PDA

View Full Version : اقتدار کی بھوک اسقدر کہ نسلوں کا پیٹ نہیں بھرتا



گلاب خان
04-16-2011, 09:49 PM
تیونس،مصر،اردن، یمن اور دوسرے کئی عرب ممالک میں لگتا ہے کہ اب عوام کا غیض و غضب اللہ کی وہ بے آواز لاٹھی بن گیا ہے جسکا احتساب سب سے کڑا اور سب سے زیادہ عادلانہ ہے۔ وہ ظالم کی رسی بس وہیں تک دراز کرتا ہے جہاں تک ظلم اور جبر کرنے والی کی سانس رکنا شروع ہوتی ہے۔

مصر کی سڑکوں پر بہنے والے عوامی خون سے میرے گھر کے ٹی وی کی سکرین بھی سرخ ہو گئی ہے لیکن اقتدار سے چمٹے ہوئے یہ کریہہ الشکل حکمران، یہ عوام کا خون پینے والے بھیڑیئے اور یہ عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کرنے والے بے ضمیر اب بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ فوج کی طاقت یا امریکہ کی حمایت کے زور پر اپنا اقتدار بچا لیں گے۔

تیونس سے جو عوامی سیلاب اٹھا تھا اس نے اب کئی عرب ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اللہ کے بنائے ہوئے قانون کے تحت ابھی بہت سے ایسے ہی عوام کا خون چوسنے والے ممالک اسکی لپیٹ میں آنے ہیں اور اس صدی کا یہ معجزہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اقتدار کے تخت سے عشروں سے چمٹے ہوئے یہ عوام کا خون پینے والے اژدھا کیسے خش وخاشاک کی طرح بہہ جائیں گے

ٹیونس میں عوام کے ٹیکسوں پر عشروں سے عیاشی کرنے والے حکمران ٹولے کے سربراہ ملک سے راہ فرار اختیار کر کے اب اپنے ہی جیسے ظالم اور جابر حاکموں کے پاس سعودی عرب کی پناہ میں ہیں۔ یہ ظالم اور جابر حاکم تو عرب ہیں اور عربی زبان کی فصاحت و بلاغت سے خوب آشناہیں ۔ کیا انہوں نے اللہ کی کتاب قرآن میں یہ نہیں پڑھا کہ سب سے محفوظ امان اور پناہ گاہ صرف اس قادر مطلق کی ہے جس نے کہا کہ ہم تم کو آزمائیں گے اولاد سے مال سے اور اقتدار سے؟ انہوں نے اللہ کی طرف سے عطا کردہ اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی بنا لیا اور عوام کی خدمت کی بجائے عوام کا خون چوسنے لگے۔

عوام کے خون کی مٹھاس انہیں اسقدر راس آئی کہ یہ بھول ہی گئے کہ یہ اقتدار کتنا بھی طویل ہو چند روزہ ہے اور پھر اس اقتدار کے ایک ایک دن اور ایک لمحے کا حساب دینا ہو گا۔ ایک حساب تو اسی دنیا میں عوام خود لے لیتے ہیں اور پھر روز محشر کا حساب بھلا کس نے دیکھا ہے۔ یہی غربت و افلاس کی چکی میں پسنے والے عوام جو اب اپنا حساب بے باک کر رہیں تو ہم یہ مناظر اپنے اپنے ملک میں ٹی وی کی سکرینوں پر دیکھ رہے ہیں اور ابھی اور بھی بہت کچھ دیکھنا ہے۔

متعدد مسلم ممالک کی طرح ٹیونس میں بےروزگاری اور غربت اسقدر بڑھ گئی کہ یونیورسٹی سے ڈگری لینے والے ایک بے روزگار نے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیئے بازار میں ٹھیلا لگایا تو حاکموں کے پالتو کتوں کا کردار ادا کرنے والی پولیس کے اہل کاروں نے نوجوان کو یہ کہہ کر ٹھیلا لگانے سے منع کر دیا کہ اسکے پاس اسکا لائسنس نہیں۔ اس دل برداشتہ نوجوان نے خود کو آگ لگائی اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو یہ پیغام دیکر ملک عدم کو روانہ ہو گیا کہ۔۔۔۔

اے خاک نشینواُٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آپہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اُچھالے جائیں گے
اب ٹو ٹ گریں گی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جُھوم کے اُٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

اور اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ٹیونس ہو یا مصر،اردن ہو یا یمن اور اسکے بعد سعودی عرب ہو یا لیبیا۔ان سب کے حاکموں کو اپنے اقتدار کو بچانے کے لیئے تنکوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

ٹیونس کے عوام کی جانب سے ظالم اور جابر حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد آمر حکومتوں کے سقوط کی تاريخ میں ایک اور باب کا اضافہ ہو گيا۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے طرح طرح کے مظالم پر ٹیونس کے عوام کے صبر و تحمل اور انتفاضہ جاری رکھنے کے سلسلے میں ان کی مزاحمت کے سبب ہی اس ملک کے صدر کی تیئیس سالہ بظاہر ناقابل تغیر حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ آ گيا اور آخر کار آزادی کے خواہاں سینکڑوں لوگوں کا خون رنگ لایا اور ظالم حکومت سقوط کر گئي۔

ادھر دو عشروں سے بھی زیادہ عرصے تک عوام کو بھڑ بکریاں سمجھنے والا صدر زین العابدین بن علی سعودی عرب فرار ہوا اور ادھر جیسے عرب ملکوں کے خوابیدہ عوام ایک جھرجھری سے بیدار ہوئے اور ان بھوکے پیٹ اور ننگے پاؤں لوگوں نے شاہی محلات پر دستک دی کہ ہوشیار باش۔

ٹیونس کے عوام دشمن اقتدار کے محل میں لگنے والی اس آگ کی چنگاریاں مصر،یمن،اردن اور سعودی عرب تک پہنچ گئی ہیں اور اب یہ تیز ہوا ان چنگاریوں کو نہ جانے کہاں کہاں لیکر جائے گی۔

میں مغربی ممالک کا کوئی قصیدہ خوان نہیں لیکن اپنے اسلامی ملکوں کی اکثریت کی اس بدبختی کا نوحہ لکھنا چاہتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ کے جس حبیب نے ملوکیت اور بادشاہت کو اپنے قدموں کے نیچے مسل دیا،اسی اللہ کے حبیب کے نام پر تشکیل پانے والے اکثر اسلامی اور خاص طور پر عرب ممالک میں بادشاہت اور ملوکیت کا یہ کینسر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے ،چاہے وہ افراد کی صورت میں ہو یاخاندانوں کی صورت میں۔

مصر میں بیاسی سالہ حسنی مبارک کو حکومت کرتے تین عشروں سے زیادہ ہو گیا اور اس دوران اس نے اپنے عوام کو سوائے غربت،مفلسی اور جہالت کے کیا دیا۔

میں ایک سال پہلے مصر گیا تو قاہرہ میں غربت اور افلاس دیکھ کر میری روح فنا ہو گئی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اسرائیل کے بعد امریکہ سے سب سے زیادہ امداد حاصل کرنے والے اس ملک نے اپنے عوام کو کیا دیا ہے،بڑی بڑی سڑکیں ،بلند عمارتیں اور چار چار رویہ سڑکیں کیا عوام کا پیٹ بھرنے کے لیئے کافی ہیں؟

مصر میں حسنی مبارک کی جابر عوام دشمن حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے، اردن میں شاہ حسین کے خاندانی غلبے والی حکومت کے خلاف اردنی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،یمن میں عوام کو ہوش آ گیا ہے،سعودی عرب میں بھی برسہا برس سے ایک ہی خاندان کی حکومت کے خلاف زیر زمین چلنے والی تحریکوں کی حدت اب زمین کے اوپر محسوس ہونےلگی ہے۔ اب لیبیا کے حکمرانوں کو بھی وقت سے پہلے سنبھل جانا چاہیئے کہ وقت روز محشر تک کی نہیں بس لمحوں کی مہلت دیا کرتا ہے۔

میں حیران ہوں کہ ان مسلم حاکموں کو بیماریاں بھی ایسی لگتی ہیں کہ انکا علاج اپنے ملکوں میں نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ میں ہوتا ہے۔ نہ جانے انکو یہ کیا زعم ہے کہ اللہ نے اقتدار انکی نسلوں کے لیئے لکھا ہوا ہے۔ مصر کے حسنی مبارک کی اقتدار کی ہوس ختم نہیں ہوئی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو اقتدار دینے کی تیاریاں شروع کر رکھی تھیں اور شنید ہے کہ یہ بیٹا ایک سو بیگوں کے ساتھ لندن آ گیا ہے

واہ واہ یہ برطانیہ بھی کیسا تاجر ذہنیت کا ملک ہے۔ کہنے کی مادر جمہوریت لیکن سارے دنیا کے جابر،ظالم اور عوام دشمن حاکموں کے کالے دھن کے اکاؤنٹ اسی ملک میں ہیں،ساری دنیا کے مسلم غیر مسلم حاکم اپنے ملکوں سے بھاگتے ہیں تو یہی برطانیہ انکو پناہ دیتا ہے۔ چلی کا پنوشے ہو یا پاکستان کے الطاف حسین، پرویز مشرف، بے نظیر یا نواز شریف۔ ان اور ان جیسوں کی آخری پناہ گاہ یہی برطانیہ ہوتا ہے اس بار دیکھنا ہے کہ کون کہاں جائے گا۔

ٹیونس کےزین العابدین بن علی تو سعودی عرب گئے،دیکھنایہ ہے کہ سعودی عرب والے کہاں جائیں گے۔ اغلب یہی ہے انکی آخری آرام گاہ بھی امریکہ ہی ہو گی جیسے حسنی مبارک کو بھی شاید شہنشاہ ایران کی طرح اپنے ملک میں دفن ہونے کی جگہ بھی نہ ملے۔ عجیب تاریخ کا سبق ہے کہ اسی مصر نے ایران کے شہنشاہ کو ایران سے فرار پر اپنے ہاں امان بھی دی اور قبر کی جگہ بھی اور اب اسی مصر کے حاکموں کو اپنے آقا امریکہ کے پاس جانا ہو گا کہ اسی امریکہ کی اشیر باد سے مصر نے اسرائیل کا ہر لمحے ساتھ دیا اور فلسطینیوں کے خون میں ہاتھ رنگے۔ عالم اسلام کے جسم کا ناسور مصر نہیں مصر کے وہ ضمیر فروش حاکم ہیں جنکا حساب انکے عوام اب سڑکوں پر لے رہے ہیں۔

یمن کے حاکم اور اردن کے حاکم برطانیہ میں پناہ لیں گے اور ہو سکتاہے کہ لیبیا کے معمر قزافی کو بھی امریکہ یا برطانیہ میں سے ہی ایک ملک کا انتخاب کرنا پڑے۔

عرب ممالک کی شخصی اور خاندانی اقتدار کی یہ بیماری اپنے وطن عزیز پاکستان میں بھی موجود ہے اور کوئی اغلب نہیں کہ مصر میں لگی ہوئی آگ کی کوئی ایک چنگاری کہیں پاکستان میں بھی نہ جا پہنچے جہاں موجودہ حکمرانوں نے عوام کو سانس لینا بھی وبال کر رکھا ہے،جہاں حاکموں کے حصے کے ٹیکس بھی عوام ادا کر رہے ہیں،جہاں برسراقتدار بھٹو خاندان نے ابھی سے بلاول بھٹو زرداری کو مستقبل کا حاکم قرار دے دیا ہے،جہاں عوام کا بھیڑبکریوں کی طرح سودا کر دیا جاتا ہے۔جہاں حکومت بھٹو خاندان،نواز شریف خاندان،ولی خان خاندان،گیلانی خاندان،ٹوانہ خاندان،ممڈوٹ خاندان یا ایسے ہی ظالم خاندانوں کے ٹولے کے کسی فریق کے ہاتھوں میں رہی ہے۔

حاکموں کی ننانوے فیصد اکثریت حسنی مبارک کے ذہن اور ذہنیت کی حامل ہوتی ہے کہ عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ حسنی مبارک جائے اور حسنی مبارک نے کابینہ کو چلتا کر دیا۔ نہ جانے ان حاکموں کی سماعت کیوں جواب دے دیتی ہے،انکی آنکھوں کی بینائی کیوں ختم ہو جاتی ہے انکے دلوں پر کیوں قفل پڑ جاتے ہیں کہ یہ سڑکوں پر بہتا بے گناہ خون دیکھ نہیں سکتے اور بھوکے۔غربت زدہ عوام کی آوازیں سن نہیں سکتے۔

میں نے کئی ماہ پہلے ایک نظم لکھی جو آج نوشتہ دیوار لگ رہی ہے۔ اس کا ایک اقتباس ہی کا فی ہے

کس طرح سے میں اس عہدِ حاضر کی کرب وبلا کی کہانی لکھوں
جس کے کردار سارے یوں لگتا ہے میرے ہی ہم نام ہیں
کوئی حُسنی مبارک
کوئی شاہ حسین ہے کوئی شاہ حسن ۔
ان میں شامل ہے اک نام ‘‘عبداللہ‘‘ بھی
یہ سبھی ایسے ناموں کی تضحیک ہیں
ان کے سینوں میں قرآن ہو گا مگر
انکے دل سب جہالت کی طرح سے تاریک ہیں
اک عجب درد اور دُکھ کا ماحول ہے
مسجدِ اقصیٰ خوں میں ہے ڈوبی ہوئی
اور فلسطین کی سرزمیں
ارضِ کرب وبلا کی طرح سرخ ہے
پھر یزیدانِ عصرِ رواں
ہاں تقاضہء بیعت پہ ہیں متفق
آج پھر ارضِ اہلِ فلسطین پر
حذبِ شیطان نے
اسقدر بربریت سے دھجیاں اُڑائی ہیں انسانیت کے قوانین کی
جس طرح اک نئی کربلا
رضِ اہلِ فلسطین سے دے رہی ہے صدا
المدد یا خُدا۔المدد یا نبی۔المدد یا علی سب کے مشکل کُشا
چاروں جانب فضا میں برستی ہوئی آگ اور خون کی ایسی بارش ہے جس میں
زندگی کی کوئی ایک رمق بھی نہیں
چار سو پھیلی تاریکیوں میں کہیں اک چمک بھی نہیں
آسماں سے وہ بارود برسا کہ ساری زمیں جل گئی
جسم معصوم بچوں کے ٹکڑے ہوئے اور مٹی میں پَل بھر میں مل کر فنا ہو گئے
حذبِ شیطان نے
حذبِ ایمان پر پوری طاقت سے کچھ ایسا حملہ کیا
جس پہ فرعون،نمرود،شداد سب خود بھی حیران ہیں
ابرہہ عہدِ حاضر کا اک بار پھر
آہنی،آتشیں ہاتھیوں سے
یوں غزہ پہ ہے حملہ آور ہوا
یا حسین ابنِ حیدر ترے ماننے والوں پر ہے عجب ظلم کی انتہا
ریزہ ریزہ ہوئے جسم جیسے فضا میں کہیں کھو گئے
بھوک سے بلبلاتے ہوئے کتنے معصوم ماؤں کی گودوں میں اپنا لہو پی کے ہیں سو گئے
ابرہہ عہدِ حاضر کا اس بار تنہا نہیں
ساتھ اُس کے بڑی طاقتوں کے خدایانِ شر بھی تو ہیں
ہاں مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس بار شاید کوئی
سورئہ فیل نازل نہ ہو
اور اس کا سبب
ہم مسلمانوں کی بے حسی کے سوا اور کچھ بھی نہیں
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے ہمارے گھروں کو تباہ کر دیا
آسماں سر سے پاؤں سے کھینچ لی ہے زمیں
شہر اُجڑے ہوئے
گرد اوڑھے ہوئے سو رہے ہیں مکیں
عالمِ کفر و شر تو ہے جاگا ہوا
حاکمینِ عرب اور عجم جیسے سوئے ہوئے
اک عجب بے حسی کی ہے یہ انتہا
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے جنہیں ریزہ ریزہ کیا
اُن پہ ماتم کُناں
اُن پہ سینہ زناں
اُن پہ نوحہ کُناں کوئی بھی تو نہیں
بِک گئے ہیں قلم اور قلم کار خفتہ ضمیری کی میت اٹھائے ہوئے
اور مسلمان حاکم محلات میں سہم کر چھُپ گئے
ایسے حالات میں بھی ہیں اپنے حرم کو سجائے ہوئے
اے عرب اور عجم کے مسلمان حاکمو
ارضِ بغداد و لبنان کی موت کے بعد اب تمہیں
موت پر سرزمینِ ‘‘غزہ‘‘ کی مبارک کہیں
تم نے اپنے ہی دین اور تہذیب کا جس طرح سے جنازہ نکالاہے اُس پر مبارک تمہیں
تم نے اپنی شجاعت و جرآت کے زرین ابواب کو
جس طرح پارہ پارہ کیا
اُس پہ بھی تم کو تحسین ہو
اور ابد تک تمہارے ان عشرت کدوں میں اُجالا رہے
سب جہانوں میں تمہاری اس بے ضمیری کا بھی بول بالا رہے
بے ضمیری کے نشے میں مدہوش حاکمینِ عرب اور عجم کو ہمارا سلام
ایسے فرمانرواؤں کی زریں عباؤں قباؤں پہ جانیں نثار
جن کو ہے صرف اپنی حکومت سے پیار
بصرہ و کوفہ و شہرِ بغداد کے بعد اب آپ کو
ہو مبارک فلسطین بھی لُٹ چکا
اب غزہ حذبِ شیطان کی ملکیت بن گیا
اور ہر اک گھر پہ جسطرح سے موت کا راج ہے
اوریہ ساری فضا
خون اور بارود کی بو میں ہے جس طرح سے نہائی ہوئی
اور یہ عزت مآب حکمراں
سامراجی خداؤں کے پٹھو یہ فرمانروا
قحبہ خانوں میں مدہوش سوئے ہوئے
پاسبانِ حرم
مصلحت کی قبا کو منافق بدن پہ سجائے ہوئے
تاج اور تخت کے عشق میں بے ایماں،دوغلے حکمراں
چند دن اور ہیں
دیکھنا ہوں گے یہ سب بھی عبرت نشاں
کعبئہ دل میں اب کوئی دے تو اذاں