PDA

View Full Version : دلہن وہ جو جہیز لائے



بلال جٹ
04-28-2011, 08:52 AM
http://nicefun.net/userpix5/CuteGirls_NiceFun_16_357.jpg

دلہن وہ جو جہیز لائے
مہذب دنیا کے کسی بھی معاشرے میں جہیز کی حوصلہ افزائی کا تصور ممکن نہیں. لیکن ہمارے ہاں جہیز نہ لانے کی صورت میں چولہے بھی پھٹ جاتا ہےاورجہیز نہ لانے کی پاداش میں بنت حوا کو جلا بھی دیا جاتا ہے. ایسے واقعات پڑھ لکھ کر لگتا ہے کہ ہمارا مہذب دنیا سے دور دور تک واسطہ بھی نہین ہے.لڑکیوں کو جہاں بہت سے مسائل کا سامناہے وہاں ایک مصیبت جہیز بھی ہے. جسے اس کیلئے ناگزیر سمجھا جاتاہے .یہ کڑوا سچ جگہ کہ ہمارا معاشرہ بھی اخلاقی اقرار کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں مگر افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں اگر اخلاقی ترقی ہوئی بھی ہے تو اس کے فوائد کم ازکم خواتین کو نہیں ملے. بدقسمتی سے جہیز جیسی لعنت کو صرف کہنے کی حد تک برا خیال کیا جاتاہے. لیکن بہت کم لوگ ایسے ہونگے جو عملی طور پر اپنی زندگی میں اسے ایک لعنت سمجھ کر فرسودہ رسم قرار دیتے ہیں. ہمارے معاشرے کا تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ جہیز کی لعنت کے خاتمے کے لئے میڈیا نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو اس کرنا چاہئے تھا اور نہ ہی سیاسی حلقوں نے اپنی ذمہ داریاں نباہیں جو کہ سب پر فرض تھیں. اسلام سمیت سبھی مذاہب نے خواتین کو بوجھ کے بجائے مقدس قرار دیا اور انہیں باعثِ رحمت کہا. اج بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ایسے اصولوں کی بنیادوں پر کھڑا ہے. جن کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں لیکن یہ گناہ بھی مذہب کے نام پر کئے جاتے ہیں. افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں دلہن کے ساتھ ساتھ قیمتی سامان کا تقاضا ہے کہ جو شخص بیٹی جیسے دل کا ٹکڑا دے رہاہے کیا اس کا پہلے ہی یہ احسان کم ہے؟ ایسی مثالیں ڈھونڈنے بیٹھیں تو بے شمار ملے گی. جن میں بہوکو محض اس لیے جلا دیا گیا کہ اس کے والدین سسرال والوں کی طرف سے جہیز کا تقاضا پورا نہ کر سکے.

ہمارے معاشرے میں جہیز کو اولین قرار دیا جاتاہے. جبکہ تعلیم جیسے زیور کوثانوی ضرورت سمجھاجاتاہے .طلاق کی مختلف وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ جہیز بھی ہے.

ایک محتاط اندازے کے مطابق % 40 طلاقوں میں جہیز کا عمل دخل ہوتا ہے جبکہ سسرال کی طرف سے تشدد کانشانہ بننےوالی % 90 سے زائد خواتین یہ ظلم اس لیے سہتی ہیں کہ ان کے والدین سسرالیوں کی خواہشات کو پورا کرنے کی سکت نہیں رکھتے. ہم یہ تمام حقائق تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ اسلام اور مذہب اور معاشرہ جہیز کی لعنت کو ہر گز پسند نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود اس سے چھٹکارا پانے کے لئےتیار نہیں. یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے مین ایسی خواتین کی تعداد مین بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے. جنکی عمر 25 برس کی حد سے تجاوز کر چکی ہے اور شادی میں رکاوٹ محض جہیز کی کمی ہے.
مہنگائی کے اس زمانے مین کوئی بھی شخص اپنی بیٹی کی شادی کا تصور کرتے وقت کم از کم یہ تو ضرور سوچتا ہے کہ اس کی ادائیگی کے لئے اس کے پاس لاکھوں روپے ہونے چاہئیں . آج کے دور مین جب دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہے کتنے لوگ ہوں گے جن کے پاس لاکھوں روپے ہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم اس وقت تک بہتری کی طرف آہی نہین سکتے جب تک خود اپنا احتساب نہ کریں. روز ایسے واقعات جنم لیتے رہیں گے کئی گھر اجڑیں گے اور کئی معصوم لڑکیاں زندگی کی بازی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی. ہنستے بولتے گھروں مین اگر جہیز جیسی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے تو کتنے گھر خوشحال ہوسکتے ہیں. تاہم جہیز جیسی لعنت کو نظر انداز کر کے لڑکیوں کی تعلیم اور ان کے کردار کو مدنظر رکھا جائے تو بہت سارے خاندان آباد ہوسکتے ہیں.

:-):-):-):-):-)

سرحدی
04-28-2011, 11:09 AM
ماشاء اللہ بلال بھائی، بہت اچھا مضمون لکھا۔۔ لگتا ہے کہ اپنی ہونے والی دلہن کو قائل کرنے میں لگے ہیں کہ نہ تو میں کچھ مانگتا ہوں نہ آپ کچھ مانگیں۔۔۔
ویسے ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے اور یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہماری بہت ساری بہنیں اس بناءپر شادی خانہ آبادی سے محروم رہ جاتی ہیں کہ ان کے پاس جہیز دینے کو کچھ نہیں ہوتا۔ کئی ایک سے بندہ کی بات ہوئی جو صرف اس بات پر غمزدہ تھیں کہ ان کے پاس جہیز میں دینے کو کچھ نہیں اور ان کی زندگیاں اپنے آخری ایام کی طرف بہت تیزی سے بڑھتی جارہی ہیں۔
اللہ پاک نے دین اسلام کو عمل کرنے والا بنایا اور اسے انسان کی فطرت اور خواہشات کے عین مطابق بنایا یعنی اسلام میں انسان کی خواہشات کا احترام رکھا گیا ہے۔ اسی طرح نکاح کے مبارک عمل کو بہت ہی آسان کردیا ہے ، لیکن دوسروں کی رسم و رواج کو اپناتے اپناتے ہم اس نہج پر آگئے ہیں کہ ہم سٹیٹس کے چکر میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ پیچھے آنا مشکل محسوس ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسی کے ساتھ ایک خوشی کی خبر میں نے یہ بھی دیکھی کہ ہمارے ایک دوست نے اپنے دو بیٹوں کی شادی انتہائی سادگی سی کی جس پر کل ملاکر 10000 روپے کے اخراجات آئے تھے۔ الحمدللہ! بہت خوش و خرم زندگی گزاررہے ہیں کیوں کہ ہمارا دین یہ حکم کرتا ہے کہ جو نکاح جتنا سادگی سے ہو وہ اتنا ہی مبارک ہے اور جس میں جتنا کم مہر رکھا جاتا ہے وہ اتنا ہی مبارک ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام پر تا دمِ حیات استقامت نصیب فرمائے ۔
ساتھ ہی دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ بلال بھائی کو اچھی سی پیار سی دلہن نصیب فرمائے جو بلال بھائی اور اس کے گھر کے تمام افراد کے لیے دنیا اور آخر ت میں خیر کا ذریعہ بنے۔ آمین

بلال جٹ
04-28-2011, 11:38 AM
آمین ثم آمین ھاھاھاھاھاھا
سرحدی بھای میں نےادھرکس کوسمجھانا.جناب رہی بات شادی کی تو وہ میں خود ہی نہیں کروا رہا. جہیز میں کاروں کی آفر ہےآپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ھاھاھاھا
خیر میں نے شادی ادھر کروانی جو جہیز میں جی تیری گن دیں ۔ بے شک پانی والی ہو ھاھاھاھاھاھا:D

این اے ناصر
04-28-2011, 05:43 PM
بہت زبردست تحریرہے. بہت شکریہ.

تانیہ
04-29-2011, 01:56 PM
بہت شکریہ بلال بھائی ....بہت اچھی تحریر ہے

بےباک
04-30-2011, 01:25 AM
بہت ہی اچھا لکھا بلال جٹ صاحب ،
ماشاءاللہ ،جزاک اللہ

تانیہ
05-01-2011, 12:25 AM
http://www.friendskorner.com/forum/photopost/data/500/thanks_glitter_graphics.gif

سقراط
05-02-2011, 01:36 AM
دلہن وہ جو جہیز لائے یہ تو بہت غلط بات ہے ایسا نہیں سوچنا چاہیے میں تو اس بات کا قائل ہو جہیز وہ جو دلہن لائے:-)