PDA

View Full Version : آیۃ ختم نبوت کا اصل مفہوم



تانیہ
04-03-2011, 12:07 AM
آیۃ ختم نبوت کا اصل مفہوم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقیدوں میں سے ایک عقیدہ ہے۔ اسلام میں*کوئی ظلی یا بروزی نبوت کا تصور موجود نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث ختم نبوت کی زبردست دلیل ہیں مثلا فرمایا "لا نبی بعدی" میرے بعد کوئی نبی نہیں"۔
قرآن کریم کی سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں۔ ایک خاص گروہ کی جانب سے اس آیت کو امت کے متفقہ عقیدے کے برخلاف خود ساختہ تاویلات کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس دھاگے میں* ختم نبوت والی آیت پر تفصیلی بات ہو گی ان شاء اللہ۔
مذکورہ آیت کو سمجھنے کے لیے اس کا شان نزول اور ان حالات سے باخبر ہونا ضروری ہے جن کے اندر اس کا نزول ہوا۔ تو آئیے پہلے اس کا پس منظر جاننے کی کوشش کرتے ہیں


جس سلسلہ کلام میں* یہ آیت قرآن کریم میں موجود ہے وہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک بیان سے شروع ہو رہا ہے۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کا اجمالی خاکہ جان لیا جائے۔
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ دراصل قبیلۂ کَلْب کے ایک شخص حا رِ ثہ بن شَراحیل کے بیٹے تھے اوراُن کی ماں سُعدیٰ بنت ثَعْلَبَہ قبیلۂ طَے کی شاخ بنی مَعْن سے تھیں ۔ جب یہ آٹھ سال کے بچے تھے اس وقت ان کی ماں انہیں اپنے میکے لے گئیں۔ وہاں بنی ْ قَیْن بن جَسْر کے لوگوں نے ان کے پڑاؤ پر حملہ کیا اور لوٹ مار کے ساتھ جن آدمیوں کو وہ پکڑ لے گئے اُن میں زید بھی تھے۔ پھر انہوں نے طائف کے قریب عُکا ظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ خریدنے والے خَدِیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حکیم بن حِزام تھے۔ انہوں نے مکّہ لا کراپنی پھوپھی صاحبہ کی خدمت مین نذر کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کا جب نِکاح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ا ن کے ہاں زید کو دیکھااور ا ن کی عادات و اطوار آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اس قدر پسند آئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں خدیجہ رضی اللہ عنہا سے مانگ لیا۔ اس طرح یہ خوش قسمت لڑکا اُس خیرالخلائق ہستی کی خدمت میں پہنچ گیا جسے چند سال بعد اللہ تعالیٰ نبی بنانے والا تھا۔ اس وقت زید کی عمر ۱۵ سال تھی۔ کچھ مدت بعد ا ن کی باپ اور چچا کو پتہ چلا کہ ہمارا بچّہ مکّہ میں ہے۔وہ انہیں تلاش کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے اور عرض کیا کہ آپ جو فدیہ چاہیں ہم دینے کے لیے تیار ہیں، آپ ہمارا بچّہ ہمیں دے دیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایاکہ میں لڑکے کو بلاتا ہوں اور اسی کی مرضی پر چھوڑے دیتا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے یا میرے پاس رہنا پسند کرتا ہے۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے گا تو میں کوئی فِدیہ نہ لوں گا اور اسے یوں ہی چھوڑدوں گا۔ لیکن اگر وہ میرے پاس رہنا چاہے تو میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ جو شخص میرے پاس رہنا چاہتا ہو اسے خواہ مخواہ نکال دوں۔ انہوں نے کہا یہ تو آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انصاف وے بھی بڑھ کر درست بات فرمائی ہے۔ آپ بچے کو بُلا کر پوچھ لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو بُلااور ان سے کہا اِن دونوں صاحبوں کو جانتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ،یہ میرے والد ہیں اور یہ میرے چچا۔ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ، اچھا ، تم ان کو بھی جانتے ہو اور مجھے بھی ۔ اب تمہیں پوری آزادی ہے کہ چاہو ان کے ساتھ چلے جاؤ اور چاہو میرے ساتھ رہو۔ انہوں نے جواب دیا میں آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو چھوڑ کر کسی کے پاس نہیں جانا چاہتا ۔ ان کے باپ اور چچا نے کہا، زید ، کیا تو آزادے پر غلامی کو ترجیح دیتا ہے، اور اپنے ماں باپ اور خاندان کو چھوڑ کر غیروں کے پاس رہنا چاہتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اِس شخص کے جو اوصاف دیکھے ہیں اُن کا تجربہ کرلینے کے بعد میںاب دُنیا میں کسی کو بھی اس پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ زید کا یہ جواب سُن کر ان کے باپ اور چچا بخوشی راضی ہوگئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسی وقت زید کو آزاد کردیا اور حرم میں جاکر قریش کے ممعِ عام میں اعلان فرمایا کہ آپ سب لوگ گواہ رہیں ، آج سے زید میرا بیٹا ہے، یہ مجھ سے وراثت پائے گا اور میں اس سے۔ اسی بنا پر لوگ ان کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کہنے لگے۔ یہ سب واقعات نبوّت سے پہلے کے ہیںپھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوّت پر سرفراز ہوئے تو چار ہستیاں ایسی تھیں جنہوں نے ایک لمحہ شک و تردُّد کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نبوّت کا دعویٰ سُنتے ہی اسے تسلیم کرلیا۔ ایک خدیجہ رضی اللہ عنہا ، دوسرے زید رضی اللہ عنہ، تیسرے علی رضی اللہ عنہ، اور چوتھے انوبکر رضی اللہ عنہ۔ اُس وقت زید رضی اللہ عنہ کی عمر ۳۰ سال تھی اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں رہتے ہوئے ۱۵ سال کزرچکے تھے۔ ہجرت کے بعد ۴ ھج میں نبی صلی اللہ ولیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب رضی اللہ عنہا سے ان کا نکاح کردیا ، اپنی طرف سے اُن کا مہر ادا کیا ، اور گھر بسانے کے لیے ان کو ضروری سامان عنایت فرمایا۔


زید رضی اللہ عنہ کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن زینب رضی اللہ عنہا سے ہوا لیکن ان کی آپس میں بن نہ آ سکی اور زید رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دے دی۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب حضرت زید رضی اللہ عنہ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے تھے۔ اور نہوں نے بار بار شکایات پیش کرنے کے بعد آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ میں ان کو طلاق دینا چاہتا ہوں۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اگرچہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان کر ان کے نکاح جانا قبول کرلیا تھا ، لیکن وہ اپنے دِل سے اس احساس کو کسی طرح نہ مٹا سکیں کہ زید ایک آزاد کردہ غلام ہیں،اُن کے اپنے خاندان کے پروردہ ہیں، اور وہ عرب کے شریف ترین گھرانے کی بیٹی ہونے کے باوجود اس کم تر درجے کے آدمی سے بیاہی گئی ہیں۔ اس احساس کی وجہ سے ازواجی زندگی میں انہوں نے کبھی حضرت زید رضی اللہ عنہ کو اپنے برابر کا نہ سمجھا، اور اسی وجہ سے دونوں کے درمیان تلخیاں بڑھتی چلی گئیں ۔ ایک سال سے کچھ ہی زیادہ مدّت گزری تھی کہ نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خواہش تھی کہ زید رضی اللہ عنہ طلاق نہ دیں، اس واقعے کی طرف قرآن کریم میں یوں اشارہ کیا گیا ہے۔
آیات کا ترجمہ:
یاد کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا، کہ ’’اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر‘‘۔ اُس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا آپ سے نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں۔ اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا۔ نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو۔ یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزرچکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے۔ (یہ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں کے لیے)
جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے۔ (لوگو) محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔"


جب زید رضی اللہ عنہ نے زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ان کا نکاح کر دیا جس کے پیچھے ایک عظیم حکمت کام کر رہی تھی۔ اس زمانے کا ایک اہم مسئلہ جو اصلاح کا تقاضا کررہا تھا تَبْنِیتْ(گود لینے یا بیٹا بنانے ) کا مسئلہ تھا۔ عرب کی لوگ جس بچے کو متبنّٰی بنالیتے تھے وہ بالکل اُن کی حقیقی اولاد کی طرح سمجھا جاتا تھا ۔ اسے وراثت ملتی تھی ۔ اس سی منہ بولی ماں اور منہ بولی بہنیں وہی خلا ملا رکھتی تھیں جو حقیقی بیٹے اور بھائی سے رکھا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ منہ بولے باپ کے مرجانے کے بعد اس کی بیوہ کا نکاح اسی طرح ناجائز سمجھا جاتا تھا جس طرح سگی بہن اور حقیقی ماں کے ساتھ کسے کا نکاح حرام ہوتا ہے ۔ اور یہی معاملہ اس صورت میں بھی کیا جاتا تھا جب منہ بولا بیٹا مرجائے یا اپنی بیوی کو طلاق دیدے ۔ منہ بولے باپ کے لیے وہ عورت سگی بہو کی طرح سمجھی جاتی تھی ۔ یہ رسم قدم قدم پرنکاح اور طلاق اور وراثت کے اُن قوانین سے ٹکراتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء میں مقرر فرمائے تھے اُن کی وجہ سے جو لوگ حقیقت میں وراثت کے حق دار تھے یہ رسم ان کا حق مار کر ایک ایسے شخص دلواتی تھی جو سرے سے کوئی حق نہ رکھتا تھا۔ اُن کی رُو سے جن عورتوں اور مردوں کے درمیان رشتۂ نکاح حلال تھا، یہ رسم ان کے باہمی نکاح کو حرام کرتی تھی ۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ اسلامی قانون جن بداخلاقیوں کا سدِّ باب کرنا چاہتا تھا ، یہ رسم ان کے پھیلنے میں مدد گار کیوں کہ رسم کے طور پر منہ بولے رشتے میں خواہ کتنا ہی تقدُّ س پیدا کردیا جائے، بہر حال منہ بولی ماں ، منہ بولی بہن اور منہ بولی بیٹی حقیقی ماں اور بیٹی کی طرح نہیں ہوسکتی ۔ ان مصنوعی رشتوں کے رسمی تقدّس پر بھروسہ کرکے مردوں اور عورتوں کے درمیان جب حقیقی رشتہ داروں کا سا خلا ملا ہو تو وہ بُرے نتائج پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ ان وجوہ سے اسلامی قانونِ نِکاح وطلاق ، قانونِ وراثت اور قانونِ حرمتِ زنا کا یہ تقاضا تھا کہ متبنّٰی کو حقیقی اولاد کی طرح سمجھنے کے تخیّل کا قطعی استیصال کردیا جائے۔
لیکن یہ تخیّل محض ایک قانونی حکم کے طور پر اتنی سی بات کردینے سے ختم نہیں ہوسکتا تھا کہ ۔۔’’ منہ بولا رشتہ کوئی حقیقی رشتہ نہیں ہے۔‘‘صدیوں کے جمے ہوئے تعصبّات اور اوہام محض اقوال سے نہیں بدل جاتے ۔ حکماً لوگ اس بات کو مان بھی لیتے کہ یہ رشتے حقیقی رشتے نہیں ہیں، پھر بھی منہ بولی ماں اور منۃ بولے بیٹے کے درمیان منہ بولے بھائی اور بہن کے درمیان ، منہ بولے باپ اور بیٹی کے درمیان ، منہ بولے خسر اور بہو کے درمیان نکاح کو لوگ مکروہ سمجھتے رہتے۔ نیز ان کے درمیان خلا ملا بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتا ۔ اس لیے ناگزیر تھا کہ یہ رسم عملاًتوڑی جائے ، اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس اس کو توڑیں ۔ کیوں کہ جو کام رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا ہو، اور اللہ کے حکم سے کیا ہو، اس کے متعلق کسی مسلمان کے ذہن میں کراہت کا تصوّر باقی نہ رہ سکتا تھا۔ اسی بنا پر جنگِ احزاب سے کچھ پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ آپ اپنے منہ بولے بیٹے زید بن حارِثہ رضی اللہ عنہ کی مطلقہ بیوی سے خود نکاح کرلیں، اور اس حکم کی تعمیل آپ نے محاصرۂ بنی قریظہ کے زمانی میں فرمائی ۔ (غالباً تا خیر کی وجہ یہ تھی کہ عدّت ختم ہونے کا انتظار تھا، اور اسی دَوران میں جنگی مصروفیات پیش آگئی تھیں)۔
منافقین اور کفار جو احزاب اور بنو قریظہ کے غزوات میں تازہ تازہ شکست کھا چکے تھے اور میدان میں آ کر مقابلہ کرنے کی جرات نہ کر رہے تھے۔ انہیں اب پراپیگنڈے کا ایک ہتھیار مل گیا۔ ان کا اوّلین اعتراض یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اپنی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے ۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ’’ محمّدصلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں‘‘، یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا؟ تم لوگ تو خود جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔
ان کا دوسرااعتراض یہ تھا کہ اچھا ، اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے تب بھی اس کی چھوڑی ہوئی عورت سے نکاح کرلینا زیادہ سے زیادہ بس جائز ہی ہوسکتا تھا، آخر اس کا کرنا کیا ضرور تھا۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا’’ مگر وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہیں‘‘، یعنی رسول ہونے کی حیثیت سے ان پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ جس حلال چیز کو تمہاری رسموں نے خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے اس کے بارے میں تمام تعصّبات کا خاتمہ کردیں اور اس کی حلت کے معاملے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔
پھر مزید تاکید کے لیے فرمایا’’ اور وہ خاتم النبییں ہیں‘‘، یعنی ان کے بعد کوئی رسول تو درکنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے کہ اگر قانون اور معاشرے کی کوئی اصلاح اُن کے زمانے میں نافذ ہونے سے رہ جائے تو بعد کا آنے والا نبی یہ کسر پوری کردے، لہٰذا یہ اور بھی ضروری ہوگیا تھا کہ اس رسمِ جاہلیت کا خاتمہ وہ خود ہی کرکے جائیں۔
اس کے بعد مزید زور دینے ہوئے فرمایا گیا کہ ’’ اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے‘‘ یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اِس رسمِ جاہلیّت کو ختم کرادینا کیوں ضروری تھا اور ایسا نہ کرنے میں کیا قباحت تھی۔ وہ جانتا ہے کہ اب اُس کی طرف سے کوئی نبی آنے والا نہیں ہے لہٰذا اگر اپنے آخری نبی کے ذریعہ سے اُس نے اس رسم کا خاتمہ اب نہ کرایا تو پھر کوئی دوسری ہستی دُنیا میںایسی نہ ہوگی جس کے توڑنے سے یہ تمام دُنیا کے مسلمانوں میں ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے۔ بعد کے مصلحین اگر اسے توڑیں گے بھی تو ان میں سے کسی کا فعل بھی اپنے پیچھے ایسا دائمی اور عالمگیر اقتدار نہ رکھے گا کہ ہر ملک اور ہر زمانے میں لوگ اس کااتباع کرنے لگین، اور ان میں سے کسی کی شخصیت بھی اپنے اندر اس تقدس کی حامل نہ ہوگی کہ کسی فعل کا محض اُس کی سُنت ہونا ہی لوگوں کے دِلوں سے کراہیت کے ہر تصوّرکا قلع قمع کردے۔
یہ ہے وہ پس منظر جس میں یہ آیات نازل ہوئی۔


ایک گروہ ، جس نے اِس دور میں نئی نبوّت کا فتنۂ عظیم کھڑا کیا ہے، ان آیات میں مذکور لفظ خَاتَم النّبیّین کے معنی ’’نبیوں کی ُمہر‘‘ کرتا ہے اوراس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو انبیاء بھی آئیں گے وہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مُہر لگنے سے نبی بنیں گے، یا با لفاظ دیگر جب تک کسی کی نبوت پر آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مُہر نہ لگے وہ نبی نہ ہوسکے گا۔
لیکن جس سلسلۂ بیان میں یہ آیت وارد ہوئی ہے اس کے اندررکھ کر اسے دیکھاجائے تو اِس لفظ کا یہ مفہوم لینے کی قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ، بلکہ اگر یہی اس کے معنی ہوں تو یہاں یہ لفظ نے محل ہی نہیں، مقصود کلام کے بھی خلاف ہو جاتاہے(سلسلۂ بیان کو سمجھنے کے لیے اوپر کے مراسلات نگاہ میں رہنے چاہیئیں)۔ آخر اس بات کا کیا تُک ہے کہ اوپر سے تو نکاح زینب رضی اللہ عنہا پر معترضین کے اعتراضات اور ان کے پیدا کیے ہوئے شکوک و شبہات کا جوات دیا جا رہا ہو اور یکایک یہ بات کہہ ڈالی جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نبیوں کی مُہر ہیں، آئندہ جو نبی بھی بنے گا، ان کی مُہر لگ کر بنے گا۔ اس سیاق و سباق میں یہ بات نہ صرف یہ کہ بالکل بے تُکی ہے ، بلکہ اس سے وہ استدلال اُلٹا کمزور ہوجاتا ہے جو اوپر سے معترضین کے جواب میں چلا آرہا ہے۔ اِ س صورت میں تو معترضین کے لیے یہ کہنے کا اچھا موقع تھا کہ آپ یہ کام اِس وقت نہ کرتے تو کوئی خطرہ نہ تھا۔ اِس رسم کو مٹانے کی ایسی ہی کچھ شدید ضرورت ہے تو آپ کے بعد آپ کی مُہرلگ لگ کر جو انبیاء آتے رہیں گے اُن میں سے کوئی اسے مٹادے گا۔
ایک دوسری تاویل اس گروہ نے یہ بھی کی ہے کہ ’’ خاتم ا لنبیین‘‘ کے معنی افضل النبیین کے ہیں، یعنی نبوت کا دروازہ تو کُھلا ہوا ہے، البتہ کمالاتِ نبوّت نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر ختم ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ مفہوم لینے میں بھی وہی قباحت ہے جو اوپر ہم نے بیان کی ہے۔ سیاق و سباق سے یہ مفہوم بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتا ، بلکہ اُلٹا اس کے خلاف پڑتا ہے ۔ کفّا ر و منافقین کہہ سکتے تھے کہ کم تر درجے کے ہی سہی۔ بہر حال آپ کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ پھر کیا ضرور تھا کہ اس ر سم کو بھی آپ ہی مٹا کر جاتے ۔

لُغت کی رُو سے خاتم النبیین کے معنی

پس جہاں تک سیاق وسباق کا تعلق ہے وہ قطعی طور پر اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں خاتم النبییّن کے معنی سلسلۂ نبوّت کو ختم کردینے والے ہی کے لیے جائیں اور یہ سمجھا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ لیکن یہ صرف سیاق ہی کا تقاضا نہیں ہے، لغت بھی اِسی معنی کی مقتضی ہے۔ عرنی لغت اور محاورے کی رو سے ’’ ختم‘‘ کے معنی مُہر لگانے، بندکرنے ، آخر تک پہنچ جانے، اور کسی کام کو پورا کرکے فارغ ہوجانے کے ہیں ۔
خَتَمَ الْعَمَل کے معنی ہیں فَرَغَ مِنَ الْعَمَلِ ، ’’کام سے فارغ ہوگیا۔‘‘
خَتَمَ الْاِنَا ئَ کے معنی ہیں’’برتن کا منہ بند کردیا اور اس پر مُہر لگادی تاکہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے اندرداخل ہو‘‘
خَتَمَ الْکِتَابَ کے معنی ہیں ’’ خط بند کرکے اس پر مُہر لگادی تاکہ خط محفو ظ ہوجائے۔‘‘
خَتَمَ عَلَی الْقَلْبِ، ’’ دِل پر مُہر لگادی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے ، نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نِکل سکے۔‘‘
خِتَا مُ کُلِّ مَشْرُوبٍ، ’’ وہ مزا جو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتاہے۔‘‘
خَا تمۃُ کُلِّ شَیٔئٍ عاقبتہ واٰخرتہ، ہرچیز کے خاتمہ سے مراد ہے اس کی عاقبت اور آخرت۔‘‘
خَتَمَ الشَّیْء ، بلغ اٰخرہ، ’’کسی چیزکو ختم کرنے کا مطلب ہے اس کے آخر تک پہنچ جانا۔ ‘‘ اسی معنی میں ختم قرآن بولتے ہیں اور اسی معنی میں سورتوں کی آخری آیات کو خواتیم کہا جاتا ہے۔
خَا تَمُ الْقَوْمِ، اٰخر ھم، خاتم القوم سے مراد ہے قبیلے کا آخری آدمی‘‘ ۔ (ملاحظہ ہو لسان العرب، قاموس اور قرب الموارد)(یہاں ہم نے لغت کی صرف تین کتابوں کاحوالہ دیا ہے۔ لیکن بات انہی تین کتابوں پر منحصر نہیں ہے۔ عربی زبان کی کوئی معتبر لغت اٹھا کر دیکھ لی جائے ، اس میں لفظ ’’خاتم‘‘ کی یہی تشریح ملے گی ۔ لیکن منکرینِ ختمِ نبوت اللہ کے دین میں نقب لگانے کے لیے لغت کو چھوڑ کر اس بات کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی شخص کو خاتم الشعراء ، یا خاتمالفقہاء یا خاتم المفسّرین کہنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جس شخص کو یہ لقب دیا گیا ہے اس کے بعد کوئی شاعر یا فقیہ یا مفسّر پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس فن کے کمالات اُس شخص پر ختم ہوگئے۔ حا لانکہ مبالغے کے طور پر اس طرح کے القا ب کا استعمال یہ معنی ہر گز نہیں رکھتا کہ لغت کے اعتبار سے خاتم کے اصل معنی ہی کامل یا افضل کے ہوجائیں اور آخری کے معنی میں یہ لفظ استعمال کرنا سرے سے غلط قرار پائے ۔ یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو زبان کے قواعد سے ناواقف ہو ۔ کسی ز بان میں بھی یہ قاعدہ نہیں ہے کہ اگر کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے کبھی کبھی مجازاً کسی دوسرے معنی میں بولا جاتا ہو تو وہی معنی اس کے اصل معنی بن جائیں اور لغت کی رُو سے جو اس کے حقیقی معنی ہیں اُن میں اس کا استعمال ممنوع ہوجائے ۔ آپ کسی عرب کے سامنے جب کہیں گے کہ جَاء خاتَم القوم، تووہ اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لے گا کہ قبیلے کا فاضل و کامل آدمی آگیا ، بلکہ اس کا مطلب وہ یہی لے گا کہ پورا قبیلہ آگیا ہے حتیٰ کہ آخری آدمی جو رہ گیا تھا وہ بھی آگیا۔
اس کے ساتھ یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ خاتم الشعراء ، خاتم الفقہاء اور خاتم المحدثین وغیرہ القاب جو بعض لوگوں کو دیے گئے ہیں ان کے دینے والے انسان تھے اور انسان کبھی یہ نہیں جان سکتا کہ جس شحص کو وہ کسی صفت کے اعتبار سے خاتم کہہ رہا ہے اس کے بعد پھر کوئی اس صفت کاحامل پیدا نہیں ہوگا۔ اسی وجہ سے انسانی کلام میں ان القاب کی حیثیت مبالغے اور اعترافِ کمال سے زیادہ کچھ ہو ہی نہیں سکتی لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے متعلق یہ کہدے کہ فلاں صفت اُس پر ختم ہو گئی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے بھی انسانی کلام کی طرح مجازی کلام سمجھ لیں۔ اللہ نے اگر کسی کو خاتم الشعراء کہہ دیا ہوتا تو یقینًا اس کے بعد کوئی شاعر نہیں ہوسکتا تھا۔ اور اس نے جسے خاتم النبیّین کہہ دیا، غیر ممکن ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی ہوسکے۔ اس لیے کہ اللہ عالم الغیب ہے اور انسان عالم الغیب نہیں ہیں۔ اللہ کا کسی کو خاتم النبیّین کہنا اور انسانوں کا کسی کو خاتم الشعراء اور خاتم الفقہاء وغیرہ کہہ دینا آخر ایک درجہ میں کیسے ہوسکتا ہے۔)
اس بنا پر تمام اہل لغت اور اہل تفسیرنے بالاتفاق خاتم النبییّن کے معنی آخرالنبییّن کے لیے ہیں۔ عربی لُغت و محاورے کی رُو سے خاتم کے معنٰی ڈاک خانے کی مُہر کے نہیں ہیں جسے لگا لگا کر خطوط جاری کیے جاتے ہیں ، بلکہ اس سے مراد وہ مُہر ہے جو لفافے پر اس لیے لگائی جاتی ہے کہ نہ اس کے اند ر سے کوئی چیز باہر نکلنے نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے۔


ختم نبوّت کے بَارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات

قرآن کے سیاق و سباق اور لغت کے لحاظ سے اس لفظ کا جو مفہوم ہے اسی کی تائید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات کرتی ہیں ۔ مثال کے طور پر چند صحیح ترین احادیث ہم یہاں نقل کرتے ہیں:
۱)۔قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانت بنو اسرائیل تسو سھم الانبیاء۔ کلماھلک نبی خلفہ نبی، وانہ لا نبی بعد ی وسیکو زخلفاء (بخاری ، کتاب المناقب، باب ماذکر عن بنی اسرئیل)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرئیل کی قیا دت انبیاء کیا کرتے تھے ۔ جب کوئی نبی مرجاتا تو دوسرا نبی اس کا جا نشین ہوتا ۔ مگر میری بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔
۲)۔قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان مثلی و مثل الا نبیائمن قبلی کمثل رجل بنیٰ بیتًا فا حسنہ واجملہ الّا مو ضع لبنۃ من زاویۃٍفھعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ھلّا وُ ضِعَتْ ھٰذہ اللبنۃ،فانا اللبنۃ۔وانا خاتم النبیّین (بخاری ، کتاب المناقب، باب خاتم النبیّین)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسیایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب احسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرے اور اس کی خونی پر اظہارِ حیرت کرتے تھے ، مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں (یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمرت مکمل ہوچکی ہے، اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پُر کرنے کے لیے کوئی آئے)
اسی مضمون کی چار حدیثیں مسلم، کتاب الفضائل ، باب خاتم النبیین میں ہیں اور آخری حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں: فَجِعْتُ فَختمت الانبیاء، ’’پس میں آیا اور انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا۔‘‘
یہی حدیث انہی الفاظ میں ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل النبی، اور کتاب الآداب، باب الامثال میں ہے۔
مُسند ابو داوٗد وطَیا لِسی میں یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت کردہ احادیث کے سلسلے میں آئی ہے اوراس کے آخری الفاظ یہ ہیں:ختم بی الانبیاء، ’’ میرے ذریعہ سے انبیاء کا سلسلہ ختم کیا گیا۔‘‘
مُسند احمد میں تھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ اس مضمون کی احادیث اُبَیّ بن کعب رضی اللہ عنہ ، ابو سعد خُدرِی رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی گئی ہیں۔
۳)۔ ان رسو ل اللہ صلی اللہ وسلم قال فُضِّلْتُ علی الانبیَاء بستِّ، اعطیت جوامع الکلم، ونصرت بالرعب واُحلّت لی الغنائم وجعلت لیالارض مسجدًا و طھورًا ، واُرْسلتُالیالخلق کانۃ، وختم بی النبیّون۔ (مسلم ، ترمذی، ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے(۱) مجھے جامع ومختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی(۲)مجھے رعب کے ذریعہ سے نُصرت بخشی گئی(۳) میرے لیے اموالِ غنیمت حلال کیے گیے (۴)میرے لیے زمین کو مسجد بھی بنادیا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی (یعنی میری شریعت میں نما ز صرف مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جا سکتی ہے اور پانے نہ ملے تو میری شریعت میں تیمم کرکے وضو کے حاجت بھی پوری کی جاسکتی ہے اور غسل کی حاجت بھی) (۵)مجھے تمام دُنیا کے لیے رسول بنایا گیا(۶)اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔
۵)۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انا محمد ، وانا احمد وانا الماحیٰ الذی یحشر الناس علی عقبی، وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی ( بخاری و مسلم، کتاب الفضائل، باب اسماء النبی۔ ترمذی، کتاب الآداب، باب اسماء النبی ۔ مُوطّا ، کتاب اسماء النبی ۔ المستدرک للحاکم، کتاب التاریخ ، باب اسماء النبی)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہوں میں احمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہوں ۔ میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے کفر محو کیا جائے گا۔ میں حاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کیے جائیں گے(یعنی میرے بعد اب جس قیامت ہی آنی ہے) ۔ اور میں عاقب ہوں ، اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلٍیّ انت منیّ بمنزلۃ ھارون من موسیٰ ، الا انہ لانبی بعدی (بخاری و مسلم ، کتاب فضائل الصحابہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا میرے ساتھ تمہاری نسبت وہی ہے جو موسٰی علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کی تھی ، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
بخاری و مسلم نے یہ حدیث غَزوۂ تَبوک کے ذکر میں بھی نقل کی ہے۔ مُسند احمد میں اس مضمون کی دو حدیثیں سعد بن ابی وقاص سے روایت کی گئی ہیں جب میں سے ایک کا آخری فقرہ یوں ہے : الا انہ لا نبوۃ بعدی، ’’مگرمیرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔‘‘ ابو داوٗد و طیالِسی، امام احمد اور محمد بن اسحاق نے اس سلسلے میں جو تفصیلی روایات تقل کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ تبوک کے لیے تشریف لے جاتے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ طیّبہ کی حفاظت و نگرانی کے لیے اپنے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا ۔ منافقین نے اس پر طرح طرح کی باتین ان کے بارے میں کہنی شرع کردیں انہوں نے جاکر نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ، کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جارہے ہیں‘‘؟ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’ تم میرے ساتھ وہی نسب رکھتے ہو جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام رکھتے تھے‘‘ ۔ یعنی جس طرح موسیٰ علیہ السلامنے کوہِ طور پر جاتے ہوئے ہارون علیہ السلام کو بنی اسرئیل کی نگرانی کے لیے پیچھے چھوڑا تھا اسی طرح میں تم کو مدینے کی حفاظت کے لیے چھوڑ ے جارہا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ ہارون علیہ السلام کے ساتھ یہ تشبیہ کہیں بعد میں کسی فتنے کی موجب نہ بن جائے، اس لیے فوراًآپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے یہ تصریح فرمادی کہ میرے بعد کوئی شخص نبی ہونے والا نہیں ہے۔
کان فیمن کان قلبکم من بنی اسرائیل رجال یُکلَّمون من غیران یکو نو اانبیاء فان یکن من امتی احد بعمر۔ (بخاری، کتاب المناقب)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے جو بنی اسرائیل گزرے ہیں ان میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جن سے کلام کیا جاتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں۔ میری امت میں اگر کوئی ہوا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔اور یہ کہ میری امت میں تیس کذَّاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک بنی ہونے کا دعویٰ کرے گا، حالاں کہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اسی مضمون کی ایک اور حدیث ابو داوٗد نے کتاب الملاحم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ ترمذی نے بھی ثوبان اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ دونوںروایتیں نقل کی ہیں اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں : حتی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلا ثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ،’’ یہاں تک کہ اُٹھیں گے تیس کے قریب جھوٹے فرینی جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا وہ اللہ کا رسول ہے۔‘‘
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بانی اٰخر الانبیاء وان مساجد۔(مسلم، کتاب الحج، باب فضل الصلوٰۃ بمسجد مکہ والمدینۃ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد (یعنی مسجدِ نبوی) ہے۔ ( منکرینِ ختم نبوت اس حدیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی مسجد کو آخرُ المساجد فرمایا، حالانکہ وہ آخری مسجد نہیں ہے بلکہ اس کے بعد بھی بے شمار مسجدیں دُنیا میں بنی ہیں، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں آخر الانبیاء ہوں تو اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد نبی آتے رہیں گے، البتہ فضیلت کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مسجد آخری مسجد ہے۔ لیکن درحقیقت اسی طرح کی تاویلیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ لوگ اللہ اور رسول کے کلام کو سمجھنے کی اہلیت سے محروم ہوچکے ہیں ۔ صحیح مسلم کے جس مقام پر یہ حدیث واردہوئی ہے اس کے سلسلے کی تمام احادیث کو ایک نظر ہی آدمی دیکھ لے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کس میں فرمایاہے۔ اس مقام پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ،اور امّ المومنین میمونہ رضی اللہ عنہ ، کے حوالہ سے جو روایات امام مسلم نے نقل کی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ دُنیامیں صرف تین مساجد ایسی ہیں جن کو عام مساجد پر فضیلت حاصل ہے، جن میں نماز پڑھنا دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا زیادہ ثواب رکھتا ہے۔ اور اسے بنا پر صرف انہی تین مسجدوں میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرکے جانا جائز ہے، باقی کسی مسجد کا یہ حق نہیں ہے کہ آدمی دوسری مسجدوں کو چھوڑ کر خاص طور پر اُس میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرے۔ ان میں سے پہلے مسجدالحرام ہے جسے ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ دوسرے مسجد ، مسجد اقصیٰ ہے جسے سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا۔ اور تیسری مسجد ، مدینۂطیّبہ کی مسجد نبوی ہے جس کی بنیاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی ۔ ارشاد کا منشا یہ ہے کہ اب چونکہ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، اس لیے میری اس مسجد کے بعد دُنیا میں کوئی چوتھی مسجدایسی بننے والی نہیں ہے جس میں نماز پڑھنے کاثواب دوسری مسجدوں سے زیادہ ہو اور جس کی طرف نمازکی غرض سے سفر کرکی جانا درست ہو۔
یہ احادیث بکثرت صحابہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں اور بکثرت محدثین نے ان کو بہت سی قوی سندوں سے نقل کیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر، مختلف طریقوں سے، مختلف الفاظ میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، نبوت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد جو بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں وہ دجال و کذّاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ ’’ خاتم النبیین‘‘ کی اس کے زیادہ متند و معتبر اور قطعی الثبوت تشریح اور کیا ہوسکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد توبجائے خود سند و حجت ہے۔ مگر جب وہ قرآن کی ایک نص کی شرح کررہا ہوتب تو وہ اور بھی زیادہ قوی حجّت بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا اور اس کی تفسیر کا حق دار اور کون ہوسکتا ہے کہ وہ ختمِ نبوت کا کوئی دوسرا مجہوم بیان کرے اور ہم اسے قبول کرنا کیا قابل التفات بھی سمجھیں؟


( بقیہ حصہ نیچے ملاحظہ فرمائیں )

تانیہ
04-03-2011, 12:15 AM
صحابۂ کرام کا اِجماع

قرآن و سنت کے بعد تیسرے درجے میں صحابۂ کرام کے اجماع کی ہے ۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی ، اُن سب کے خلاف صحابۂ کرام نے بالاتفاق جنگ کی تھی۔
اس سلسلے میں خصوصیّت کے ساتھ مُسَیلمۂ کذّاب کا معاملہ قابلِ ذکر ہے۔یہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا منکر نہ تھا بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اُسے شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریکِ نبوت بنایا گیا ہے۔ اُس شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو لکھا تھا اس کے الفاظ یہ ہیں:
من مُسَیْلمۃ رسول اللہ الیٰ محمدٍ رسول اللہ سلام علیک فانی اُشرِکتُ فی الامر معک(طَبَری، جلددوم، ص ۳۹۹، طبع مصر)
مُسَیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کی طرف ۔ آپ پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہوکہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔
علاوہ بریں مؤرخ طَبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مُسَیلمہ کے ہان جو اذاں دی جاتی تھی اس میں اشھدانّ محمّدًا رسول اللہ کے الفاظ بھی کہے جاتے تھے۔ اس صریح اقرارِرسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے باوجود اسے کافر اور خارج ا ز ملت قرار دیا گیا اور اس سے جنگ کی گئی ۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنو حنِیفیہ نیک نیتی کے ساتھ (In good faith)اُس پر ایمان لائے تھے اور انہیںواقعی اس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خود شریکِ رسالت کیا تھا۔ نیز قرآن کی آیات کو اُن کے سامنے مُسِیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک ایسے شخص نے پیش کیا تھا جو مدینۂ طیّبہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کرکے گیا تھا (البِدایۂ و النِّہایہَ لابن کثیر ، جلد ۵، ص۵۱)۔ مگر اس کے باوجود صحابۂ کرام نے ان کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہ نے ان کے خلاف ارتداد کی بنا پر نہیں بلکہ بغاوت کے جرم میں جنگ کی تھی۔ اسلامی قانون کی رُو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگر جنگ کی نوبت آئے تو ان کے اسیرانِ جنگ غلام نہیں بنائے جاسکتے، بلکہ مسلمان تو درکنار، ذمّی بھی اگر باغی ہوں تو گرفتار ہونے کے بعد ان کو غلام بنانا جائز نہیں ہے۔ لیکن مُسَیلمہ اور اس کے پیرووں پرجب چڑھائی کی گئی ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اعلان فرمایا کہ اُن کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا جائے گا۔ اورجب وہ لوگ اسیر ہوئے تو فی الواقع ان کو غلام بنایا گیا۔چنانچہ انہی میں سے ایک لونڈی علی رضی اللہ عنہ کے حصّے میں آئی جس کے بطن سے تاریخ اسلام کی مشہور شخصیّت محمدبن علی بن ابی طالب ( جنہیں مورخین ان کی والدہ کی نسبت سے محمد بن حنفیہ کا نام دیتے ہیں) نے جنم لیا ( البِدایہ والنہایہ ، جلد۶، ص ۳۱۶، ۳۲۵)۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جس جُرم کی بنا پر ان سے جنگ کی تھی وہ بغاوت کا جرم نہ تھا بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے۔ یہ کارروائی نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ ولم کی وفات کے فوراً بعد ہوئی ہے، ابو بکررضی اللہ عنہ کی قیادت میں ہوئی ہے ، اور صحابہ کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی ہے ۔اجماع صحابہ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو۔


علمائے امت کا اجماع

اجماع صحابہ کے بعد چوتھے نمبر پر مسائل دین میں جو چیز کو حجت کی حیثیت حاصل ہے وہ دور صحابہ کے بعد کے علمائے اُمت کا اجماع ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم یہ دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صدی سے لے کر آج تک ہر زمانے کے، اور پوری دنیائے اسلام میں ہر ملک کے علماء اس عقیدے پر متفق ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا ، اور یہ کہ جو بھی آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے ، یا اس کو مانے ، وہ کافر خارج از ملّت اسلام ہے۔ اس سلسلہ کے بھی چند شواہد ملاحظہ ہوں:
۱۔اما م ا بوحنیفہ ؓ(۸۰ھ۔ ۱۵۰ھ) کے زمانے میں ایک شخص نے بنوت کا دعویٰ کیا اور کہا ’’ مجھے موقع دوکہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں ۔‘‘ اس پر امامِ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ’’ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں کہ’’ لا نبی بعدی‘‘(مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ لا بن احمد المکی، ج ۱۔ص۱۶۱ ۔ مطبوعہ حیدرآباد ۱۳۲۱ھ)
۲۔ علاّمہ ابن جَریر طَبری (۲۲۴ھ۔ ۳۱۰ھ) اپنی مشہور تفسیر قرآن میں آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْ لِ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّنَ کامطلب بیان کرتے ہیں : الذی ختم النبوۃ فطبع علیھا فلاتفتح لاحد بعدہٗ الیٰ قیام الساعۃ ۔ جس نے نبوت کو ختم کردیا اور اس پر مُہر لگادی، اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لئے نہیں کھلے گا ‘‘ (تفسیر ابنِ جریر، جلد ۲۲، صفحہ ۱۲)
۳۔ امام طَحاوِی(۲۳۹ھ۔ ۳۲۱ھ)اپنی کتاب ’’عقیدۂ سلفیہ‘‘ میں سلف صالحین کے عقائد بیان کرتے ہوئے نبو ت کے بارے یہ عقیدہ تحریر فرماتے ہیں:’’ اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے برگزیدہ بندے ،چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں اور وہ خاتم الانبیا ء، امام الاتقیا، سیّد المرسلین اور حبِیب ربّ العالمین ہیں، اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ گمراہی اور خواہشِ نفس کی بندگی ہے۔‘‘ (شرح الطحاویہ فی العقیدۃ السلفیہ،دارلمعارف مصر، صفحات ۱۵،۸۷،۹۶،۱۰۰،۱۰۲)
۴۔ علّامہ ابن حَزُم اندَلُسِی (۳۸۴ھ۔ ۴۵۶ھ) لکھتے ہیں: ’’ یقیناً وحی کا سلسلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد منقطع ہوچکا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی نہیں ہوتی مگر ایک نبی کی طرف ، اور اللہ عزّوجلّ فرماچکا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نہیں ہیں تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ ، مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔‘‘ (المحلّٰی، ج۱ ، ص ۲۶)
5۔محی السُّنَّہ بَغَوی (متوفی۵۱۰ھ)اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھتے ہیں،’’اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نبوت کو ختم کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم انبیاء کے خاتم ہیں .........اور ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اِس آیت میں) یہ فیصلہ فرمادیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکوئی نبی نہ ہوگا۔‘‘ (جلد ۳،ص۱۵۸)
۷۔ علامہ زَمَخْشَری (۴۶۷ھ ۔ ۵۳۸ھ) تفسیر کشّاف میں لکھتے: ’’ ہیںاگر تم کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی کیسے ہوئے جبکہ عیسیٰ ؑ آخر زمانے میں نازل ہوں گے؟ تو میں کہوں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا، اور عیسیٰ علیہ السلام اُن لوگوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے، اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قبیلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے گویا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہی کی امت کے ایک فرد ہیں‘‘ ۔ (جلد ۲،ص۲۱۵)
۸۔ قاضی عیاض(متوفی ۵۴۴ھ) لکھتے ہیں:’’ جوشخص خود اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ کرے، یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی نبوت کا اکتساب کرسکتا ہے اور صفائیِ قلب کے ذریعہ سے مرتبۂ نبوت کو پہنچ سکتا ہے، جیسا کہ بعض فلسفی اور غالی صوفی کہتے ہیں ، اور اسی طرح جو شخص نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے ...... ایسے سب لوگ کافر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والے ہیں ۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم خاتم النبیین ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پہنچائی ہے کہ آپ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں اور تمام انسانوں کی طرف آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو بھیجا گیا ہے۔ اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر مفہوم پر محمول ہے، اس کے معنی ومفہوم میں کسی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ان تمام گروہوں کے کافر ہونے میں قطعاً کوئی شک نہیں ، بر بنائے اجماع بھی اور بر بنائے نقل بھی‘‘۔(شفاء، جلد ۲، ص۰ ۲۷۔۲۷۱)
۹۔ علامہ شہر ستانی (متوفی ۵۴۸ھ ) اپنی مشہور کتاب الملل و الِنَّحل میں لکھتے ہیں :’’ اور اسے طرح جو دکہے.......... کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے (بجز عیسٰی علیہ السلام کے )تو اس کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کی درمیان بھی اختلاف نہیںہے‘‘ (جلد ۳، ص۲۴۹)
۱۰۔ امام رازی (۵۴۳ھ۔۶۰۶ھ)اپنی تفسیرکبیر میں آیت خاتم النبیین کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ اس سلسلۂ بیان میں و خاتم النبیین اس لیے فرمایاکہ جس نبی کے بعد کوئی دوسرانبی ہووہاگر نویھت اور توضیح احکام کوئی کسر چھوڑ جائے تواس کے بعد آنے والا نبی اُ سے پورا کر سکتاہے ۔ مگر جس کے بعد کوئی آنے والا نبی نہ ہووہ اپنی امت پر زیادہ شفیق ہوتا ہے اور اس کو زیادہ واضح رہنمائی دیتا ہے کیونکہ اس کی مثال اُس باپ کی ہوتی ہے جو جانتا ہے کہاس کے بیٹے کا کوئی ولیو سرپرست اُس کے بعد نہیں ہے(جلد ۶، ص ۵۸۱)
۱۱)۔ علامہ بیضاوی (متوفی ۶۸۵ھ اپنی تفسیر انوار التنزیل مین لکھتے ہیں: ’’ یعنی آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم انبیا ء میں سب سے آخری نبی ہیں جس نے ان کا سلسلہ ختم کردیا، یا جس سے انبیاء کے سلسلے پر مہر کردی گئی۔اورعیسیٰ علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد نازل ہونا اس ختمِنبوت میں قاوح نہیں ہے کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہی کے دین پر ہوں گے‘‘ (جلد ۴ ۔ ص ۱۶۴)
۱۲)۔ علامہ حافظ الدین النَّسَفی(متوفی ۷۱۰ھ) اپنی تفسیر ’’ مدارک التنزیل ‘‘ لکھتے ہیں۔ ’’ اور آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم خاتم النبیین ہیں........ یعنی نبیوں میں سب سے آخری ۔ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد کوئی شخص نبی نہیں نبایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ ؑ تو وہ اُن انبیاء میں سے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے۔اوروہ جب نازل ہوں گے تو شریعتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے گویاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے افراد میں سے ہیں‘‘ (ص ۴۷۱)
۱۳)۔ علامہ علاؤالدین بغدادی(متوفی ۷۲۵ھ) اپنی تفسیر ’’ خازن‘‘ میں لکھتے ہیں:’’ وَخَا تَمَ النَّبِیّینَ، یعنی اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر نبوت ختم کردی، ان نہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ کوئی اس میں شریک..... وَکَانَاللہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عِلیمْاً،یعنی یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکوئی نبی نہیں۔‘‘ (ص۴۷۱۔۴۷۲)
۱۴)۔ علامہ ابنِ کثیر (متوفی ۷۷۴ھ)اپنی مشہور و معروف تفسیر میں لکھتے ہیں:’’ پس یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد نبی کوئی نہیں تو رسول درجۂ اولیٰ نہیں ہے، کیوں کہ رسالت کا منصب خاص ہے اور نبوت کا منصب عام، ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا....حضور صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد جو شخص بھی اس مقام کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ، مفتری،دجّال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے خواہ وہ کیسے ہی خرق عادت اور شعبدے اور جادو اور طلسم اور کرشمے بنا کر لے آئے.... یہی حیثیت ہر اس شخص کی ہے جو قیامت تک اس منصب کا مدعی ہو‘‘۔ (جلد۳۔ص۴۹۳۔۴۹۴)
۱۵)۔ علامہ جلال الدین سُیُو طی(متوفی۹۱۱) تفسیر جلالین میں لکھتے ہیں:’’ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا،
یعنی اللہ اس بات کو جانتا ہی محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شریعت ہی کے مطاق عمل کریں گے‘‘۔(ص ۷۶۸)
۱۶)۔ علامہ انب نُجیم(متوفی ۹۷۰ھ) اُصُولِ فقہ کی مشہور کتاب الْاَشباہ والنظائر، کتاب السّیر، باب الرِّوَّہ میں لکھتے ہیں:’’ اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے، کیوں کہ یہ اُن باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔‘‘ (ص۱۷۹)
۱۷)۔ ملّا علی قاری(متوفی ۱۰۱۶ھ) شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:’’ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالا جماع کفر ہے‘‘۔(ص ۲۰۲)
۱۸)۔شیخ اسماعیل حقی(متوفی ۱۱۳۷ھ) تفسیر رُوح البیان میں اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ عاصم نے لفظ خاتَم ت کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی ہیں آلۂ ختم کے جس سے مہر کی جاتی ہے۔ جیسے طابع اس چیز کو کہتے ہیں جس سے ٹھپّا لگا یا جائے۔ مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء میں سب سے آخر تھے جن کے ذریعہ سے نبیوں کے سلسلہ پر مُہر لگادی گئی۔ فارسی میں اسے’’ مُہرپیغمبراں ‘‘ کہیں گے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے نبوت کا دروازہ سر بمُہر کردیا گیا اور پیغمبروں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ۔ باقی قاریوں نے اسے ت کے زیر کے ساتھ خاتِم پڑھا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم مُہر کرنے والے تھے۔ فارسی میں اس کو ’’مُہر کنندۂ پیغمبراں‘‘کہیں گے۔ اس طر ح یہ لفظ بھی خاتَم کا ہم معنی ہی ہے..... اب آپ کی اُمت کے علماء آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے صرف ولایت ہی کی میراث پائیں گے، نبوت کی میراث آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ختمیت کے باعث ختم ہوچکی۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپ کے بعد نازل ہونا آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے میں قدح نہیں ہے کیونکہ خاتم النیین ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ بنایا جائے گا.... اور عیسیٰ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے پہلے نبی نبائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی امت کے ایک فرد کی طرح ہوں گے۔ نہ اُن کی طرف وحی آئے گی اور نہ وہ نئے احکم دیں گے۔ بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوں گے...... اور اہل سنت والجماعت اس بات کے قائل ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا’’ لا نبی بعدی‘‘ اب جو کوئی کہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہے تو اس کو کافر قرار دیا جائے گا، کیونکہ اس نے نص کا انکارکیا۔ اور اسی طرح اس شخص کی بھی تکفیر کی جائے گے جو اس میں شک کرے، کیونکہ حجت نے حق کو باطل سے ممیز کردیا ہے اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اس کا دعویٰ باطل کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ جلد ۲۲ ص ۱۸۸)
۱۹)۔ قتاویٰ علمگیری، جسے بارھویں صدی ہجری میں اورنگ زیب علمگیر کے حکم سے ہندوستان کے بہت سے علماء نے مرتب کیا تھا، اس میں لکھا ہے:’’ اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے۔ اور اگر وہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا میں پیغمبر ہوں تو اس کی تکفیرکی جائے گی‘‘(جلد۲، ص۲۶۳)
۲۰)۔ علامہ شَو کافّٰی (متوفّٰی ۱۲۵۵ھ) اپنی تفسیر فتح القدیرمیں لکھتے ہیں :’’ جمہور نے لفظ خاتِم کو ت کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور نے زبر کے ساتھ۔ پہلی قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انبیاء کو ختم کیا، یعنی سب کے آخر میں آئے ۔ اور دوسری قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپ ان کے لیے مہر کی طرح ہو گئے جس کے ذریعہ سے ان کا سلسلہ سر بمہر ہوگیا اور جس کے شمول سے ان کا گروہ مزین ہوا‘‘(جلد ۴، ص ۲۷۵)
۲۱)۔علامہ آلوسی (متوفّٰی ۱۲۷۰ھ) تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں: ’’ نبی کا لفظ رسول کی بہ نسبت عام ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے سے خود بخود لازم آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم خاتم المرسلین بھی ہوں ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے خاتِم انبیاء و رُسُل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دُنیا میں وصفِ نبوت سے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے متصف ہونے کے بعد اب جِنّ و انس میں سے ہر ایک کے لیے نبوت کا وصف منقطع ہوگیا۔‘‘ (جلد ۲۲۔ص۳۲) ۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص وحی نبوت کا مدّعی ہوا ُسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اس امر میں مسلمانوں کے دریان کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘ جلد۲۲ ص ۳۸) ۔’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی بات ہے جسے کتاب ا للہ نے صاف صاف بیان کیا، سنّت نے واضح طور پر اس کی تصریح کی، اور امت نے اس پر اجماع کیا ۔ لہٰذا جو اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اسے کافر قرار دیا جائے گا۔‘‘ (جلد ۲۲ ص ۳۹)
یہ ہندوستان سے لے کر مراکش اور اندلس تک ، اور ٹرکی سے لے کر یمن تک ہر مسلمان ملک کے اکابر علماء و فقہا ء اور مجدثین و مفسرین کی تریحات ہیں ۔ ہم نے ان کے ناموں کے ساتھ ان کے سنینِ ولادت و وفات بھی دے دیے ہیں جن سے ہر شخص بیک نظر معلوم کر سکتا ہے کہ پہلی صدی سے تیرھویں صدی تک تاریخِ اسلام کی ہر صدی کے اکابر اُن میں شامل ہیں ۔ اگرچہ ہم چودھویں صدی کے علمائے اسلام کی تصریحات بھی نقل کرسکتے تھے، مگر ہم نے قصدًا انہیں اس لیے چھوڑدیا کہ اُن کی تفسیر کے جواب میں ایک شخص یہ حیلہ کرسکتا ہے کہ ان لوگوں نے اس دور کے مدعی نبوت کی ضد میں ختمِ نبوت کے یہ معنی بیان کیے ہیں۔ اس لیے ہم نے پہلے علماء کی تحریریں نقل کی ہیں جو ظاہر ہے کہ آج کے کسی سے کوئی ضد نہ رکھ سکتے تھے۔ ان تحریروں س یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ پہلی صدی سے آج تک پوری دنیائے اسلام متفقہ طور پر ’’ خاتم النبیین ‘‘ کے معنی ’’ آخری نبی ‘‘ ہی سمجھری رہی ہے، حضور صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلماتوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے ، اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں ئہا کہ جو شخص محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
اب یہ دیکھناہر صاحبِ عقل آدمی کا اپنا کام ہے کہ لفظ خاتم البنیین کا جو مفہوم لغت سے ثابت ہے، جو قرآن کی عبارت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے، جس کی تصریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمادی ہے، جس پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے، اور جسے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف مانتے رہے ہیں، اس کے خلاف کوئی دوسرا مفہوم ،لینے اور کسی نئے مدّعی کے لیے نبوت کا دروازہ کھولنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے، اور ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان تسلیم کیا جا سکتا ہے جنہوں نے بابِ نبوت کے مفتوح ہونے کا محض خیال ہی ظاہر نہیں کیا ہے بلکہ اس دروازے سے ایک صاحب حریمِ نبوت میں داخل بھی ہو گئے ہیں اور یہ لوگ ان کے نبوت پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔

اس سلسلے میں تین باتیں اور قابلِ غور ہیں:

کیا اللہ کو ہمارے ایمان سے کوئی دشمنی ہے؟

پہلی بات یہ ہے کہ نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے۔ قرآن مجید کی رُو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر ، اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر۔ ایسے ایک نازک معاملے میں تو اللہ تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجۂاولیٰ توقع نہیں کی جاسکتی ۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتاتو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اس کاس کُھلا کُھلا اعلان کراتا اور نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم دنیا س کبھی تشریف نہ لے جاتے جب تک اپنی امت کو اچھی طرح خبردار نہ کردیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمہیں ان کو ماننا ہوگا۔ آخر اللہ اور اس کے رسول کو ہمارے دین و ایمان سے کیا دشمنی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ تو کُھلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہوسکتے ، مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبررکھا جاتا ، بلکہ اس کے برعکس اللہ اور اس کا رسول دونوں ایسی باتیں فرمادیتے جن سے تیرہ سو برس تک ساری امت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
اب اگر بفرضِ محال نبوت کا دروازہ کھلا بھی ہو اور کوئی نبی آبھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کردیں گے۔ خطرہ ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی باز پُرس ہی کا تو ہوسکتا ہے ۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہوجائے گا کہ معاذاللہ اس کفر کے خطرے میں تو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہی نے ہی ہمیں ڈالا تھا ۔ ہمیں قطعًا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ ریکارڈ کو دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزا دے ڈالے گا ۔ لیکن اگر نبوت کا دروازہ فی الواقع بند ہے اور کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، اور اس کے باوجود کوئی شخص کسی مدعی کی نبوت پر ایمان لاتا ہے تو اسے سوچ لینا چاہیے کہ اس کفر کی پاداش سے بچنے کے لیے وہ کون سا ریکارڈ اللہ کی عدالت میں پیش کرسکتا ہے جس سے وہ رہائی کی توقع رکھتاہو۔ عدالت میں پیشی ہونے سے پہلے اسے اپنی صفائی کے مواد کا یہیں جائزہ لے لین چاہیے، اور ہمارے پیش کردہ مواد سے مقابلہ کرکے خود ہی دیکھ لینا چاہیے کہ جس صفائی کے بھروسے پر وہ یہ کام کررہا ہے کیا ایک عقلمند آدمی اس پر اعتماد کرکے کفر کی سزا کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟

اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے؟

دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ نبوت کوئی ایسی صفت نہیں ہے جو ہر اُس شخص میں پیدا ہو جایا کرے جس نے عبادت اور عملِ صالح میں ترقی کرکے اپنے آپ کو اس کا اہل بنالیا ہو۔ نہ یہ کوئی ایسا انعام ہے جو کچھ خدمات کے صلے میں عطا کیا جاتا ہو۔ بلکہ یہ ایک منصب ہے جس پر ایک خاص ضرورت کی خاطر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مقرر کرتا ہے۔ وہ ضرورت جب داعی ہوتی ہے تو ایک نبی اس کے لیے مامور کیا جاتا ہے ، اور جب ضرورت نہیں رہتی تو خواہ مخواہ انبیاء پر انبیاء نہیں بھیجے جاتے۔
قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے تقرر کی ضرورت کن کن حالات میں پیش آئی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ہیں جن میںانبیاء مبعوث ہوئے ہیں:
اوّل یہ کہ کسی خاص قوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے کہ کہ اس میں پہلے کبھی کوئی نبی نہ آیا تھا اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اس تک نہ پہنچ سکتا تھا۔
دوّم یہ کہ نبی بھیجنے کی ضرورت اس وجہ سے ہو کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم بھُلادی گئی ہو، یا اس میں تحریف ہوگئی ہو، اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہا ہو۔
سوم یہ کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کے ذریعہ مکمل تعلیم و ہدایت لوگوں کو نہ ملی ہو اور تکمیل دین کے لیے مزید انبیاء کی ضرورت ہو۔
چہارم یہ ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لیے ایک اور نبی کی حاجت ہو۔
اب یہ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ضرورت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باقی نہیں رہی ہے۔
قرآن خود کہہ رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو تمام دُنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہے اور دنیا کی تمدّنی تاریخ بتا رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہر وقت پہنچ سکتی ہے ۔ اس کے بعد الگ الگ قوموں میں انبیاء آنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔
قرآن اس پر بھی گواہ ہے اور اس کے ساتھ حدیث و سیرت کا پورا ذخیرہ اس امر کی شہادت دے رہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے۔ اس میں مسخ و تحریف کا کوئی عمل نہیں ہوا ہے۔ جو کتاب آپ لائے تھے اس میں ایک لفظ بھی کمی و بیشی آج تک نہیں ہوئی، نہ قیامت تک ہو سکتی ہے۔ جو ہدایت آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے دی اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں موجود ہیں۔ اس لیے دوسری ضرورت بھی ختم ہوگئی۔
پھر قرآن مجید میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کردی گئی۔ لہٰذا تکمیل دین کے لیے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا۔
اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت ، تو اگر اس کے لیے کوئی نبی درکار ہوتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ مقرر کیا جاتا ۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ بھی ساقط ہوگئی۔
اب ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پانچویں وجہ کونسی ہے جس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو؟ اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے اس لیے اصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے، تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ محض اصلاح کے لیے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لیے وہ آئے ؟ نبی تو اس لیے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے ، اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لیے ہوتی ہے، یا پچھلے پیغام کی تکمیل کرنے کے لیے ، یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لیے۔ قرآن اور سنتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ ہو جانے اور دین کے مکمل ہوجانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہوچکی ہیں ، تو اب اصلاح کے لیے صرف مصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیاء کی۔

نئی نبوّت اب اُمّت کے لیے رَحمت نہیں بلکہ لعنت ہے

تیسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ نبی جب بھی کسی قوم میں آئے گا فوراً اس میں کفر و ایمان کا سوال اُٹھ کھڑا ہوگا۔ جو اس کو مانیں گے وہ ایک امت قرار پائیں گے اور جو اس کو نہ مانیں گے وہ لامحالہ دوسری اُمّت ہوں گے۔ اِن دونوں امتوں کا اختلاف محض فروعی اختلاف نہ ہوگا بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے اور نہ لانے کا ایسا بنیادی اختلاف ہوگا جو انہیں اس وقت تک جمع نہ ہونے دے گا جب تک ان میں سے کوئی اپنا عقیدہ نہ چھوڑدے ۔ پھر ان کے لیے عملاً بھی ہدایت اور قانون کے ماخذ الگ الگ ہوں گے، کیوں کہ ایک گروہ اپنے تسلیم کردہ نبی کی پیش کی ہوئی وحی اور اس کی سنت سے قانون لے گا اور دوسرا گروہ اس کے ماخذِقانون ہونے کا سرے سے منکر ہوگا۔ اس بنا پر ان کا ایک مشترک معاشرہ بن جانا کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھے تو اس پر یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ ختمِ نبوت اُمتِ مسلمہ کے لیے اللہ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے جس کی بدولت ہی اس امت کا ایک دائمی اور عالمگیربرادری بننا ممکن ہواہے۔ اس چیز نے مسلمانوں کو ایسے ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ کردیا ہے جو ان کے اندر مستقل تفریق کا موجب ہوسکتا ہو۔ اب جو شخص بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہادی و رہبر مانے اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے سوا کسی اور ماخذِ ہدایت کی طرف رجوع کرنے کا قائل نہ ہو وہ اس برادری کا فرد ہے اورہر وقت ہو سکتا ہے۔ یہ وحدت اس امت کو کبھی نصیب نہ ہوسکتی تھی اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوجاتا ۔ کیوں کہ ہر نبی کے آنے پر یہ پارہ پارہ ہوتی رہتی۔
آدمی سوچے تو اس کی عقل خودیہ کہہ دے گی کہ جب تمام دنیا کے لیے ایک نبی بھیج دیا جائے، اور جب اس نبی کے ذریعہ سے دین کی تکمیل بھی کردی جائے، اور جب اس نبی کی تعلیم کو پوری طرح محفوظ بھی کردیا جائے ، تو نبوت کا دروازہ بند ہوجانا چاہیے تاکہ اس آخری نبی کی پیروی پر جمع ہو کر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لیے اہل ایمان کی ایک ہی امت بن سکے اور بلا ضرورت نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت میں بار بار تفرقہ نہ برپا ہوتا رہے۔ نبی خواہ ’’ ظِلّی‘‘ ہو یا’’ بروزی‘‘، اُمتی ہو یا صاحبِ شریعت اور صاحبِ کتاب، بہر حال جو شخص نبی ہوگا اور اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا ہوگا، اس کے آنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کے ماننے والے ایک امّت بنیں اور نہ ماننے والے کافر قرار پائیں۔ یہ تفریق اس حالت میں تو ناگزیر ہے جب کہ نبی کے بھیجے جانے کی فی الواقع ضرورت ہو، مگر جب اس کے آنے کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے تو اللہ کی حکمت اور اس کی رحمت سے یہ بات قطعی بعید ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنے بندوں کو کفر ایمان کی کشمکش میں مبتلا کرے اور انہیں کبھی ایک امت نہ بننے دے۔ لہٰذا جو کچھ قرآن سے ثابت ہے اور جو کچھ سنت اور اجماع سے ثابت ہے عقل بھی اسی کو صحیح تسلیم کرتی ہے اور اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہی رہنا چاہیے۔

این اے ناصر
04-03-2011, 12:27 AM
اپ کی تحریرتولاجواب ہے بس اپنی اس کاوش کوبہن جی جاری رکھیں.