PDA

View Full Version : بچے پر ماں کے اثرات



تانیہ
04-10-2011, 11:59 PM
اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو جو مرتبہ عطا فرمایا ہے یہ کس وجہ سے عطا فرمایا ہے؟ اس وجہ سے عطا فرمایا ہے کہ آنے والی اولاد اور نسل کی استاد، معلم اور مربی عورت ہی ہے، مرد نہیں ہے۔ اور صرف معلم اور استاد ہی نہیں بلکہ اس کو حیوان سے انسان بناتی ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صحابی نے عرض کیا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوت خطابت اور قوت گویائی بدرجہ کمال عطا فرمائی ہے۔ حالانکہ حضور اکرم اکے سارے کمالات وہبی ہیں، اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے کس خاتون کا دودھ پیا ہے؟ میں نے خاندان بنو سعد کی ایک نیک خاتون کا دودھ پیا ہے جس کا نام حلیمہ سعدیہ ہے، فرمایا کہ یہ اس کے دودھ کی تاثیر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کے اندر ماں کے سینے سے جو دودھ کے قطرے جاتے ہیں تو اگر ماں دیندار ہے تو اس کے دودھ کے ساتھ ساتھ بچہ کے اندر نور معرفت بھی جاتا ہے اور اگر وہ بے چین ہے تو اس کے دودھ کے ساتھ ساتھ بے دینی بھی بچے کے اندر جاتی ہے۔

اسلام نے آج سے 1400 سو سال پہلے بتا دیا کہ بچہ پر ماں کی ہر حرکت کا اثر پڑتا ہے۔ ماں جو اچھے یابرے عمل کرے گی بچہ پر ان کے اثرات پڑیں گے جب کہ جدید سائنس آج سینکڑوں سال بعد اس قول کی تصدیق کر رہی ہے۔

بوڑھے اور بچے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اور بات تقریباً ہے بھی درست ۔ بچہ بھی توجہ کیلئے مختلف حرکتیں کرتا ہے۔ چاہے ان سے اس کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے ۔ اسی طرح بعض بوڑھے بھی حصول توجہ کیلئے خود کو بیمار کہتے ہیں۔ ان سے بھی ایسے اعمال سر زد ہوتے ہیں۔ جو آخر کار ذہنی دباﺅ اور خلفشار کا سبب بنتے ہیں۔ منفی سوچ اور تنہائی کی وجہ سے رفتہ رفتہ معمر خواتین معاشرے سے کٹتی جاتی ہیں۔ سب ان کو اپنے دشمن نظر آتے ہیں۔ پستی اور افسردگی ان پر اکثر مسلط رہتی ہے۔ ضعیف خواتین کو متحرک و توانا رکھنے میں ان کے لواحقین کو چاہئے کہ ان کی مدد کریں۔ ان کو زندگی میں دلچسپی لینے کیلئے ماحول فراہم کریں۔ ان کے پاس بیٹھیں۔ ان سے ان کی زندگی کے مختلف معاشرتی و سماجی معاملات میں مشورے لیں۔ اپنے بچوں کو ان کے پاس بیٹھ کر کہانیاں سننے کی عادت ڈالیں ۔ بزرگ خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کے تدارک کیلئے عملی زندگی سے کنارہ کش ہونے کی بجائے ان میں حتی المقدور شامل رہیں۔ یہ ان کیلئے بھی مفید ہو گا اور ان کے اہل خانہ کیلئے بھی سکون و طمانیت کا سبب بنے گا۔