PDA

View Full Version : فلسفۂ عطاء و انکار اور زینت دنیا



تانیہ
11-28-2010, 03:11 PM
*فلسفۂ عطاء و انکار اور زینت دنیا:
اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا ڈرو کہ جتنا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسے ہر وقت اپنے تمام اعمال و افعال کا نگرانی کرنے والا سمجھو ، اللہ سبحانہ و تعالی ہر ظاھر و پوشیدہ کو جانتا ہے ۔

[ آپ کو یہ دنیا کی زندگی کہیں فریفتہ نہ کر دے اور نہ ہی فریب دینے والا ( شیطان) تمھیں اللہ کے بارے میں کسی طرح فریب دے ] ۔ ( فاطر ۔٥ و لقمان ۔٣٣)

انسان کی بلاوجہ پریشانی :

مسلمانو! اپنی من پسند کی چیزوں کو پا لینے ۔ امیدوں تک پہنچ جانے اور مرغوب چیزوں کو حاصل کر لینے کی کوششوں کے دوران بندوں کا ایک گروہ تو بھول جاتا ہے یا پھر عمدا بھلا دیتا ہے کہ ان کی ان کوششوں کا انجام ھمیشہ ان کی خواہش و امید کے مطابق ہی رونما نہیں ھو گا ، لھذا جب کبھی انھیں انکی بعض محبوب چیزوں سے محرومی ھوتی ہے اور ان کے اور انکی من چاہی اشیاء کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ھو جاۓ تو تمام تر وسعتوں کے باوجود یہ زمین اس پر تنگ ھو جاتی ہے حتی کہ خود وہ اپنے آپ سے تنگ آیا ھوا ھوتا ہے اور اس کی عقل اس کا ساتھ نہیں دے رہی ھوتی حتی کہ اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی بیشمار نعمتوں کے انکار پر اتر آتا ہے اور اس کے سابقہ تمام احسانات کو بھلا بیٹھتا ہے اوردن رات غمزدہ و پریشان رہنے لگتا ہے ، اس کا دل شدید قلق و اضطراب میں مبتلا رہتا ہے نہ اسے جینے میں کوئی مزہ آتا ہے اور نہ اپنی حالت میں اسے کوئی سکون نصیب ھوتا ہے ۔

فلسفۂ عطاء و انکار :

برادران گرامی ! اس کا سبب در اصل صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عطاؤں کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی وہ اللہ کے کوئی نعمت دینے کے انکار کے فلسفے کی معرفت حاصل کر سکا ہے ۔ اور وہ یہ تصور کر بیٹھا ہے کہ عطاء اور انکار دو ضدیں ہیں جو کہ یکجا نہیں ھو سکتیں یا پھر وہ ندی کے دو کناروں کی طرح انھیں ایسی چيزیں سمجھ بیٹھا ہے کہ جو کبھی باھم مل نہیں سکتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بعص سلف صالحین امت نے بیان حق اور صحیح و صواب کی طرف ھدایت و راہنمائی کے لۓ بڑے مضبوط موقف اختیار کۓ ہیں ۔ چنانچہ امام سفیان ثوری نے بعض سلف امت کا یہ قول نقل کیا ہے :

” اللہ کا بندے کو اس کی بعض محبوب چیزوں سے منع و محروم کر دینا بھی در اصل اس کی ایک عطاء و نوازش ہی ہے کیونکہ اللہ نے اس سے وہ چیز کسی بخل کی وجہ سے نہیں روکی بلکہ اس پر لطف و کرم کرتے ھوۓ روکی ہے ” ۔

اس سے وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کہ اللہ کی عطاؤں اور نواشوں کا ھمیشہ ایک ہی سا انداز و رنگ نہیں ھوتا بلکہ اس کی عطاؤں کا رنگ کبھی یہ ھوتاہے کہ وہ بندے کو اسکی محبوب و مرغوب چیزیں دے دیتا ہے جن کی طلب میں وہ بھاگتا پھرتا ہے اور کبھی اس کی عطا کا انداز یہ بھی ھوتا ہے کہ وہ اس کی محبوب و مرغوب اشیاء کو اس سے روک دیتا ہے اور اسے منع کر دیتا ہے ، کیونکہ وہ اتنا صاحب جود و کرم ہے کہ جس کے کرم کی کوئی انتہاء نہیں اور نہ ہی اس کے احسان کی کوئی حد ہے اور وہ ایسی ذات ہے کہ جس کے سامنے یہ ساری دنیا بھر مچھر کے ایک پر کے برابر بھی حثییت نہیں رکھتی ۔ جیسا کہ جامع ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

[ اگر اللہ کے نزدیک اس دنیا کی قدر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ھوتی تو اللہ کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا ] ( جامع ترمذی )

اللہ اگر کسی دنیوی چیز سے کسی بندے کو محروم کرتا ہے تو اس میں اس کی ایک انتہائی گہری حکمت اور باریک فلسفہ کار فرما ھوتا ہے اور اس عظیم و قدیر کی قدرت و اندازے پنہاں ھوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس منع و انکار یا محرومی میں بندے کے لۓ بہت ساری مصلحتیں اور مفادات پوشیدہ ھوتے ہیں جو اکثر لوگوں کی نظروں سے مخفی ھوتے ہیں ۔ اس بات کا پتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد سے چلتا ہے جو کہ جامع ترمذی اور صحیح ابن حبان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :

[ اللہ جب اپنے کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو اسے اس دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بیمار کو پانی سے بچاتا ہے ] ( ترمذی و ابن حبان )

اور مستدرک امام حاکم میں ایک روایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :

[اللہ تعالی اپنے مومن بندے کو پیار کرتا ہے اور اسے ( اس دنیا سے ) ایسے بچاتا ہے جس طرح اپنے کسی بیمار کے فائدے کی خاطر تم میں سے کوئی شخص اسے کھانے پینے سے بچاتا ہے ] ۔

فسلفۂ تحریم اشیاء :

اسی طرح امام ابن رجب رحمۃ اللہ عليہ کے بقول یہ بات بھی اسی کی گواہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر شہوت دنیا ، اسکی زینتوں اور رونقوں میں سے بعض چیزیں حرام کر دی ہیں کیونکہ انھیں ان چیزوں کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی اور ان چیزوں کو اللہ نے ان کے لۓ آخرت میں ذخیرہ کر دیا اور اسی بات کی طرف اس ارشاد باری تعالی میں ارشارہ پایا جاتا ہے جس میں اس نے فرمایا ہے :

[ اور اگر یہ خیال نہ ھوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ھو جائيں گے تو جو لوگ اللہ کا انکار کرتے ہیں ھم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی کہ جن پر وہ چڑھتے ہیں ۔ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں ۔اور خوب تجمل و آرائش کر دیتے اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمھارے رب کے یہاں صرف پرہیز گاروں کے لۓ ہے ] ( الزخرف ٣٢، ٣٥)

ادھرایک صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :

[ جس نے اس دنیا میں ریشمی لباس زیب تن کیا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا ] ۔ ( بخاری و مسلم )

اور صحیح بخاری و مسلم میں ہی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

[ ریشم اور دیباج ( موٹا ریشمی کپڑا ، استبرق ) نہ پہنو ، نہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھاؤ اور نہ ہی پیو ، یہ کفار کے لۓ اس دنیا میں ہیں اور تمھارے لۓ آخرت کی زندگی میں ہیں ] ( بخاری و مسلم )

اور صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :

[ جس نے اس دنیا میں شراب پی ، اسے آخرت میں شراب ( طہور ) پینے کو نہیں ملے گی ] ( بخاری و مسلم )

جبکہ آخرت کی وہ شراب طہور تو پینے والوں کے لۓ ایک پاکیزہ و لذت دار چیز ھو گی ۔
[ جس سے نہ تو ان کے سر درد بوجھل ھونگے اور نہ ہی ان کی عقلیں زائل ھونگی ] ( الواقعہ ۔١٩)

یہ آخرت کی شراب ھو گی کہاں وہ پاکیزہ شراب اور کہاں یہ دنیا والی شراب جو ایک نجس و پلید ، شیطانی فعل ہے اور وہ اس سے مومن لوگوں کے مابین عداوت و دشمنی اور رنجشیں پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس کے ذریعے انھیں ذکر الہی اور نمازوں سے روکتا ہے ۔ یہ ساری قباحتیں اسی دنیوی شراب میں پائی جاتی ہیں ۔

زینت دنیا : کتاب الزھد امام احمد میں امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا :

[ اگر مجھے نیکیوں کے کم ھو جانے کا ڈر نہ ھوتا تو میں بھی تمھارے ساتھ عیش و آرام کی زندگی میں شریک ھو جاتا لیکن میں نے ارشاد خداوندی سنا ہے کہ اس نے ایک قوم کو عار دلاتے ھوۓ فرمایا ہے

[ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کر چکے اور ان سے متمتع و مستفید ھو چکے ھو آج تمھارے لۓ ذلت و رسوائی کا عذاب ہے ۔ یہ اس کی سزا ہے کہ تم زمین میں ناحق غرور اور فسق و فجور کیا کرتے تھے ] ۔ ( الاحقاف ۔٢٠ )

امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ عليہ نے بعض سلف صالحین امت کا جو قول نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے جو فلسلفۂ عطاء و انکار بیان کیا ہے اس کی صحت و سچائی پر ھماری آج کی موجودہ حالت میں واضح دلائل اور روشن براھین موجود ہیں ۔ کتنے ہی ایسے لوگ کئی امیدیں لگاۓ بیٹھے ہیں کہ اگر ان کی وہ سب امیدیں برآئیں تو ان کا نتیجہ سواۓ نقصان کے کچھ نہ ھو ۔ اور ان کی کوششوں کے بدلے میں انھیں حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگے ۔ اور کتنے ہی ایسے لوگ وہ ہیں جو اگر اپنے ارادوں میں کامیاب ھو جائیں تو انکی وہ ظاھری کامیابی ان کی شکست و ناکامی کا سبب بن جاۓ اور وہ اس کی تلخی کے گھونٹ بھرتے رہ جائيں ۔

پسندیدہ و ناپسندیدہ :

اسی لۓ اللہ تعالی نے لوگوں کی نظریں اس حقیقت کی طرف مبذول کروائی ہیں کہ بندہ دنیا کی بعض چیزوں کو دل و جان سے چاہتا ہے مگر وہ اس کے لۓ وبال جان ھوتی ہیں اور بعض چیزوں کو وہ دل سے ناپسند کرتا ہے مگر وہ اس کے لۓ بہت ہی بہتر اور اھم ھوتی ہیں ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

[ ( مسلمانو ! ) تم پر ( اللہ کی راہ میں ) لڑنا فرض کر دیا گیا ہے وہ تمھیں ناگوار تو ھو گا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تمھیں بری لگے مگر وہ تمھارے حق میں بھلی ھو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تمھیں بھلی لگے اور وہ تمھارے لۓ مضر ھو ، اور ( ان باتوں کو ) اللہ تعالی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ] ۔ ( البقرہ ۔٢١٦)

ایک امتحان :

اللہ تعالی نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو مالدار لوگوں کے پاس پائي جانے والی دنیا کی زیب و زینت کی حقیقت کو بطور مثال بیان فرمایا ہے :

[بیشک فخر و ستائش اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب و خواہش ہے ( اس کی مثال ایسی ہے ) جیسے بارش کہ ( اس سے کھیتی اگتی ہے اور ) کسانوں کو بھلی لگتی ہے ، پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر ( اسے دیکھنے والے ! ) تو اسے دیکھتا ہی کہ وہ ( پک کر ) زرد ھو جاتی ہے ، پھر چورا چورا ھو جاتی ہے ۔ اور آخرت میں ( کافروں کے لۓ ) عذاب شدید اور ( مومنوں کے لۓ ) اللہ کی طرف سے بخشش و خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے ] ۔ ( الحدید ۔٢٠)

مذمت دنیا سے مراد ؟

اللہ والو ! اھل علم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کتاب و سنت میں جو دنیا کی مذمت وارد ھوئی ہے ، اس سے مراد اس دنیا کا زمانہ و وقت نہیں جو کہ شب و روز کی شکل میں قیامت تک یکے بعد دیگرے مسلسل آتے جاتے رہیں گے ۔ اللہ تعالی نے ان دونوں کو ایک دوسرے کے پیچھے اس لۓ لگا رکھا ہے کہ لوگ انھیں دیکھ کر نصیحت حاصل کریں اور پھر اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں ۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا تھا :

[ یہ شب و روز دو خزانے ( سیف ) ہیں ، اب دیکھو کہ تم ان میں کیا جمع کرتے ھو ]

اسی طرح دنیا کی مذمت سے اس کی جگہ کی مذمت بھی مقصود نہیں جو کہ یہ زمین ہے جسے اللہ نے بنی آدم کے لۓ گہوارہ و رہائش بنایا ہے ۔

ایسے ہی اس زمین میں اللہ تعالی نے جو چیزیں ودیعت کی ہیں وہ بھی اس مذمت سے مراد نہیں ہیں جیسے پہاڑ ، سمندر ، دریا نہریں اور معدنیات ( سونا و چاندی وغیرہ ) ہیں ۔

وہ چیزیں بھی اس مذمت میں نہیں آتیں جو اللہ نے اس زمین سے اگائی ہیں جیسے فصلیں ہیں اور درخت ہیں ۔

نہ ہی وہ چیزیں بھی اس مذمت کے تحت آتی ہیں جو اللہ نے اس زمین میں پھیلائی ہیں جیسے حیوانات وغیرہ ہیں۔

یہ سب چیزیں تو بندوں پر اللہ کی نعمتیں ہیں اور ان میں اس نے ان کے لۓ بڑے فوائد و منافع رکھے ھوۓ ہیں اور ان کی تو اس کائنات کے خالق و مالک کے وجود و وحدانیت اور اس کی قدرت و عظمت کے دلائل و براھین ھونے کے اعتبار سے ایک بہت بڑی حیثیت ہے ۔

مذمت دنیا سے مراد دنیا میں بنی آدم کے افعال قبیحہ کی مذمت ہے کیونکہ ان کے اکثر افعال ایسے واقع ھوتے ہیں کہ جن کے انجام قابل تعریف نہیں ھوتے اور نہ ہی ان سے کوئی مفادات واقع ھوتے ہیں ۔

اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے ذریعے دار آخرت طلب کرو اور دنیا سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کرو ۔