PDA

View Full Version : محبت کو گلے کا ہار



این اے ناصر
03-18-2011, 08:57 PM
محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا
کچھ ایسی بات ہے، انکار بھی کرتے نہیں بنتا

بھنور سے جی بھی گھبراتا ہے، لیکن کیا کیا جائے
طوافِ موجِ کم رفتار بھی کرتے نہیں بنتا

اسی دل کو بھری دنیا کے جھگڑے جھیلنے ٹھہرے
یہی دل جس کو دنیا دار بھی کرتے بھی نہیں بنتا

جلاتی ہے دلوں کو سردمہری بھی زمانے کی
سوالِ گرمئ بازار بھی کرتے نہیں بنتا

خزاں ان کی توجہ ایسی ناممکن نہیں، لیکن
ذرا سی بات پر اصرار کرتے بھی نہیں بنتا