PDA

View Full Version : کون کہتا ہے کہہ موت آئی تو مر جاوں گا؟



سیما
05-15-2011, 07:20 AM
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا!
مَیں تو دریا ہوُں، سمندر میں اُتر جاؤں گا

تیرا در چھوڑ کے مَیں اور کدھر جاؤں گا
گھر میں گھر جاؤں گا، صحرا میں بِکھر جاؤں گا

تیرے پہلو سے جو اُٹھوں گا، تو مشکل یہ ہے
صِرف اِک شخص کو پاؤں گا، جِدھر جاؤں گا

اب تیرے شہر میں آؤں گا مُسافر کی طرح
سائیہ ابر کی مانند گُزر جاؤں گا

تیرا پیمانِ وفا راہ کی دیوار بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا، مر جاؤں گا

چارہ سازوں سے الگ ہے میرا معیار، کہ مَیں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا

اب تو خورشید کو ڈوُبے ہوُئے صَدیاں گُزریں
اب اسے ڈھوُنڈنے مَیں تا بہ سحر جاؤں گا

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوُں ندیمؔ
بُجھ تو جاؤں گا مرگ صُبح تو کر جاؤں گا

بےباک
05-15-2011, 10:07 AM
اب تو خورشید کو ڈوُبے ہوُئے صَدیاں گُزریں
اب اسے ڈھوُنڈنے مَیں تا بہ سحر جاؤں گا

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوُں ندیمؔ
بُجھ تو جاؤں گا مرگ صُبح تو کر جاؤں گا

بہت ہی زبردست ، خوب سیما صاحبہ

اذان
05-15-2011, 01:29 PM
زبردست بہت اچھی شیئرنگ
.........................................

خواب ،خواہش، واہمہ ہے زندگی
اک بھیانک حادثہ ہے زندگی
آج تک یہ مسئلہ سلجھا نہیں
میں خفا ہوں کہ خفا ہے زندگی

اذان
05-15-2011, 01:42 PM
شرف نہیں ہے جو
شرف نہیں ہے جو کسی کو جو آدمی کے لئے
فرشتے جھک گئے آدم کی بندگی کے لئے
فرشتہ راہ میں رُک جائے منزلت دیکھو
جگہ وہ عرشِ معظم پہ آدمی کے لئے
جسے ازل میں فرشتے قبول کر نہ سکے
وہ بارِ عشق رکھا رب نے آدمی کے لئے
ازل سے کوئی ہمارا نہیں خدا کے سوا
مخالفت کی فرشتوں نے آدمی کے لئے
میری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے
حضور شمع جلائیں نہ روشنی کے لئے
چمن میں برق کی یہ بے تکلفی دیکھو
کی جیسے میں نے بنایا تھا گھر اسی کے لئے
سنے جو ہجر کے شکوے تو ہنس کے فرمایا
نکل کے آئے تھے کیوں گھر سے عاشقی کے لئے
جب آپ بام پہ آئے ہیں پھر نقاب ہے کیوں
حضور چاند نکلتا ہے چاندنی کے لئے
نہ جانے سجدہ کس انسان کا نگاہ میں تھا
وگرنہ کم نہ تھے فرشتے نہ بندگی کے لئے
قمرؔ یہ ہجر کا دن کس طرح گزارو گے
کہ رات کے تو ستارے تھے رات ہی کے لئے

نگار
04-01-2012, 01:07 PM
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا!
مَیں تو دریا ہوُں، سمندر میں اُتر جاؤں گا

تیرا در چھوڑ کے مَیں اور کدھر جاؤں گا
گھر میں گھر جاؤں گا، صحرا میں بِکھر جاؤں گا

تیرے پہلو سے جو اُٹھوں گا، تو مشکل یہ ہے
صِرف اِک شخص کو پاؤں گا، جِدھر جاؤں گا

اب تیرے شہر میں آؤں گا مُسافر کی طرح
سائیہ ابر کی مانند گُزر جاؤں گا




بہت ہی خوبصورت اشعار ہیں یہ۔۔۔ شکریہ آپکا