PDA

View Full Version : توحید و رسالت کی شہادت



تانیہ
11-28-2010, 02:52 PM
توحید

توحید و رسالت کی شہادت

اسلام کے ارکان میں سب سے پہلا رکن توحید و رسالت کی گواہی دینا ہے ۔ یعنی زبان سے اس کی گواہی دینا اور دل سے اس کی تصدیق کرنا، اس کا اظہار کلمہ شہادت پڑھ کر کیا جاتا ہے کہ ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا (ایک) ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
اگرچہ عقائد کے ضمن میں بھی توحید و رسالت کو اولیت حاصل ہے تاہم عقیدہ کی اس بنیاد کے بغیر دین کے ستون کھڑے نہیں ہو سکتے اس لئے ارکان اسلام میں بھی توحید و رسالت کو پہلا درجہ دیا گیا ہے ۔

توحید کی گواہی سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی زبان سے اقرار کرے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات واحد و یکتا ہے اس کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں ، وہی اس کائنات کا خالق و مالک ، اس کو قائم رکھنے والا اور اس کو پالنے والا ہے ۔ اپنی صفات میں بھی وہ وحدہ لا شریک ہے اس کائنات کے تمام اختیارات اس کے پاس ہیں اس کے کن کہہ دینے سے ہر چیز وجود میں آ جاتی ہے ۔وہی عبادت کے لائق ہے اس کے علاوہ کسی اور کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہئے ۔


رسالت

توحید کے ساتھ ہی رسالت کی گواہی بھی ضروری ہے اور یہ کلمہ شہادت کا حصہ ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی زبان سے اقرار کرے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں ، آپ کا لایا ہوا پیغام برحق ہے اور آپ پر نازل کردہ قرآن پاک سچی اور لا ریب کتاب ہے ۔ انبیا کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو جاتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور قرآن پاک آخری کتاب ہے ۔