PDA

View Full Version : وترایک،تین،پانچ رکعتیں



این اے ناصر
04-15-2011, 08:16 AM
http://urdulook.info/imagehost/?di=013028375696

شاہ زاد
04-15-2011, 08:51 AM
بہت خوب ناصر بھائی! آپ نے وتر کے بارے اچھی معلومات سے نوازا...لیکن کیا ہی خوب ہوتا اگر یہ معلومات مکمل ہوتیں . . . . .ادھوری معلومات ناقص ذہنوں کے لیے باعث تشویش بھی ہوسکتی ہیں . . . اور ضروری نہیں کہ ہر شخص اس قابل ہو کہ پوری اور بھرپور معلومات کے سہارے بھی صحیح نتیجے تک پہنچ سکے . . . تو پھر ادھوری معلومات کتنی خطرناک ہوسکتی ہیں . . . اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں . . . خصوصا ایسے مسائل جن کے بارے میں صحابہ کرام میں اختلاف رہا ہو . . .ان کو اس طرح عوام میں پھیلانا اور بھی زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے . . . بہرحال احتیاط بہتر ہے .
خیر اندیش
شاہ زاد

بےباک
04-15-2011, 09:43 AM
جزاک اللہ ،آپ دونو صاحبان کے لیے دعائے خیر،

محترم شاہ زاد صاحب اس بارے جلد ہی مفصل اور مکمل معلومات سے نوازیں گے ،، تاکہ سب تفصیل سے روشناس ھوا جائے ، ،مکمل حوالہ جات سے نوازا جائے گا ،انشاء اللہ

....................................
طاق نماز جسے " وتر " بھی کہتے ہیں اس بارے اجماعِ امت یوں ہے ،

...............................
’جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو ہم نے لوگوں کو تین وتر پڑھتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔اور سعودی عرب میں مقیم ہوں اور 37 سال سے مسجد نبوی ،المدینہ المنورہ اور بیت اللہ ،المکہ المکرمہ میں تین ہی وتر پڑھاتے دیکھا ہے اور خود بھی پڑھے ہیں ، ‘‘

طریقہ

نمازِ عشاء کے فرض، سنتیں اور نوافل ادا کرنے کے بعد تین رکعت وتر واجب ادا کریں۔ نماز وتر کی نیت بھی عام نمازوں کی طرح ہے۔ وتر پڑھنے کا طریقہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ وہی ہے جو نماز مغرب کا ہے۔ یعنی دو رکعت پر تشہد کے لیے بیٹھیں، اس کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جائیں، اور اس میں سورہ فاتحہ پڑھیں اور سورۃ ملانے کے بعد اَﷲُ اَکْبَر کہہ کر دونوں ہاتھوں کو کانوں کی لَو تک اٹھا کر پھر باندھ لیں اور عورت اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھا کر سینے پر رکھے، اس کے بعد دعائے قنوت پڑھیں جو ان کلمات پر مشتمل ہے :

اَللّٰہمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ، وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَلُّ عَلَيْکَ، وَنُثْنِی عَلَيْکَ الْخَيْرَ، وَنَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ يَفْجُرُکَ. اَللّٰہمَّ اِيَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَاِلَيْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُوْا رَحْمَتَکَ، وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ.

’’اے اﷲ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش چاہتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، ہم تیری اچھی تعریف کرتے ہیں، تیرا شکر کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے، اور جو تیری نافرمانی کرے اُس سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کرتے ہیں۔ اے اﷲ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے، تجھے ہی سجدہ کرتے ہیں، تیری ہی طرف دوڑتے اور حاضری دیتے ہیں، ہم تیری رحمت کے امید وار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔‘‘

ناصر شاھین صاحب نے جو حوالہ جات دیے ان کو کچھ جگہ دیکھا ہے ، البتہ کچھ حوالہ جات یہ بھی دیکھیے ، اور ہم نے امت مسلمہ کو اسی پر جمع دیکھا ہے ، اسے اجماعِ امت کہتے ہیں ،
""
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں متفق علیہ حدیث ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وتر کی تین رکعات ہیں۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمان روایت کرتے ہیں :

أَنَّہ أَخْبَرَهُ أَنَّہ سَأَلَ عَائِشَۃ رضی اﷲ عنہا : کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اﷲِ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ : مَا کَانَ رَسُولُ اﷲِ صلی اللہ عليه وآلہ وسلم يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَۃ، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِہنَّ وَطُولِہنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِہنَّ وَطُولِہنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا.

1. بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب قيام النبی صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم بالليل فی رمضان وغيره، 1 : 385، رقم : 1096
2. مسلم، الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرہا، باب صلاة الليل وعدد رکعات النبی صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم ، 1 : 509، رقم : 738

’’انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تو ان کو ادا کرنے کی خوبصورتی اور لمبائی کے متعلق کچھ نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے تو ان کو ادا کرنے کی خوبصورتی اور لمبائی کے متعلق کچھ نہ پوچھو۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔‘‘

اِس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے یہ نہیں فرمایا کہ پہلے چار رکعت پڑھتے، اس کے بعد پھر چار رکعت پڑھتے اور پھر اس کے بعد دو پڑھتے اور پھر ایک (وتر) پڑھتے۔ یہ بلافصل تین رکعت وتر کی سب سے قوی دلیل ہے۔

نام وَر تابعی اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْکَعْ رَکْعَةً تُوتِرُ لَکَ مَا صَلَّيْتَ.

’’رات کی نماز کی دو دو رکعتیں ہیں۔ جب تم فارغ ہونا چاہو تو ایک رکعت اور پڑھ لو۔ یہ تمہاری پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی۔‘‘

اِس کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ اپنا قول یوں بیان کرتے ہیں :

وَرَأَيْنَا أُنَاسًا مُنْذُ أَدْرَکْنَا يُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ.

بخاری، الصحيح، کتاب الوتر، باب ما جاء فی الوتر، 1 : 337، رقم : 948
...........................................
سوال نمبر ُُُُُ 1: نماز وتر واجب ہے یا سنت؟
جواب : وتر واجب ہے، احادیث میں اس کے پڑھنے کی بڑی تاکید آئی ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’وتر حق ہے، جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں‘‘ اسے تین بار فرمایا ، اور وتر کی نماز قضا ہو گئی تو قضا پڑھنی واجب ہے اگرچہ کتنا ہی زمانہ ہو گیا ہو ، قصداً قضا کی ہو یا بھولے سے قضا ہو گئی اور بلا عذر وتر نہ پڑھنا سخت گناہ ہے۔
سوال نمبر ُُُُُ 2: نماز وتر کی کتنی رکعتیں ہیں اور کس طرح پڑھی جاتی ہیں؟
جواب :نماز وتر تین رکعت ہے اور اس میں قعدئہ اولیٰ واجب ہے۔ یونہی ہر رکعت میں بعد فاتحہ سورت ملانا واجب ہے۔ پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اولیٰ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہو، نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے اور تیسری رکعت میں قرات سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں، پھر ہاتھ باندھ لے ور دعا قنوت آہستہ پڑھے، اس میں امام مقتدی اور منفرد سب کا حکم یکساں ہے اور دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے۔
سوال نمبر ُُُُُ 3: جسے دعائے قنوت یاد نہ ہو وہ کیا کرے؟
جواب :جسے دعائے قنو ت یاد نہ ہو یا نہ پڑ ھ سکے وہ یہ پڑھے:
الھم ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاٰخرۃ حسنۃ وقنا عذ اب النار .. یا تین مرتبہ الھم اغفرلی کہہ لے ورنہ جس کو یہ بھی نہ آئے وہ تین بار یا رب کہہ لے۔
یہ دعا بھی پڑھی جا سکتی ہے ،
اَللّٰہُمَ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ہَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنَ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ اِنَّکَ تَقْضِی وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ وَ اِنَّہُ لَا یَذِّلُ مَنْ وَاَلَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔

شاہ زاد
04-21-2011, 09:39 AM
وتر کی تین رکعتیں اکٹھی ایک سلام سے پڑھنی چاہئیں اور وتر کی پہلی دو رکعت کے بعد قعدہ واجب ہے
۱ ۔ عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن انہ اخبرہ انہ سأل عائشۃ رضی اللہ عنھا کیف کانت صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان؟ فقالت ما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یزید فی رمضان و لا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ یصلی اربعا فلا تسئل عن حسنھن و طولھن ثم یصلی اربعا فلا تسئل عن حسنھن و طولھن ثم یصلی ثلثا۔(بخاری:۱/۱۵۴، مسلم:۱/۲۵۴، نسائی:۱/۱۹۱)
ترجمہ: حضرت ابو سلمہ ربن عبدالرحمن بن عوف سے مروی ہے انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ، پہلے چار رکعتیں پڑھتے کچھ نہ پوچھو کہ وہ کتنی حسین و طویل ہوتی تھیں، پھر چار رکعتیں پڑھتے کچھ نہ پوچھو کتنی حسین اور طویل ہوتی تھیں ، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔
۲ ۔ عن عبداللہ بن عباس انہ رقد عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاستیقظ فتسوک و توضأ وھو یقول : (ان فی خلق السمٰوٰت والارض واختلاف اللیل والنھار لآیات لاولی الالباب) فقرأ ھؤلا الآیات حتی ختم السورۃ ثم قام فصلی رکتعین فاطال فیھما القیام و الرکوع والسجود ثم انصرف فنام حتی نفخ ثم فعل ذالک ثلث مرات ست رکعات کل ذلک یستاک و یتوضأ و یقرأ ھؤلاء الآیات ثم اوتر بثلث ۔ (مسلم:۱/ ۲۶۱)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاکے گھر میں ) سوئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے مسواک کی وضو کیا اور یہ آیات تلاوت فرمائیں: (ان فی اختلاف السمٰوٰت والارض واختلاف اللیل والنھار لآیات لاولی الالباب)سورت کے ختم تک، پھر آپ کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ دونوں رکعتوں میں قیام ، رکوع اور سجود کو خوب لمبا کیا پھر آپ فارغ ہو کر سو گئے یہاں تک کہ خراٹے بھرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل تین بار کیا، سو کر اٹھتے مسواک اور وضو کر کے دو رکعت ادا فرماتے اور ہر دفعہ سورہ آل عمران کی آخری آیات تلاوت فرماتے اس طرح چھ رکعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائیں، پھر رکعات وتر پڑھے۔
۳ ۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی من اللیل ثمان رکعت و یوتر بثلث و یصلی رکعتین قبل صلاۃ الفجر۔ (نسائی:۱ / ۱۹۲)
ترجمہ: حضڑت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پہلے آٹھ رکعات پڑھتے پھر تین رکعات وتر پڑھتے ۔ پھر دو رکعت (سنت) فجر کی نماز سے پہلے پڑھتے ۔
۴ ۔ عن عامر الشعبی قال: سألت ابن عمر رضی اللہ عنہما کیف کان صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باللیل؟ فقالا: ثلث عشرۃ رکعۃ ثمان و یوتر بثلث و رکعتین بعد الفجر۔ (طحاوی: ۱ / ۱۹۲)
ترجمہ: حضرت امام عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کو نماز کیسی ہوتی تھی، ان دونوں بزرگوں نے فرمایا: کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت پڑھتے تھے پہلے آٹھ رکعات (تہجد) پھر تین رکعات وتر پھر دو رکعت (سنت) صبح صادق کے بعد۔
۵ ۔ اخبرنا ابو حنیفۃ حدثنا ابو جعفر قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی ما بین صلاۃ العشاء الی صلاۃ الصبح ثلث عشرۃ رکعۃ چمان رکعات تطوعا و ثلث رکعات الوتر و رکعتی الفجر۔ (مؤطا امام محمد: ۱۴۵)
ترجمہ: حضرت امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے خبر دی اور وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر صبح کی نماز تک کے درمیان تیرہ رکعات پڑھا کرتے تھے ، آٹھ رکعات نفل(تہجد) تین رکعات وتر اور دو رکعت فجر کی سنت۔
۶ ۔ عن عمرۃ عن عائشۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یوتر بثلث یقرأ فی الرکعۃ الاولی بسبح اسم ربک الاعلی و فی الثانیۃ : قل یا ایھا الکافرون و فی الثالثۃ: قل ہو اللہ احد و قل اعوذ بر ب الفلق و قل اعوذ برب الناس ۔ (دارقطنی: ۲ / ۳۵ ، طحاوی : ۱ / ۱۹۶ ، مستدرک حاکم : ۱ / ۳۰۵)
ترجمہ: حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے ، پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی دوسری میں قل یا ایھا الکافرون اور تیسری میں قل ہو اللہ احد ، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھتے تھے۔
۷ ۔ عن علی قال : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوتر بثلث یقرأ فیھن بتسع سور میں المفصل یقرأ فی کل رکعۃ بثلث سور آخر ھن قل ھو اللہ احد۔ (ترمذی: ۱ / ۱۰۶)
ترجمہ: حضڑت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر تین رکعات پڑھا کرتے تھے۔ تینوں رکعتوں میں (قصار) مفصل کی نو سورتیں پڑھتے تھے، ہر رکعت میں تین سورتیں پڑھتے سب سے آخری سورت قل ھو اللہ احد ہوتی تھی۔
۸ ۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقرأ فی الوتر بسبح اسم ربک الاعلی و قل یا ایھا الکافرون و قل ھو اللہ احد فی رکعۃ رکعۃ ۔ (ترمذی: ۱ / ۱۰۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سبح اسم ربک الاعلی قل یا ایھا الکافرون اور قل ہو اللہ احد پڑھا کرتے تھے ، ہر سورت ایک رکعت میں ۔
۹ ۔ عن عبدالرحمن بن ابزی انہ صلی مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم الوتر فقرا فی الاولی بسبح اسم ربک الاعلی و فی الثانیہ قل یا ایھا الکافرون و فی الثالثہ قل ہو اللہ احد فلما فرغ قال: سبحان الملک القدوس، ثلثا یمد صوتہ بالثالثۃ ۔ (طحاوی: ۱ / ۲۰۱، مسند احمد: ۳ / ۴۰۶، نسائی: ۱ / ۱۹۹)
ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ وتر کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی ، دوسری میں قل یا ایھا الکافرون اور تیسری میں قل ہو اللہ احد پڑھی، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے تین بار یہ کلمات کہے: سبحان الملک القدوس ، اور تیسری مرتبہ آواز بلند کی ۔
۱۰ ۔ عن ابیّ بن کعب رضی اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوتر بسبح اسم ربک الاعلی و قل یا ایھا الکافرون و قل ھو اللہ احد۔ (نسائی: ۱ / ۱۹۴، ابو داود : ۱ / ۲۰۱ ، ابن ماجہ : ۸۳ ، مسند احمد: ۵ / ۱۲۳)
ترجمہ: حضرت ابیّ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبح اسم ربک الاعلی ، قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد کے ساتھ وتر کی نماز ادا فرماتے تھے ۔
۱۱۔ عن عبدالعزیز بن جریج قال : سألت عائشۃ ام المؤمنین بای شیئ کان یوتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قالت: کان یقرأ فی الاولی بسبح اسم ربک الاعلی و فی الثانیۃ بقل یا ایھا الکافرون و فی الثالثۃ بقل ہو اللہ احد و المعوذتین۔ (مسند احمد: ۱ / ۲۲۷، ترمذی : ۱ / ۱۰۶ ، سنن ابی داود: ۱ / ۲۰۱، سنن ابن ماجہ: ۸۳)
ترجمہ:حضرت عبدالعزیز بن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ نعہا سے پوچھا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں کون یس سورتیں پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا : پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی دوسری میں قل یا ایھا الکافرون اور تیسری میں قل ہو اللہ احد قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھتے تھے ۔
۱۲ ۔ عن ابی بن کعب قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقرأ فی الوتر سبح اسم ربک الاعلی و فی الرکعۃ الثانیۃ بقل یا ایھا الکافرون و فی الثالثۃ بقل ھو اللہ احد و لا یسلم الا فی آخرھن و یقول یعنی بعد التسلیم سبحان الملک المقدوس ثلثا ۔ (نسائی: ۱ / ۱۹۱)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر (کی پہلی رکعت) میں سبح اسم ربک الاعلی دوسری رکعت میں قل یا ایھا الکافرون تیسری رکعت میں قل ہو اللہ احد پڑھتے تھے اور سلام فقط آخری رکعت ہی میں پھیرتے تھے اور سلام پھیرنے کے بعد تین دفعہ سبحان الملک القدوس کہتے تھے ۔
۱۳ ۔ عن عائشۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا صلی العشاء دخل المنزل ثم صلی رکعتین ثم صلی بعدھما رکعتین اطول منھما ثم اوتر بثلث لا یفصل بینھن۔(مسند احمد: ۶ / ۱۵۶)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو گھر تشریف لاتے پھر دو رکعت پڑھتے پھر ان سے لمبی دو رکعتیں اور پڑھتے پھر تین رکعات وتر پڑھتے اور ان تینوں رکعتوں میں فصل نہیں فرماتے تھے (یعنی دو رکعت کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے)۔
۱۴۔ عن سعد بن ھشام ان عائشۃ رضی اللہ عنہا حدثتہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كان لا یسلم فی ركعتی الوتر۔﴿نسائی:۱ / ۱۹۱ ٬ مصنف ابن ابی شیبہ: ۲ / ۲۵۹ ﴾
ترجمہ: حضرت سعد بن ہشام سے روایت ہے كہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان كیا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر كی دو ركعتوں كے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔
۱۵ ۔ عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت: كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یسلم فی الركعتین الاولیین من الوتر۔﴿مستدرك حاكم : ۱ / ۳۰۴ ٬ دارقطنی: ۲ / ۳۲﴾
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وتر كی دو ركعتوں كے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے ۔
۱۶ ۔ عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت: كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوتر بثلث لا یسلم الا فی آخرھن و ھذا وتر امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ و عنہ اخذہ اھل المدینۃ ۔ ﴿مستدرك حاكم: ۱ / ۳۰۴﴾
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین ركعت وتر پڑھتے تھے اور یہی امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ كے بھی وتر ہیں٬ انہیں سے یہ اہل مدینہ نے لیے ہیں۔
۱۷ ۔ عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماقال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: صلاۃ اللیل مثنی مثنی فاذا اردت ان تنصرف فاركع ركعۃ توتر لك ما صلیت۔ قال القاسم: و راینا اناسا منذ ادركنا یوترون بثلث ۔ ﴿بخاری : ۱ / ۱۳۵﴾
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات كی نماز دو دو ركعت ہوتی ہے پھر جب تمہارا فارغ ہو كر جانے كا ارادہ ہو تو ایك ركعت اور پڑھ لو یہ تمہاری پڑھی ہوئی نماز كو وتر بنادے گی۔ حضرت قاسم فرماتے ہیں كہ ہم نے لوگوں كو دیكھا جب سے ہم نے ہوش سنبھالا كہ وہ وتر تین ركعت ہی پڑھتے ہیں۔
۱۸ ۔ عن الفضل بن عباس رضی اللہ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصلاۃ مثنی مثنی تشھد فی كل ركعتین۔﴿ترمذی: ۱ / ۸۷﴾
ترجمہ: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو ركعت ہوتی ہے ٬ ہر دو ركعتوں میں تشہد ہے ۔
۱۹ ۔ عن ام سلمۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: فی كل ركعتین تشھد و تسلیم علی المرسلین و علی من تبعھم من عباد اللہ الصالحین ۔ ﴿ مجمع الزوائد : ۲ / ۱۳۹﴾
ترجمہ: حضرت ام سلمۃ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا كہ ہر دو ركعت میں تشہد ہے اور رسولوں پر اور ان كی پیروی كرنے والے اللہ كے نیك بندوں پر سلام ہے ۔
۲۰ ۔ عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قال: ﴿حدیث طویل﴾ و كان یقول: فی كل ركعتین التحیۃ ۔ ﴿مسلم: ۱ / ۱۹۴﴾
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ﴿ایك لمبی حدیث كے ذیل میں﴾فرماتی ہیں كہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا كرتے تھے كہ ہر دو ركعت میں التحیات ہے ۔
۲۱ ۔ عن عبداللہ بن مسعود مرفوعا الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اذا قعدتم فی كل ركعتین فقولوا: التحیات للہ ۔ ﴿نسائی : ۱ / ۱۳۰﴾
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جب تم ہر دو ركعت میں قعدہ كرو تو التحیات للہ ﴿آخر تك﴾ پڑھو ۔
۲۲ ۔ عن عبداللہ قال: ارسلت امی لیلۃ لتبیت عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم فتنظر كیف یوتر فصلی ما شا٫ اللہ ان یصلی حتی اذا كان آخر اللیل و اراد الوتر قرأ٫ بسبح اسم ربك الاعلی فی الركعۃ الاولی و قرأ٫ فی الثانیۃ قل یا ایھا الكافرون ثم قعد ثم قام و لم یفصل بینھما بالسلام ثم قرأ٫ بقل ہو اللہ احد حتی اذا فرغ كبر ثم قنت فدعا بما شا٫ اللہ ان یدعو ثم كبر و ركع ۔ ﴿الخ﴾﴿الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر: ۴ / ۷۱﴾
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ میں نے اپنی والدہ كو ایك دفعہ رات گزارنے كے لیے نبی علیہ الصلاۃ والسلام كے یہاں بھیجا تاكہ وہ یہ دیكھیں كہ آپ وتر كیسے پڑھتے ہیں ﴿آپ كی والدہ فرماتی ہیں كہ ﴾ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جتنی كہ اللہ تعالیٰ نے چاہی حتی كہ جب رات كا اخیر ہوگیا اور آپ نے وتر پڑھنے كا ارادہ كیا تو پہلی ركعت میں سبح اسم ربك الاعلی اور دوسری میں قل یا ایھا الكافرون پڑھیں پھر قعدہ كیا پھر قعدہ كے بعد كھڑے ہوئے اور ان كے درمیان سلام كے ساتھ فصل نہیں كیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قل ہو اللہ احد پڑھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرا٫ت سے فارغ ہو٫ے تو تكبی ركہی اور دعا٫ قنوت پڑھی اور قنوت میں جو اللہ نے چاہا دعا مانگی پھر اللہ اكبر كہہ كر ركوع كیا۔
۲۳ ۔ عن ابن عمر رضی اللہ عنہما ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: صلاۃ المغرب وتر النھار فاوتر صلاۃ اللیل ۔ ﴿مصنف عبدالرزاق: ۳ / ۲۸﴾
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے كہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا كہ مغرب كی نماز دن كے وتر ہیں تم رات كی نماز كو وتر بناؤ ۔
۲۴ ۔ عن عبداللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر اللیل ثلث كوتر النھار صلاۃ المغرب ۔ ﴿دارقطنی: ۲ / ۲۸﴾
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رات كے وتر تین ہیں دن كے وتر یعنی نماز مغرب كی طرف۔
۲۵ ۔ عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الوتر ثلث كثلث المغرب ۔ ﴿مجمع الزوائد: ۲ / ۲۴۲﴾
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر كی تین ركعتیں ہیں ٬ مغرب كی تین ركعتوں كی طرح۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تین وتر ایك سلام سے پڑھتے تھے:
۱ / ۲۶۔ عن المسور بن مخرمۃ قال: دفنا ابا بكر لیلا فقال عمر : انی لم اوتر فقام و صففنا ورا٫ہ فصلی بنا ثلاث ركعات لم یسلم الا فی آخرھن ۔ ﴿طحاوی : ۱ / ۲۰۲ ٬ مصنف ابن ابی شیبہ : ۲ / ۲۹۳ ٬ مصنف عبدالرزاق: ۳ / ۲۰﴾
ترجمہ: حضرت مسور بن مخرمۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ ہم نے حضرت ابوبكر رضی اللہ عنہ كو رات كے وقت دفن كیا ٬ ﴿فراغت پر﴾ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے كہ میں نے وتر نہیں پڑھے ٬ آپ كھڑے ہوئے تو ہم نے بھی آپ كے پیچھے صف باندھ لی ٬ آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیں تین ركعات نماز وتر پڑھائی اور سلام فقط ان كے آخر ہی میں پھیرا۔
۲ / ۲۶ ۔ عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ انہ قال: ما احب انی تركت الوتر بثلث و ان لی حمر النعم۔﴿مؤطا امام محمد:۱۴۵﴾
ترجمہ: حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كہ مجھے پسند نہیں كہ میں تین ركعات وتر چھوڑدوں چاہے مجھے اسكے بدلے سرخ اونٹ كیوں نہ ملیں ۔
۳ / ۲۷ ۔ عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ انہ اوتر بثلث ركعات لم یفصل بینھن بسلام۔﴿مصنف ابن ابی شیبہ: ۲ / ۲۹۴﴾
ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے تین ركعات وتر پڑھے اور تینوں ركعتوں میں سلام كے ذریعہ فصل نہیں كیا ۔ ﴿یعنی دو ركعتوں پر سلام نہیں پھیرا﴾۔
حضرت علی كرم اللہ وجہہ وتر تین ركعات پڑھتے تھے
۱ / ۲۸ ۔ عن زاذان ان علیا كان یوتر بثلث من آخر اللیل قاعدا ۔ ﴿مصنف ابن ابی شیبۃ: ۲ / ۲۹۵﴾
ترجمہ: حضرت زاذان سے مروی ہے كہ حضرت علی كرّم اللہ وجہہ وتر تین ركعات پڑھا كرتے تھے رات كے آخری حصے میں بیٹھ كر ۔
۲ / ۲۹ ۔ عن زاذان عن علی رضی اللہ عنہ انہ كان یوتر بانا انزلناہ فی لیلۃ القدر و اذا زلزلت و قل ھو اللہ احد ۔ ﴿مصنف عبدالرزاق: ۳ / ۳۴﴾
ترجمہ: حضرت زاذان حضرت علی كرم اللہ وجہہ سے روایت كرتے ہیں كہ آپ رضی اللہ عنہ وتروں میں انا انزلناہ فی لیلۃ القدر٬ و اذا زلزلت الارض اور قل ھو اللہ احد پڑھا كرتے تھے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تین ركعات وتر كے قائل تھے
۱ / ۳۰ ۔ عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: الوتر ثلث كوتر النھار صلاۃ المغرب۔ ﴿طحاوی : ۱ / ۲۰۲﴾
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ وتر كی تین ركعات ہیں٬ دن كے وتر مغرب كی نماز كی طرح ۔
۲ / ۳۱ ۔ عن علقمۃ قال: اخبرنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اھون ما یكون الوتر ثلث ركعات ۔ ﴿مؤطا امام محمد:۱۴۶﴾
ترجمہ: حضرت علقمہ فرماتے ہیں كہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں خبر دی ہے كہ وتر كی كم سے كم تین ركعتیں ہیں۔
۳ / ۳۲ ۔ عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: الوتر ثلث كصلاۃ المغرب ۔ ﴿مؤطا امام محمد: ۱۴۶﴾
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ وتر كی تین ركعتیں ہیں مغرب كی نماز كی طرح۔
۴ / ۳۳ ۔ عن عبدالرحمن بن یزید قال: قال ابن مسعود رضی اللہ عنہ وتر اللیل كوتر النھار صلاۃ المغرب ثلثا ۔ ﴿معجم طبرانی كبیر: ۹ / ۲۷۲﴾
ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں كہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا كہ رات كے وتر دن كے وتر نماز مغرب كی طرح تین ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تین ركعات وتر كے قائل تھے
۱ / ۳۴ ۔ عن عقبۃ بن مسلم قال: سألت ابن عمر رضی اللہ عنہما عن الوتر فقال ا تعرف وتر النھار قلت: نعم صلاۃ المغرب قال : صدقتَ و احسنتَ ۔ ﴿طحاوی : ۱ / ۱۹۲﴾
ترجمہ: حضرت عقبۃ بن مسلم فرماتے ہیں كہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے وتروں كے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: كیا تم دن كے وتر جانتے ہو میں نے كہا : جی ہاں نماز مغرب ٬ آپ نے فرمایا: تم نے سچ كہا اور خوب كہا ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تین ركعت وتر پڑھتے تھے
۱ / ۳۵ ۔ عن عطا٫ بن ابی رباح قال ابن عباس رضی اللہ عنہما : الوتر كصلاۃ المغرب ۔ ﴿مؤطا امام محمد:۱۴۶﴾
ترجمہ: حضرت عطا ٫ بن ابی رباح سے روایت ہے كہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا كہ وتر نماز مغرب كی طرح ہیں۔
۲ / ۳۶ ۔ عن ابی یحیی قال: سمر المسور بن مخرمۃ و ابن عباس حتی طلعت الحمرا٫ ثم نام ابن عباس فلم یستیقظ الا باصوات اہل الزورا٫ فقال لاصحابہ : اترونی ادرك اصلی ثلثا یرید الوتر وركعتی الفجر و صلاۃ الصبح قبل ان تطلع الشمس فقالوا نعم فصلی و ھذا فی آخر وقت الفجر ۔ ﴿طحاوی : ۱ / ۱۹۹﴾
ترجمہ: حضرت ابو یحیی فرماتے ہیں كہ ﴿ایك دفعہ﴾ حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم رات كوباتیں كرنے لگے٬ یہاں تك كہ سرخ ستارہ ﴿جو صبح صادق سے پہلے نكلا كرتا ہے ﴾ نكل آیا ٬ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سو گئے اور پھر اہل زَورا٫ كی آوازوں كی وجہ سے بیدار ہوئے آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا كہ كیاخیال ہے كیا مجھے اتنا وقت مل جائے گا كہ میں سورج نكلنے سے پہلے پہلے تین ركعات وتر دو ركعت سنت اور فجر كی نماز پڑھ سكوں ٬ انہوں نے كہا: جی ہاں٬ چنانچہ آپ نے ﴿یہ تمام﴾ نماز پڑھی ٬ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما كا یہ سوال فجر كے اخیر وقت میں تھا۔
۳ / ۳۷ ۔ عن ابی منصور قال: سألت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عن الوتر فقال: ثلث ۔ ﴿طحاوی: ۱ /۱۹۹﴾
ترجمہ: حضرت ابو منصور فرماتے ہیں كہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وتروں كے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا تین ﴿ركعات﴾ ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ تین ركعات وتر ایك سلام سے پڑھتے تھے
۱ / ۳۸ ۔ عن ثابت قال: قال انس یا ابا محمد ! خذ عنی فانی اخذت عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و اخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن اللہ و لن تأخذ عن احد اوثق منی قال : ثم صلی بی العشا٫ ثم صلی ست ركعات یسلم بین الركعتین ثم اوتر بثلث یسلم فی آخرھن ۔ ﴿كنز العمال: ۸ / ۶۶﴾
ترجمہ: حضرت ثابت فرماتے ہیں كہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابو محمد مجھ سے اكذ كر لو كیوں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ نے اللہ تعالی سے اخذ كیا ہے اور تم ہرگز مجھ سے زیادہ ثقہ آدمی سے اخذ نہیں كرسكتے ۔ حضرت ثابت فرماتے ہیں: كہ پھر آپ نے مجھے عشا٫ كی نماز پڑھائی پھر چھ ركعات نفل ادا كیے ہر دو ركعت پر سلام پھیرتے رہے پھر آپ نے تین ركعات وتر پڑھے اور ان كے آخر میں سلام پھیرا ۔
۲ / ۳۹ ۔ عن ثابت قال: صلی بی انس الوتر و انا عن یمینہ و ام ولدہ خلفنا ثلث ركعات لم یسلم الا فی آخر ھن ظننت انہ یرید ان یعلمنی ۔ ﴿طحاوی : ۱ / ۲۰۲﴾
ترجمہ: حضرت ثابت فرماتے ہیں كہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھے وتر كی تین ركعتیں پڑھائیں اس حال میں كہ میں ان كی دائیں جانب تھا اور ان كی ام ولد ہمارے پیچھے ٬ آپ نے سلام فقط آخر میں پھیرا میرا غالب گمان یہ ہے كہ آپ مجھے وتر كا طریقہ سكھلا رہے تھے ۔
حضرت ابیّ بن كعب رضی اللہ عنہ بھی وتر تین ركعات ایك سلام سے پڑھتے تھے
۱ / ۴۰ ۔ عن الحسن قال: كان ابیّ بن كعب یوتر بثلاث لا یسلم الا فی الثالثۃ مثل المغرب ۔ ﴿مصنف عبدالرزاق : ۳ /۲۶﴾
ترجمہ: حضرت حسن فرماتے ہیں كہ حضرت ابیّ بن كعب رضی اللہ عنہ وتر تین ركعات پڑھا كرتے تھے اور سلام فقط تیسری ركعت میں پھیرتے تھے مغرب كی نماز كی طرح ۔
۲ / ۴۱ ۔ عن السائب بن یزید ان ابیّ بن كعب كان یوتر بثلث ۔ ﴿مصنف عبدالرزاق : ۳ / ۳۶ ﴾
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے كہ حضرت ابیّ بن كعب رضی اللہ عنہ وتر تین ركعات پڑھتے تھے ۔
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بھی وتر تین ركعات پڑھتے تھے
۱ / ۴۲ ۔ عن ابی غالب ان ابا امامۃ كان یوتر بثلث ۔ ﴿طحاوی :۱ / ۲۰۰ ٬ مصنف ابن ابی شیبہ: ۲ / ۲۹۳﴾
ترجمہ: حضرت ابو غالب سے روایت ہے كہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ وتر تین ركعات پڑھتے تھے ۔
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بھی وتر تین ركعات پڑھتے تھے
۱ / ۴۳ ۔ عن سعید بن جبیر انہ كان یوتر بثلث و یقنت فی الوتر قبل الركوع ۔ ﴿مصنف ابن ابی شیبہ: ۲ / ۲۹۴﴾
ترجمہ: حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے كہ وہ وتر تین ركعات پڑھتے تھے اور دعا ٫ قنوت وتر میں ركوع سے پہلے پڑھتے تھے ۔
حضرت علقمہ رحمہ اللہ بھی تین ركعات وتر كے قائل تھے
۱ / ۴۴ ۔ عن علقمۃ قال: الوتر ثلث ۔ ﴿مصنف ابن ابی شیبہ: ۲ / ۲۹۴﴾
ترجمہ: حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں كہ وتر تین ركعات ہیں۔
حضرت مكحول رحمہ اللہ بھی وتر عین ركعات ایك سلام سے پڑھتے تھے:
۱ / ۴۵ ۔ عن مكحول انہ كان یوتر بثلث لا یسلم فی ركعتین ۔ ﴿مصنف ابن ابی شیبہ: ۲ / ۲۹۴﴾
ترجمہ: حضرت مكحول رحمہ اللہ سے مروی ہے كہ وہ وتر تین ركعات پڑھا كرتے تھے اور دو ركعتوں كے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے ۔
حضرت ابو العالیہ الریاحی بھی تین ركعات وتر كے قائل تھے
۱ / ۴۶ ۔ عن ابی خالدۃ قال: سألت ابا العالیۃ عن الوتر فقال علمنا اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم او علمونا ان الوتر مثل صلاۃ المغرب غیر انا نقرأ٫ فی الثالثۃ فھذا وتر اللیل و ھذا وتر النھار ۔ ﴿طحاوی : ۱ / ۲۰۲﴾
ترجمہ: حضرت ابو خالدہ فرماتے ہیں كہ میں نے حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ سے وتر كے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا كہ ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابہ ٴ كرام نے تعلیم دی ۔ یا ۔ فرمایا كہ انہوں نے ہمیں تعلیم دی ہے كہ وتر مغرب كی نماز كی طرح ہیں سوائے اس كے كہ ہم وتر كی تیسری ركعت میں بھی قرأ٫ت كرتے ہیں یہ رات كے وتر ہیں اور وہ ﴿مغرب﴾ دن كے وتر ہیں۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ كا وتر كے متعلق فیصلہ
۱ / ۴۷ ۔ ثنا ابن وھب قال: اخبرنی ابن ابی الزناد عن ابیہ قال: اثبت عمر بن عبدالعزیز الوتر بالمدینۃ بقول الفقہا٫ ثلثا لا یسلم الا فی آخرھن ۔ ﴿طحاوی : ۱ / ۲۰۳﴾
ترجمہ: ہمیں حدیث بیان كی ابن وہب نے وہ فرماتے ہیں كہ مجھے خبر دی ابو الزناد نے اپنے والد كے واسطے سے وہ فرماتے ہیں كہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مدینہ طیبہ میں فقہا٫ كے قول كے مطابق وتر تین ركعت مقرر كردیئے تھے جن سلام صرف آخر میں پھیرا جاتا تھا۔
مدینہ طیبہ كے ساتھ فقہا٫ بھی ایك سلام كے ساتھ تین ركعت وتر كے قائل تھے
۱ / ۴۸ ۔ ثنا عبدالرحمن بن ابی الزناد عن ابیہ عن الفقہا٫ السبعۃ سعید بن المسیب و عروۃ بن الزبیر و القاسم بن محمد و ابی بكر بن عبدالرحمن و خارجۃ بن زید و عبید اللہ و سلیمان بن یسار فی شیخۃ سواھم اھل فقہ و صلاح و فضل و ربما اختلفوا فی الشیئ فاخذ بقول اكثرھم و افضلھم رأیا فكان مما وعیت عنھم علی ھذہ الصفۃ ان الوتر ثلث لا یسلم الا فی آخرھن ۔ ﴿طحاوی : ۱/ ۲۰۴﴾
ترجمہ: ہم سے حدیث بیان كی عبدالرحمن بن ابی الزناد نے اپنے والد سے روایت كرتے ہوئے اور انہوں نے روایت كی سات ﴿فقہا٫ تابعین ﴾ یعنی سعید بن المسیب ٬ عروۃ بن زبیر٬ قاسم بن محمد٬ ابوبكر بن عبدالرحمن ٬ خارجہ بن زید٬ عبید اللہ بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار رحمہم اللہ سے ان كے علاوہ دوسرے فقیہ اہل صلاح اور صاحب فضل بزرگوں كی موجودگی میں روایت كی یہ بزرگ اگر كسی مسئلہ میں اختلاف كرتے تو اس شخص كے قول پر عمل كرتے جو زیادہ ذی رائے اور افضل ہوتا٬ میں نے جو باتیں ان سے یاد كی ہیں اس طریقہ پر اُن مین سے ایك یہ ہے كہ وتر تین ركعات ہیں جن میں سلام فقط آخر ہی میں پھیرا جائے گا۔
حضرت ابو بكر رضی اللہ عنہ كے پوتے قاسم بن محمد رحمہ اللہ كا فرمان
۱ / ۴۹ ۔ عن القاسم قال: رأینا اناسا منذ ادركنا یوترون بثلث و ان كلا لواسع و ارجو ان لا یكون بشیئ منہ بأس ۔ ﴿بخاری: ۱/ ۱۳۵﴾
ترجمہ: حضرت قاسم بن محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں كہ ہم نے بزرگوں كو دیكھا جب سے ہم نے ہوش سنبھالا كہ وہ وتر تین ركعات پڑھتے ہیں٬ بلا شبہ ہر ایك كی گنجائش ہے اور مجھے امید ہے كہ اس میں كوئی حرج نہیں ہوگا۔
اہل اسلام كا اجماع كہ وتر ایك سلام سے تین ركعات ہیں
۵۰ ۔ عن الحسن قال: اجمع المسلمون ان الوتر ثلث لا یسلم الا فی آخرھن ۔ ﴿مصنف ابن ابی شیبہ: ۲ / ۲۹۴﴾
ترجمہ: حضرت حسن بصری فرماتے ہیں كہ مسلمانوں كا اس بات پر اجماع ہے كہ وتر تین ركعات ہیں جن میں صرف آخری ركعت ہی میں سلام پھیرا جائے گا ۔
[/align]مذكورہ بالا احادیث و آثار سے درج ذیل امور ثابت ہوتے ہیں[/font][/size][/color]
۱ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وتر تین ركعات ایك سلام كے ساتھ پڑھتے تھے اور عموما پہلی ركعت میں سبح اسم ربك الاعلی دوسری میں قل یا ایھا الكافرون اور تیسری میں قل ھو اللہ احد پڑھنے كا معمول تھا۔
۲ ۔ خلفا٫ راشدین حضرت عمر فاروق اور حضرت علی رضی اللہ عنہما بھی وتر تین ركعات ایك سلام ہی سے پڑھتے تھے ۔
۳ ۔ عام صحابہ كراب مثلا حضرت عبداللہ بن مسعود ٬ حضرت عبداللہ بن عمر٬ حضرت عبداللہ بن عباس حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہم وغیرہ كا معمول بھی وتر تین ركعات ایك سلام كے ساتھ ہی پڑھنے كا تھا۔
۴ ۔ سات فقہائے مدینہ منورۃ اور ان كے علاوہ عام تابعین و تبع تابعین بھی وتر كے تین ركعات ہونے ہی كے قائل تھے ۔
۵ ۔ وتر كے تین ركعات ہونے پر اہل اسلام كا اجماع ہے ۔
۶۔ نماز وتر مغرب كی نماز كی طرح ہے یعنی جیسے مغرب كی تین ركعات ہیں ویسے ہی وتر كی بھی تین ركعات ہیں اور جیسے مغرب كی نماز ایك سلام كے ساتھ پڑھی جاتی ہے ایسے ہی وتر كی نماز بھی ایك سلام سے پڑھی جائے گی اور جیسے مغرب كی نماز میں دوسری ركعت كے بعد قعدہ ہے ایسے ہی وتر كی دوسری ركعت میں بھی قعدہ ہے ۔
۷ ۔ وتر كی دوسری ركعت میں قاعدہ واجب ہے كیوں كہ اولاً تو خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام كا وتر كی دوسری ركعت میں قعدہ كرنا ثابت ہے جیسا كہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا كی حدیث سے ﴿جو نمبر ۲۲ پر گزری﴾ ظاہر ہے ٬ دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك عام قاعدہ اور ضابطہ بیان فرمایا ہے كہ ہر نماز كی دوسری ركعت میں التحیات اور تشہد ہے ٬ جیسا كہ حدیث نمبر ۱۸ ٬ ۱۹ ٬ ۲۰ ٬ ۲۱ سے واضح ہے ۔ اس قاعدہ كے عموم كے تحت وتر میں بھی تشہد اور التحیات ضروری ہوگا ٬ كیوں كہ آپ نے اس قاعدہ سے وتر كی دو ركعتوں كو مستثنیٰ نہیں كیا٬ تیسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز وتر كو نماز مغرب سے تشبیہ دی ہے اس كا تقاضا بھی یہی ہے كہ جس طرح مغرب كی نماز میں دوسری ركعت میں قعدہ واجب ہے اسی طرح وتر كی دوسری ركعت میں بھی قعدہ واجب ہونا چاہیے ٬ چوتھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم كا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كو یہ فرمانا﴿جیسا كہ بخاری كی حدیث نمبر ۱۷سے ظاہر ہے كہ ﴾: رات كی نماز دو دوركعت ہے اور جب تو انصراف یعنی نماز ختم كرنے كا ارادہ كرے تو ایك ركعت اور پڑھ لے اس طرح یہ ركعت پہلی دو ركعتوں كو وتر بنا دے گی۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے كہ وتر كی دوسری ركعت میں قعدہ ہے كیوں كہ نماز تشہد پڑھ كر ہی ختم كی جاتی ہے نہ كہ تشہد پڑھے بغیر اور ظاہر ہے كہ تشہد قعدہ ہی میں پڑھا جاتا ہے ۔
۸ ۔ نماز مغرب اور نماز وتر میں ایك فرق تو یہ ہے كہ مغرب كی تیسری ركعت میں سورۃ نہیں پڑھی جاتی اور وتر كی تیسری ركعت میں پڑھی جاتی ہے ٬ دوسرا فرق یہ ہے كہ مغرب كی نماز میں قنوت نہیں ہے وتر كی نماز میں قنوت ہے ٬ تیسرا فرق یہ ہے كہ مغرب كی نماز سے پہلے نوافل نہیں ہیں لیكن وتر سے پہلے نوافل وغیرہ پڑھنا مسنون ہے ۔

اب اتنی ساری احادیث و آثار كو دیكھ كر اور غور سے پڑھ كر خود ہی اندازہ كیجیے كہ اصل صورت حال كیا ہے ٬ عالم اسلام میں شروع ہی سے وتر عموما تین ركعات ہی پڑھے جاتے رہے اور تین ركعات سے زیادہ تعداد ہونے كی صورت میں بھی سلام تو صرف ایك ہی مرتبہ پھیرا جائے گا٬ كیوں كہ اسلام میں ایك ركعت كوئی نماز نہیں ہوتی ۔
رہا ثبوت كا مسئلہ كہ محض ایك ركعت كا بھی ثبوت تو روایات میں ہے تو اس سلسلے میں یہ بات پیش نظر ركھیں كہ یہ نماز كی ابتدائی صورت تھی ٬ یعنی جس طرح شروع شروع میں نماز میں سلام كلام كی اجازت تھی اور بعد میں ختم ہوگئی اسی طرح محض ایك ركعت كی اجازت یقینا رہی ہوگی لیكن پھر وہ بعد میں ختم كردی گئی ہوگی جیسا كہ خود حضرت حسن بصری رحمہ اللہ كے اثر سے واضح ہے جو ہم نے نمبر ۵۰ پر ذكر كیا ہے ۔
لیكن اس كے باوجود بھی امت مسلمہ میں اس قسم كی روایات كو پھیلانا اور وہ بھی ادھورا اور نامكمل صورت میں یہ گویا ایسا ہی ہے جیسے ایك اہم كام كا مكمل خاكہ اور لائحہ عمل طے چكنے كے بعد دوبار نقطہٴ آغاز پر جا كر كھڑے ہوجایا جائے اور اسی كو پیٹا جائے اور اپنے آپ كو موحد و مخلص قرار دیا جائے اور امت كے ایك بڑے بلكہ سب سے بڑے حصہ كی عبادت كو ناقص قرار دیا جائے ۔ عقل بسوخت زحیرت كہ ایں چہ بوالعجبی ست۔
ایك اہم بات جو یاد ركھنے كے لائق ہے وہ یہ ہے كہ ہم نے اكثر و بیشتر بلكہ تقریبا سب ہی روایات و آثار بغیر سند كے نقل كیے ہیں ٬ اس كی دو وجہیں ہیں:
ایك تو یہ كہ اسناد سے اوّلین ترجیحی بنیادوں پر تعرض كرنا عموما حضرت محدثین كرام كا كام ہے جب كہ فقہا٫ كرام كی یہ ذمہ داری نہیں ٬ بلكہ ان كا كام اس سے كہیں زیادہ مشكل ہے ٬ كیوں كہ ان كا واسطہ صرف سند سے ہی نہیں بلكہ روایت كے متن سے بھی پڑتا ہے ٬ بلكہ یوں كہنا زیادہ مناسب ہوگا كہ اصلا ً ان كا واسطہ متن اور اس كی درایت سے ہی ہوتا ہے ٬ فقہا٫ كے ہاں سند كی حیثیت ثانوی ہوتی ہے ۔اور اس كی وجہ یہ ہوتی ہے كہ فقہا٫ كرام مسئلہ كے نفس ثبوت كے لیے نص كو لیتے ہیں اور دوسرے نمبر پر صحیح السند روایات كو ٬ پھر نصوص اور صحیح السند روایات كی توضیح و تشریح اور تفسیر و تفصیل كے لیے ضعیف اسناد سے بھی مدد لیتے ہیں ۔ لہٰذا اگر ہماری ذكر كردہ روایات میں سے كوئی روایت متكلم فیہ ہو تو اس كو اسی معنی میں لیا جائے ۔
دوسری وجہ یہ ہے كہ جو لوگ امتیوں كے اقوال كو خاطر میں نہیں لاتے ان كے لیے سند بھی بالكل بیكار ہے ٬ كیوں كہ سند بھی تو امتیوں ہی پر مشتمل ہوتی ہے اور امتیوں كی بات نہ ماننے كا ان كی طرف سے پرزور پروپیگینڈا كیا جاتا ہے ٬ حالانکہ اسناد کا صحت و ضعف بھی امتیوں کے اقوال پر ہی مشتمل ہے ، لہٰذا ایسے لوگ اگر سند كا تقاضا كریں تو ان كو چاہیے كہ خود بھی پھر ایسی ہی اسناد پیش كریں جو صرف اللہ و رسول پر مشتمل ہوں اور بیچ میں كسی امتی كا واسطہ نہ آئے ۔ واللہ اعلم بالصواب
اللہ تعالی ٰ مسلمانوں كو سیدھی راہ دكھائے اور راہزنوں كے خطرناك حملوں سے محفوظ ركھے ٬ آمین۔

عبادت
05-17-2011, 02:19 AM
ماشاءاللہ پڑھ کربہت اچھا لگا سبق سے اگے سبق ماشاءاللہ
آپ سب کےپیارکا کہ ایک دوسرے کےساتھ شئرنگ میں ساری معلومات
دے رہے ہیں بلکل پیارا اور خوبصورت انداز بیاں آپ سب کا
پھر سے شکریہ اپ سب کا