PDA

View Full Version : اسامہ بن لادن کا قتل



بےباک
05-02-2011, 09:12 AM
http://www.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2009/12/09/091209173359_osama217.jpg
اسامہ بن لادن کو قتل کر دیا گیا ہے، صدر باراک اوبامہ کا اعلان
http://www.youtube.com/watch?v=ZNYmK19-d0U&feature=player_embedded#at=14
سب سے پہلے جو خبر آئی ، وہ ہیلی کاپٹر کی تباہی کی خبر تھی ،
اطلاعات کے مطابق پاکستان کے شہر ایبٹ آباد کے قریب کاکول میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پاس ایک فوجی ہیلی کاپٹر ایک مکان پر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
یہ ہیلی کاپٹر اپاچی امریکن تھا ،
پولیس کے مطابق فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور سول انتظامیہ کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ تاہم واقعے کی جگہ پر آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کے عملے کو جانے دیا گیا ہے۔

پولیس حکام نے نامہ نگار ذوالفقار علی کو بتایا کہ پہلے علاقے سے دھماکوں کی آوازیں آئیں جس کے بعد ہیلی کاپٹر اڑا اور پھر فائرنگ کی آواز سنائی دی جس کے بعد ہیلی کاپٹر گر گیا اور آگ لگ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق فوج نے تین کلو میٹر تک علاقے کو گھرے میں لیا ہوا ہے اور فوج کے کئی ٹرک واقعے کی جگہ کی طرف جاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ وہاں کافی تعداد میں فوجی اہلکار موجود ہیں جنہوں نے علاقے کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی جگہ پر فوج کے اعلیٰ حکام بھی پہنچ گئے ہیں اور وہاں ایک درجن سے زائد ایمبولنسیں اور فائر انجن دیکھے گئے ہیں۔ جبکہ صحافیوں کو تصاویر لینے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بعد علاقے میں فوج کی غیر معمولی اور وسیع پیمانے پر نقل و حرکت دیکھی گئی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

اس واقعے کے بارے میں اب تک فوج کی جانب سے کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا اور اس میں کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
.................................................. ..........
اسامہ بن لادن امریکہ کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھے

امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے اعلان کیا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی فوج نے ہلاک کر دیا ہے۔ صدر اوبامہ نے یہ اعلان وائٹ ہاوس میں میڈیا سے اپنے براہ راست خطاب کے ذریعے کیا۔

صدر باراک اوبامہ نے کہا کہ امریکی فوج کی ایک ٹیم نے یہ آپریشن پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں کیا جہاں اسامہ بن لادن ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے ، جو کہ کاکول اکیڈمی کے قریب بلال ٹاؤن میں تھا اور وہ مکان پانچ سال پہلے بنایا گیا تھا ، اور ایک بہت بڑے کمپاؤنڈ میں یہ تین منزلہ گھر تھا ، اس کی تین تین موٹی دیواریں تھیں ، اور اس اوپریشن کو پاکستان سے مکمل خفیہ رکھا گیا تھا ، سی آئی اے کو ایک سال سے شبہ تھا ،کہ کوئی بڑا شخص یہاں ھے ، اور وہ اس کی تصدیق اپنے طور پر کرتے رھے ، جب یقین ہو گیا تو
حملے کے لیے باقاعدہ منصوبہ ترتیب دیا گیا ، اسے پاکستان کے سب اداروں سے خفیہ رکھا گیا تھا

امریکی صدر نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی لاش امریکی فوج نے حاصل کر لی ہے۔

امریکہ کو گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں دہشت گردی کے واقعات سے پہلے سے اسامہ بن لادن کی تلاش تھی۔

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے روز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں تین ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

ان واقعات کے بعد سے اسامہ امریکہ کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھے۔

بن لادن کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی وائٹ ہاوس کے باہر لوگ جمع ہو گئے اور انہوں نے خوشی میں نعرے لگائے۔
دس سال میں دو جنگیں اور 920000 آدمیوں کی اموات ، اور 11 کھرب ڈار خرچ ہوئے .

بےباک
05-02-2011, 09:50 AM
اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان لادن فیملی سے ہے۔ اسامہ بن لادن محمد بن عوض بن لادن کے صاحبزادے ہیں جو شاہ فیصل کے خاص دوستوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ لادن کا کاروبار پورے مشرق وسطہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اسامہ کے بقول انکے والد نے امام مہدی علیہ اسلام کی مدد کے لیے کروڑوں ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا تھا۔ اور وہ ساری زندگی امام مہدی کا انتظام کرتے رہے۔ ایک انٹرویو میں اسامہ بن لادن نے اپنے والد کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ "شاہ فیصل دو ہی شخص کی موت پر روئے تھے، ان دو میں سے ایک میرے والد محمد بن لادن تھے اور دوسرے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

تعلیم

اسامہ بن لادن نے اپتدائی تعلیم سعودی عرب سے ہی حاصل کی بعض ازاں انہوں نے ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں بعض مغربی صحافیوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے لندن کی کسی یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی، تاہم اسامہ بن لادن کے قریبی حلقے سے اس سوچ کی نفی ہوتی ہے۔

حرمین کی تعمیر

اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ انہیں ہمیشہ سے مقدس اسلامی مقامات مسجد الحرام اور مسجد نبوی اور سے انتہائی عقیدت رہی ہے۔ ان کی تعمیراتی کمپنی نے شاہ فیصل اور شاہ فہد کے ادوار میں ان دونوں مقدس مقامات کی تعمیر کا کام کیا تھا۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر اس منصوبے میں دلچسپی لی اور مختلف توسیعی منصوبے اپنی نگرانی میں مکمل کرائے۔
مذہبی رجہانات

اسامہ کو مذہبی رجہان انکے والد محمد ان لادن سے وراثت میں ملا تھا۔ اسامہ بن لادن اور ان کا خاندان سعودیہ عرب کے عام لوگوں کی طرح امام احمد بن حمبل کا مقلد اور شیخ عبدل وہاب نجدی کے اجتہاد کا حامی ہے۔ شروع میں انہوں نے ایک عرب شہزادے کی سی زندگی گزاری مگر وقت کے ساتھ ھاتھ انکے اندر تبدیلیاں آئیں۔ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونیں کی جارحیت کی خبر انہوں نے ریڈیو ہر سنی۔ ابتدا میں انہوں نے افغان مجاہدین کی مالی معاونت کی مگر کچھ عرصے بعد وہ خود اپنی تمام دولت اور اساسوں کی پرواہ کئے بغیر میدان کارزار میں اتر آئے۔ اسامہ بن لادن نے شیخ عبداللہ عظائم اور دیگر عرب مجاہدین کے ساتھ ملکر سوویت فوجیوں کے دانت کھٹے کر دئے۔

عملی میدان

80 کے عشرے میں اسامہ بن لادن مشہور عرب عالم دین شیخ عبد اللہ عظائم کی تحریک پر اپنی تمام خاندانی دولت اور کیف و سروت کی زندگی کو خیر باد کہ کر کمیونسٹوں سے جہاد کرنے کیلیے افغانستان آگئے.۔ جب مجاہدین کے ہاتوں روس کی شکست کے بعد جب مجاہدیں کی قیادت اقتدار کے حصول کے لیے اپس میں جھگڑ پڑے تو اسامہ بن لادن مایوس ہو کر سعودیہ عربیہ چلے گئے۔ جب اسامہ بن لادن میں تھے تو صدام حسین نے کویت پر حملہ کر کر اس پر قبضہ کر لیا۔ اس موقیع پر جہاں دنیا کے اکثر ممالک نے عراق کے اقدام کو کھلی جارہیت قرار دیا وہاں باقی عرب ممالک عراق کے اس قدم کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہو جہاں آمریکہ نے ایک طرف کویت کا بہانہ بنا کر عراق پرحملہ کردیا تو دوسری طرف وہ سعودیہ عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کا بہانہ بنا کر شاہ فہد کی دعوت پر مقدس سرزمین میں داخل ہوگیا۔ تاہم اس موقع پر اسامہ بن لادن نے مقدس سرزمین پر آمریکی فوجیوں کی آمد کی پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ پیش کش کی عراق کے خطرات سے نمٹنے کیلیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم خادم حرمین الشرفین شاہ فہد نے شیخ اسامہ کے مشورے کو یکسر نظر انداز کرکر آمریکیوں کو مدد کی اپیل کر دی۔ جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے مابعین تلخی پیدا ہوگئ اور بلاآخر 1992میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا۔ اسامہ بن لادن نے سوڈان میں بیٹھ کر مقدس سرزمین پر ناپاک آمریکی وجود کے خلاف عرب نوجوانوں میں ایک تحریک پیدا کی اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں جاری دیگر اسلامی تحریکوں سے رابطے قائم کئے۔ اسی دوران اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں آمریکی مفادات پر حملوں کا مشہور فتوی بھی جاری کردیا۔ جدکو ساری دنیا میں شہرت ملی یہاں تک کہ اسامہ بن لادن کی امریکہ مخالف جدوجہد کی بازگشت آمریکی ایوانوں میں سنائی دینے لگی۔ یہ وہ وقت جب تنزانیہ اور نیروبی میں آمریکی مفادات پر کامیاب حملوں کے بعد سوڈانی حکومت اسامہ بن لادن کی سوڈان میں موجوگی پر کو شدید امریکی دبائو کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اسی دوران طالبان پاکستانی ایجینسیوں کی مدد سے کابل فتح کر کے تقریباً 60 فیصد افغانستان پر قدم جما کر ایک مستحکم حکومت قائم کر چکے تھے۔ اسی سال یعنی 1996 میں اسامہ بن لادن اپنے ایک پرائیویٹ چارٹر جہاز کے زریعے افغانستان پہنچے جہاں انہیں طالبان کے امیر ملا محمد عمر اخوند کی جانب سے امارات اسلامیہ افغانستان میں سرکاری پناہ حاصل ہوگئ۔ اسامہ بن لادن نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القائدہ کی ازسر نو منظم کی اور دنیا بھر میں آمریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کاروائیاں تیز کردیں۔ اسامہ بن لادن نے اپنے جہادی کیمس زیادہ تر جلال آباد سے قریب تورا بورا میں قائم کئے۔ 1997 میں آمریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دبائو ڈالا مگر طالبان نے اپنے مہمان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ جسکے بعد طالبان اور آمریکہ میں تلخی کافی بڑھ گئی۔ 1998میں آمریکہ نے کروز میزئل سے افغانستان اور سوڈان پر حملہ کیا اور دعوی کیا کہ حملے میں اسامہ بن لادن کے جہادی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور حملوں کا مقصد اسامہ بن لادن کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ اس حملے کےبعد اسامہ بن لادن اسلامی کو دنیا میں ایک نئی شناخت ملی۔ پوری دنیا میں انکی شہرت ہوئی اور ہر جگہ انہی کا تذکرہ ہونے لگا۔ اس حملے کے بعد القائدہ کے قدرے کم مقبول رہنما پوری دنیا میں امریکی عزائم اور جارحیت کے سامنے واحد مدمقابل کے طور ہر پحچانے جانے لگے۔ ان حملوں کے بعد القائدہ کو رضاکار بھرتی کرنے میں بھی آسانی ہو گئی۔ ان حملوں کے بعد اسامہ بن لادن روپوش ہوگئے اور عوامی اجتمعاعات میں شرکت سے اجتناب برتنا شروع کردیا۔ آمریکی حکومت نے 11 اکتوبر2001 کو آمریکہ کے شہروں نیو یارک اورواشنگٹن میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا الزام محض ایک گھنٹے کے اندر ہی ہزاروں میل دور بیٹھے اسامہ بن لادن پر لگادیا۔ تاہم اسامہ بن لادن نے اس واقع میں ملوث ہونے سے واضع انکار کیا۔ اسکے باوجود دنیا کے سب سے طاقت ور ملک نے اقوام متحدہ کی منظوری سے کم از کم چالیس دوسرے خوشحال ملکوں کے ساتھ ملکل اکتوبر 2001کے وسط میں دنیا کے کم زور ترین اور پسماندہ ترین ملکوں میں سے ایک افغانستان پر دھاوا بول دیا۔ تاہم سات سال گزر جانے کے باوجود اسے اپنے بنیادی مقصد یعنی اسامہ بن لادن کو پکڑنے اور القائدہ کو ختم کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔آج بھی امریکیوں کے پاس میڈیا کو جاری کرنے کے لیے دعوے تو بہت ہیں لیکن درحقیقت ان کے دامن میں نا کامی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

الزامات

اسامہ بن لادن پر کنیا کے دارالحکومت نیروبی کے دھماکوں سے لیکر ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگوں پر حملوں کے کئی الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ولڈ ٹریڈ سینٹر سے پہلے جہاز ٹکرائے جانے کہ صرف پندرہ منٹ کے اندر آمریکی میڈیا اور حکومت نے اسکا الزام نیویارک سے ہزاروں میل دور افغانستان کے پہاڑوں میں روپوش اسامہ بن لادن پر عائد کردیا تھا، تاہم مختلیف حملوں کے زرئع لگ بھگ 6000افراد کو لقمعہ اجل بنانے کا الزام ہے۔ تاہم اب تک دنیا کی کسی بھی عدالت میں آج تک ان پر کوئی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا۔ ایسے لوگوں کی کمی بھی نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن سی آئی اے کے پرانے کارندے ہیں اور سی آئی اے نے ہی انہیں اس جگہ پہنچایا جہاں وہ آج کھڑے ہیں۔ سی آئی اے کے ملٹ بیرڈن (Milt Bearden ) نے بھی ٹی وی پر اس بات کی تصدیق کی ہے۔ یہی تصدیق ریکس ٹومب (Rex Tomb) نے بھی کی جو سابقہ ایف بی آئی سے تعلق رکھتے تھے۔[1] اگرچہ وہائٹ ہاؤس اس بات کی تصدیق نہیں کرتا۔

روپوشی

اسامہ بن لادن دنیا کے سب سے مطلوب شخص ہیں۔ اسامہ بن لادن 1998 سے پاک افغان بارڈر کے قریب کہیں روپوش ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 2001 میں آمریکی حملوں کے بعد اسامہ کا القائدہ کی آپریشنل ایکٹیویٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ وہ پہاڑوں پر رہتے ہیں اور گھوڑے یا چھڑی کی مدد سے سفر کرتے ہیں۔ مصری سانس دان اوراسامہ کے دست راست ایمن الظہوری اسامہ کی عدم دستیابی میں القائدہ کے آپریشنل نگران سمجھے جاتے ہیں۔ اسامہ بن لادن کا اب تک کا آخری انٹرویو مشہور پاکستانی صحافی حامد میر نے 2001 میں لیا تھا۔ جبکہ ان کا دنیا سے آخری رابطہ 2004 میں آمریکی انتخابات کے دوران ایک ویڈیو ٹیپ کے زرئعے ہوا تھا جو عر بی زبان کے ایک سٹیلاءٹ چینل الجزیرہ نے نشر کیا تھا۔

متضاد اطلاعات

2001 میں آمریکی حملے کے بعد سے اسامہ بن لادن کے بارے مختلیف متضاد اطلاعات ہر وقت گردش میں رہتی ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے اسامہ بن لادن آمریکی فوجیوں کے گھیرے میں آگئے ہیں تو کبھی یہ مشہور ہوجاتا ہے کہ اسامہ بن لادن انتقال کرگئے ہیں۔ بعض لوگ اسامہ بن لادن کی بیماری کی خبریں بھی دیتے ہیں اور کچھ کے خیال میں اسامہ 2001 میں تورا بورا پر آمریکی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے تھے ان لوگوں کے مطابق اسامہ کی بعد کے تمام پیغامات جعلی ہیں۔ تاہم ان خیالات میں سے کسی ایک کی بھی تصدیق آج تک نہ ہوسکی اور غالب گمان یہی ہے کہ اسامہ بن لادن پاک افغان سرحد کے قریب کہیں روپوش ہیں۔

خاندان

اسامہ بن لادن لادن نے تیں شادیاں کی ہیں اور انکے 24 یا 25 اولادیں ہیں۔ انکے خاندان کے زیادہ تر افراد سعودیہ عربیہ میں رہائش پزیر ہیں۔ اسامہ کے ایک صاحب زادو ایک ہثپانی دوشیزہ سے شادی کے بعد اسپین میں ساسی پناہ حاصل کرچکے ہیں اور وہ اپنے والد کی کاروائوں کے مخالف ہیں۔ اسامہ بن لادن کے چھوٹے بیٹے انکے ساتھ افغانستان میں ہی موجود ہیں اور وہ القائدہ کی کاروائوں میں حصہ لیتے ہیں۔
بشکریہ وکیپیڈیا ،

علی عمران
05-02-2011, 02:46 PM
ہممممممم چلو شکر ہے اوباما کے اگلے الیکشن کی کامیابی کی نوید آ گئی. ہاہہاہاہا

ویسے اس آپریشن کی اجازت رات کو اوباما نے صدر زرداری کو فون کر کے لی. امریکی فوج کو اس لئے اس میں داخل کیا گیا کہ یہ کارنامہ خالص امریکی فوج کے حصے میں جائے اور امریکہ اپنے عوام کو بھی کچھ مطمئن کر سکے.... بہرحال زرداری نے جو کیا یہ پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہے. باقی امریکہ سے زیادہ انٹیلیجنس شئیرنگ پاکستان کی طرف سے ہوئی ہے. امریکہ نے سیٹیلائٹ نگرانی ضرور رکھی مگر تمام ابتدائی معلومات پاکستانی ایجنسیز کی تھیں. اور مین آپریشن ضرور امریکی فوج نے کیا مگر تمام علاقے پر کنٹرول پاک فوج کا ہی تھا. اگر آپریشن بھی پاک فوج کرتی تو شاید یہ میرے لئے خوشی کی بات ہوتی. مگر ہم نے امریکی صدور کو الیکشن جتوانے کا ٹھیکا بھی لیا ہوا ہے نا چنانچہ بھاڑ میں جائے پاکستان کی عزت ہمیں امریکی صدر زیادہ عزیز ہیں.

خیر جو بھی ہوا امریکہ کو مبارک ہو....... اور ہم جیسے لوگوں کے لئے دکھ کی ایک اور گھڑی کہ پاکستان ایک بار پھر سے تنقید کا نشانہ بنے گا اور اپنے پرائے ایک بار پھر سے فوج اور ایجنسیز کو لعن طعن کریں گے.

بےباک
05-03-2011, 08:36 AM
http://1.bp.blogspot.com/_QfVWU-2pVL4/Sbvdkq_NiEI/AAAAAAAAEvU/h9xj28CYgo0/s400/bin_laden_photo.jpghttp://www.chinadaily.com.cn/english/doc/2005-09/21/xin_2106021609030831897710.jpg
.................................................. .................................................
جس مکان کے بارے بتایا گیا ہے کہ یہ اسامہ کی رہائش تھی ، اس کی تصاویر ،
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20110503/Sub_Images/1101231892-1.jpg
http://msnbcmedia.msn.com/j/MSNBC/Components/Photo/_new/pb-110502-osama-compound-5.photoblog900.jpg
http://www.globalpost.com/sites/default/files/imagecache/gp3_small_article/osama_bin_laden-death-pakistan-2011-5-2.jpg

ایبٹ آباد میں اسامہ کی مسکن کالونی کا نقشہ مقبوضہ فلسطین سے مشابہہ
اسامہ بن لادن نے اپنے زندگی کے آخری ایام جس مکان اور کالونی میں گذارے ان کے نقشے اور اسرائیل کے زیر انتظام علاقوں اور القدس کے نقشے میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔
http://images.alarabiya.net/a3/38/436x328_73693_147755.jpg
بلال کالونی جس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ کا ٹھکانا تھا اور اس کی شکل مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مشابہ جبکہ وہ کمپاٶنڈ جس میں اسامہ کا خاندان روپوش رہا کا نقشہ بیت المقدس سے ملتا جلتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فرانس کے ایک "جے ایس ایس نیوز" نامی نیوز ویب پورٹل نے پاکستان کے شمال مشرقی شہر ایبٹ آباد کی اس کالونی اور اس میں بنے مکان کا نقشہ جاری کیا ہے، جس میں کالونی کی غزہ اور مکان کی القدس سے مشابہت کو ایک اہم سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔

نیوز ویب سائٹ کے مطابق کالونی میں دیگر اہم چھوٹی چھوٹی جگہوں کی نشاندہی بھی بڑی دلچسپ اور حیرت انگیز ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ جگہیں مقبوضہ فلسطین کے نقشے کے مطابق ہیں جن میں حیفا، بحیرہ، طبریا، تل ابیب، ساحلی شہرایلات کی نشاندہی ہوتی ہے۔

رپورٹ تیارکرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ محض اتفاق ہو کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ پاکستانی انجینئروں نے کالونی کی تعمیر کے وقت واقعی فلسطین اور بیت المقدس کے نقشے کو سامنے رکھ کر اس کا نقشہ ترتیب دیا ہو تاہم یہ امرحیرت ناک کے ہے اسامہ جہاں پناہ گزیں رہے اس جگہ اور مکان کا نقشہ فلسطین اور القدس سے بڑی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں تجزیے کے طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ انٹلی جنس اداروں کے لیے یہ جگہ اس لیے اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے کیونکہ اس کا فضائی نقشہ تیار کرنے کے بعد اس پر یہ غور ضرور کیا جا سکتا ہے کہ آیا اس کالونی کی اس نقشے کے مطابق تعمیر آیا کوئی خاص سازش تو نہیں، کیونکہ بیت المقدس اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر شہروں کی مشابہ کالونی اپنے اندر کئی قسم کے سوالات بہر حال رکھتی ہے۔

بےباک
05-03-2011, 08:36 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20110503/Sub_Images/1101231893-1.jpg
http://resources3.news.com.au/images/2011/05/03/1226048/798347-osama-bin-laden-039-s-hideout.jpg
http://news.bbcimg.co.uk/media/images/52448000/jpg/_52448053_52451792.jpg
http://static.guim.co.uk/sys-images/Admin/BkFill/Default_image_group/2011/5/2/1304350851547/Osama-bin-Ladens-hideout--007.jpg
http://xa.yimg.com/kq/groups/25273607/sn/2028064948/name/BIN+LADFEN+RED+HSE.jpg
http://news.bbcimg.co.uk/media/images/52454000/jpg/_52454663_osama_pak624.jpg

http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2011/05/03/110503184410_osama_house_abbottabad_466x262_afp_no credit.jpg
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2011/05/03/110503183516_osama_house_926.jpg

بےباک
05-03-2011, 11:06 AM
http://www.latimes.com/media/photo/2011-05/61428576.jpg
دو مئی 2011 کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح تقریبا نو بجے امریکی صدر اوبامہ نے اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد کے علاقہ میں ہلاکت کی تصدیق کردی امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں دو ہفتے قبل اس کی اطلاع ملی تھی اور ان کی اجازت سے امریکی سپیشل فورس نے ایبٹ آباد میں آپریشن کے دوران دہشت گرد اسامہ بن لادن کو مار دیا گیا- اوبامہ کی ہلاکت کے امریکی تصدیق کے بعد آئی ایس آئی سمیت ہماری حکومت کو بھی ہوش آیا او ر انہوں نے باقاعدہ تصدیق کردی کہ اسامہ بن لادن کو مارا گیا ہے -
اسامہ بن لادن دہشت گرد تھا یا مسلمانوں کا ہیرو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم لوگ خوار ہو رہے ہیں لیکن اس کی موت ایبٹ آباد میں ہوئی جہاں پر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول واقع ہے اوربلال ٹاؤن جہاں پر آپریشن بتایا جارہا ہے کاکول روڈ سے تقریبا چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے - اس سے ایک روز قبل ایک ہیلی کاپٹر بھی اسی علاقے میں گرا تھا جس کے بارے میں ہمارے حکمران اور سب کو ) نیشنل انٹرسٹ(بتانے والے کہتے رہے کہ یہ پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹر تھا لیکن جب حقیقت واضح ہوگئی تو پھر بتایا گیا کہ یہ امریکی ہیلی کاپٹر تھا جو وہاں پر گرا ہے-
اسامہ بن لادن کی موت نے بہت سارے سوال پیدا کر دئیے ہیں جس کا جواب ہر پاکستانی جاننے کا حق رکھتا ہے - کیا اسامہ پاکستانی ایجنسیوں کیلئے کام کررہا تھا جو اس نے پاکستان کے سب سے محفوظ شہر میں رہائش اختیار کرلی تھی- یا پھر اس کی ٹریننگ کی فلمیں کہیں مانسہرہ اور جھنڈ کے علاقہ میں ٹریننگ سنٹروں میں تو نہیں بنتی تھی- اگر اسامہ پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں کیلئے کام نہیں کرتا تھا تو پھر پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں میں اتنے نااہل بھرتی ہوگئے ہیں کہ انہیں ایبٹ آباد جیسے شہر میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کا پتہ نہیں چلا- کیونکہ امریکی صدر اوبامہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگر انہیں پہلے پتہ ہوتا تو وہ پہلے وہاں پر آپریشن کرتے -مختلف سیکورٹی ایجنسیوں میں کام کرنے والے لوگ جو اس ملک کے غریب اور بے کس عوام کے ٹیکس سے نہ صرف خود بلکہ اپنے اولاد وںکو پال پوس رہے ہیں کیا وہ اس کا جواب دے سکتے ہیں- پاکستان اور خصوصا خیبر پختونخواہ کے مختلف ناکوں پر تعینات سیکورٹی اہلکار تو پاکستانیوں کیساتھ جس طرح رویہ رکھتے ہیں انہیں تو بغیر شناختی کارڈ کے اپنے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے ان حالات میں اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے لگ رہا ہے کہ اسامہ کو فرشتوں کا تعاون حاصل ہے -ایبٹ آباد آپریشن کے بارے پاکستانی وزارت خارجہ ساڑھے بارہ بجے تک خاموش تھی لیکن ایک دم یہ بیان آیا کہ اسامہ کی موت دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں کیلئے بڑا دھچکا ہے اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ یہ امریکی پالیسی کا حصہ ہے پاکستانی وزارت خارجہ نے مشترکہ آپریشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے امریکی حکام نے آپریشن میں مارا ہے اور انہیں اس آپریشن کے بارے میں لاعلم رکھا گیا حالانکہ امریکی صدر اوبامہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ انہیں پاکستانی اداروں کے تعاون حاصل تھا- ان حالات میں کون سچ بول رہا اور کون جھوٹ اس کا اندازہ اس ملک کے بے وقوف عوام خود ہی کرسکتے ہیں-
امریکہ نے پاکستان میں اسامہ کی موجودگی اور موت کی خبر دے کر پوری دنیا پر واضح کردیا کہ پاکستانی ان کے ساتھ کتنے مخلص ہے اور نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جو ڈالر انہوں نے پاکستانی حکمرانوں کو دئیے وہاں کہاں جا کر غائب ہوگئے اب تو اس کا حساب عیاشی کرنے والے حکمران ہی دیں- تاہم خودمختاری کا دعوی کرنے والے حکمرانوں کے دعوے اس بے وقوف قوم کے سامنے ہیں کہ ہم کتنے زندہ اور خودمختار قوم ہیں ہماری اوقات کیا ہے -ایبٹ آباد میں ہونیوالے آپریشن کے بعد تو سیکیورٹی کے نام پر ایبٹ آباد میں ہر جگہ پر ناکے لگا دئیے گئے کہ اندرکی بات باہر نہ نکلے تاہم یہ سلسلہ کب تک رہے گا- امریکہ نے ایبٹ آباد آپریشن کی خبر دے کر ثابت کردیا کہ نہ صرف وہ ہمارے آقا ہے بلکہ انہیں پل پل کی خبر ہے اور ہمارے اوپر مسلط نااہل حکمران صرف اپنے پیٹوں کو بھرنے کے چکر میں ہیں انہیں نہ تو عوام کی حالت زار کا پتہ ہے اور نہ ہی انہیں ملکی خود مختاری سے کوئی غرض ہے ہاں یہ سب ڈرامے مجھ جیسے کروڑوں کمی کمین ) پاکستانیوں(کیلئے ہیں کہ جہاں ان کے مفادات ہوں وہاں پر) نیشنل انٹرسٹ( کا نام آجاتا ہے اور پھر ا نکی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے لوگ غائب کردئیے جاتے ہیں- امریکہ نے اسامہ کی موت کی خبر دے کر نہ صرف افغانستان سے نکلنے کیلئے باعزت راستہ نکال دیا ہے بلکہ اب انہیں آسانی ہوگی کہ پاکستان کے میدانی علاقوں میں بھی آپریشن کرے اور ان کے تنخواہ دار ان کیلئے کام کرے -
اسامہ کی موت پر پشاور سمیت خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے رابطہ کرکے ان سے کمنٹس لئے تو زیادہ تر لوگوں نے انہیں اپنا ہیرو قرار دیا اسی کے ساتھ انہوں نے اسے امریکی ڈرامہ بھی قرار دیا ہے .
یہ امریکی ڈرامہ حقیقت ہے یا فریب لیکن اسامہ کی زندگی نے جس طرح ہمیں خوار کیا ہے اس کی موت ہمیں مزید خوار کرے گی .

بشکریہ( تبصرہ ) :::::: مسرت اللہ جان

بےباک
05-03-2011, 11:39 AM
اسامہ بن لادن کی لاش کو سمندر کے حوالے کرنے کی ویڈیو جلد جاری کی جائے گی ، پینٹاگون
واشنگٹن: امریکی دفاعی ادارہ پینٹاگان کی جانب سے جاری کرہ تازہ بیان میں کہا گیاہے کہ اسامہ بن لادن کو سمندر برد کرنے کی وڈیوجلد منظرعام پر لائی جائے گی۔



پینٹاگان کے مطابق دنیا کےبعض حلقوں میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے حوالے سے تشویش پائی جارہی ہےجس کی وجہ سے اسامہ کو سمندر برد کئےجانے کی وڈیو جلد منظرعام پر لائی جائے گے تاکہ اس سلسلے میں پائے جانے والے تمام شکوک و شبہات دور کئےجا سکیں۔



پیر کے روز پاکستانی صوبے خیبر پختوننخواکے شہرایبٹ آباد میں امریکی فوج کی جانب سےکئےجانےوالےآپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس کی لاش کو سمندر برد کردیا گیا تھا جسے امریکی حکام نے اسلامی طریقہ قرار دیا تھا تاہم اسلامی مذہبی اسکالرز کی جانب سے اس عمل پر شدید تنقید کی جارہی کہ یہ طریقہ اسلامی شرعی اصولوں کے منافی ہے۔
..................

انٹیلی جنس ناکامی کی انکوئری کریں گے حسین حقانی
واشنگٹن : امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے دعوی کیا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں گی کہ آخر پاکستانی ایجنسیوں کواسامہ کی موجودگی کاعلم کیوں نہیں ہوسکا۔

واشنگٹن میں ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو اپنے ملک میں پناہ دینا ہمارے مفاد میں نہیں ہے اگرامریکا نے ایبٹ آباد میں آپریشن سے متعلق پاکستان کو آگاہ نہیں کیا تو حکومت پاکستان اور فوج کو کوئی الزام نہیں دیا جاسکتا۔

ان کاکہناتھاکہ پاکستان کو دہشت گردوں کو پناہ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں، اسامہ بن لادن کو معاشرے کے بعض عناصر کی حمایت حاصل تھی، انہی عناصر نے اسے تحفظ بھی فراہم کیا۔

حسین حقانی نے کہا کہ دہشتگردوں نے اسلام،مسلمانوں اور پاکستان کو بدنام کردیا۔ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ دہشت گردی کیخلاف حاصل ہونے والی کامیابی پر بات کی جائے۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کی مخالفت کے باوجود دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا۔

اذان
05-03-2011, 04:33 PM
http://i54.tinypic.com/2zeias8.jpg
http://i56.tinypic.com/2cqnxad.gif

بےباک
05-04-2011, 08:43 AM
میری بیویاں دوسری شادی نہ کریں،اولاد القاعدہ سے دور رہے:اسامہ کی وصیت
سخت گیر جنگجوتنظیم القاعدہ کے بانی سربراہ اُسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کے بعد ان کی ایک وصیت منظر عام پر آئی ہے۔کویت کے ایک موقر اخبار "الانباء"نے اسامہ بن لادن کی ایک طویل وصیت شائع کی ہے جس میں شیخ بن لادن نے اپنی بیویوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ میری وفات کے بعد کسی دوسرے مرد سےشادی نہ کریں اوراولاد سے کہا ہے کہ وہ القاعدہ سے کوئی ناتا نہ رکھے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کویتی اخبار نے لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن نے یہ وصیت 14 دسمبر 2001ء کو امریکا پرنائن الیون حملوں کے تین ماہ بعد تحریر کی تھی۔ کمپیوٹر پر کمپوز کیے گئے چار صفحات پر مشتمل طویل وصیت نامے پر اسامہ بن لادن کے دستخط ثبت ہیں۔وصیت میں اسامہ نے اپنی موت کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی موت ساتھ رہنے والے لوگوں کی بد دیانتی کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کوئی بھی میرا قریبی میرے قتل کی سازش میں معاونت کرسکتا ہے۔ لہٰذا میری وفات یا قتل کے بعد میری بیوائیں کسی اور مرد سے نکاح نہ کریں اور اولاد القاعدہ سے تعلق نہ رکھے۔

رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی اس وصیت کا ذریعہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اخبار کو یہ کہاں سے ملی۔تاہم اخبار نے اسے ایک حساس دستاویز قراردیا ہے۔وصیت کو"اللہ کے اس بندہ عاجز اسامہ بن محمد بن لادن کی جانب سے" جیسے الفاظ کا عنوان دیاگیا ہے۔ آگے چل کراسامہ بن لادن نائن الیون کے واقعات کا بھی تذکرہ کرتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ نائن الیون کا امریکا پر حملہ امریکی ریاستی دہشت گردی پر تیسرا بڑا حملہ ہے۔اس سے قبل لبنان میں امریکی میرینز کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرا حملہ کینیا کے شہر نیروبی میں امریکی سفارت خانے پر کیا گیا۔ یہ دونوں حملے امریکیوں کے ہاتھوں اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے صومالیہ میں اکتیس ہزار مسلمانوں کے قتل عام کے انتقام میں کیے گئے تھے ۔

اسامہ بن لادن رقم طراز ہیں کہ جب میں نے اورمیرے ساتھی مجاہدین نے دیکھا کہ مشرق سے مغرب تک اسلامی دنیا میں مسلم امہ کا پرچم امریکیوں کے ہاتھوں تارتار ہورہا ہے۔مسلمان بچے، بوڑھے اور عورتیں امریکی رعونت کا شکار چیخ چیخ کر مدد کے لیے پکار رہے ہیں، ایسے میں ہم نکلے، کچھ بزدل ایسے بھی تھے جنہوں نے دشمن سے مقابلے کیے بغیراس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ اس وقت مسلم امہ ہماری اور دین کے مخلص لوگوں طالبان کی مدد سے دستکش ہوچکی ہے، طالبان کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے افغانستان میں ایک اسلامی ریاست کی بنا ڈالی جہاں خدا کے قوانین اور اس کی شریعت کی فرما نروائی ہے۔امریکا اور اس کےاتحادیوں ، برطانیہ ،نیٹو اور مغرب کے دیگر کفار کو کینہ اور بغض اسی اسلامی حکومت سے ہے جنہوں نے اس اسلامی مملکت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے اپنے جاسوس بھرتی کرنا شروع کیے ہیں۔

امریکیوں کو مسلم ممالک میں سے "منافقین" ہاتھ آ گئے ہیں جن کے ظاہر اور باطن میں تضاد ہے۔ جنہوں نے دشمن اور شیطان کو خوش کرنے کے لیے اسلامی شرعی حجاب کی مخالفت کی، ڈاڑھیاں منڈواتے ہیں اور اپنی وضع قطع مکمل طورپر کفار کے مشابہ بنا رکھی ہے۔

مسلم نوجوانان سے خطاب

اسامہ بن لادن نے اپنی وصیت میں جہاں امریکا ، مغر ب اور اس کے مسلم اتحادیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، وہیں انہوں نے مسلم نوجوانوں کو جھنجھوڑنے کی بھی کوشش کی ہے۔ وصیت میں وہ مسلم نوجوانوں سے ان الفاظ میں مخاطب ہیں:

"اے اُمت مسلمہ کے نوجوانو! موت کی تمنا کرو زندگی تمہارے قدم چومے گی، علماء کی باتیں غور سے سنو اور انہیں اپنے پلے باندھو۔ جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں، ان کے ساتھ دوستی نہ رکھو، ان ایسا جاہلانہ طرز زندگی اختیار نہ کرو، ان کے ساتھ لین دین نہ کرو، ان کے بنکوں سے رقوم نہ لو اور نہ دو، کیونکہ یہ سیکولر سود خور مسلم امہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔اس کے لیے انہوں نے خواتین اور انسانیت کے حقوق کے لیے نام نہاد تنظیمیں بھی بنا رکھی ہیں، تمہاراان سے کوئی تعلق نہیں''۔

مسلمان خواتین سےخطاب کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کہتے ہیں "تمہارے لیے صرف اسلامی تعلیمات سب سے اعلیٰ ہیں۔تم زمانہ جاہلیت کی طرح بناٶ سنگھار نہ کرو۔اپنے آپ کو ایک ایسی درسگاہ بنالوجہاں سے اسلام کےخادم اور مجاہد تیار ہوں۔"۔

اپنی ازواج کومخاطب کرتےہوئے کہتے ہیں اللہ تمہیں جزائے خیردے، تم میرے لیے اللہ بزرگ وبرتر کے بعد سب سے بہترین معاون و مدد گار رہیں۔ اس لیے کہ تم جانتی ہوکہ حق کا راستہ کتنا خطرناک اور پرآشوب ہے۔ تم نے دنیا کی عیش وعشرت ٹھکراکر میرے ساتھ جینے مرنے کا عہد کیا۔ جب تک تم نے میرےساتھ زندگی بسرکی تب تک تم زاہد اور پارسا رہیں میرے بعد بھی اپنی پارسائی کا بھرم قائم رکھنا۔

بچوں کومخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "میرے بچو میں جانتا ہوں کہ جب سے میں نے عَلمِ جہاد بلند کیا میں آپ کوبہت کم وقت دے پایا ہوں۔ میں نے تمہارے اوپرامت مسلمہ کوترجیح دی۔ میں نے خطرات سے پُر راستہ چُنا۔ میں تمہیں وہی وصیت کرتا ہوں کہ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو کی تھی خدا کا تقویٰ اختیار کرنا۔میں تمہیں یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ میرے بعد القاعدہ کی قیادت کی تمنا نہ کرنا اور نہ ہی اس سے کوئی تعلق رکھنا۔ مجھے خدشہ ہےکہ میری موت ان لوگوں کے ہاتھوں ہوگی جو میرے آس پاس رہتے ہیں''۔
رپورٹ العربیہ ٹی وی .. .یہ وصیت نائن الیون حملوں کے تین ماہ بعد تحریر کی گئی

بےباک
05-05-2011, 08:33 AM
’اسامہ کی ہلاکت قومی دفاع کی کارروائی تھی‘، تصویر نشر نہ کرنے کا فیصلہ
اب آپ خود سوچیے جو تصویر اوپر دی گئی ہے وہ بالکل جعلی بنائی گئی ہے ،

امریکہ کےصدربراک اوباما نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تصاویر نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ صدر اوباما نے یہ فیصلہ اس امکان کے پیش نظر کیا ہے کہ ان تصاویر سے تشدد کو مزید ہوا مل سکتی اور یہ تصاویر پراپگینڈے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ سے ملنے والی معلومات کے بعد مزید نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن ایک جائز فوجی ہدف تھے۔ انھوں نے سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کو بتایا کہ اسامہ نے فوجی آپریشن کے دوران خود امریکی کمانڈوز کے حوالے کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور ان کی ہلاکت قومی دفاع کی کارروائی تھی۔

گزشتہ روز امریکہ نے کہا تھا کہ جب اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا اس وقت وہ مسلح نہیں تھے البتہ انھوں نے مزاحمت کی تھی۔اس کارروائی کے بعد ناقدین نے اوباما کے خلاف ہونے والے کمانڈو ایکشن کی قانونی حیثیت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایرک ہولڈر نے بتایا کہ اسامہ کسی بھی لمحے فرار کے لیے تیار تھے، ان کے لباس میں پانچ سو یورو کے نوٹ سلے ہوئے تھے اور دو ٹیلی فون نمبر بھی درج تھے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں بی بی سی کی بیورو سے بات کرتے ہوئے پاکستان فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن میں بچنے والوں میں اسامہ بن لادن کے رشتہ دار بھی شامل ہیں جن کا علاج راولپنڈی کے سی ایم ایچ ہسپتال میں ہو رہا ہے۔(بشکریہ بی بی سی )

شھسوار
05-05-2011, 08:51 AM
ایبٹ آباد کی کارروائی کی حقیقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کیا حقیقت ہے اور کیا سچائی ہے لیکن !کمپیوٹر ڈیزائنر کی مہارت درج ذیل ویڈیو سے کی جاسکتی ہے کہ کس طرح ایک تصویر پر دوسری تصویر کو چسپاں کیا جاتا ہے اور حقیقت تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

http://www.youtube.com/watch?v=ZSJ3rNbujJQ&feature=related

بےباک
05-05-2011, 01:23 PM
http://www.youtube.com/watch?v=plNYSaC5Avc&feature=player_embedded#at=45

بھائی شہسوار صاحب ، بات وہ نہیں جس کا آپ نے ذکر کیا ہے ، کہ یہ جعل سازی ہے ، محترم ہم خود ہی سارے کے سارے جعل ساز ہیں ،
ہم جھوٹے ہیں اور جھوٹے ہیں ، اس کا ثبوت آپ دیکھیں ، ہمارے پاس چار (4) عدد اواکس طیارے ہیں جو ہم نے چائینا سے 2010 کے آخر میں لیے تھے . جس کے ریڈار سسٹم کو جام ہی نہیں کیا جا سکتا ،
یہ طیارے 402 کلو میٹر کے دائرے میں طیارہ یا میزائیل ڈیٹیکٹ کر سکتے ہیں ، مجموعی طور پر اس طیارے سے کل رقبہ 311,990 کلومیٹر نگرانی میں رھتا ہے ، یہ طیارے اسوقت اڑان میں ہی نہیں تھے ، جب ھم حالت جنگ میں ہیں تو ہم نے ان کی اڑایا ہی نہیں بلکہ ھنیگروں میں رکھ دیا ، اور امریکا کو ہی اپنا نگران مکمل طور پر بنا دیا ہے ، اور ہم جھوٹ بولتے ہیں کہ ہمارا ریڈار سسٹم جام کر دیا گیا تھا ، جب اڑایا ہی نہیں تھا
..........
اسامہ کی فوٹو جاری کرنے والوں نے تو ابھی تک اسامہ بن لادن کی شہادت کی ایک بھی فوٹو جاری نہیں کی سوائے ان دو افراد کے جو اس وقت اسامہ کے ساتھ تھے ،اور اسی کمپاونڈ میں تھے ،

علی عمران
05-05-2011, 06:44 PM
آپ سب کے کنسرنز بلکل بجا ہیں.... پوری قوم سوال پوچھ رہی ہے... اور پوچھنا بھی چاہیے سب لوگ دفاع کے لئے ٹیکس دیتے ہیں اور اس قدر غفلت کہ 40 منٹ تک کاروائی ہوتی رہی اور پاک آرمی بے خبر رہی.....:s

ایسا نہیں ہے...... ہمارے تمام زمینی ریڈارز کو وقتی طور پر جام کر دیا گیا تھا..... مگر امریکی داخلے کے 10 منٹ بعد ہی ائیرفورس کو ان ڈیفائن سسپیکٹ کی پاکستانی فضاؤں میں موجودگی کی اطلاع مل چکی تھی.... ریڈارسسٹم کی جامنگ کی وجہ سے لوکیشن معلوم کرنے میں مشکل پیش آئی..... مگر چند منٹ بعد فضائیہ کے طیارے اڑان بھر چکے تھے..... پھر ایک میسج ملا کہ کاروائی نہ کی جائے اور طیارے واپس ائیر بیس پر آ گئے...... اب اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا......:-)

اواکس طیارے ہمیں مغربی سرحد پر کچھ کام نہیں دیں گے..... کیونکہ پہاڑی علاقے میں کسی انتہائی نیچے اڑتے اوبجیکٹ کا پتہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے.... خیر کچھ بے خبری میں اور کچھ اپنوں کی نوازش سے مار کھا گئے.... مگر اب ایسا کچھ نہیں ہو گا... ان شاء اللہ

کیونکہ اب ایسی کسی بھی کاروائی پر کاؤنٹر اٹیک کیا جائے گا.......

بےباک
05-06-2011, 01:16 AM
اسامہ پانچ سال سے ایبٹ آباد میں مقیم تھے: پاکستانی فوج

پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی بیوی سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق القاعدہ کے سربراہ گزشتہ پانچ سال سے ایبٹ آباد میں مقیم تھے۔
جمعرات کو صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ میں اعلٰی عسکری حکام نے بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف کیے جانے والے خفیہ امریکی آپریشن سے لاعلم تھے۔ ان کے مطابق’کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا‘۔

حکام نے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے لاعلمی کو خفیہ اداروں کی ناقص کارکردگی قرار دیا اور کہا کہ اس ناقص کارکردگی کے بارے میں آئی ایس آئی کے اندر اور باہر بھی انکوائری کی جائے گی۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سینئر رہنماؤں سمیت سو سے زائد القاعدہ ارکان کی گرفتاری یا ہلاکت میں آئی ایس آئی کے کلیدی کردار کے باوجود اس کی خدمات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس آپریشن کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کرنا چاہیے تھا اور تعاون دو طرفہ ہونا چاہیے۔ ’جیسا کہ ہم نے ملا بردار کی بابت کیا ویسا امریکہ کو بھی کرنا چاہیے تھا‘۔
اعلٰی فوجی حکام کا کہنا تھا اس آپریشن کے سلسلے میں پاکستان نے کچھ خفیہ معلومات امریکہ کو دی تھیں۔حکام نے یہ بھی بتایا کہ عربی زبان بولنے والے فرد کی اس علاقے سے سعودی عرب کی جانے والی کچھ کالز بھی ٹریس کی ہیں جس میں رقوم کی منتقلی کا ذکر ہے۔

پاکستان کے عسکری حکام کے مطابق القاعدہ مالی معاملات پر تقسیم ہو چکی ہے اور ایمن الظواہری نے اسامہ بن لادن کو ’سائیڈ لائن‘ کر دیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی اہلیہ کے بیان کے مطابق وہ پانچ برس کے بعد اس کمرے سے باہر نکلی ہیں اور اسامہ بھی اس سارے عرصے میں وہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کی تین بیویوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے ساتھ تیرہ بچے بھی تھے تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے بچے اسامہ کے ہیں۔

اسامہ کی ایک بیوی نے جن کا تعلق یمن سے ہے بتایا ہے کہ انہیں گولی لگنے اور ان کے بیہوش ہونے تک اسامہ زندہ تھے لیکن اسامہ کی ایک بیٹی نے تصدیق کی کہ ان کے والد کو ان کی آنکھوں کے سامنے مارا گیا۔

ان اطلاعات کے بارے میں کہ امریکہ نے ان سے ان افراد تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے، فوجی حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ تو ہر کسی کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہتا ہے۔
پاکستانی عسکری حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایبٹ آباد سے حال ہی میں پکڑنے جانے والا ایک اور دہشتگرد عمر پاتک اگرچہ معلومات کا خزانہ ثابت ہوا ہے لیکن اس کا اسامہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

فوجی حکام کا کہنا تھا کہ فراج اللبی کی گرفتاری کے لیے ایبٹ آباد میں سال دو ہزار تین میں کارروائی کی گئی تھی جس میں ایک شخص ہلاک ہوا لیکن اللبی وہاں سے فرار ہوگیا۔ ’اس سے اگلے روز اسے ہم نے مردان سے گرفتار کر لیا تھا لیکن ہماری تفتیش اور کافی عرصے تک امریکی حراست میں بھی اس نے کچھ بتانے سے مسلسل انکار کیا۔ ہوسکتا ہے اس نے اب کچھ امریکیوں کو بتایا ہو‘۔

فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اسامہ کی موجودگی کے بارے میں علم ہوتا تو وہ ضرور خود اس کے خلاف کارروائی کرتے۔

آئی ایس آئی کی کارکردگی کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ اب ملک میں موجود تمام غیرملکیوں پر نظر رکھنا ان کے لیے ناممکن ہوگیا ہے۔ ’اب تک صرف سات ہزار ویزے امریکیوں کو جاری کیے جا چکے ہیں‘۔

فوجی افسران کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی ہیلی کاپٹر بہتر ٹیکنالوجی کی وجہ سے راڈار میں دکھائی نہیں دیے۔ ’پاکستان کا چپہ چپہ رڈار کی کوریج میں نہیں ہے۔ محض اہم مقامات اور جوہری اثاثوں کے لیے نہ صرف رڈار ہیں بلکہ انفنٹری بھی تعینات ہے لہذا وہاں ایسی غیرملکی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے‘۔
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2011/05/05/110505062332_map_osama_compound926.jpg

یبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن میں امریکی فوجی کارروائی کا نشانہ بننے والے مکان سے ملنے والے امریکی ہیلی کاپٹر کی باقیات کا پاکستان میں ابتدائی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے۔

پاکستانی دفاعی اداروں کے انجینئرز نے اس معائنے کے بعد تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس فوجی کارروائی میں مختلف قسم کے دو سے زیادہ ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا جو ٹیکنالوجی اور حجم کے اعتبار سے مختلف تھے۔

یاد رہے کہ اتوار کے روز ایبٹ آباد میں ہونے والے اس امریکی آپریشن کے دوران ایک امریکی ہیلی کاپٹر گر گیا تھا جسے امریکی کمانڈوز کارروائی مکمل ہونے کے بعد بم دھماکے سے تباہ کر گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بم دھماکے کے باعث یہ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا تھا اور اس کا وہ حصہ جس میں بعض آلات نصب تھے محفوظ رہا۔

ان ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی میں بعض چھوٹے اور بہت جدید ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے تھے جن میں ایسے آلات نصب تھے جن کا ذکر عالمی ہوا بازی کی صنعت میں نہیں ملتا۔

ان میں مختلف قسم کے الیکٹرانک سگنلز کو مسخ کرنے والے آلات شامل ہیں جن میں نہ صرف ریڈار کے سگنلز بلکہ صوتی سگنلز کو بھی مسخ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

اسی بنا پر ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ پاکستانی حدود میں یہ ہیلی کاپٹرز پاکستان کی سرحدوں اور حساس مقامات کی نگرانی کرنے والے ریڈارز کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہے۔ اس کے علاوہ صوتی سگنلز کو مسخ کرنے کی صلاحیت کے باعث ان ہیلی کاپٹرز کی آواز بھی عام ہیلی کاپٹرز سے مختلف ہوتی ہے جس کے باعث ان ہیلی کاپٹرز کی رفتار اور سمت کو فوری طور پر سمجھنا بھی خاصا دشوار تھا۔

پاکستانی ماہرین نے یہ بھی خیال ظاہر کیا ہے کہ جدید صلاحیت کے حامل یہ ہیلی کاپٹرز پاکستان کی کسی بھی سرحد سے داخل ہو کر پاکستان کے اندر ایندھن بھرے بغیر بیرون ملک جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ان ماہرین کے مطابق جتنی دیر فوجی کارروائی جاری رہی (تقریباً پینتالیس منٹ) اس دوران ان ہیلی کاپٹرز میں کارروائی کے مقام پر ایندھن ڈالنا ممکن نہیں تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انہی ہیلی کاپٹرز یا شنوک جیسے بڑے ہیلی کاپٹر پر ایندھن لاد کر موقع پر ان ہیلی کاپٹرز میں ایندھن بھرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں ہے۔
بشکریہ بی بی سی

بےباک
05-08-2011, 09:35 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20110508/Sub_Images/1101235838-1.jpg

عجب عالم دیوانگی ہے کہ ایک درویش صفت بندے سے دنیا ڈر رہی تھی ،جو اس کمپرسی میں رہائش پذیر رھا تھا. جس کو امریکا دشمن نمبر ایک قرار دیتا ہے ،

اذان
05-08-2011, 11:01 PM
http://i53.tinypic.com/azjmea.jpg

بےباک
05-25-2011, 08:18 PM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20110525/Sub_Images/1101249158-1.gif
روزنامہ ایکسپریس 25 مئی 2011

شاید اسی لیے قتل کی دیت بھی حکومت پاکستان نے خود ادا کی تھی ،اور تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کی دُم بھی پنٹاگان پہنچا دی ،ہاہاہاہا ، عجب راز ہیں یہ سب

تانیہ
05-27-2011, 01:16 AM
ہاؤ بورنگ
بہت فضول
کیا کیا ڈرامے بازی ہیں

اوشو
06-06-2011, 06:11 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20110606/Sub_Images/1101258025-2.gif

بےباک
06-10-2011, 07:00 PM
http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=h0vo-L3VACs

مزید انکشافات ،
عجب کہانی ہے ،

ایم اے رضا
08-06-2011, 11:42 PM
گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب

سیما
04-30-2013, 04:03 AM
ابھی تو اوسامہ کو سب بھول گئے 2 سال پورے ہونے والے ہیں ایک 2 دن میں