PDA

View Full Version : بڈھے بلوچ کی نصيحت بيٹے کو - علامہ اقبال



نورمحمد
04-18-2011, 05:26 PM
بڈھے بلوچ کی نصيحت بيٹے کو


ہو تيرے بياباں کی ہوا تجھکو گوارا

اس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بُخارا


جس سمت ميں چاہے صفتِ سيلِ رواں چل

وادی يہ ہماری ہے وہ صحراء بھی ہمارا


غيرت ہے بڑی چيز جہاں تگ ودو ميں

پہناتی ہے درويش کو تاجِ سردارا


حاصل کسی کامل سے يہ پوشيدہ ہُنر کر

کہتے کہ شيشہ کو بنا سکتے ہيں خارا


افراد کے ہاتھوں ميں ہے اقوام کی تقدير

ہر فرد ہے ملِّت کے مقدر کا ستارا


محروم رہا دولتِ دريا سے وہ غّواص

کرتا نہيں جو صُحبتِ ساحل سے کنارا


ديں ہاتھہ سے دے کر اگر آزاد ہو مِلّت

ہے ايسی تجارت ميں مسلماں کا خسارا


دُنيا کو ہے پھر معرکہءِ روح وبدن پيش

تہذيب نے پھر اپنے درندوں کو اُبھارا


اللہ کو پا مردیءِ مومن پہ بھروسہ

ابليس کو يورپ کی مشينوں کا سہارا


تقدير اُمم کيا ہے کوئی کہہ نہيں سکتا

مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا


اخلاصِ عمل مانگ نياگانِ کہن سے

شاہاں چہ عجب گر بنوا زند گدارا

شاعرِ مشرق۔ علامہ محمد اقبال


بشکریہ : اضواء

بےباک
04-19-2011, 09:47 AM
ماشاءاللہ ،بہت اچھا پیش کیا ،
آپ شکریہ کے مستحق ہیں ،
.........................
کہ آپ نے ایک شاندار نظم ادھر زینت بنائی ، مرحوم علامہ اقبال کے دل میں کتنا درد تھا ، کاش ہم بھی ایسا درد امت مسلمہ کے لیے رکھیں ،

تانیہ
04-19-2011, 12:57 PM
واہ ..بہت خوب ...تھینکس فار نائس شیئرنگ