PDA

View Full Version : اقوامِ متحدہ کا لیبیا کے خلاف حملہ



بےباک
03-20-2011, 04:21 AM
اقوامِ متحدہ نے لیبیا کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت دیدی‘ مختلف ممالک کا طیارے اور فوج بھیجنے کا اعلان . چھ ممالک نے حملے کا اعلان کر دیا ،طیاروں کے حملے کے لیے فرانس سر فہرست رہا ،
اٹلی کنیڈا ، بریطانیہ ، امریکا
فرانس نے لیبیا پر فضائی حملہ کردیا ،امریکا نے 112 کروز میزائیل استعمال کیے ،

نیویارک/طرابلس/عمان(ثناء نیوز)اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے اور ’’شہریوں کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات‘ ‘کی منظوری دینے کے بعد مختلف ممالک نے طیارے اور فوج بھیجنے کا اعلان کیاہے جبکہ قذافی حکومت کاکہناہے کہ نو فلائی زون غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے البتہ سلامتی کونسل کی قرارداد میں غیر ملکی افواج کی لیبیا میں زمینی کارروائی کی واضح طور پر ممانعت کی گئی ہے۔ امریکا اور فرانس کے بعد کینیڈا نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے تحت لیبیا میں نو فلائی زون کی قیام کیلئے 6لڑاکا طیارے بھیجے گا۔ ادھر فرانس نے اعلان کیاکہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے بعد لیبیا پر کسی بھی وقت حملے شروع ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس قرارداد کے حق میں جسے برطانیہ، فرانس اور لبنان نے پیش کیا تھا، 10ووٹ ڈالے گئے اور کسی نے اس کی مخالف نہیں کی۔ روس اور چین سمیت 5ممبران نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔فرانس نے کہا ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں کرنل قدافی کی فوج کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔اس قرار داد کا مقصد کرنل قدافی کی فوجوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں باغیوں پر فضائی حملوں سے روکنا ہے۔ کرنل قدافی کی فوجیں کچھ دنوں سے باغیوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہی تھیں اور باغیوں کے مرکز بن غازی کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔عرب لیگ نے بھی لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے کے حق میں قرار داد منظور کی تھی۔ ادھر لیبیا نے قرارداد کے بعد بن غازی پر حملہ ملتوی کردیا ہے۔لیبیا کی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر خالد قیم نے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کو ملک کی یکجہتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے تاہم کہا ہے کہ لیبیا کی حکومت باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کیلئے تیار ہے۔امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ کرنل قدافی کو اپنے لوگوں کے خلاف کارروائی سے روکنے کے لیے اس کی زمینی فوج کو بھی نشانہ بنانا پڑے گا۔فرانس کے وزیر خارجہ ایلن یوپ نے قرارداد کو پیش کیا اور کہا کہ پچھلے کئی ہفتوں سے کرنل قدافی نے اپنے ہی لوگوں پر حملہ کر رکھا ہے اور عالمی برادری اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔روس، چین اور جرمنی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اطلاعات کے مطابق امریکہ براہ راست لیبیا پر حملے میں شریک نہیں ہو گا بلکہ فرانس اور برطانیہ کی ایئرفورس لیبیا نو فلائی زون قائم کریں گے۔ امریکہ لیبیا پر حملوں کے سہولتیں فراہم کرے گا۔خطے کے کچھ ممالک بھی لیبیا کے خلاف کارروائی میں مدد کے رضامند ہیں ادھر نوفلائی زون پر عملدرآمد کیلئے قائم کی جانے والی عالمی فوج میں قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی شمولیت پر آمادگی ظاہر کردی ہے لیکن لیبیا کے پڑوسی ملک مصر نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے لیبیا پر کسی قسم کی کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے سلامتی کونسل کی اس قرار داد کو سراہا ہے۔قرارداد کی منظوری کے بعد امریکی صدر براک اوبامہ نے برطانوی اور فرانسیسی سربراہان سے فون پر تبادلہ کیا جبکہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لیبیا میں نو فلائی زون پر عمل درآمد کرانے کے سلسلے میں عالمی فورس کا حصہ نہیں بنے گا۔ ادھر لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی نے امریکہ اور مغربی قوتوں کو خبردا رکیا ہے کہ اگر لیبیا پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپو رجواب دیاجائے گا غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کرنل معمر قذافی نے لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنے کی منظوری کے بعد مغربی قوتوں کی ممکنہ مشترکہ حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرایسا کیا گیا تو لیبیا بھی اس کا بھرپور جواب دے گا۔معمر قذافی نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی کارروائی کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے واضح رہے کہ معمر قذافی کی جانب سے امریکہ کو دھمکی کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب امریکہ نے برطانیہ اورفرانس کے ساتھ مل کر لیبیا کے نو فلائی زون پر حملوں کا اعلان کیا تاہم بین الاقوامی سطح پر اس سلسلے میں تشویش میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پہلے بغیر پائلٹ طیارے کے ذریعے حملے ہوں گے بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلا حملہ فرانس اور برطانیہ کی جانب سے ہو گا

وی جے
03-20-2011, 01:54 PM
اس سے نقصان کس کو ہو گا؟؟؟؟
رات سنا تھا فرانس نے حملہ کر دیا

این اے ناصر
03-20-2011, 03:11 PM
اس سے نقصان کس کو ہو گا؟؟؟؟
رات سنا تھا فرانس نے حملہ کر دیا


ان نام نہادمسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

وی جے
03-20-2011, 03:14 PM
اس سے نقصان کس کو ہو گا؟؟؟؟
رات سنا تھا فرانس نے حملہ کر دیا


ان نام نہادمسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔


مطلب کے مسلمانوں کو ہی ہوا نہ؟

بےباک
03-21-2011, 02:04 AM
لیبیا: قطر کا اتحادی افواج کے آپریشن میں شامل ہونے کا فیصلہ
امریکہ اور فرانس نے کہا ہے کہ قطر نے لیبیا میں اتحادی افواج کے آپریشن میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ قطر جو عرب لیگ کا ممبر ہے بین الاقوامی فوجی آپریشن میں حصہ لینے کے لیے اپنے چار جہاز بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

قطر کی جانب سے یہ فیصلہ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ کے اس بیان کے کچھ دیر بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اتحادی افواج کی جانب سے لیبیا پر کیے جانے والے حملے نو فلائی زون کے قیام کے مقصد سے آگے نکل گئے ہیں۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق امر موسیٰ نے کہا کہ عرب لیگ نے صرف نو فلائی زون کے قیام کی بات کی تھی کیونکہ وہ لیبیا میں شہریوں کی حفاظت چاہتی ہے نا کہ ان پر بمباری۔

انہوں نے کہا کہ عرب ممالک یہ نہیں چاہتے کہ نو فلائی زون کے قیام کے لیے مغربی ممالک لیبیا پر بمباری کریں۔
مغربی اتحادی افواج کی جانب سے لیبیا میں حکومتی اور فوجی ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کرنل قذافی نے کہا ہے کہ لیبیا ’ایک طویل جنگ‘ لڑےگا۔

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق سو سے زائد میزائل حملوں کے بعد اتوار کو امریکی جنگی طیاروں نے کرنل قذافی کی زمینی افواج اور فضائی دفاع کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب نے لیبیا کی صورتحال کو مکمل طور پر غلط سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بن غازی میں جو باغی ہیں وہ بد معاش اور دہشت گرد ہیں اور لیبیا کے عوام شہر کو ان کے قبصے سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سیف الاسلام نے کہا کہ ایک دن آئے گا جب امریکیوں کو سمجھ آ جائے گی اور انہیں معلوم ہو گا کہ وہ غلط لوگوں کی حمایت کر رہے تھے۔

اتحادی افواج نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت لییبا کے اوپر نو فلائی زون قائم کرنے اور لیبیا کے عوام کے تحفظ کے لیے ’زمینی فوج کے استعمال کے سوا ہر ممکن اقدامات‘ کی منظوری کے بعد سنیچر کی رات سے یہ کارروائی شروع کی تھی۔

امریکی فوج کے سب سے سینیئر افسر ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا ہے لیبیا پر ’نو فلائی زون‘ کے قیام کا کام مکمل ہوگیا ہے۔ اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ گزشتہ رات کی کارروائی کے بعد اتحادی فوجی حکام نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔



کرنل قذافی نے اس کارروائی کو ’جارحانہ صلیبی حملے‘ قرار دیتے ہوئے اس کا جواب دینے کا عہد کیا ہے۔ اتوار کی صبح لیبیا کے سرکاری ٹیلی وثرن پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’مغربی طاقتوں کو لیبیا پر حملے کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ لیبیا نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر حملے کا جواب دیں گے‘۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ لیبیا کے لوگوں کے لیے اسلحہ خانے کے دروازے کھول دیں گے تاکہ وہ اپنے ملک دفاع کریں اور نو آبادیاتی اور صلیبی حملہ آوروں کا مقابلہ کر سکیں۔

اتوار کی صبح طرابلس کی فضا میں طیارہ شکن توپوں کی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔پینٹاگون کے ایک ترجمان کے مطابق سٹیلتھ بمبار طیاروں سمیت کم از کم اٹھارہ امریکی جنگی جہازوں نے اتوار کی صبح ہونے والے حملے میں حصہ لیا اور چالیس بم گرائے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کرنل قذافی کے محل کے نزدیک بھی بمباری کی گئی ہے جس پر 1986 میں بھی امریکہ نے حملہ کیا تھا۔ کرنل قذافی کے سینکڑوں حامی انسانی ڈھال بن کر ان کے محل کے باہر اور طرابلس کے بین الااقوامی ہوائی اڈے پر جمع ہو گئے ہیں۔

http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2011/03/20/110320144924_libya925.jpg

نورمحمد
03-21-2011, 12:16 PM
آہ . . . ایک اور مسلم ملک تباہی کے دہانے پر

بےباک
03-21-2011, 02:37 PM
اہم خبر ، عالمی ذرائع ابلاغ :
افریقی ممالک کے سربراہی پینل نے لیبیا میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے25 مارچ کو افریقن یونین کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ماریطانیہ کے دارالحکومت نواکشوط میں ہونے والے افریقی ممالک کے سربراہی پینل نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ لیبیا میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے عرب ممالک ، اسلامی کانفرنس تنظیم ، یورپی یونین، سکیورٹی کونسل کے 5 مستقل ارکان اور لیبیا میں مختلف جماعتوں کے نمائندوں کو بھی 25 مارچ کے اجلاس میں طلب کیا جائے ۔

لیبیامیں اتحادیوں کے فوجی آپریشن کے خلاف یونان کے شہر ایتھنز میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، ریلی نے یورپی یونین اور امریکا سفارتخانے کی طرف مارچ کیا، مظاہرین نے یونان کے لیبیا کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ لیبیا پرحملوں کے لیے یونان اپنے فوجی اڈے فراہم نے کرے۔بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں لیبیا کے باغیوں سے اظہار یکجہتی کیلیے مظاہرہ کیا گیا

مظاہرین کا کہنا تھا کہ قذافی کو اپنے شہریوں کو قتل کرنے سے روکا جائے۔لیبیا کو نو فلائی زون قرار دینے کی حامی عرب لیگ نے بھی حملوں پر تنقید کردی.عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل عمرو موسیٰ نے ایک بیان میں کہا کہ نوفلائی زون کے قیام کا مقصد شہریوں کا تحفظ کرنا تھا ،وہاں فوجی آپریشن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔