PDA

View Full Version : پاکستان کی تاریخ



سقراط
05-14-2011, 06:11 PM
اسلامی جمہوریہ پاکستان
اسلامی جمہوریہ پاکستان مملکت خداداد ہے یعنی ایک ایسا ملک جو خدا کے نام پر حاصل کیا گیااور جو خدا نے اپنے نام پر ہمیں عطا کیا۔رمضان کا مہینہ شب مقدس و قدر بروز جعمرات 14 اگست 1947 کی وہ صبح کتنی مبارک تھی کیسی مقدس تھی رات 12 بجے ہی پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کا اعلان کیا جاچکا تھا ہر چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا ہر چہرہ نور سے روشن تھا ہر نفس آزادی کی نعمت سے لطف اندوز ہو رہا تھااور یوں پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرنے والی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست تھی اور اِسکی پہلی رات مقدس ترین رات شب قدر تھی اور پاکستان کا پہلا دن مقدس ترین دن یعنی جمعہ تھا لوگ کہتے ہیں جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے اور میں کہتا ہوں جمہوریت ایک بہت بڑا کرشمہ ہے صرف سات سال کی پر امن تحریک ایک گولی چلائے بغیر ایک قطرہ خون بہائے بغیر صرف جمہوری طریقے سے اپنی جائز بات منوائی گئی ایسے قائد کو پھر کوئی کیسے نہ سلام کرے ہم کتنے بدنصیب لوگ ہیں کہ اِسے اجلے دامن اور مخلص شخص پر بھی الزامات لگاتے خوف نہیں کھاتے دنیا میں آزادی کی کتنی ہی تحریکیں چلی ہیں اور چل رہی ہیں کوئی ایک تحریک ہی ایسی بتادیں کوئی ایک ایسا قائد ہی دکھا دیں ۔ تاریخ کو چھوڑیئے آج جب کہ دنیا گلابل ولج بن چکی ہے لمحے بھر میں ہی خبر دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جاتی ہیں کتنی ہی تحریکیں ہیں جو اتنی پر امن ، جمہوری یا اسلامی ہیں۔ کوئی ایک بھی نہیں۔
پاکستان شیخ ڈاکٹر و علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ کا خواب تھاایک ایسا خواب جسے صرف مومن آنکھیں ہی دیکھ سکتی تھی ایک مومن دل ہی ایسی خواہش کر سکتا تھا اور ایک مومن ہی اِس خواہش کو پایا تکمیل تک پہنچا سکتا تھا ورنہ تو اُس وقت بڑے بڑے علماء موجود تھے ، مولانا آزاد، مولاناعبید اللہ سندھی ، مولانا مودودوی ، اور دیگراور اکثریت نے تو پاکستان کی مخالفت کی تھی یہ محمد علی جناح ہی تھے جن پر اقبال رحمۃ اللہ کی نظر پڑی جو کلین شیو تھے جو انگریزی لباس پہنتے تھے جو انگریزی زبان دیسی زبان سے بہتر بولتے تھے مگر مومن دل رکھتے تھے اور اِس کی صالحیت رکھتے تھے کہ اُس تحریک کی قیادت کر سکیں اقبال رحمۃ اللہ جو گھر سے کچہری جانے مین بھی کوفیت محسوس کرتے تھے وہ مھمد علی جناح کو منانے اور مسلمانون کی قیادت سونپنے خود کئی سو میل کا فاصلہ طے کر کے اُنکے پاس گئیے اُنہیں منایا اور تحریک کی قیادت اُن کے ہاتھ سونپ دی اور پھر دنیا نے دیکھا اقبال رحمۃ اللہ کا انتخاب بلکل درست تھا محمد علی جناح ہی وہ شخص تھا جو اِس قافلے کا امیر ہو سکتا تھا اور یہ قافلہ کن کا تھا، مومنین کا تو مومنین کے قافلے کی قیادت کسی مومن کو ہی سونپی جاسکتی ہے غیر مومن یا غیر صالح تو اِس کے اہل ہی نہیں ہیں اسی لیے تو آج ہم لوگ دن بدن تنزلی کا شکار ہیں کیونکہ آج ہماری قیادت غیر صالح لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔
میں چونکہ ادیب نہیں ہوں اورشاید اِسی لیے اپنے اصل موضوع سے ہٹ گیا ہوں اِس لیے اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔

پاکستان کی جغرافیائی تاریخ : -
پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو اُس وقت پاکستان میں اُس وقت پاکستان کے حصے میں بلوچستان سندھ ، سرحد اور پنجاب اور مشرقی پاکستان شامل تھے مگر اُس وقت بلوچستان میں قلات، خاران ، مکران ، گوادر اور لسبیلہ کی ریاستیں شامل نہیں تھی اور یہ موجودہ بلوچستان کے آدھے سے زیادہ رقبہ تھا پنجاب میں بھاولپور کی ریاست بھی شامل نہیں تھی سندھ میں خیر پور نہیں تھااور سرحد میں چترال ہنزہ دیر، نگر ، گلگت و بلتستان اور سوات کی ریاستیں شامل نہیں تھی اِن سب ریاستوں نے بعد میں پاکستان سے الحاق کیا تھا جبکہ موجودہ ہندوستانی گجرات کی ایک ساحلی ریاست جونا گڑھ ہندو اکثریت والی ریاست تھی مگر وہاں کے نواب مہابت خان جی نے شروع ہی سے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا اُس وقت جونا گڑھ کے دیوان سر شاہنواز بھٹو تھے جو مرحوم ذوالفقاربھ ٹو کے والد تھے جونا گڑھ 15 ستمنر 1947 سے 9 نومبر 1947 تک صرف کچھ دن ہی پاکستان کا حصہ رہی بعد میں وہاں ایک مبینہ بغاوت ہوئی جسکے بعد نواب مہابت خان تو بھاگ کر پاکستان آگئے مگر دیوان سر شاہنواز بھٹو نے ہندوستان کی حکومت سے فوجی مدد مانگی جسے پاکستان کی حکومت نے سخت ناپسند کیا گیا بعد میں وہاں ریفرینڈدم کروایا گیا اور صرف 91 ووٹ ہی پاکستان کے حق میں پڑے اور یوں جونا گڑھ ہندوستان کا حصہ قرار پائی۔

پنجاب :-

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، اور رقبے کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ ہے جس کا رقبہ 205344 مربع کلومیٹرہے ملک کی تقریبا 48 فیصد آبادی پنجاب میں رہتی ہے اور ملک میں بولی والی زبانوں میں پنجابی کا حصی بھی کم و بیش 48 فیصد ہی ہے۔لفظ پنجاب فارسی کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے پنج اور آب، پنج کے معنی پانچ اور آب کے معنی پانی یعنی ایسی سرزمین جسے پانچ بڑے دریا سیراب کرتے ہیں جن کے نام جہلم، ستلج، راوی، بیاس، اور چناب ہیں ۔ لاھور صوبائی دارلخلافہ ہے اور بڑے شہروں ملتان، فیصل آباد، گجرانوالہ، سیالکوٹ، اور راولپنڈی ہیں ۔پنجاب کے اکثر علاقے سردیوں میں کافی ٹھنڈے ہوجاتے ہیں مری مین تو باقاعدہ برف بھی ہوتی ہے اور مون سون کی بارشیں الگ سماں باندھتی ہیں مگر کچھ علاقے انتہائی گرم بھی ہیں جن میں ملتان سرِ فہرست ہے۔

پنجاب میں اسلام کی آمد :-

اسلام سے پہلے پہلے پنجاب میں کئی مذاہب تھے جن میں بدھسٹ ، زرتشتی ، شمنسٹ اور ہندو اکثریت میں تھے 711 عیسوی میں محمد بن قاسم نے سندھ کے ساتھ پنجاب کا بھی کچھ علاقہ فتح کیا ملتان میں تو اُسکی یادگار آج تک موجود ہے اُسکے بعد کچھ عرب مسلمان پنجاب آکر بس گئے مگر اُنکی حالتِ زار اچھی نہیں تھی پھر جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملے شروع کئے تو ایک بڑی تعداد میں افغان مسلمان اُسکے ساتھ پنجاب آئے مھمود غزنوی نے بھی لاھور ہی کو اپنے مفتوحی علاقوں کا درالخلافہ بنایا تھا اور لاھور ہی میں اپنے گورنر مقرر کئے تھے مگر پھر غزنی کے اندرونی حالات کی وجہ سے اُسے وآپس جانا پڑا۔
پنجاب کی ایک خاصیت یہ بھی رہی ہے کہ اپنی زرخیزی کے سبب یہ خطہ ہمیشہ بیرونی حملہ آورں کے لیے کشش رکھتا رہا ہے، کبھی مقدونی یا یونانی ، کبھی افغان، کبھی مغل، کبھی ترک، اور کبھی ایرانی، ہرطالع آزما نے اپنی سی کوشش کی اور کئی اپنی کوششوں میں کامیاب بھی رہے، اور پنجاب بھی یونانی سلطنت کا حصہ رہا تو کبھی ایرانی، کبھی افغان غالب آئے تو کبھی ترک، کبھی سکھ قابض ہوئے تو کبھی انگریز۔ 1524 ء سے 1539ء تک یہ خطہ مکمل طور پر مغل سلطنت کے زیرِ اثر تھا مغلوں نے بھی لاھور کو ہی پایہ تخت بنائے رکھا آج بھی لاھور میں مغلوں کی بنائی ہوئی کئی عمارتیں موجود ہیں جن میں شالیمار باغ اور بادشاہی مسجد قابل ذکر ہیں۔
مغلوں کے بعد پنجاب پر افغان قابض ہوئے ملتان میں پیدا ہونے والا ایک نوجوان پٹھان احمد شاہ درانی نے 1539ء میں پنجاب پر اپنی حکومت قائم کر لی مگر یہ حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہی سکی۔
سکھ ازم سولھویں صدی کے ابتداء میں پیدا ہوا اور انتہائی تیزی سے پنجاب میں پھیلا اور 1562 میں سکھ رنجیت سنگ نامی ایک شخص کی قیادت میں پنجاب پر قابض ہوگئے رنجیت سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ بن گیا۔
1839 میں پجناب انگریزوں کے تسلط میں چلا گیا جو اگست 1947 تک رہا۔

تقسیمِ پنجاب : -

تقسیم ہند کے وقت پنجاب وہ واحد صوبہ تھا جو سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا، مسلمانوں کا خیال تھا کہ مسلم اکثریت والے صوبے پاکستان مین شامل کئے جائینگے اور پورا پنجاب بشمول دہلی پاکستان کا حصہ بنے گا مگر لارڈ ماؤنٹ بیٹن سخت متعصب شخص* تھا دراصل وہ ہدوستان کی تقسیم چاہتا ہی نہیں تھا بلکہ خود پورے ہندوستان پر گورنر جنرل بن کر حکومت کرنا چاہتا تھا مگر قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ نے آزادی سے کم کسی شے پر بات کرنے سے ہی انکار کر دیا تو اُس نے اِس کا بدلہ ہندوستان کو نہایت ہی عجیب و غریب طریقے سے تقسیم کر کے لیا پنجاب کی تقسیم بھی مسلم اور غیر مسلم کی شرط پر 1941 کی مردم شماری کے مطابق ہوئی اور یہی نہیں بلکہ اِس تقسیم میں بھی بڑی ڈنڈی ماری گئی ہندو اور سکھ اُسے اپنا گورنر جنرل ماننے کے لیے تیار تھے سو اُس نے زیادہ سے زیادہ علاقہ ہندوستان میں شامل کر لیا۔ پنجاب کی تقسیم پر سکھ سخت مشتعل ہوئے اُن کے لیڈر ماسٹر تارہ سنگھ نے نعرہ لگایا جو مانگے گا پاکستان اُسکو دینگے قبرستان اور پھر اُنہوں نے یہی کیا خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی کی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں بھی نہیں ملتی مسلمان ہندوؤں کی بنسبت سکھوں کے زیادہ قریب تھے اُنکی زیادہ دوستیاں سکھوں کے ساتھ ہی تھی مگر یہی دوست سب سے برے دشمن بن گئے معصوم اور نہتے لوگوں کو قتل کیا گیا عصمتیں پامال کی گئی اور ایسا کون سا ظلم تھا جو سکھون نے مسلمانوں پر نہیں ڈھایا آج مجھے یہ سوچ کر ہی شرم آتی ہے کہ ہم لوگوں نے اپنی تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا ہم اپنی آزدی کی تقریبات بھی فحش ناچ گانوں اور بے ہودہ رسموں کو ادا کر کے مناتے ہیں اُنہیں ہندوؤں اور سکھوں کے گانوں پر بھنگڑے ڈالتے ہیں کہیں دلیر مہندی چیخ رہا ہوتا ہے تو کہیں کوئی اور سکھ ، آج ہمیں وہ مّصوم بچے یاد نہیں آتے جنہیں ترشولوں اور کرپانوں پر اُچھالا گیا تھا وہ معصوم بہنیں نظر نہیں آتی جن کی عصمتیں ہوس کی شکار ہوئی، کیا یہی آزادی کا مطلب ہے؟ کیا ہع سال صرف 14 اگست کے دن ہی ہم صرف کچھ منٹ اُن ساڑھے چھ لاکھ لوگوں کی یاد میں سوگوار نہیں رہ سکتے؟

آصف احمد بھٹی

سیما
02-22-2013, 07:03 AM
یہ باتیں کسی کی سمجھ میں آنے والی نہیں
:smiley-angry019:

بہت بہت شکریہ

pervaz khan
02-22-2013, 02:44 PM
اچھی شئیرنگ کا شکریہ

انجم رشید
02-23-2013, 02:45 PM
بہت بہت شکریہ جناب