اخبارات و جرائد میں آئے دن اس نوع کی خبریں اور تبصرے شائع ہو رہے ہیں کہ اگرپاکستان نے امریکی مطالبے کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو پاک امریکہ تعلقات اپنے اختتام کو پہنچ سکتے ہیں۔ امریکی قونصل جنرل کارمیلا کانرائے نے بھی اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی استثنیٰ کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی رہائی کا مطالبہ دہرایا ہے خود صدر اوبامہ نے بھی براہ راست صدر زرداری سے رابطہ کر کے انہیں کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں ویانا کنونشن کے تحت حاصل استثنیٰ کا احترام کیا جائے۔
جہاں تک ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی اہلکار ہونے کا تعلق ہے تو اس کے اثبات کے لئے واحد شہادت یہ ہے کہ اس کے پاس ایک سفارتی پاسپورٹ ہے جبکہ یہ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ مذکورہ امریکی شہری کا اصل نام ریمنڈ ڈیوس نہیں اور اس کی سفارتی حیثیت بھی بہت مشکوک ہے کیونکہ اسے خود امریکی قونصل خانے کی جانب سے کئی بار انتظامی عملے کا ایک فرد یا ٹیکنیکل مشیر قرار دیا جا چکا ہے۔ اس لئے فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ریمنڈ ڈیوس سفارتی استثنیٰ کا استحقاق رکھتا بھی ہے یا نہیں اور اگر بالفرض اسے تسلیم بھی کر لیا جائے تو پھر اس امر پر غور کرنا پڑے گا کہ کیا اس استثنیٰ کا دائرہ فوجداری جرائم پر محیط ہے یا نہیں۔ امریکی تاریخ شاہد ہے کہ اس نے اپنے ملک میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے بیرونی سفارت کاروں کو کبھی معاف نہیں کیا اور ایسے بعض افراد کو توکئی کئی سال کی قید کی سزائیں بھی دی گئیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ عدالتوںکے کام میں مداخلت نہیں کرتا ۔
جب امریکی حکومت اپنی عدالتوں کا اس قدر احترام کرتی ہے کہ وہ بے حدمشکوک الزام میں پکڑی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کے لئے تیار نہیں تو وہ دہرے قتل میں ملوث اپنے ایک شہری کے مقدمے کا فیصلہ پاکستانی عدالتوں میںہونے کا انتظار کیوں نہیں کرتی ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا سبب خود ہمارے حکمرانوں کی کمزوری ہے کیونکہ آزادی کے بعد نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود انہوں نے عزت و وقار کے ساتھ جینا سیکھا ہی نہیں کہ جب بھی انہیں کسی دباﺅ کا سامنا ہوتا ہے وہ اس کا جرا¿ت و ہمت سے مقابلہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ جس سے طاقتور کو مزید شہ ملتی ہے کہ وہ ان کی کمزوری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے ۔سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنے منصب سے سبکدوشی کے پس پردہ محرکات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں اپنے منصب کی قربانی اس لئے دینا پڑی کہ وہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارت کار سمجھتے ہیں نہ استثنیٰ کا اہل۔
تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر امریکہ اپنے ایک مجرم شہری کو بچانے کے لئے پاکستان سے تعلقات تک کو داﺅ پر لگانے کے لئے تیار ہو سکتا ہے تو حکومت پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم رہنے کاراستہ کیوں اختیار نہیں کر سکتی۔ ہمارے ارباب اختیار کو یہ بات پوری طرح ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے کہ اس وقت امریکہ اپنے داخلی حالات اور افغانستان میں جس قسم کی صورتحال سے دوچار ہے اس میں وہ پاکستان کے ساتھ روابط ختم کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے سیاسی و فوجی ماہرین ایک بار نہیں متعدد مرتبہ اقرار کر چکے ہیں کہ افغانستان کے مستقبل کا کوئی فیصلہ پاکستان کے تعاون اور مدد کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کواپنی اس حیثیت کا پوراپورا ادراک کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور خواہ مخواہ کا دباﺅ قبول نہیں کرنا چاہئے ویسے بھی یہ ممکن نہیں کہ امریکہ صرف ایک آدمی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دے ۔اسی سیاق میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کا یہ بیان توجہ طلب ہے کہ اگر ریمنڈ ڈیوس جیسا جرم ان سے سرزد ہوجاتا تو وہ اخلاقاً استثنیٰ کا تقاضا نہ کرتے۔ اس معیار پر امریکہ پورا اترتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا لیکن ہمارے ارباب حکومت کو اس امرکا احساس ہونا چاہیے کہ وہ اپنے فیصلوں کے لئے پاکستانی قوم کے سامنے جوابدہ ہےں اس لئے انہیں بلاجواز خارجی دباﺅ کے سامنے ایسا طرز عمل اختیارنہیں کرنا چاہیے جوہمارے قومی وقار کے منافی ہو۔
Share|