PDA

View Full Version : جاسوس ریمنڈ*ڈیوس اور پاکستان کے اٹیمی اثاثے



اوشو
03-04-2011, 03:39 AM
جاسوس ریمنڈ ڈیوس اور پاکستان کے ایٹمی اثاثے
..آج کی دنیا…اشتیاق بیگ جنگ نیوز



اطلاعات کے مطابق ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کا ایک ہائی پروفائل جاسوس ہے جسے پاکستان میں ایک اہم مشن پر بھیجا گیا تھا۔ اس کے قبضے سے برآمد ہونے والی 7 موبائل سمز سے اس کے القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی اور دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے جس سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے تانے بانے ریمنڈ سے جاملتے ہیں، ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ وہ القاعدہ اور سی آئی اے کے درمیان پل کا کام بھی انجام دے رہا تھا۔ ایک نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ ریمنڈ کو القاعدہ کو ایٹمی مواد پہنچانے کا کام سونپا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت ایٹمی مواد کو امریکہ کے خلاف استعمال کرکے پاکستان پر حملے کا جواز پیدا کرنا تھا تاکہ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کو نشانہ بنایا جاسکے۔ امریکہ ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ اگر امریکہ پر 9/11کوئی حملہ ہوتا ہے تو امریکہ پاکستان کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ریمنڈ ڈیوس میڈیکل شعبے میں استعمال ہونیوالا ریڈیو ایکٹو میٹریل دہشت گردوں کو فراہم کرسکتا تھا جسے بارود کیساتھ ملاکر دھماکہ کیا جاسکتا تھا جس سے محدود علاقے میں ایٹمی اثرات پھیل سکتے تھے۔ اس دھماکے کو ڈرٹی بم کا نام دے کر دنیا کو یہ باور کرایا جاتا کہ پاکستان کا ایٹمی مواد دہشت گردوں کے ہاتھ لگ چکا ہے جس سے خطے اور امریکہ کی سلامتی کو خطرہ ہے جسے جواز بناکر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بنایا جاسکتا تھا۔ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے بتایا کہ امریکہ پاکستان سے ایٹمی دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر اپنی نیوکلیئر سرچ ٹاسک فورس کو پاکستان بھیج سکتا ہے تاکہ وہ پاکستان میں Sting آپریشن کرسکے۔ 1991ء میں سوویت یونین کی تقسیم کے بعد ایٹمی دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر یہ امریکی ٹاسک فورس اسٹنگ آپریشن کرکے قازقستان، یوکرائن اور بیلاروس میں سینکڑوں نیوکلیئر وار ہیڈز ناکارہ بناچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیوکلیئر سرچ فورس پہلے مرحلے میں مذکورہ ملک کے ایٹمی پروگرام کے متعلق منفی پروپیگنڈا کرکے افواہیں پھیلاتی ہے کہ نیوکلیئر مواد محفوظ نہیں اور دہشت گردوں یا غیر محفوظ ہاتھوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس طرح اسٹنگ آپریشن کیلئے راہ ہموار کی جاتی ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بھی پچھلے کئی سالوں سے یہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ پاکستان کا جوہری مواد محفوظ نہیں اور یہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے اور القاعدہ اس سے ڈرٹی بم تیار کرکے دنیا میں تباہی پھیلاسکتی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس دوسرے مرحلے پر کام کررہا تھا جس کے تحت اگر وہ Low Grade ایٹمی مواد دہشت گردوں کو فراہم کردیتا تو اسے جواز بناکر پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کے خلاف اسٹنگ آپریشن کرکے ان کو نشانہ بنایا جاسکتا تھا۔ آج اگر ریمنڈ ڈیوس نہ پکڑا جاتا تو ہم سی آئی اے کے اتنے بڑے نیٹ ورک جس کی آنکھیں ہمارے نیوکلیئر اثاثوں پر لگی ہیں،اس کی مذموم سرگرمیوں سے لاعلم رہتے اور ایک دن ان کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتے مگر 3 پاکستانی نوجوانوں کی قربانیاں رنگ لائیں اور ریمنڈ ڈیوس کا ناپاک منصوبہ آشکار ہوگیا۔ریمنڈ انفارمیشن کے حوالے سے ہمارے لئے ایک ”گولڈ مائن“ کی حیثیت رکھتا ہے جو اپنے مشن کے دوسرے ساتھیوں اور خفیہ منصوبوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کرسکتا ہے کیونکہ وہ ایک ہائی پروفائل جاسوس ہے اس لئے قید کے دوران اس کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے اور سی آئی اے اسے راستے سے ہٹابھی سکتی ہے۔ سفارتی استثنیٰ اور دیت کے دروازے بند ہونے کے بعد اس بات کا بھی امکان ہے کہ امریکہ پنے ملک میں متعین کسی پاکستانی سفارتکار پر جاسوسی کا الزام لگاکر اسے گرفتار کرسکتا ہے تاکہ ڈھال کے طور پر اسے استعمال کرکے جاسوسوں کے تبادلے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ریمنڈ ڈیوس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر بارک اوبامہ نے ریمنڈ کی اصل حقیقت کو جانتے ہوئے اس کے بارے میں جھوٹ بولا اور اس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ریمنڈ کا معاملہ آئس برگ کی نظر آنے والی چوٹی کی مانند ہے جس سے آئس برگ کی جسامت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور پاکستان کی انٹیلی جنس کی تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ ہمیں ریمنڈ کے بارے میں جو بھی اطلاعات مل رہی ہیں وہ مغربی میڈیا سے آرہی ہیں۔ آج بھی ہماری حکومت امریکی دباؤ میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور اس کی حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت اس معاملے پر عوام کواعتماد میں لے اور جو انویسٹی گیشن ریمنڈ سے ہورہی ہے اسے عوام کے سامنے لایا جائے۔ ساتھ ہی حکومت امریکہ اور سی آئی اے پر دباؤ ڈالے کہ وہ پاکستان میں اپنا نیٹ ورک اور سرگرمیاں ختم کرے اور ان کے جو دوسرے سینکڑوں ریمنڈ جیسے ایجنٹس پاکستان میں موجود ہیں انہیں فوری طور پر امریکہ واپس بلائے۔9/11 کے بعد امریکہ نے پرویز مشرف سے یہ پوچھا تھا کہ (Pakistan is with us or against us) وقت آگیا ہے کہ آج پاکستان امریکہ سے یہی سوال دہرائے کہ امریکہ ہمارے ساتھ ہے یا ہمارے خلاف۔

بےباک
03-11-2011, 02:25 PM
بہت اچھی شیئرنگ آپ نے پیش کی ،بے انتہا معلوماتی ہے ،
یہ سلسلہ اب تو جڑوں تک پہنچ چکا ہے،
http://ummat.com.pk/2011/03/11/images/story1.gif

این اے ناصر
03-13-2011, 02:57 PM
بہت اچھی معلومات . جناب بہت شکریہ

تانیہ
03-15-2011, 07:24 PM
مفید شیئرنگ کے لیئے شکریہ

وی جے
03-16-2011, 10:12 AM
:clap::clap::clap:th_smilie_schildth_smilie_schild :tumb: نایس شئیرنگ

ہنی
03-16-2011, 10:41 PM
اج اس کو جی بگا بھی دیا جی

وی جے
03-17-2011, 01:07 PM
اج اس کو جی بگا بھی دیا جی


اوے جی جی یہ ہنی تم ہو؟؟؟:breakpc: