PDA

View Full Version : یومِ تکبیر



شاہ بانو میر
04-22-2011, 06:03 PM
یومِ تکبیر


پاکستان جس دن اس بات کا کھلم کھلا اظہار کر دے گا کہ وہ ایٹم بم رکھتا ہے ـ اس دن انڈیا سمیت پوری دنیا میں پاکستان کی دھاک بیٹھ جائے گی ـ
اور ہماری شان میں ہماری حیثیت میں ایک مضبوطی آجائے گی پھر ہم سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرنے کے قابل ہو سکیں گے ـ
وہ کیا طاقت ہو گی ؟
ایٹم بم؟
ہمارے سب دکھ درد ہماری بے بسی بے کسی ذلت کمزوری کا بس ایک ہی حل ہے کہ ہم ایٹمی دھماکہ کر کے دنیا کو بتا دیں کہ
ہم بھی کسی سے کم نہیں ؟
لیکن
ہمارے پاس ایٹم بم ہے یا نہیں ؟
اس راز کو
بیرونی دباؤ اور اندرونی کمزور قیادت نے ہمیشہ ہی اپنی اس طاقت کو مصلحتوں کی چادر میں چھپائے رکھا ـ اور ساتھ ہی ساتھ ہر نااہل حکومت اسکی تشہیر بھی کرتی رہی تاکہ سند رہے اس عظیم کام میں کل کو جب راقم تاریخ رقم کرے تو ان کا بھی زکرِ خیر ضرور ہو ـ

بہت ذلتیں سہیں بہت الزامات سہے بنانے والوں نے اپنی زندگیاں دیں صحتیں دیں ـ صعوبتیں مسائل پریشانیاں ناکافی وسائل میں بھی تکنیکی مہارتوں کا زہانت سے استعمال کر کے ایک لمبے لمبے راستے سے اس چھوٹی سی تبدیلی تک پہنچتےـ جو شائد وسائل کی فراوانی کی شکل میں بہت سہولت اور آسانی سے کم وقت میں ہو جاتی ـ

لیکن وطن کو عظیم بنانے کا جنوں اور دوسروں سے مقابلے کا ارادہ اور ملک کی بقا کیلیۓ کیا کیا مشکلات تھیں جو انکی راہ میں حائل تھیں لیکن ان وطن کے سپوتوں نے وہ کارِ خیر کر دکھایا جو بظاہر نا ممکن تھا ـ آخر کار ایٹم بم کا کامیاب تجربہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ڈاکٹر قدیر کی زیرِ نگرانی 28 مئی کو ہو گیا ـ
ایک بڑی خبر جس نے کچھ دنوں کیلیۓ انٹرنیشنل میڈیا کے ہوش اڑا دیے ـ
ایسالگ رہا تھا جیسے ایٹم بم کا کامیاب تجربہ ہمارے تمام مسائل کی وہ جادوئی کنجی ہے ـ کہ اب 28 مئی کے بعد اس ملک میں نہ تو کوئی غریب رہے گاـ
نہ ہی کوئی مظلوم
ہر ایک کو پیٹ بھر روٹی ملے گی اور ہر پیٹ شکم سیر ہو کے رات کو میٹھی اور ُپرسکون نیند کے مزے لوٹے گا ـ
وہی مفلس سُچے اصلی پکے پاکستانی بھنگڑے ڈالنے لگےـ گلیوں کوچوں شاہراہوں میں جن کے تن پے بوسیدہ لباس اور پاؤں جوتے سے محروم تھے ـ
کیونکہ
اصل میں تو یہ ایٹم بم انہی کو تو نجات دلوانے والا تھاـ
بھوک سے
لوڈ شیڈنگ سے
چینی کی کمیابی سے
ماحولیاتی آلودگی سے
آٹے کی قلت سے
رشوت خوری سے
ظلمت کے اندھیرے سے یہ ایٹم بم اس خوشی سے بھنگڑ ا ڈالتے ہوئے اس عام پاکستانی کو جلد ہی اچھی رہائش اچھی صحت اچھی تعلیم اچھی اور پُرآسائش زندگی فراہم کرنے والا تھاـ
پھر وہ پاگلوں کی طرح اپنی غربت کے خاتمے پر یوں دیوانہ وار کیوں نہ خوش ہوتا ـ
پورا پاکستان اس رات خوشی سے جھوم رہا تھا سرحدوں پر فوجی سینے کو فخر سے اکڑائے پھولے نہیں سما رہے تھے ـ
ایک نئے دور میں جو داخل ہو گیا تھا ـ

پاکستانی

پرچم کو ایک نئی شان ایک اور اونچائی عطا کی گئی تھی ـ

دن ڈھلا تو کرسمس فادر کی طرح شائد سب لوگ یہی سوچ کر سو گئے تھک ہار کے کہ سوئیں گے تو ہی رات کو کرسمس فادر آسکیں گے اور چُپکے سے ان کے سرہانے وہ انعامات یعنی صحت تعلیم تعلیم امارت دولت ثروت سب کچھ ان کے سرہانے رکھ جائے گا دوسری صبح جب وہ اٹھیں گے تو ایک نئ صبح انکی منتظر ھو گی ـ

سویا نہی جا رہا تھا کیونکہ بہت سی خوشیاں دوسرے دن انکی منتظر تھیں ـ

لیکن سونا تھا اس لئے سب ہی سو گئے ـ

کبھی کبھی تو ایسی اجتماعی سوچ پنپتی ہے ـ جس بات پر سب بغیر حیِل و حجت ایک ساتھ ایک نکتے پر متفق ہوجاتے ہیں ـ
اور پھر وقت کی وہی مخصوص رفتار سورج نکل آیا ـ

مگر یہ کیا؟

عام پاکستانی جاگا کل کا بھوکا پیاسا ناچ ناچ کر بدن تھکن سے چوُر اٹھا نہیں جا رہا تھا ـ مُندی مُندی آنکھوں سے پلکیں اٹھائیں وہی کمرا بوسیدہ سا ٹپکتی ہوئی چھت پے پانی ٹپکنے کے وہی پرانے نشاں گھبرا کے ہر پاکستانی اپنی اپنی بوسیدہ کھردری چارپائی پر گھبرا کے اٹھ بیٹھا ؟

دائیں دیکھا بائیں دیکھا ؟

آنکھیں ملی کہ شائد پرانے منظر کی عادت اتنی ہو گئی کہ ابھی تک وہی نظروں میں سمایا ہوا ہےـ
ایک بار دو بار تین بار بار بار آنکھیں ملنے کے باوجود بھی وہی تصویر جامد اپنی بد ہئیتی کے ساتھ منظر میں قائم رہی ؟
کوئی نئی چیز نہیں کوئی تحفہ نہیں کوئی روشنی کی کرن جو چاغی میں پھیلی تھی اس تک اسکے ثمرات کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے تھےـ

وہ ایک بار پھر اضحلال کا شکار ھو گیا ـ

وہی مایوسی وہی نا امیدی اسکے مایوس زرد ہوتے چہرے کو مذید زرد کر گیا ـ

دوسرا دن آیا وہ سمجھے شائد روشنی کی کرن دور چاغی میں پھیلی ہے تو ان تک پہنچنے میں وقت لے گی ـ

لیکن دن پر دن گذرتے رہے ـ حال سے بے حال لوگ ہوتے رہے اس قوم کو نا اہل حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے اتنا بڑا کارنامہ کر کے بھی کچھ نہ دیا تو اور کیا دیں گے ؟

آج

پھر سب پوچھ رھے ہیں کہ 28 مئی کو یوم تکبیر تو منا لیا ـ

لیکن اس یوم تکبیر کی طاقت کہاں ہے آج اسکے ہوئے ہوئے بھی میرے وجود کے پرخچے کیسے اڑائے جا رہے ہیں ؟ـ
آج اسکے ہوتے ہوئے میرے ہی ملک میں میرے ہی گھر غیر ملکی ایک قومیت نہیں نجانے کون کون سی قومیت کس کس روپ میں دندناتی کیوں پھر رہی ہے ؟

یہ بم تو سلامتی کا مظہر تھا ہمیں دنیا میں راج کرنے کے خواب دکھائے گئے تھے اسکو بنانے کے بعد

آج تو یہ بن چکا ؟

پھر

آج اسکی موجودگی بھی مجھے زندگی کا عزت کا مال کا جان کا تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے تو اس کا کیا فائدہ؟

یہ کیسا ملک ہے ؟ جہاں ملک نہیں ہوتا تو ہر مسئلے کا حل اس ریوڑ کو ایک قوم بن جاؤ پھر سب ملے گا یہ سوچ دے کر ایک ریوڑ کو ایک قوم بنا دیا جاتا ہے ـ
مسائل کا ذلت کا حل صرف ایک الگ ملک ہےـ

یہ نئی سوچ اسکو اور آگے لیجاتی ہے اور جانیں لٹا لے اپنے گنوا کے خاک و خون میں لت پت لاشوں کو عبور کر کے ایک پُلِ صراط تھا جس کو عبور کیا ـ اس سبز ہلالی پرچم کے کے نیچے آکر ہمیشہ کیلیۓ آنکھیں موندنے والی اپنی نسل سونپ گئی اس دھرتی کوجہاں سے سب ملنے والا تھا ـ
ایک نظام چاہیۓ دستور نہیں ہے ہمارے پاس دستور ھو گا تو نظام وضع ھو گا ـ اور عوام ھو گی خوشحال
دستور بن گیاـ

ملک کو غیر ملکی جارحیت کا ڈر ھے بم بنانا ھے ؟

واحد حل یہی ہے اپنے مسائل کا
بم بن گیا ـ

کیا ہوا ؟ حل ملے ؟

پہلے ایک بکھرے ہوئے ریوڑ کو اکٹھا کر کے ملک بنایا پھر اسکو دو لخت کر کے پھر سے ایک بے ترتیب گروہ بنا دیاـ

دستور بنایا پھر اسی دستور کی مارشل لا لگا لگا کے دھجیاں بکھیر دیں ـ

بم بنا لیا لیکن کیا ہوا ؟

دیا کیا اس نے ؟

بِلکتی تڑپتی سسکتی مرتی کٹتی غریب عوام کو کیوں جگایا انہیں جب یہ عزت کے لفظ سے آشنا نہیں تھے تو انہیں عزت کا مقصد مطلب جا جا کے گاوں گاؤں سمجھایا اچھے خاصے اپنے مدار میں روکھی سوکھی کھا کے بے حمیت بن کے اپنے سے اونچی قوموں کے درمیان ہر احساس سے عاری جی رہے تھے ـ
کیوں سمجھایا عزت کا مفہوم
جب عزت کا مفہوم سمجھا دیا عزت سے جینا سکھا دیا ـ تو اتنا بے بس اتنا لاچار اتنا عاجز اتنا مجبور کر دیا دو وقت کی روٹی سے اتنا حقیر کر دیا کہ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی اداروں کے لوگ اپنی ہی پولیس اپنے ہی جابر حکمران ننگِ سر روزے سے کھڑے ان پاکستانیوں کو ڈنڈوں سے مار کر انکو بتا رہی ہے کہ کچھ نہیں بدلا
جب غیروںکے ستم سہتے تھے تو
ذلت کا احساس تھا مگر اب تو ذلت کے احساس کے ساتھ بھوک مفلسی ناداری ناکامی مایوسی ایک ایک لامتناہی سلسلہ ہے ـ
ایٹم بم بن تو گیا مگر کیا یہ روٹی دے سکا ـ اقوامِ عالم ایک تسلسل کے ساتھ ایک پروگرام کے تحت کامیابی سے ایک خاص توازن سے ترقی کا سفر طے کرتے ہوئے آگے اور آگے بڑھ رہی ہے اور ہم
تنزلی کی طرف بڑھ رہے ہیں ـ

کیا ایٹمی پاور ایسی ٹوٹ پھوٹ ایسی پستی ایسی زہنی پسماندگی کا شکار ہوتی ہے ؟
ایٹمی پاور بننا مقصد کیا ملک میں بد تری افلاس اقربا پروری رشوت ستانی اور فراڈز کا قومی دولت کو لوٹ کر کمزور حق داروں سے چھین کر اپنے بیرونی اکاونٹس میں جمع کروانا تھا؟

کیا دیا اس ایٹم بم نے ہمیں ؟
روٹی؟
نہیں
کپڑا ؟
نہیں
مکاں ؟
نہیں
بجلی؟
نہیں
گیس؟
نہیں
تعلیم ؟
نہیں
علاج معالجہ؟
نہیں
تحفظ ؟
نہیں ؟
عزت؟
نہیں
بہترین اسلامی نظام حیات ؟
نہیں
ترقی؟
نہیں
اقوامِ عالم میں وقار؟
نہیں
چلو چھوڑو اس بحث کو اس پر پھر کبھی بات کریں گے ـ

آؤ یومِ تکبیر شان و شوکت سے منائیں کہ عظیم قومیں
اپنے تاریخی دن تزک و احتشام سے مناتی ہیں ـ

یہ کہتے ہوئے وفاقی وزیر سٹیج پر تقریر کرنے چلے گئے جس میں وہ بتائیں گے کہ یہ تاریخی کارنامہ انکے
دورِ حکومت میں ہو اتھا؟

عوام کا اور اسکے مسائل کا زکر چھوڑو

عوام اور اسکے نا ختم ہونے والے مسائل تو ہر دور میں رہے ہیں ؟

واقعی پھر کبھی سہی کیونکہ یہ نہ تو تم لوگ ختم کر سکے اور نہ کرو گے ـ
مجھے بھی تقریر سننی چاہیۓ ـ

آپ بھی آجائیں
سب مل کے تقریر سنیں ـ

بےباک
04-28-2011, 07:16 AM
بہت خؤب لکھا ،
اب ہم عملی کام نہیں کرتے بلکہ صرف سٹیج کے اداکار سے زیادہ ہماری کوئی وقعت ہی نہیں ،
اپنی بےوزنی کا ہم اندازہ کر سکتے ہیں ،

سرحدی
04-28-2011, 12:14 PM
بہت اچھا مضمون ہے، جذبہ جگانے کا بہت شکریہ
اُمید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا