PDA

View Full Version : حضرت تھانوی کی تواضع وفنائیت



سرحدی
03-24-2011, 10:24 AM
حضرت تھانوی کی تواضع وفنائیت

جمع وترتیب: محمد حنیف خالد

* ... ایک صاحب نے عید گاہ کے مجمع میں حضرت کے کسی فعل پر اعتراض کیا، وہ اعتراض اگرچہ بالکل بے جا اور غلط تھا، مگر حضرت رحمة الله علیہ اس کے قدموں میں گر پڑے اور فرمانے لگے کہ بے شک میں بڑا خطا وار ، گناہ گار ہوں ۔ حضرت رحمة الله علیہ پر اس وقت ایسی حالت کا غلبہ تھا جس میں انسان اپنے آپ کو ہر چیز سے بد تر وکمتر سمجھتا ہے۔ ( مجالس حکیم الامت ص:214)
* ... ارشاد فرماتے کہ میں اپنے نفس میں جس رذیلہ (یعنی بری بات) کو محسوس کرتا ہوں کبھی کبھی اس کا علاج اس طرح بھی کرتا ہوں کہ اس کے متعلق عام مجلس میں ایک وعظ کہہ دیا۔ اس سے اس رذیلہ کا داعیہقلب میں مضمحل ( کمزور) ہو جاتا ہے اور اس سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ ( مجالس حکیم الامت ص:163)
* ... فرمایا کہ ہمارے سب بزرگوں کی امتیازی شان تواضع اور فروتنی تھی ( علم وعمل میں بڑے بڑوں سے ممتاز ہونے کے باوجود اپنے آپ کو سب سے کم تر سمجھتے تھے ) اور فرمایا کہ الحمدلله میں کسی کو بھی اپنے دل سے چھوٹا نہیں سمجھتا، کیوں کہ میں ہر فاسق میں حالاً ( یعنی اس وقت) اور ہر کافر میں مآلاً ( یعنی بعد میں ) یہ احتمال سمجھتا ہوں کہ شاید وہ عند الله اس زمانہ کے مشائخ واولیا سے افضل وبہتر ہو۔ ( مجالس حکیم الامت ص:183)
* ... امرتسر کے ایک صاحب نے عربی زبان میں ایک قصیدہ مدحیہ حضرت کے متعلق لکھ کر بھیجا، حضرت نے اس کے جواب میں ایک فارسی شعر لکھ کر واپس کر دیا #
گفتم اے یوسف زبانم دوختی
وزپشیمان تو جانم سوختی
(ترجمہ) ” میں نے کہا کہ یوسف! تم نے میری زبان سی دی ہے اور پشیمانی سے تم نے میری جان جلا دی ہے ۔“ اور پھر ایک عربی شعر پڑھا #
ھنیئاً لأرباب الکمال کمالھم
وللعاشق المسکین ما یتجرع
”مبارک ہو کمال والوں کو ان کے کمالات اور عاشق مسکین کو وہ غم جس کو وہ گھونٹ گھونٹ پی رہا ہے۔“
اور فرمایا کہ جب تک یہ کھٹکا لگا ہوا ہے کہ کس حالت پر موت آئے گی جی کسی کمال سے خوش نہیں ہوتا، کسی چیز کے لیے دل نہیں ابھرتا۔ (مجالس حکیم الامت ص:188)
* ... فرمایا کہ نرمی چھوڑنے کو سختی کے ساتھ روکتا ہوں تو یہ سختی ظاہر میں تو سختی ہے مگر درحقیقت نرمی پر مجبور کرنا او راس کا خوگر بنانا ہے ۔ ( مجالس حکیم الامت ص :160)
* ... ارشاد فرمایا کہ میرے مزاج میں ایک شدت ہے اور گواس کی کچھ تاویل میں بھی اور میرے احباب بھی کر لیتے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک کمی ہے۔ ( مجالس حکیم الامت ص:235)
* ... ارشاد فرمایا کہ لوگ اس طریق میں سالک ہونے کو بڑی چیز سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اصل چیز سالک ہونا نہیں، ہالک ہونا ہے، یعنی اپنے کو مٹا دینا اور مٹا دینا بھی وہ معتبر ہے کہ اس مٹانے کو بھی مٹا دے کہ اس کی طرف کوئی التفات نہ ہو، جیسے اصلی اور گہری نیند وہی ہے جس میں سونے والے کو اپنے سونے کی بھی خبر نہ رہے، ورنہ پھر وہ نیند نہیں، اس کو اونگھ کہیں گے ۔ مولانا رومی نے خوب فرمایا #
فہم وخاطر تیز کردن نیست راہ
جز شکستہ می نگیرد فضل شاہ
(ترجمہ)” عقل اور طبیعت کو تیز کر لینا راہ نہیں ہے، شاہ کا فضل، عاجز کے سوا کسی کی دستگیری نہیں کرتا۔“ (مجالس حکیم الامت ص:43)
* ... فرمایا کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت  سے ( قلمی مسودہ میں اس جگہ کسی بزرگ کا نام نہیں لکھا، معلوم نہیں کہ حضرت حاجی صاحب  مراد ہیں یا مولانا یعقوب صاحب  ) جنات تابع کرنے کا عمل پوچھا تو فرمایا کہ میرے پاس ایسے عمل ہیں او ربہت آسان بھی ہیں ، آپ کرو گے تو ہو بھی جائیں گے، مگر ایک بات سن لو کہ الله تعالیٰ نے تمہیں بندہ بننے کے لیے پیدا کیا ہے، خدا بننے کے لیے نہیں کہ دوسری مخلوق کو اپنے تابع کرتے پھرو ۔ حضرت  نے فرمایا کہ مجھے اسی وقت ایسے عملیات سے نفرت ہو گئی ۔ ( مجالس حکیم الامت ص:67)
* ... ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص میری کسی کتاب کا رد لکھتا ہے تو جب وہ میرے پاس آتا ہے تو اوّل نظر میں میرا خیال یہی ہوتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، اس کو اس نظر سے دیکھتا ہوں کہ مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے، تاکہ اس سے رجوع کرکے تصحیح کروں، اس کا جواب دینے کی نیت سے نہیں دیکھتا۔ (مجالس حکیم الامت ص:242)
* ... فرمایا کہ میں جوکچھ کسی کو کہتا ہوں الحمدلله دل سوزی اور خیر خواہی سے کہتا ہوں ، تحقیر یا نفرت سے نہیں، اس کے افعال کو تو بُرا سمجھتا ہوں، لیکن اس کی ذات کو بُرا نہیں سمجھتا۔ ( انفاس عیسٰی ص:539 حصہ دوم)
* ... جی یہ چاہتا ہے کہ اصول صحیحہ کا میں بھی تابع رہوں اور دوسروں کو بھی اس کا تابع بناؤں، بس اتنی سی بات ہے، جو لوگوں پر گراں ہے، نہ میں خادم بننا چاہتا ہوں، نہ مخدوم، نہ تابع، نہ متبوع۔ (الافاضات الیومیہ صفحہ:59/2)
* ... میں نے اپنے معمولات میں راحت کی تدابیر اختیار کر رکھی ہیں، یہی میرا اصل مذاق ہے اور صرف اپنی ہی راحت مقصود نہیں، دوسروں کی بھی راحت کا خیال رکھتا ہوں۔ ( الافاضات الیومیہ ص:29 ج،1)
* ... ایک سلسلہٴ گفتگو میں فرمایا کہ میرے تمام اصول وقواعد کا منشا دوسروں کی اور اپنی اصلاح ہے اور یہ کہ طرفین کو راحت رہے، باقی ان اصول وقواعد سے حکومت کرنا مقصود نہیں او رنہ مجھ کو ان اصول پر فخر اور ناز ہے، بلکہ ہر وقت ڈرتا رہتا ہوں اور برابر اپنی اصلاح کی فکر میں لگا رہتا ہوں ۔ الحمدلله میری نیت نفسانیت کی بالکل نہیں ہوتی، اسی کا اثر ہوتا ہے ، محض اصلاح مقصود ہوتی ہے اور بغیر اس طرز کے اصلاح ہونا مشکل ہے۔ (الافاضات الیومیہ ص:65 ج،6)
* ... حضرت تھانوی رحمة الله علیہ خلاف قاعدہ باتوں پر ڈانٹ ڈپٹ اور سرزنش ضرور فرماتے، مگر ساتھ ہی اکثر یہ فرمایا کرتے کہ الحمدلله عین اسی سرزنش کے وقت بھی اس شخص کی تحقیر کا قلب میں شائبہ بھی نہیں ہوتا، بلکہ ڈرتا رہتا ہوں کہ کہیں یہ طریق کار حق تعالیٰ کو ناپسند ہو۔ ( اشرف المقالات ص:350 ،ج1)
* ... بار بار قسم کھا کھا کر فرمایا کہ میں اپنے کو کسی مسلمان سے، حتی کہ ان مسلمانوں سے بھی جن کو لوگ فساق وفجار سمجھتے ہیں فی الحال او رکفار سے بھی احتمالاً فی المآل افضل نہیں سمجھتا اور آخرت میں بھی درجات حاصل ہونے کا کبھی مجھے وسوسہ بھی نہیں آتا، کیوں کہ درجات تو بڑے لوگوں کو حاصل ہوں گے، مجھے تو جنتیوں کی جوتیوں میں بھی جگہ مل جاوے تو الله تعالیٰ کی بڑی رحمت ہو ، اس سے زیادہ کی ہوس ہی نہیں ہوتی اور اتنی ہوس بھی بربنا استحقاق نہیں، بلکہ اس لیے کہ دوزخ کے عذاب کا تحمل نہیں۔
* ... فرمایا کہ یہ جو بضرورت اصلاح زجر وتوبیخ کیا کرتا ہوں تو اس وقت یہ مثال پیش نظر رہتی ہے جیسے کسی شہزادے نے جرم کیا ہو اور بھنگی جلاد کو حکم شاہی ہوا ہو کہ اس شہزادے کو درّے لگائے۔ تو کیا اس بھنگی جلاد کے دل میں درّے مارتے وقت کہیں یہ بھی وسوسہ ہو سکتا ہے کہ میں اس شہزادے سے افضل ہوں۔
* ... فرمایا کہ کوئی مومن کیسا ہی بداعمال ہو میں اس کو حقیر نہیں سمجھتا، بلکہ فوراً یہ مثال پیش نظر ہو جاتی ہے کہ اگر کوئی حسین اپنے منھ پر کالک مل لے تو اس کا جاننے والا کالک کو برا سمجھے گا، لیکن اس حسین کو حسین ہی سمجھے گا اور دل میں کہے گا کہ جب کبھی بھی صابن سے منھ دھولے گا پھر اس کا وہی چاند سامنھ نکل آئے، غرضیکہ مجھ کو صرف فعل سے نفرت ہوتی ہے، فاعل سے نفرت نہیں ہوتی۔
* ... فرمایا کہ خدا ہی محفوظ رکھے تو انسان محفوظ رہ سکتا ہے، ورنہ ہمارا ہر قول، فعل ، حال، قال سب ہی پراز خطر ہے ، یہ شعر اکثر یاد آیا کرتا ہے #
من نہ گوئم کہ طاعتم بہ پذیر
قلم عفو بر گناہم کش
ترجمہ: ”میں یہ نہیں کہتا کہ میری طاعت قبول کر لیجیے، بلکہ معافی کا قلم میرے گناہوں پر پھیر دیجیے۔“
* ... فرمایا کہ بہت ہی نازک بات ہے اور بہت ہی ڈرنے کا مقام ہے اپنی کیسی ہی اچھی حالت ہو ہر گز نازنہ کرے اور دوسرے کی کیسی ہی بری حالت ہو ہر گز اس پر طعن نہ کرے، کیا خبر ہے کہ اپنی حالت اس سے بھی بدتر ہو جائے۔
* ... ایک بار نہایت خشیت کے لہجے میں فرمایاکہ دیا سلائی کی طرح سارے مواد خبیثہ نفس میں موجود ہیں ،بس رگڑ لگنے کی دیر ہے ۔ الله تعالیٰ نے جب تک رگڑ سے بچا رکھا ہے بچے ہوئے ہیں ۔ فرعون وہامان کو نہیں بچایا، ان میں وہ مادّے سلگ اٹھے۔ الله تعالیٰ ہی محفوظ رکھے تو انسان محفوظ رہ سکتا ہے، ورنہ ہر وقت خطرہ ہے۔
* ... فرمایا کہ جب الله تعالیٰ کا قہر ہوتا ہے تو باطل چیزیں بھی حق نظر آنے لگتی ہیں او راوہام باطنہ بھی حقائق کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
* ... ایک مجمع میں مصافحہ کرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے تو اس نیت سے مصافحہ کیا ہے کہ اتنے سارے محبت کرنے والے مسلمانوں میں سے کوئی بھی خدا کا مقبول ومرحوم بندہ نہ ہو گا۔ اگر ایک بھی مرحوم ہوا تو کیا مجھ کو دوزخ میں جلتا ہوا دیکھ کر رحم نہ آئے گا اور الله تعالیٰ سے سفارش کرکے وہ مجھ کو دوزخ سے نہ نکلوائے گا۔
* ... بارہا فرمایا کہ یہ جو اصلاح نفس کی سہل سہل او رنافع تدابیر الله تعالیٰ ذہن میں ڈال دیتے ہیں یہ سب طالبین ہی کی برکت ہے، میرا کوئی کمال نہیں ،الله تعالیٰ کو منظور ہے کہ میرے بندوں کی اصلاح ہو اور نفع پہنچے، لہٰذا ایک ناکارہ سے خدمت لے رہے ہیں ۔ ماں یہ ناز نہ کرے کہ میں بچہ کو دودھ پلاتی ہوں، بلکہ الله تعالیٰ ہی کو منظور ہے کہ بچہ کی پرورش ہو، اس لیے اس نے گوشت میں بھی دودھ پیدا کر دیا ہے ، اگر ماں بچہ کو دودھ پلانا چھوڑ دے تو پھر دودھ ہی خشک ہو جائے۔ اسی طرح اگر کنویں میں ڈول نہ ڈالا جائے اورپانی نہ نکالا جائے تو نیا پانی آنا بند ہو جائے گا، غرض شیخ اگر القاء چھوڑ دے تو تلقی بھی بند ہو جائے، اس لیے شیخ کو بھی ناز کا حق نہیں۔
* ... فرمایا کہ میرے اندر نہ علم ہے ، نہ عمل ہے، نہ کوئی کمال ہے، لیکن الحمدلله اپنے خلوص کا اعتقاد تو ہے، الله تعالیٰ بس اسی سے فضل فرمائے گا۔ ان شاء الله۔
* ... فرمایا کہ امر اصلاح میں نہ میرے علم کو دخل نہ فہم کو ۔ خدا نے ایک کام میرے سپرد کیا ہے، وہ میری مدد کرتے ہیں، میرا کچھ کمال نہیں۔
* ... فرمایا کہ مجھ میں تو سرا سر عیوب ہی عیوب بھرے پڑے ہیں ۔ میری اگر کوئی برائی کرتا ہے تو یقین جانیے مجھے کبھی وسوسہ بھی نہیں ہوتا کہ میں برائی کا مستحق نہیں، بلکہ اگر کوئی تعریف کرتا ہے تو والله تعجب ہوتا ہے کہ مجھ میں بھلا کون سی تعریف کی بات ہے، جو اس کا یہ خیال ہے ۔ اس کو دھوکا ہوا ہے ، حق تعالیٰ کی ستاری ہے کہ میرے عیوب کو پوشیدہ کر رکھا ہے ،اس لیے مجھ کو کسی کا برا بھلا کہنا مطلق ناگوار نہیں ہوتا۔
* ... فرمایا کہ اگر کوئی میری ایک تعریف کرتا ہو تو اسی وقت اپنے دس عیوب پیش نظر ہو جاتے ہیں ۔
* ... فرمایا کہ میں مدت سے یہ دعا مانگ رہا ہوں اور اب تازہ کر لیا کرتا ہوں کہ اے الله! میری وجہ سے اپنی کسی مخلوق پر مواخذہ نہ کیجیے۔ جو کچھ کسی نے میرے ساتھ برائی کی ہو یا آئندہ کرے ، سب میں نے دل سے معاف کی ۔ پھر فرمایا کہ اگر میں معاف نہ کر دیا کروں اور دوسرے کو عذاب بھی ہو تو مجھے کیا نفع حاصل ہوا۔
* ... کئی بار فرمایا کہ گو میں اعمال میں بہت کوتاہ ہوں، لیکن الحمدلله اپنی اصلاح سے غافل نہیں ، ہمیشہ یہی ادھیڑ بن لگی رہتی ہے کہ فلاں حالت کی یہ اصلاح کرنی چاہیے۔ فلاں حالت میں یہ تغیر کرنا چاہیے۔
* ... گو میں نجات کو اعمال پر منحصر نہیں سمجھتا، محض فضل پر سمجھتا ہوں، لیکن بندہ کے ذمہ یہ الله تعالیٰ کا حق ہے کہ اس کے اوامر کو بجالائے او رنواہی سے اجتناب رکھے، اس لیے مجھ کو اپنے اعمال کی کوتاہی پرسخت ندامت ہے اور ہمیشہ اپنی اصلاح کی فکر رہتی ہے۔
* ... اپنے کسی منتسب کی دین داری اور تقوی کے حالات سن کر فرمایا کرتے کہ وہ باپ بڑا خوش قسمت ہے، جس کی اولاد کمالات میں اس سے بڑھ جاوے۔ یہ بھی فرمایا کرتے کہ الله تعالیٰ کو میرا نیک کام کرنا منظور ہے کہ جو پہلے ہی سے نیک ہیں، انہی کو میرے پاس بھیج دیتے ہیں اور میں مفت میں نیک نام ہو جاتا ہوں۔ ( آخر کے پندرہ ملفوظات انفاس عیسٰی سے لیے گئے ہیں)

شائع ہواالفاروق, ذوالقعدہ ۱۴۳۱ھ, Volume 26, No. 11

نورمحمد
03-24-2011, 10:49 AM
سبحان اللہ . . . اللہ تعالی عمل کی توفیق نصیب کرے . جزاک اللہ

سرحدی بھائی . ایک گذارش ہے . . . آپ نے جو فونٹ استعمال کیا ہے اس میں پڑھنے میں تھوڑی دقت ہوتی ہے . اگر ممکن ہو تو اسے تبدیل کردیں .

شکرا"

سرحدی
03-24-2011, 11:37 AM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نور محمد بھائی، میں جو فونٹ استعمال کرتا ہوں یہ اردو نستعلیق فونٹ ہے جو کہ اردو تحریر کی دنیا میں سب سے آسان فونٹ ہے۔ میں بہت معذرت خواہ ہوں لیکن محو حیرت ہوں کہ آپ کے پاس یہ فونٹ درست انداز میں کیوں نظر نہیں آرہا!! ہوسکتا ہے کوئی تکنیکی وجہ ہو۔۔ خیر ، بہت شکریہ توجہ دلانے کا۔۔

نورمحمد
03-24-2011, 04:03 PM
شکریہ جناب . . .

ہو سکتا ہے کہ کوئی مسئلہ ہو مگر آپ نے ابھی جو فونٹ استعمال کیا ہے وہ تو بہت بہتر ہے . . مجھے فونٹ کے نام تو معلوم نہیں ہیں . اور میں جس ڈیفالٹ فونٹ میں یہ جواب ٹائپ کر رہا ہوں وہ بھی میرے پی سی پر اچھا نظر آ رہا ہے .

آئندہ پوسٹ میں' میں آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو بتا دوں گا . .
جزاک اللہ

گلاب
03-24-2011, 09:16 PM
بھت زبر دست سرحدی بھای بھت خوب

بےباک
03-26-2011, 09:11 AM
شکریہ جناب سرحدی صاحب ، آپ نے ایک بہت اچھا مضمون شئیر کیا. مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے یہ پہلو میری نظر سے اوجھل تھے ، آپ کے توسط سے مجھے پڑھنے کو ملے ،
.........
محتر، نور محمد صاحب ،
آپ جس توجہ اور محبت سے توجہ دلاتے ہیں اس پر آپ کے شکر گزار ہیں ،
فونٹ کے سلسلے میں جو مسلہ آپ کو نظر آتا ہے اس کا آسان حل یہ ہے کہ آپ ھماری ویب سے فونٹ کا اردو پیکٹ ڈاون لوڈ کرکے انسٹال کر لیں ، انشاءاللہ آپ کا یہ مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا ،
........
فونٹ کے لیے یہاں اس لنک پر کلک کریں
FONT PACK LINK (http://urdulook.com)