PDA

View Full Version : آج کے مسلمان



بلال جٹ
05-13-2011, 07:08 PM
جنت کے مزے تم کیوں بھول جاتے ہو

عارضی دنیا کے پچھے دن رات سر کھپاتے ہو

کانوں میں رس گھولتی تلاوت قران کو چھوڑ کر

موسیقی کی دھن پر تم خوب تھر تھراتے ہو

تلواروں کے سائے میں اے گنگنانے والوں

توپوں کی گھن گرج سے آج گھبرا سے تم جاتے ہو

سنت نبوی کو چھوڑ کر، تہذیب مغرب کو تھام کر

روشن خیالی کی دعوت تم گھر گھر پہنچاتے ہو

معاذ معوذ کے کھیل کو اپنانے کے بجائے

گلی گلی ، نگر نگر کرکٹ کی دھوم مچاتے ہو

وہ خآلد و ضرار، وہ طارق و ٹیپو

ان فاتحین کو کیوں آئیڈیل نہیں بناتے ہو

ابو بکر و عمر کا تعارف نہیں تمھیں

اداکاروں اور فنکاروں کے فر فر نام گنواتے ہو

برگروں پر پل کر بن رہے ہو مہذب

زندگی ہوٹلوں میں گزار کر ، اسپتال مرنے جاتے ہو

یہ شادی کی رسمیں، یہ سالگرہ کی دعوت

بنانے کے لئے جھوٹی شان ، پیسہ خوب بہاتے ہو

ٹوپی و برقعہ کو گالی بنا لیا ہے

نوجوان کی داڑھی دیکھ کر خوب مذاق اُڑاتے ہو

درد رکھتے ہو اگر فلسطین و چیچنیا کا تم

"مرحبا" کہتے ہی مہماں کو، کیوں پیپسی و کوک پلاتے ہو

کشمیر کی ماؤں بہنوں کو بھول گئے ہو تم

بلند آواز کر کے انڈین گانے چلاتے ہو

سمجھ لیا ہے تم نے سلام کو دقیانوسی

"ہائے " "ہیلو" کہتے ہوئے مسکرا کر ہاتھ ملاتے ہو

بس اے مسلماں! اُٹھا کر اب ہتھیار کفر کو پکار

پہنچا دے ان تک اپنی یہ للکار

ہم سنت کے متوالوں نے اُٹھا لی ہے تلوار

تہذیب مغرب کو پھینکتے ہیں سمجھ کر شئی بے کار

admin
05-14-2011, 02:21 AM
بہت خؤب بلال صاحب ، ماشاء اللہ اچھی نظم لکھی
مسلمانوں کے لیے ایک رھنما تحریر ہے ،
جزاک اللہ خیرا