PDA

View Full Version : اس نے کہا....!



اوشو
04-19-2011, 03:28 AM
نجات کا راستہ

میں نے کہا
"ایک خوف ہے جو دل پر طاری رہتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو جائے ، کہیں ویسا نہ ہو جائے۔ کوئی مصیبت نہ آ پڑے ۔ کوئی حادثہ ، کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جائے کہ باقی عمر حالات کے بھنور میں چکر کھاتے گزر جائے۔ اوورں کو مصائب و مسائل کے جال میں تڑپتا دیکھتا ہوں تو دل پر ہول طاری ہو جاتا ہے۔۔۔۔ کوئی طریقہ ، کوئی ذریعہ بتا کہ اس خوف سے نجات مل جائے اور میں مصائب سے بچا رہوں۔"

اس نے کہا
"اے بندہ خدا! خوچ سوچ ذرا ! تو کم فہم ہو سکتا ہے، کم علم تو نہیں ! تو یقینا جانتا ہو گا کہ شہاب ثاقب کیا ہوتے ہیں ۔ نہیں جانتا تو مجھ سے سن لے۔ خلاء میں بے شمار سارچے گردش کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض ٹوٹ جاتے ہیں اور ان کے کچھ ٹکڑے زمین کی کشش ثقل کی حدود میں آ جاتے ہیں اور زمین انہیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ ان کی رفتار اتنی تیز ہوتی چلی جاتی ہے کہ ہوا کی رگڑ سے ان ٹکڑوں کو جنہیں شہاب ثاقب کہتے ہیں ، آگ لگ جاتی ہے۔ تو رات کو یہ منظر دیکھتا ہے تو کہتا ہے ، وہ تارا ٹوٹا۔۔۔۔۔! وہ تارا نہیں بلکہ کسی سیارچے کا بہت بڑا ٹکڑا ہوتا ہے جو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی خلاء میں جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
"یہ بہت بڑے ٹکڑے ہوتے ہیں، ہزاروں اور لاکھوں ٹن وزنی۔ کائنات کی پیدائش سے اب تک بہت بڑی چٹانوں جیسے ٹکڑے زمین پر گر چکے ہیں۔ ایک امیرکہ کے صحرا ایریزونا میں ، ایک جنوبی افریقہ میں ، روس کے علاقہ سائبیریا میں ، فرانس میں اور کچھ ہی عرصہ پہلے چٹان جیسا ایک ٹکڑا چین کے ایک صحرائی علاقہ میں گرا ہے۔
"یہ بھی علم فلکیا ت کی ایک حقیقت ہے کہ ٹوٹے ہوئے سیارچوں کے کنکریوں اور چھوٹے چھوٹے پتھروں جیسے ٹکڑے جو شہابئیے کہلاتے ہیں ، زمین پر بارش کی طرح گرتے رہتے ہیں اور جو کئی کئی ٹن وزنی چٹانیں گری ہیں وہ بھی آبادیوں سے بہت دور گری ہیں ۔۔۔۔۔ اور تجھے چند ہی برس پہلے کا وہ واقعہ یاد ہو گا جب امریکہ کا ایک مصنوعی سیارہ "سکائی لیب" خلاء میں کچھ عرصہ گردش کر کے بگڑ گیا تو اس خبر نے کہ "سکائی لیب" کسی بھی دن اور کسی بھی وقت کرہ ارض پر کہین گرے گا۔ ساری دنیا پر خوف و ہراس طاری کر دیا تھا لیکن یہ گرا تو آسٹریلیا سے کچھ دور سمندر میں گرا۔ اگر کسی آبادی پر گرتا تو تباہی بڑی ہولناک ہوتی۔۔۔۔۔
"کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہے کہ شہاب ثاقب اور شہابیئے آبادیوں سے دور گرتے چلے آ رہے ہیں اور انسان کا بنایا ہوا مصنوعی سیارہ بھی اتفاق سے سمندر میں گرا تھا ؟"

میں نے کہا
"میں تو یہی سمجھتا ہوں۔"

اس نے کہا
"اور یہی تیری بد بختی ہے کہ تو کج فہم ہے۔ تو اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جو تو نے سوچا ہے وہ کوئی پیغمبر ، کوئی نبی اور کوئی دانشمند بھی نہیں سوچ سکا تھا۔۔۔۔۔۔ یہ اتفاق نہیں ، یہ اللہ کا قانون ہے کہ اجرام فلکی ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ قرآن پڑھو
ترجمہ : "سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں اور اللہ نے آسمان کو بلند کیا اور توازن قائم کیا ہے۔" سورہ الرحمن: 5-4
"لیکن میں تیری اس بات کا جواب دے رہا ہوں کہ تو خوفزدہ رہتا ہے کہ کوئی مصیبت نہ آ پڑے۔ میں نے کائنات کا قانون تجھے بتایا ہے۔ اس کائنات میں سے بہت بڑے بڑے پتھر تجھے تباہ و برباد کرنے کے لئے تیری طرف اتنی تیز رفتاری سے آتے ہیں جسے تو تصور میں بھی نہیں لا سکتا۔ لیکن اللہ انہیں تجھ سے بہت دور خلاء میں ہی جلا کر راکھ کر دیتا ہے یا تجھ سے بہت ہی دور صحراؤں ، بیابانوں اور سمندروں میں پھینک دیتا ہے۔ یہ قانون قدرت ہے۔ قانون فطرت ہے۔"
"تو نہیں جانتا کہ بڑے ہی خوفناک مصائب اور مسائل تیری طرف آتے ہین اور اللہ کا یہی قانون قدرت انہیں تجھ سے دور ہی جلا کر بھسم کر دیتا ہے۔۔۔۔ اب تو کہے گا کہ مصائب اور مشکلات سے تو پھر بھی چھٹکارا نہین تو میں کہوں گا کہ تو میری نہیں اپنے اللہ کی آواز سن:
ترجمہ : "اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوئی ہوتی ہے اور اکثر تم معاف کر دیئے جاتے ہو۔" سورہ الشوری 30

پھر اس نے کہا
"ذرا سوچ کہ اپنے ہاتھوں مصیبت کس طرح کمائی جاتی ہے ۔ اللہ نے تو مصائب کے شہاب ثاقب کو جو تیری طرف آ رہا تھا ، تجھ سے دور ہی جلا کر راکھ کر دیا یا اس کا راستہ بدل دیا کہ تجھ سے دور گرے لیکن تو اخلاق اور ایمان کی زنجیریں توڑ کر دوڑ پڑا اور اس جگہ جا کھڑا ہوا جہاں شہاب ثاقب کو گرنا تھا۔ اپنے آپ کو تباہ کر کے تو نے الزام اللہ پر تھوپ دیا کہ اللہ کو یہی منظور تھا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔

سقراط
05-06-2011, 10:22 PM
زبردست اوشو بھائی ایمان افروز تحریر ہے زبردست

این اے ناصر
05-05-2012, 10:37 AM
شئیرنگ کاشکریہ۔