PDA

View Full Version : آوؤ اِختلاف ..اِختلاف کھیلیں !اِختلاف جمہوری حُسن ہے۔ از؛ محمداعظم عظیم اعظم



گلاب خان
04-16-2011, 09:47 PM
اِس سے انکار ممکن نہیں کہ جب سے موجودہ جمہوری حکومت نے اپنااقتدار سنبھالا ہے ہمیں تو ایساہی محسوس ہوا ہے کہ جیسے ہمارے حکمران اپنے قول و فعل سے خود یہ چیخ چیخ کہہ رہے ہیں کہ”آو اختلاف ....اختلاف کھیلیں اور اِسی کھیل کے سہارے ہم اپنی (حکومتی )مدت پوری کرجائیں کیونکہ اِن جمہوری حکمرانوں کے نزدیک اختلاف جمہوری حُسن ہے جس کا خود برملااظہار گزشتہ دنوں صدر ِ مملکت سیدآصف علی زرداری نے اپنے خطابات اور ہونے والی ملاقاتوں میں کرتے ہوئے کیاہے کہ اختلافِ رائے سے جمہوریت مزیدمضبوط ہوگی کیوں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اختلاف جمہوری حُسن ہے اورپاکستان میں سیاسی قیادت پختہ ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بغیر اکثریت کے جمہوریت کامیابی سے چل رہی ہے اوراِس کے علاوہ اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ ملک کاہر ادارہ دوستانہ ماحول میں اپنے اپنے حصے کا کام انتہائی خندہ پیشانی اور خوشدلی سے کررہاہے جس سے جمہوریت کی ریل بھی سست رفتاری سے ہی صحیح مگر چل ضروررہی ہے اِس کے ساتھ ہی اِن کا یہ بھی کہناتھاکہ اِس کا اِس طرح سے چلناہی ملک میں آمریت کاراستہ روکنے کا طریقہ اور مزیدجمہوریت ہے جو ایک اچھاعمل ہے اوراپنے اِسی عمل سے ہم دوسروں کو برداشت کرنے پر یقین رکھتے ہیں علاوہ ازیں صدر کے اِن خیالات کے بعد ملک کی سیاسی جماعتیں بھی یقینااِس سے متفق ہوگیں کہ اختلاف جمہوری حکومت کا جمہوری حُسن ہے کیونکہ اِس طرح ہماری تمام سیاسی جماعتیں بھی اِسی اختلافی جمہوری بناو سنگھار کے حُسن سے آگے نہیں بڑھ سکی ہیں۔جبکہ ہمارے خیال میں ہماری اِس نووارد جمہوریت میںیہ کیسا اختلافی حُسن ہے ... ؟؟کہ جِسے ہمارے حکمران اور سیاست دان ملک میں جاری جمہوراور جمہوری عمل کے لئے جمہوری حُسن قرار دے رہے ہیں اوراِس سے اپنا کام چلارہے ہیںکیونکہ گزشتہ تین سالوں کے دوران یہ دیکھاگیاہے کہ اِن کے اِس جمہوری اختلافی حُسن نے حکمرانوںاور سیاستدانوں کے حُسن کو تو دوبالاکردیاہے مگر عوام کے باہم متحد اور منظم ہوکر ووٹ کی طاقت استعمال کرنے والے اِن کے اُس حُسن کا جس پر عوام کو کبھی بڑانازہواکرتاتھا اِس کا ایسابیٹراغرق کر کے رکھ دیاہے کہ اَب تو عوام اپنے اِس حُسن سے بھی ڈرنے لگے ہیں جس کی ایک جھلک دکھاکر کبھی عوام حکمرانوں اور سیاستدانوں کو اپناگرویدہ بنالیاکرتی تھی اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ آج ہمارے یہاں کا جو جمہوری حُسن ہے وہ شکر میں لپٹی ہوئی وہ زہریلی گولی ہے جِسے جب ہمارے حکمران اور سیاستدان نگلتے ہیں تو یہ نہ صرف اِن کے لئے میٹھی محسوس ہوتی ہے بلکہ جو اِن کی درازِی عمر کا بھی باعث بنتی ہے مگر جب ہمارے حکمران اور سیاستدان اپنی سیاسی بازی گری سے یہ ہی گولی عوام کے سامنے نگلنے کو پیش کرتے ہیں تو یہ شکر میں لپٹی ہوئی بظاہر حسین نظر آنے والی گولی عوام کے حلق سے نیچے اُتارتے ہی اِن کے لئے زہرقاتل ثابت ہوتی ہے جیسے اِن دنوں ہمارے یہاں یہ جمہوری اختلافی حُسن کی گولی اپنا دوطرفہ کام کچھ اِسی طرح دکھارہی ہے جیساہم اِس کی خصوصیات کے بارے میں مندرجہ بالا سطور میں بیان کرچکے ہیں ۔

اِس منظر اور پس منظر میںا َب ہمارے قارئین یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ بعض چیزیں جو کسی کے لئے انتہائی خُوب صُورت ہوتی ہیں مگر درحقیقت یہ اِن کے لئے بھی بالکل بے فائدہ ہوتی ہیں جیسے ہمارے یہاں کے سیاسی اختلافات جنہیں ہمارے حکمران اپنی بڑی ڈھٹائی سے اِنہیں جمہوری حُسن قرار دے کر اِنہیں خُوبصورت گرداننے کی اپنی اپنی کوششوں میں مگن ہیں حالانکہ اِسی جمہوری اختلافی حُسن نے اِن کے لئے قدم قدم پر کیسی کیسی مشکلات پیداکررکھی ہیں اِس کا اندازہ اِن سے بہتر کوئی دوسرانہیں کرسکتاہے۔مگر چونکہ یہ بھی ایک سیاسی حربہ ہے کہ گلے تک پریشانیوں کے دلدل میں دھسنے کے باجود بھی دنیا کے سامنے خودکو ایسابناکر پیش کیاجائے کہ جیسایہ کوئی مسلہ ہی نہیں ہے ۔ جبکہ جن اختلافات کو ہمارے حکمران جمہوریت اور اپنی حکومت کے لئے حُسن قرار دے رہے ہیں یہ خودبھی اِس حُسن سے بیزار ہیں ۔

کیاسیاست نے دیا قوم کو نفرت کے سِوا
کیا سیاست نے دیا ہم کو عداوت کے سِوا

کیا ملافِکر کو جزفکرِ خصومت کے سِوا
کیا ملادید کو جُز دہدہ ِ عبرت کے سِوا

اگر دیکھا جائے تو حقیقی معنوں میں اِس جمہوری حکومت کے ابتدائی اختلافات اِپنی اتحادی جماعتوں سے تو اُس وقت سے ہی کھل کر سامنے آنے شروع ہو گئے تھے جب اِسی جمہوری حکومت نے ملک پر گیارہ سال حکومت کرنے والے سابق آمر صدر صدر جنرل (ر) پرویزمشر ف کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ملک سے رخصت کیا تھااِس وجہ سے اُس وقت ہی اہلِ دانش کے ذہنوں میں یہ خیال ایک سوال کی طرح امڈ آیاتھا کہ کیا اِس جمہوری حکومت کو آئندہ دنوں، ہفتوں، مہینوںاور سالوں میں صحیح معنوں میں جمہوری حکومت کو رول ماڈل کہاجاسکے گا۔جو اپنے ابتدائی دنوں سے ہی آمر کے لئے اتنا کچھ کرگئی ہے جس سے اِس کے اتحادی ناراض ہوگئے ہیں یہاں ہوناتویہ چاہئے تھاکہ حکمران اختلاف کو جمہوری حُسن کہنے کے بجائے عوام کی خدمت کو اپنا زیور اور حقیقی حُسن کہتے تو کتنااچھاہوتابہرکیف !اَب آخر میںاپنے کالم کے اختتام پراِس جمہوری حکومت کے جمہوری حکمرانوں کے ہاتھوں باعزت طریقے سے ملک کے سابق آمر صدر جنرل (ر)پرویزمشرف کی رخصتی کے حوالے سے مجھے فاروق بشیر کا یہ قطعہ یاد آگیاکہ

لہو ا نسانیت کے پینے والے
بنے ہمدرد ہیں اِنسانیت کے

جنہوں نے آمریت کو جِلادی
بنے ہیں چیمیپئن جمہوریت کے