PDA

View Full Version : آئے دن کی ’ کِل کِل ‘ اور ’ بٹوں وٹوں ‘ کی سٹے بازی ۔از؛ جاوید اقبال کیان



گلاب خان
04-16-2011, 09:57 PM
ہائے بہنو اور بھائیو
کیا بتاؤں ؟
کیا حالِ دل سناؤں ؟۔۔۔۔۔۔
بُرا ہو ان طوطوں کا جن کی الٹی سیدھی فالوں نے ہمارا دھڑن تختہ کر دیا ۔ ہائے وہ کمبخت طوطا۔۔۔۔۔۔جو خود تو پاکستانی ٹیم کی جیت کی فال نکال کے جنونی ہندوؤں کے ہاتھوں مر کھپا ، ساتھ ہمیں بھی کہیں کا نہ چھوڑا ۔ ہر کھلاڑی پہ طوطے کی پیشینگوئی کا ہی بھوت سوار رہا جس نے انہیں اتنی خوش فہمی میں مبتلا کردیا کہ گراؤنڈ میں ان کے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑے رہے۔۔۔۔۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ہندو سادھوؤں نے کوئی منتر پڑھ دیا ہو یا پھر موہالی کی ویٹریسوں نے ناشتے میں بھنگ بھرے پراٹھے کھلا دئیے ہوں۔۔۔۔۔۔۔ جبھی تو ان کا ’ تھوتھا پن ‘ اور ادھ کھلی آنکھیں بار بار چغلی کھا رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔

اوپر سے میچ فکسنگ کے طعنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرکٹ ٹیم کا ماضی اور اپنی سوہنی دھرتی پہ لکشمی پوجا کے بڑھتے رواج کو دیکھتے ہوئے یہ بھی ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے کہ جسے آنکھیں چرانا ناممکن سا ہو چکا ہے کیونکہ پاکستانی کرکٹرز اور میچ فکسنگ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل اسی طرح جسطرح حکمرانوں اور کرپشن کا ہے ۔

بالائے ستم ، ہماری تقریباً ساری حکومت بھی میچ دیکھنے انڈیا جا دھمکی ۔ کہنے کو تو یہ ٹیم سے اظہار یکجہتی اور اپنی پاکستانیت ثابت کرنے گئے مگر اصل وجہ انڈیا یاترا ، من موہن جی کی قدم بوسی اور سونیا جی کے درشن تھے ۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ ان کی پاکستانیت پہ کس کو شک ہوسکتا ہے ؟ ابھی حال ہی میں ریمنڈ ڈیوس ، جس کے نام پہ کسی سڑک کا نام بھی منسوب کئے جانے کی افواہیں ہیں ، کیس میں ان کی پاکستانیت کا جو روپ دنیا نے دیکھا اسے بڑھ کر گھناؤنی مثال ہی پیش کرنا ناممکن ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اسی پاکستانیت کا چہرہ دوبارہ کھل کر سامنے آگیا جب اپنی ٹیم کی دو وکٹیں گرنے کے بعد یہ سب من موہن جی اور سونیا دیوی کے ہمراہ ظہرانے میں شامل ہو کر اپنی پاکستانیت کا بھونڈا مذاق اڑا رہے تھے ۔

اب بھلا یہ بھی جانے کا کوئی موقع تھا ؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ من موہن جی کی دعوت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ٹیم کے فائنل میں کوالیفائی کرنے کی صورت دورہ کرنے کی حامی بھرتے لیکن وائے رے عقل ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تُو کہیں بازار سے ملنے والی شئے ہوتی تو ہم سب مل کر ان بدھوؤں کو انڈیا سے ہی خرید دیتے ! اور پھر ان کی نحوست ملک کے اندر کیا کم ہے جو یہ اسے کھیل کے میدان میں بھی اچھی خاصی سیمی فائنل تک پہنچی ٹیم پہ پھیلانے موہالی جا پہنچے ۔ میچ جیتنے کے تھوڑے بہت امکانات اگر تھے بھی تو وہ ان کی نحوست کی نذر ہوگئے !

اگلے چار سالوں کی پیشینگوئی یہ ہے کہ اب یہ ہوگا ۔ نئی ٹیم ترتیب دی جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیکٹرز کے وارے نیارے ، نئی سیریز کا آغاز ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سٹے بازوں کے وارے نیارے ، دیس دیس کے دورے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آفیشلز کے وارے نیارے ، ٹیم شاید پھر سیمی فائنل تک چلی جائے۔۔۔۔۔۔کھلاڑیوں کے وارے نیارے ، ساری قوم سجدے میں دست بدعا ہوگی ، ٹیم کو بدقسمتی آ لے گی، قوم آگ بگولہ ہوگی اپنی دعاؤں کی ناقبولیت پہ مایوس ہوگی۔۔۔۔۔دھت تیرے کی ، ابلیس تیرے وارے نیارے !

میں آخر میں اپنی بہت ہی اچھی ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ، جو ہر غمی اور دکھ کے موقعہ پہ قرآن پاک کا بلاگ میں ختم کرواتی ہیں ، سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک ختم پاکستان کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ٹیم کے لئے بھی رکھ دیں تاکہ آئے دن کی ’ کِل کِل ‘ اور ’ بٹوں وٹوں ‘ کی سٹے بازی سے عاجز ہم ایک ہی دفعہ ان کے لئے دعائے خیر پڑھ لیں اور آئندہ اپنے کام سے کام رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضروری نوٹ :

تمام قارئین سے پر زور التماس ہے کہ اس تبصرے میں میری املاء اور گرائمر کی تمام غلطیاں در گذر فرمادیں کیونکہ اپنے کرکٹرز پہ لکھتے ہوئے میرے ہاتھ بھی اسے طرح کانپ رہے ہیں جس طرح اپنی طرف تیزی سے آتی گیند کو دیکھ کر کرکٹرز کانپ رہے تھے ۔