PDA

View Full Version : یادوں کے دریچے



عبادت
05-20-2011, 02:06 AM
یادوں کےدریچوں کو ذرا کھول کے دیکھو

یادوں کےدریچوں کو ذرا کھول کے دیکھو
ہم لوگ وہی ہیں کے نہیں ، بول کے دیکھو

ہم اوس کے قطرے ہیں کے بکھرے ہوے موتی
دھوکا نظر آے تو ہمیں رول کے دیکھو

کانوں میں بڑی دیر تک گونج رہے گی
خاموش چٹانوں سے کبھی بول کر دیکھو

ذرے ہیں مگر کبھی کم نہیں پاو گے کسی سے
پھر جانچ کے دیکھو ہمیں ، پھر تول کے دیکھو

سُقراط سےانسان ابھی ہیں کہ نہیں رام
تھوڑاساکسی جام میں بس گھول کےدیکھو

این اے ناصر
05-20-2011, 11:04 PM
واہ جی واہ بہت زبردست.شکریہ

تانیہ
05-22-2011, 02:20 AM
واہ
تھینکس فار شیئرنگ