PDA

View Full Version : نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے



گلاب خان
04-02-2011, 10:03 PM
فرد یاقوموں کی زندگی میں ایک دن ہی نہیں بلکہ ایک ایک لمحہ اہم ہو تا ہے۔ اسی لیئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی رہنما ئی کے لیئے وقت کی قسم کھا ئی اور پھر فر مادیا کہ ً انسان خسارے میں ہے سوائے ان کے جو (وقت کی قدر کرتے ہیں، درست طور پر استعمال بھی کرتے ہیں ۔ پھر وضاحت فرمائی کہ وقت کا صحیح استعمال کیا ہے) پہلےوہ خدا پر ایمان لا ئیں ، پھر اچھے کام کریں یعنی پہلے خود اس پر عامل ہوں اس کے بعددوسروں کو عمل کی تلقین کریں؟ کن باتوں کی تلقین۔ سچائی اور صبر کی تلقین کریں۔اس چھوٹی سی سورہ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے زندگی کا وہ راز سمجھا یا ہے۔جس پر قسم کھاکر مسلمانوں کو اپنی توجہ خاص طور پر مبذول کرنے کی ضرورت پرزور دیا ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر دوسورہ الصف جو اس اخبار کے سرورق کی زینت ہے !اس میں یہ بھی فرما دیا کہ اے مسلمانوں وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو،؟ اور اس سے اگلی آیت میں مزید تنبیہ فرمائی کہ ایسے لوگوں اللہ سبحانہ تعالیٰ سخت ناپسند فرماتا ہے جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں۔ اب ہم سورہ عصر کی اس آیت پر بات کی کرتے ہیں جس میں ایمان لانے کا ذکرہے جس کے معنی ہیں خدا کو اپنا مالک ماننا۔اس سے جس چیز کی نفی ہو تی ہے وہ بندے کی اپنی ذات ہے ؟ یعنی ایمان لانےکے بعد کوئی چیزمومن کی اپنی نہیں رہتی جس میں وقت بھی شامل ہی نہیں ہے۔ بلکہ شرط ِ اول ہے۔ چونکہ یہ سورہ اولین سورتوں میں سے ہے لہذا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس میں زندگی کا پورا فلسفہ بیان فرمادیا ہے۔کہ فلاح اسی میں ہے ،مومن اپنا وقت اسکے بتا ئے ہو ئے کاموں میں صرف کرے اور بتا ئے ہو ئے کام کیا ہیں ۔ اول ایمان پھر اس پر خود عامل ہونا اور اس کے بعد سچائی (حق) اورصبر کی تلقین۔اور جو اس کے خلاف کریگا اور اس مختصر سے وقت کو جو اسے دربارِ خداوندی سے عطا ہوا لہو اور لعب میں ضا ئع کر دے گا۔ وہ اس مقصد سے انحراف کا مر تکب ہوگا جس کے لیئے اس کویہاں بھیجا گیا ہے۔

اوروہ غایت جس کے لیئے اس کو بھیجا گیاہے وہ دوسری آیا ت میں یہ بتا ئی گئی ہے کہ اس کے پاس چننے کے لیءدومقام ہیں ایک جنت جو ہدایت پر چلنے سے ملے گی، جہاں کوئی غم نہیں عیش ہی عیش ہیں اوریہاں کے بعد وہاں کوئی محنت مشقت تک نہیں ہے۔ دوسری جگہ جو ہے وہ جہنم ہے جہاں غم ہی غم ہیں ؟اب یہ بندے کے اپنے اختیار میں دیدیا گیا کہ وہ اس وقت کو وہاں کی تیاری کے لیئےخرچ کر تا ہے یا یہاں لہو لعب یا عیش وعشرت میں گزار دیتا ہے ۔ احادیث میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ تمہارے ساتھ کچھ نہیں جا ئے گا سوائے نیک اعمال کے اور وہاں کے لیئے یہ ذخیرہ تمہیں اس مقررہ وقت کے اندر اندر کر نا ہے جو تمہیں عطا کیا گیا ہے جس کے طول کا بھی تمہیں علم نہیں ہے؟اس کے بعد ہمیں کیا کرنا ہے وہ اس سورہ میں بتادیا گیا ہے۔ یہ ہی بات بار بار پورے قر آن میں ہے اور احادیث کی کتابوں میں ہے۔ لیکن مسلمان قوم جس بیدردی سے وقت کو ضا ئع کرتی ہے شاید دنیا کی کوئی اور قوم نہیں کرتی اس کے نتا ئئج کیا ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں ۔
اس تمہید کے بعد میں اب اصل مسئلہ کی طرف آتا ہوں یہ جانتے ہو ئے کہ آج قر آن کا کہیں حوالہ دینا ملا ئیت سمجھا جاتاہے اور ملائیت آجکل گناہِ ععظیم ہے؟
ہمارے ہاں سب سے زیادہ وقت پہلے تو سونے میں، پھر کھیل کود میں صرف ہو تا ہے۔ ان میں کھیلوں میں کرکٹ پہلے نمبر پر ہے۔ یہ خود نہیں بنا بلکہ اسے بنایا گیاہے ؟پاکستان کی تا سیس سے پہلے اس میں مسلمان کھلاڑیوں میں بین الاقوامی طور پر صرف نواب آپ پٹودی کا نام جانا جا تا تھا۔ جبکہ فٹبال مسلمانوں کا کھیل تھا اور بنگال محمڈن ٹیم اس میں سب سے آگے تھی ۔ مگر انگریز جا تے ہوئے جوہمارے لیئے نوکر شاہی چھوڑ گیا تھا ۔ اس کی سمجھ میں مسائل کا حل یہ آیاکہ مسا ئل کی طرف سےلوگوں کی توجہہ ہٹانےکے لیئے اس سے اچھا اورکو ئی حربہ نہیں ہے کہ اس کا میچ کرادوکئی دنوں یہ جاری رہتا ہے۔
تقسیم پر جس طرح سب چیزیں بٹیں اسی طرح کھیل بھی بٹ گیا ۔ پھر جنکا نعرہ یہ تھا کہ پاکستان سنگ ِ میل ہے منزل نہیں ہے؟وہ قوم کو اور تو کچھ نہ دے سکے مگر اس میں الجھا دیا کہ بس یہ بمنزلہ جہاد ہے کیونکہ انڈیا اس میں مہارت رکھتا ہے وہ ہمارا حریف ہے اور اس سےکھیلا جاتا ہے اس کے بعد سے اب تک دو جنریشن اس میں گم ہو چکی ہیں تیسری گھٹیلیوں چل رہی ہے ۔ جب سے یہ جہاد جا ری ہے اور جب بھی قوم کی توجہ اصل مسا ئل کی طرف سے ہٹانا ہو تی ہے تو میچ شروع کرا دیئے جاتے ہیں ۔اورزندگی کا سارا کام بند ہو جاتا ہے۔ایک دن کام بند ہو نے سے کتنا نقصان ہو تا ہے وہ کوئی ماہر ِ مالیات ہی بتا سکتا ہے۔ مگرمیرا جاہلانہ اندازہ یہ ہے کہ یہ اربوں روپیہ یو میہ ہو تا ہے کیوں کہ پوری قوم کرکٹ دیکھ رہی ہو تی ہے بھنگڑے ڈال رہی ہو تی ہے۔ کا رخانے بند، پروڈکشن بند، بشمول انصاف ساری دکانیں بند ؟
اب میں آپ سے پو چھتا ہوں کہ یہ کیا خود بخود ہو جاتا ؟ میرا جواب ہے کہ اس کے لیئے ایک بخار پیدا کیا جا تا اس کا ثبوت یہ ہے کہ حکومت کا ہر شعبہ پھر اس کو ہوا دینے کے درپہ ہو تا ہے اس کا اندازہ ان چند خبروں سے کر لیجیئے۔ جنکی سرخیاں میں یہاں پیش کرر ہا ہوں ۔
وزیر اعظم ایک عظیم وفد کے ساتھ کھیل دیکھنے چلے گئے ،گورنر پنجاب ہندوستانی پنجاب کے گورنر کی دعوت پر کھیل دیکھنے چلے گئے، وزیر دا خلہ کراچی میں امن قائم کرا کر اورامن کی صورت ِ حال سے مطمعن ہو کر موہالی تشریف لے گئے۔ سپریم کورٹ میں بہت بڑا اسکرین نصب کر دیا گیا ، لاہور کی سڑکیں ویران ،دفاتر میں حا ضری کم دکانیں بند جن سادہ لو ہوں دکانیں کھولیں بھی تو گراہک نہ ہونے کی وجہ سے ٹی وی آن کر کے کھیل دیکھنے لگے۔ سینٹ سے وزراءغائب حزب ِ اختلاف کا علامتی واک آوٹ،کراچی یونیورسٹی بند ہو نے کی وجہ سے ہونے والے امتحانات ملتوی، کراچی میں میچ کے سلسلہ میں فا ئرنگ اور بتیس افراد زخمی، ایس پی پشاور کی اپیل کی کہ فتح کے بعد لوگ فا ئرنگ نہ کریں۔ رہے بیچا رے قیدی وہ بھی تو انسان ہیں ان کی فلاح کا حکومت کو اتنا خیال ہے کہ اس نے وہاں بڑی اسکرین لگا کر سب کو مشقتت سےروک دیا کہ موج کرو، ہوٹل میں د عاکا اہتمام اور شرط یہ کے جب تک ٹیم جیتے گی نہیں ہم د عا ئیں جاری رکھیں گے (کاش کہ وہ اتنا وقت پاکستاں اور اپنی ایمان کی سلامتی کے لیئے کے لیئے دعا کرنے میں خرچ کرتے) ۔اس کے علاوہ بہت کچھ ان آنکھوں نے ٹی وی پر دیکھا کہ مسجد کے امام دعا ئیں مانگ رہے ہیں کہ اللہ ہماری ٹیم کو فتح دے۔جبکہ زیادہ تر مساجد محکمہ اوقاف کے زیر ِ تحت ہیں اور موجودہ وزیر اوقاف بھی میچ دیکھنے گئے ہو ئے ہیں ۔
رہی میڈیا اس کا فائدہ اسی میں ہے کہ لوگ ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہیں اور وہ گنتے رہیں کہ ان کا پروگرام کتنی مرتبہ ہٹ ہوا؟ یہ ہی حال ریڈیواور اخبارات کا ہے گوکہ اب ان کی وہ پہلی سی اہمیت نہیں رہی۔ اس بخار سے حا صل کیا ہوا کہ اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹ گئی اوراب جب بحال ہو؟ جبکہ نقصان بھی اربوں میں اور خرچہ بھی اربوں کا۔ ہارنے پر چند لوگوں نے جان دیدی۔ سیکڑوں نے ٹی وی توڑ ڈالے ۔ مگر ہندوستانیوں کی نہیں مسلمانوں کی قسمت اچھی تھی کہ انڈیا جیت گیا۔ اگر خدا نخواستہ ہار جا تا تو جو نقصان ہو تا وہ یہ ہو تا یہ بخار چڑھا رہتا اور بچے پہلے کی طرح سڑکیں بند کر کے کرکٹ کا میدان بنا لیتے ۔پھر ہندوستان کے ہندوں کو بھارت میںمسلمانوں کے لیئے قتل عام کا لا ئسنس مل جاتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے خلاف کوئی آواز بلند کیوں نہیں ہوتی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک کی روٹی کا مسئلہ ہے ۔ پھرغیر مقبول ہو نے کا خطرہ بھی ہے لہذا سب اسی پر عامل ہیں کہ “ چلوو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی یہ وہی کر سکتا ہے جس کو خوف ِ خدا ہو، قوم کا درد ہو اور وہ اپنی روزی سے بے نیاز بھی ہو ؟ کیونکہ روزی ایسی چیز ہے کہ لوگوں کو سچ بولنے سے روکتی ہے اسی کی وجہ سے تمام فتنوں نے جنم لیا اور وہ آج تک زندہ ہیں ۔
ویسے بھی اس کی مخالفت کی کسی مسٹر سے تو امید ہی نہیں ہے کہ اگر وہ اس کے خلاف آواز بلند کر ے گا تو لوگ ملا ءکہنا شروع کر دیں گے ؟ پھر ہر ایک پہلے تو یہ سوچتا ہے کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کیا ہو گی؟ اور میرے ایک بولنے سے کیا فرق پڑے گا۔ لہذا میں برا کیوں بنوں ؟ جب سب کی سوچ ایک ہو تو حق کون کہے گا ۔پھر تالاب بجا ے دودھ کے پانی سے ہی بھر ا ملے تو تعجب کی کیا بات ہے؟ اس کو کہتے ہیں چھلنی میں دوہو اور کرم کو ٹٹولو؟۔جبکہ سچ بولنے کی والوں کی تعداد ہی کتنی ہے؟ حالانکہ اسلام سچ پر زوردیتا ہے۔ پھر سننے والوں میں وہ صبر کہاں جس کا اسلام تقاضہ کر تا ہے۔ اب پھر ہم سر ورق کی آیت کی طرف آتے ہیں کہ مسلمان جو کہتے ہیں اس پر عمل کتنا کر تے ہیں؟اگر یہ نسل آپ کو مل جا ئے جوکہ ناپید ہے ۔ہےاگرہر پتہ لگا نے والا اور ناکام ہو جا ئے۔اور خوئے مسلمانی ہم میں نہیں پائےے تو ہم میں اور مغضوب قوموں میں کیا فرق ہے۔ کاش کوئی مجھے سمجھائے؟ کیونکہ اسی میں اسلام کی نشاة کا ثانیہ کا راز پو شیدہ ہے۔ورنہ اسلامی نشات ثانیہ ایک خواب رہے گا اور لوگ ہمیں اسی طرح بیوقوف بنا تے رہیں گے۔

گلاب خان
04-02-2011, 10:09 PM
لہجوں میں ابھی بُوئے بغاوت کی کمی ہے
ہے شور بہت،حرف صداقت کی کمی ہے

دل سب کے دھڑکتے نہیں کیوں ایک ہی لے پر
احساس کی دولت نہ محبت کی کمی ہے

مال و زر دنیا سے لبا لب ہے اگرچہ
گنجینئہ شاہی میں ندامت کی کمی ہے

اس عہد حکومت میں ہے بس ایک خرابی
اس عہد حکومت میں حکومت کی کمی ہے

رستہ بھی، بصیرت بھی٬ بصارت بھی میسر
اللہ کی جانب سے ہدایت کی کمی ہے

این اے ناصر
04-03-2011, 12:28 AM
واہ بہت خوب جناب.

بےباک
04-03-2011, 06:31 AM
زبردست گلاب خان صاحب ،
بہت شاندار ،
جزاک اللہ ،
..............

اس عہد حکومت میں ہے بس ایک خرابی
اس عہد حکومت میں حکومت کی کمی ہے

رستہ بھی، بصیرت بھی٬ بصارت بھی میسر
اللہ کی جانب سے ہدایت کی کمی ہے