PDA

View Full Version : خودنگر و خودگر و خودگیر خودی



گلاب خان
04-16-2011, 09:52 PM
پاکستان کی روز بہ روز بلدلتی سیاسی ڈرامے کی صورتِ حال سے ہر پاکستانی نہ صرف پریشان ہے بلکہ نہ اُمید بھی ہے ۔ عوام سیاسی اداکاروں سے تنگ آ چُکی ہے کیونکہ اُن کو بھی یہ علم ہے اس مُلک میں حکومت میں آنے والی پارٹی اور حکومت کا لطف اُٹھانے کے لیے بہت سی ایسی پارٹیاں جو متحد ہو کر حکومت کو چلاتی ہیں یہ تمام صرف اپنے مفاد کے لیے کُرسی پر آتی ہیں ۔ اور پھر جیسے ہی مفاد حاصل کر لیے جاتے ہیں اگلے انتخابات سے پہلے پہلے پارٹی بدل لی جاتی ہے تاکہ آنے والے انتخابات میں اپنی پاک دامنی ثابت کی جا سکے ۔ اس ملک یا عوام کی فکر کس کو ہے اُن کو جو آج حاکم ِ وقت بنے صدارت کی کرسی پر بیٹھے ہیں یا اُن کو ہے جو اپنے اپنے مفادات حاصل کر کے ان تین سالوں میں اب موجودہ حکومت میں کیڑے نکال کر حکومتی پارٹی سے اپنے مراسم اور مفادات کو جُدا کر رہے ہیں ۔کوئی ان سے یہ
پوچھے کے پاکستان کہاں گیا ؟ عوام کہاں گئی اس غم میں کون سی پاتٹی مبتلا ہے ؟ کسی ایک کو بھی آج اس ملک کی فکر ہوتی تو آج پاکستان دُنیا میں کسی اور مقام پر ہوتا ۔

بد نصیبی سے ہمیں کوئی ایک بھی ایسا سیاسی لیڈر میسر نہیں ہے جس کو اپنے بنک اکاونٹ بھرنے سے فرصت ہو اور جس کے پاس عوام کی آواز کو دُنیا تک پہنچانے کا حوصلہ ہو ۔ جو خود کو پاکستانی ہونے کے ناطے اس دھرتی کا مقروض مانتا ہو اور جس کے لیے اول و آخر صرف اس کا دیس ہو جو تمام تر بیرونی قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دلیری سے یہ پوچھ سکے بقول حضرت علامہ اقبال ۔

ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا مُحاسبہ ، یورپ سے در گُزر !

پاکستان کے نوجوانوں میں رنج غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے وہ کیا کریں ؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی نوجوان کے ذہن میں گردش کر رہا ہے آج پاکستان کی سر زمین پر ہی پاکستان کے آنے والے کل کو گمراہ کیا جا رہا ہے - اور پاکستان سے نفرت کرنے پر اُکسایا یا رہا ہے ان مثالوں سے تو ہمارا معاشرہ بھرا ہوا ہے ۔ یہاں علم کی قابلیت کی کوئی قدر نہیں کرتا یہاں صرف خاندان کا نام چلتا ہے۔ یہاں وکیل کا بیٹا وکیل ہے سیاست دان کا بیٹا سیاست دان ۔ یہاں ملنے والا ہر بُلند مقام وراثت میں ملتا ہے ۔ سفارش سے کوئی ایک بھی جگہ پاک نہیں پھر کسی نوجوان میں کتنا ہی ہنر ہو ۔ وہ کتنا ہی اس ملک و قوم کی محبت اور اس کی خدمت کے جذبے سر شار کیوں نہ ہو کوئی نہیں پوچھتا اگراس نوجوان کے پاس دینے کے لیے کوئی بڑا حوالہ نہیں ہے ۔

پاکستان کے نوجوانوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسے حالات سے دوچار کر کے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا گیا ہے کے اپنی زمین کو چھوڑ کسی بھی ایسے ملک میں چلے جاہیں جہاں محنت کرنی پڑ جائے۔ بیشک رات اور دن میں تمیز ختم ہو جائے اور خود کو چوبیس گھنٹے چلنے والی کسی مشین میں ہی تبدیل کرنا پڑ جائے مگر کم سے کم گھر والوں کو پیٹ بھر روٹی مل جائے ۔ اور اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں ۔ اور پھر پیسے کی اس دوڑ میں وہ اپنا جنون اپنی منزل سب کھو دیتے ہیں ۔ کیونکہ زیادہ تر یہاں ہمارے ملک میں اُن کو کسی بھی شُعبے میں آگے جانے کی آزادی حاصل نہیں ہوتی اسی روشاور بے روزگاری سے تنگ ہمارے بہت سے قیمتی ہیرے پاکستان کو چھوڑ کر باہر کی زمین پر جا بسے ۔ پر یہ وطن آج بھی کنگال نہیں ہے ایسے جوانوں سے آج بھی بہت سے نوجوان ہیں جو اس ملک کے لیے اس قوم کے لیے درد بھی رکھتے ہیں اور کچھ کر گزرنے کا جزبہ بھی ۔

ہم لوگ جو اس ملک و قوم کا آنے والا کل ہیں اس ملک کا مستقبل ہیں ہم سب ہمارے مُعاشرے میں مثبت تندیلی چاہتے ہیں آج پاکستان کا ہر نوجوان چاہتا ہے کے یہاں کی گُٹھن زدہ فضا بدل جائے ہم کو کُھل کر سانس لینے کی آزادی ہو ۔ مگر دُکھ کی بات یہ ہے کے ہمارے یہاں قیادت کا فُقدان ہے ، کوئی قوم اس وقت ہی ترقی کر سکتی ہے جب اس کے پاس ایک ایسا لیڈر ہو جس کے لیے اس کا ذاتی مفاد اور جنون صرف اُس کا وطن ہو۔ جیسا کے ہمارے قائد کے لیے تھا ( محمد علی جناح ) جو صرف ایک شخص کا نام نہیں ہے یہ نام ہے ایک جنون کا ، حوصلے کا ہمت کا ، پُختہ عزم کا ایک ایسی سوچ کا جو متحرک ہو جائے اور ارداہ کر لے تو دُنیا کے نقشے پر لاکھ مخالفت کے باوجود بھی پاکستان اُبھر آتا ہے ۔ آج پاکستان کو پھر سے قائد کی طرح کا فقط ایک لیڈڑ درکار ہے۔ علامہ اقبال کی طرح خواب دیکھنے والی صرف ایک ہستی ، باقی اس قائد کی پیروی کرنے والوں اور علامہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے والے نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے ہمارے پاس ۔آج پاکستان کے سیاست دان جس خود غرضی سے اور بے حسی سے اس ملک کو برباد کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ان میں کسی ایک ایسے عوامی لیڈر کی اشد ضرورت ہے جو حقیقت میں عوامی نُمائندہ ہو ۔

سعادت حسن منٹو ، قائد پر لکھے اپنے ایک مضمون میں ذکر کرتے ہیں کے ہمارے قائد کا پسندیدہ کھیل بلئیرڈ تھا جس کو وہ بہت ہی محتاط انداز سے کھیلا کرتے تھے گیند کو ہر ایک انداز سے دیکھتے اور اس وقت تک ضرب نہ لگاتے جب تک مکمل طرح سے یقین نہ ہو جاتا اور جب مکمل اطمینان ہونے پر کیو گیند سے ٹکراتی تو نتیجہ حسب منشاء ہوتا ۔ سیاست کے کھیل میں بھی قائد اسی طرح محتاط تھے وہ جلد بازی میں کبھی کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے ہر مسئلے کو بلئیرڈ کی میز پر پڑی ہوئی گیند کی طرح ہر زاویے سے بغور دیکھتے تھے اور صرف اسی وقت اپنے کیو کو حرکت میں لاتے تھے جب اُن کو اس کے کارگر ہونے کا وثوق ہوتا تھا وار کرنے سے پہلے شکار کو اپنی نگاہوں میں اچھی طرح تولتے تھے اس کے نشت کے ہر پہلو ہر غور کرتے تھے اور پھر اس کی جسامت کے مطابق ہتھیار منتخب کرتے تھے وہ ایسے نشانچی نہیں تھے کے پستول اُٹھایا اور داغ دیا اس یقین کے ساتھ کے نشانہ خطا نہیں جائے گا بلکہ وہ ہر پہلو پر سوچنے کے بعد اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے تھے اور پھر اُس عمل کرتے تھے-

اس وقت ایک ایسے ہی لیڈر کی حاجت ہے اس پاک وطن کو جو تمام ملک دُشمن عناصر کو مُنہ توڑ جواب دے سکے جو اُن کی ہر حرکت کو اپنی نظروں کی قید میں رکھے اور حالات کو اچھے سے پرکھ کر ہرقدم اُٹھائے ۔ اور اس زمین پر بسنے والے ہر مُلک دُشمن قوت کو ان کے انجام تک پہنچائے - پھر وہ نا سور اسی مادر ِ وطن کے پلے ہوئے ہوں یا باہر سے آ کر اس ملک کی فضا کو خراب کر رہے ہوں ۔ کیوں کے جنگ کے میدان میں آپ کے پاس لڑنے کے لیے بہت سے آدمی کیوں نہ ہوں یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ آپ جنگ جیت جایں گے ، بہت سے آدمیوں کے ساتھ آپ جنگ لڑ سکتے ہیں مگر اس جنگ کو جیتنے کے لیے صرف ایک بہترین دماغ کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ جانتا ہو کے کب کہاں سے کس طرح وار کرنا ہے ۔

پاکستان کی حالت بھی آج جنگ کے میدان جیسی ہے جہاں بہت سے لوگ ہیں جو اس ملک کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں وقت پڑنے پر جان بھی دے سکتے ہیں مگر کمی ہے تو صرف اُس ایک دماغ کی ہے جو اس جنگ کو جیتنے کے اصول ان تمام پاکستانیوں کو بتائے۔ جس دن وہ دماغ حکومت کی کرسی پر آ گیا جو بنک اکاونٹ کے لحاظ سے بیشک کنگال ہو مگر علم اور خودی کی دولت سے مالا مال ہو ۔ خودی سے لبریز انسان ہی وہ صدف ہو سکتا ہے جو قطرے کو گہر بنا دے ۔ ایک ایسا لیڈر جو اس قوم کی رہنمائی کر سکے اور اس کو دنیا کی تمام اقوام میں بُلند مقام دلا سکے ۔ اور جس دن ایسا کوئی شخص حاکم وقت بن کر خودی کی دولت لے کر پہلا قدم اُٹھائے گا اس دن پاکستان کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک پائے گا انشا اللہ ۔

زندگانی ہے صدف ، قطرہ نیساں ہے خودی
وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گُہر کر نہ سکے
ہو اگر خودنگر و خودگر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے