PDA

View Full Version : کھلا ہے سبھی کےلیےبابِ رحمت



تانیہ
11-28-2010, 02:51 PM
از: پروفیسر سید اقبال عظیم

نعت

کھلا ہے سبھی کےلیےبابِ رحمت وہاں کوئی رتبےمیں ادنیٰ نہ عالی
مرادوں سےدامن نہیں کوئی خالی، قطاریں لگائےکھڑے ہیں سوالی

میں پہلےپہل جب مدینےگیا تھا، تو تھی دل کی حالت تڑپ جانےوالی
وہ دوبارہ سچ مچ مرے سامنے تھا، ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی

جو اک ہاتھ سےدل سنبھالےہوئےتھا، تو تھی دوسرے ہاتھ میں سبز جالی
دعا کے لیے ہاتھ اٹھتےتو کیسے، نہ یہ ہاتھ خالی نہ وہ ہاتھ خالی

جو پوچھا ہےتم نے، کہ میں نذر کرنے، کو کیا لےگیا تھا، تو تفصیل سن لو
تھا نعتوں کا اک ہار اشکوں کےموتی، درودوں کا گجرا، سلاموں کی ڈالی

دھنی اپنی قسمت کا ہے تو وہی ہے، دیارِ نبی (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) جس نےآنکھوں سےدیکھا
مقدر ہےسچا مقدر اسی کا، نگاہِ کرم جس پہ آقا (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) نےڈالی

میں اُس آستانِ حرم کا گدا ہوں، جہاں سر جھکاتےہیں شاہانِ عالم
مجھےتاجداروں سےکم مت سمجھنا، مرا سر ہےشایانِ تاجِ بلالی

میں توصفِ سرکار (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) تو کر رہا ہوںمگر اپنی اوقات سےباخبر ہوں
میں صرف ایک ادنیٰ ثنا خواں ہوں اُن کا ، کہاں میں کہاں نعتِ اقبال و حالی