PDA

View Full Version : پاکستان کا مستقبل۔۔۔۔۔۔اللہ بہتر جانتا ہے



علی عمران
11-19-2010, 01:19 PM
آگرہ سے اجمیر کی طرف جائیں تو راستے میں جے پور کا شہر آتا ہے۔جے پور وہ علاقہ ہے جس کی کانوں سے سرخ پتھر مغلیہ خاندان کی عمارتوں پر استعمال کیا جاتا رہا ہے آج بھی لاہور کی بادشاہی مسجد میں کہیں سرخ پتھر تبدیل کرنا ہو تو جے پور ہی سے منگایا جاتا ہے۔لیکن جے پور کی خوبصورتی یہ ہے کہ پورے کا پورا قدیم شہر اسی پتھر سے بنا ہے اسی لئے اسے گلابی شہر یا Pink City کہا جاتا ہے۔ یہ شہر راجستھان کا مرکزی شہر ہے اور اسے راجہ جے سنگھ نے 1727 میں* آباد کیا تھا۔ راجہ جے سنگھ اورنگزیب عالمگیر کے دربار کا ایک اہم رکن تھااور اورنگزیب نے اسے سوائی کا لقب دیا تھا جس کا مطلب ہے کہ وہ تمام درباریوں سے ایک چوتھائی زیادہ علم رکھتا ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ راجہ ہونے کے باوجود اس نے فلسفہ، طب، سائنس، تعمیرات اور تمام مذاہب کا علم حاصل کیا تھا۔ لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ اس کی شدید دلچسپی فلکیات اور علم نجوم میں بہت زیادہ تھی۔ اس نے تمام ماہرینِ علوم فلکیات کی کتب اپنے پاس جمع کر رکھی تھیں اور کائینات میں گھومتے بھاگتے چاند ستاروں کی چالوں کا دن رات مطالعہ کرتا رہتا تھا۔ اس مقصد کے لئے اس نے دہلی میں ایک Obervatory بھی بنا رکھی تھی۔ لیکن جے پور کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد اس نے وہاں بھی ویسی ہی Obervatory بنائی جسے “جنتر منتر“ کہا جاتا ہے۔ یہ جنتر منتر اس کے محل کے بلکل سامنے ہے۔میں جب اس جنتر منتر کے اس حصے میں کھڑا تھا جسے نروالیہ منترا کہا جاتا ہے تو اس سادہ مگر انتہائی درست حساب والی عمارت کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔یہ دو ڈائل ہیں جن پر سورج کے سایوں سے سیکنڈوں کے حساب تک، سورج اور دیگر اجرامِ فلکی کے مقام کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ا کے علاوہ منترا راج کی دو میٹر قطر والی پلیٹ جس سے مختلف ستاروں اور کہکشاؤں کا پتہ چلایا جاتا ہے، برھٹ سمراٹ منترا جس سے موسموں کی تبدیلی اور چاند سے ہواؤں کی تندی تیزی اور سمندروں کے جوار بھاٹا کا پتہ چلایا جاتا ہے۔ کائنات کی وسعت کا اندازہ ان سادہ سی مشینوں سے جن میں کوئی دوربین نما چیز نہ ہو، ایک حیرت انگیز بات تھی۔آج بھی اس جنتر منتر سے کی گئی پیمائشیں سائنسی پیمانوں پر پوری اترتی ہیں۔کیونکہ ہندو مذہب میں ہزاروں سال سے پنڈت اور رشی ستاروں کی چالوں سے شبھ گھڑی اور نحس گھڑی کے علاوہ راج یوگ، کلیوگ، فصلوں، موسموں اور تباہیوں کی پیشن گوئیاں کرتے رہے ہیں، اس لئے دلی اور جے پور کے یہ جنتر منتر ان کی آماجگاہ بن گئے۔ ان کا ہجوم دیکھ کر جے سنگھ نے بنارس، اجبن اور متھرا میں بھی ایسے ہی جنتر منتر بنائے لیکن ان میں سے صرف جے پور والا سلامت ہے۔ہندو یونیورسٹی بنارس میں جب میں ویدک تعلیم کے پروفیسروں سے ملا تو جہاں انہوں نے اس جنتر منتر سے کی گئی ستاروں کی چال کی پیمائش کو آج کی امریکی بحریہ کی شائع شدہ سالانہ فلکیاتی رپورٹ سے مطابق دکھایا، وہاں ان پر اسرار علوم کی اور ہزاروں جہتیں بھی میرے سامنے کھول کر بیان کیں۔ جن میں ایک اگسھتیا ناڑی تھی اس علم کو درخت کی چھالوں، جانوروں اور کہیں کہیں انسانوں کی کھالوں پر محفوظ کیا گیا ہے۔
ان محفوظات میں دنیا میں آنے والے ہر شخص کا حال لکھا ہوا ہے۔ یہ ناقابلِ یقین سی بات تھی لیکن جب میں نے میر بشیر کی کتاب داستانِ تقدیر میں ان کا اگسھتیا ناڑی کے ایک پنڈت سے اپنے بارے میں پیشن گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں اسی فیصد کے قریب درست تھیں لیکن ان کی کوئی عقلی توجیہہ نہیں دی جا سکتی تو مجھے حیرانی نہ ہوئی۔ اس لئے کہ اللہ خوابوں، کشف، الہام یا بعض دفعہ کسی اہم واقعہ سے پہلے کچھ لوگوں میں بے چینی سے لوگوں کو خبر دار کرتے رہتے ہیں اور اس میں کسی مذہب یا علاقے کی کوئی تخصیص نہیں۔
شاید ایسے ہی صدیوں پہلے کائینات پر غور و خوص کرنے والے ان انسانوں کو کوئی اشارے ملے ہوں لیکن انہیں نا تو حتمی کہا جا سکتا ہے اور نہ ان پر یقین کرنا چاہیے کہ جس ملکِ کائنات نے یہ اشارے دئیے ہوں وہ تو قادر ہے جب چاہے تقدیر کا لکھا بدل دے۔پھر صدیوں سے انسان جن سربستہ رازوں کی تلاش میں ہے اس کے حصول کے لئے کبھی سائنس کا سہارا لیتا ہے اور کبھی صدیوں کے مشاہدے کا یا پھر علمِ قیافہ کہ ایسی آنکھ والا، ایسی ناک والا کیسا ہو گا۔ اسی طرح صدیوں کے مشاہدے سے مختلف اوقات میں پیدا ہونے والے بچوں کے احوال سے لوگوں نے یہ رائے مستحکم کر لی کہ ایسا بچہ اس مہینے کی اس تاریخ کو ہی پیدا ہوتا ہے جس سے زائچوں نے جنم لیا اور دنیا بھر میں عام ہوئے۔ لیکن کیا سچ ہے اور کتنا جھوٹ اس کا علم تو صرف اس رحمن و رحیم کو ہی ہے۔ اسی لئے اللہ کے نیک بندے جب کسی خواب کے ذریعے، اپنے کشف سے یا کسی الہامی کیفیت سے کسی بات سے آگاہ ہوتے ہیں تو اسے بیان کرتے ہوئے حتمی بات نہیں کرتے بلکہ اللہ بہتر جانتا ہے یا پھر مجھے ایسا ہی دکھایا گیا یا میں نے ایسا محسوس کیا جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
یہ سب میں نے اس لئے تحریر کیا کہ پوری دنیا میں 2012 کے بارے میں ایک جنون کی حد تک سائنسی، فلکیاتی اور نجوم کی بنیاد پر پیشین گوئیوں کا طوفان مچا ہوا ہے۔ ہر طرح کی موجود پیشین گوئیوں کو سائنسی بنیاد پر ستاروں کی کشمکش اور فزکس کے اصولوں پر پرکھا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں خوش خبریوں اور تباہیوں کا برابر ذکر چلتا ہے۔
لیکن ان تمام تر سائنسی، تحقیقی، علمی اور نجومی رپورٹوں میں پاکستان کا ذکر خاص طور پر نظر آتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سیاسی تجزیہ نگار پاکستان کو تباہی اور خاتمے کی طرف لے جا رہے ہیں جبکہ ان پراسرار علوم کے رسیا اسے ایک حیران کُن طاقت کے طور پر تبدیل ہونے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
بھارت جس کے پنڈتوں اور نجومیوں نے اس مملکت خداداد پاکستان کے پچاس سال کے اندر خاتمے کی پیشین گوئی کی تھی وہ سب کے سب اب اس مملکت کا ایک ایسا نقشہ پیش کر رہے ہیں جو 2013 اور 2014 میں چین کے ساتھ مل کر بھارت پر حملہ کر دے گا۔ بھارت کی اقتصادی ترقی 2011 میں رک جائے گی اور وہ اس حملے کا مقابلہ مشکل سے کر سکے گا۔
البتہ وہ کہتے ہیں کہ ہمالیہ کے پہاڑوں سے ایک مہا رشی اترے گا اور ان کی فوج کی راہنمائی کرے گا۔ ان کے نزدیک یہ مہا رشی گائن گینگ کی ایک غار میں چھپا بیٹھا ہے۔ پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات کیوں بدلے، یہ قابلِ غور ہے۔ویدی کے نجوم کے مطابق ان کے پنڈت جانتے تھے کہ اگر پاکستان وینس کی مہا دشا میں داخل ہو گیا تو پھر ناقابلِ تسخیر ہو جائے گا۔اس مہادشا میں داخل ہونے کا خوف انہیں پہلے سے تھا کیونکہ ان کے نزدیک پاکستان کے لگن کا مالک مریخ تیسرے خانے میں ہے جو اس قوم کی عظیم قوتِ ارادی کو ظاہر کرتا ہے۔
وہ اس کے ٹوٹنے کی پیشین گوئیاں اس لئے کرتے تھے کہ حکمرانی کا زائچے میں چوتھا خانہ ہوتا ہے اور پاکستان کے چوتھے خانے میں سورج، زحل، عطارد اور زہرہ ہیں یعنی اتنے سارے اقتدار کے بھوکے اسے تباہ کر دیں گے۔
لیکن 27 دسمبر 2007 کو پاکستان اپنی نحوست سے نکل کر زہرہ (وینس) کی مہا دشا میں داخل ہوا ہے اور یہ مہا دشا بیس سال پر محیط ہے۔ ویدک نجوم کے مطابق زہرہ اپنی سمتی طاقت شمال سے حاصل کرتا ہے تو شمالی علاقے کے لوگ ان بیس سالوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔ زہرہ کی اس دشا میں شروع میں حالات بگڑیں گے اور پھر مذہبی طاقتوں کا غلبہ شروع ہو گا۔ زہرہ، راہو کے ساتھ مل کر مذہبی طاقتوں کے لئے راہ ہموار کرے گی اور مریخ جو افواج کا ستارہ ہے ان دونوں کی مدد کو آئے گا۔
یہ وہ زمانہ ہو گا جب 2011 میں بھارت بدترین فسادات اور معاشی نا ہمواری کا سامنا کر رہا ہو گا۔ جس کے بعد پنڈت 2013 میں جنگ کی پیشین گوئیاں کر رہے ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں یہاں لکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ یہ برحق ہیں، بلکہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب اللہ کسی ملک، علاقے یا قوم کو سرفراز کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کمزور قوم کا کوف لوگوں کے دلوں میں بٹھا دیتا ہے۔
جس علم پر ہندو پنڈت ساری زندگی گزارتے ہیں اسی علم کی روشنی میں پاکستان جسے وہ کل تک ختم ہوتا دیکھ رہے تھے اب انہیں ایک مہیب اور خوفناک دیو لگ رہا ہے۔ یہی نہی دنیا کی کسی بھی نجوم کی ویب سائٹ پر چلے جائیں پاکستان کا خوف اور ہوا سب پر چھایا ہوا ہے۔ نعمت شاہ ولی کی پیشین گوئیاں یاد آ رہی ہیں۔ جن پر انگریز وائسرائے نے سچ ثابت ہونے کی وجہ سے پابندی لگائی تھی۔ انہوں ن کہا تھا جب شمالی سرحد کے افغانوں کے قدموں کی دھمک سے زمین مرقد کی طرح کانپے گی تو دلی، جموں اور دور دور تک کوئی روکنے والا نہ ہو گا۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ، سے مروی جہاد ہند کے بارے میں سید الانبیاء کی حدیث کا وہ حصہ کہ جہاد ہند کا لشکر، ہند کے حکمرانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائے گا۔ کیا ہو گا، کیا ہونے والا ہے اس کا علم صرف اللہ کی ذات کو ہے لیکن جو ہو گا اس سے خوفزدہ ہندو پنڈت بھی ہیں، مغربی ماہرینِ نجوم بھی اور ملک کا روشن خیال طبقہ بھی۔

بےباک
11-19-2010, 10:01 PM
بہت ہی پر مغز مضمون ہے ، اس کو لگانے کا شکریہ ،
ایسی کاوش جاری رہنی چاہئے ،

ساجد تاج
12-23-2012, 12:49 PM
شیئرنگ کا شکریہ بھائی