PDA

View Full Version : تبدبیر کا کاسہ ہے تقدیر گداگر ہے



گلاب خان
02-25-2011, 02:54 PM
تبدبیر کا کاسہ ہے تقدیر گداگر ہے
ایوان سخاوت کی تعمیر گداگر ہے
سو رنگ بھرے اس پھر بھی یہ رہی مورت
احساس تصور میں تصویر گداگر ہے
حالات کے دامن میں افلاس تغیر ہے
اس دور میں انسان کی توقیر گداگر ہے
اب شہر بصیرت کی اونچی ہوئی دیواریں
چڑھتے ہوئے سورج کی تنویر گداگر ہے
ہر داغ تمنا ہے کشکول غم ہستی
آہوں سے شکایت ہے تاثیر گداگر ہے
فنکار کی ہر صورت دیوزہ نغمہ ہے
ساغر در زنداں پر زنجیر گداگر ہے

این اے ناصر
03-31-2012, 12:57 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ