PDA

View Full Version : اسامہ کی لاش کی قیمت....6 ٹریلین ڈال



سیما
05-22-2011, 02:15 PM
میں نی8 سال پہلے 2003ءمیں اس موضوع پر انگریزی میں ایک مضمون لکھا تھا جو بہت سارے نیٹ اخبارات، ایشیا ٹائمز وغیرہ کے علاوہ روزنامہ ڈان میں بھی چھپا۔ڈان اخبار نے اس کی سرخی یہ لگائی تھی:9/11: Is it the end of US economic supremacy? ایشیا ٹائمز میں قارئین کے خطوط میں اس کے حق اور مخالفت میں کافی بحث و تمحیص بھی ہوئی تھی۔ اب اسامہ بن لادن کی شہادت کے بعد گزشتہ دس سال کا جائزہ لیتے ہوئے CNNMONEY نے جو اعداد و شمار اور جائزہ شائع کیا ہی، اس سے میری 8 سال پہلے کی پیش قیاسی کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایشیائی ممالک، خصوصاً بھارت اور چین کی تیز رفتار ترقی اور امریکا کی سست رفتاری بھی میری 8 سال پہلے کی باتوں کو صحیح ثابت کرتی ہے۔13 مئی کے ٹورنٹو اسٹار میں بھی David Olive کا اسی نوعیت کا مضمون اور اس کی تائید میں قارئین کے تبصرے شائع ہوئے ہیں کہ اسامہ بن لادن امریکا کو اقتصادی طور پر دیوالیہ کرنے میں کامیاب رہا۔ میں نے اس سلسلے کے سارے مضامین جو زیادہ تر ایشیا ٹائمز میں شائع ہوئے تھی، ان سب کے مجموعہ کو انگریزی میں ایک کتاب کی شکل میں بھی شائع کیا ہے۔ اس میں اسامہ کی شہادت سے متعلقہ تفصیلات اور اپنے علاوہ دیگر مسلمان دانشوروں کے مختصر تبصرے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ابھی تک میری 20کتابیں بھی، جو پرانے شائع شدہ مضامین کے مختلف مجموعوں پر مبنی ہیں، دنیا کے سب سے بڑے اور نامور کتب فروشAMAZON.COM کے Kindler ایڈیشن کے طور پر شائع ہوچکی ہیں۔ اس کتب فروش کی ویب سائٹ کے علاوہ اگر آپ میرا نام "Hussain Khan M. A. Tokyo" کے انداز میں Google یاYahoo کے سَرچ انجن میں ڈال کر ڈھونڈیں تو ان شاءاللہ آپ کو میری ساری کتابوں کے لِنک جلد مل جائیں گے۔ ٹورنٹو اسٹار نے ڈیوڈ اُولیو کے مضمون کی سرخی یہ لگائی ہے : ”اسامہ بن لادن امریکا کا دیوالیہ نکانے کے مقصد کے قریب پہنچ گئے“ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ 9/11 کے واقعات کو رُوبہ عمل لانے کے لیے اسامہ بن لادن کو اپنی جیب سے کتنا خرچ کرنا پڑا، اس کا حتمی فیصلہ کرنا تو ناممکن ہے لیکن ایک متفقہ اندازے کے مطابق ان کے 5 لاکھ ڈالر یا آجکل کینیڈا کے شہر وینکوور میں ایک گھر خریدنے پر جتنی رقم درکار ہوتی ہی، اس کے برابر ان کی رقم لگی ہوگی۔ ایک گھر خریدنے کے برابر اپنے پیسے لگاکر اسامہ نے دونوں جنگوں اور ان کی تلاش میں لگائی جانے والی امریکا کی رقم گزشتہ دس سال میں کتنی رہی ہوگی؟عالمی بینک کے سابق چیف اکنامسٹ اورنوبل پرائز حاصل کرنے والے جوزف اسٹگلٹز اور لِنڈا بلمس، جو ہارورڈ یونیورسٹی کے جان ایف کینیڈی حکومتی اسکول کی لیکچرار ہیں، نے مل کر ایک کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے عراق اور افغانستان پر اب تک جو خرچ آیا ہے اس کا تخمینہ تیار کیا ہے اور یہ 6 ٹریلین ڈالر ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسامہ نے ایک گھر کی قیمت کے عوض امریکا کے 6 ٹریلین ڈالر ضائع کروا دیئے۔ مسٹر اُولیو لکھتے ہیں کہ ”دہشت گردی“ کی تاریخ میں اس سے بہتر سرمایہ کاری کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ امریکا نے ضرورت سے زیادہ ایک جذباتی ردعمل کا اظہار کرکے اپنے پیروں پر آپ کلہاڑی ماری ہے۔ اسامہ کی توقعات سے بہت زیادہ ردعمل کا اظہار کرکے امریکا نے اسامہ کے مقصد کی تکمیل کی ہے۔ اپنے آپ کو دس سال میں دیوالیہ کے قریب پہنچانے کے بدلے میں امریکا کو کیا ملا؟ اسامہ بن لادن کی مردہ لاش! امریکا کو دس سال کے دیگر جانی، مالی، اقتصادی اور سیاسی نقصانات کے علاوہ اس ایک لاش کی قیمت 6 ٹریلین ڈالر سے زائد ادا کرنی پڑی۔ امریکا کو یہ سودا بہت مہنگا پڑا۔ کیا اس ایک لاش کو سمندر میں پھینک کر امریکا اپنے آپ کو اقتصادی دیوالیہ سے بچا سکتا ہی؟ مسٹراولیو لکھتے ہیں کہ اسامہ کا مقصد شروع ہی سے امریکا کا دیوالیہ نکالنا تھا، جیسا کہ انھوں نے پہلے سوویت یونین کا دیوالیہ نکالا تھا۔ اسامہ نے سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کو ناکام بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا تھا۔ افغانستان میں اپنی دس سالہ جنگ سے ناکام و نامراد واپس لوٹنے کے 3 سال کے اندر ہی سوویت یونین بحیثیت ایک سلطنت کے 1991ءمیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر ختم ہوگیا تھا۔ بن لادن نے اپنی 2004ءکی ایک ویڈیو میں واضح طور پر یہ بتادیا تھا کہ اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک امریکی اثاثوں پر جو بھی کاری ضرب لگائی جائے گی، اس کے نتیجے میں یہ ہمارا تو کوئی خاص نقصان نہیں کرسکیں گے لیکن امریکا کے فوجی جنرل پاگل کتوں کی طرح ایسی بے سروپا حرکتیں کریں گے جن کے نتیجے میں امریکا بے شمار اور ان گنت ناقابلِ تلافی انسانی، اقتصادی اور سیاسی نقصانات سے دوچار ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف جنگی سامان بنانے والی کمپنیوں ہی کو ہوگا۔مسٹر اولیو مزید لکھتے ہیں کہ ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اسامہ بن لادن اپنے ان مقاصد میں سو فی صد کامیاب رہے۔ دنیا کی سب سے بڑی سپر طاقت کو اقتصادی طور پر زبردست نقصان پہنچانے والے کی پہچان اسامہ بن گئے۔9/11 کے واقعات کے ردعمل کے طور پر اُس وقت کے امریکی صدر بش نی2000ءکی دہائی میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے 1.4 ٹریلین ڈالر کے خرچ پر اندرونِ ملک کی حفاظت کے نام پر ایک نیا محکمہ قائم کیا۔ اس محکمہ میں اتنی بڑی حکومتی بیوروکریسی تھی کہ 1947ءسے اب تک محکمہ دفاع کے علاوہ کبھی کہیں اتنی بڑی بیوروکریسی دیکھنے میں نہیں آئی۔ واشنگٹن پوسٹ کی پچھلے سال کی ایک رپورٹ کے مطابق ناقص کارکردگی کا اس سے بڑا شاہکار کہیں نہیں ہوگا۔ اس محکمہ کے اندر1271 ایجنسیاں بنائی گئی ہیں جن کا کام دہشت گردی کے خلاف معلومات فراہم کرنا اورکارروائیاں کرنا ہے۔ ان میں سے 51 کا کام صرف دہشت گردی کے خلاف مالی وسائل کی فراہمی ہے۔ اس محکمہ سے سالانہ 50000 خفیہ رپورٹیں جاری کی جاتی ہیں۔ اس کے متعلقہ افسروں کو ان رپورٹوں کا عشرِعشیر بھی پڑھنے کا وقت نہیں ہوتا۔ مسٹر اولیو مزید لکھتے ہیں کہ امریکا نے 9/11 کے واقعات کے ردعمل کے طور پر افغانستان پر حملہ کیا لیکن تورابورا کی جنگ میں اسامہ کو فرار کا موقع دیا گیا۔ اس کے بعد امریکا نے جلدی میں عراق پر حملے کی حماقت کردی۔ ویت نام جنگ کے بعد چار دہائیوں میں یہ امریکی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ ان سب کا نتیجہ کیا حاصل ہوا؟ جیسا کہ اسامہ نے کہا ہے چند امریکی کمپنیوں کو اندھادھند فائدہ ہوا۔ ڈرون جہازوں کی ٹیکنالوجی میں اورہیلی برٹن اور بلیک واٹر جیسی کمپنیوں کے منافعوں میں غیر معمولی اضافہ، امریکا کی ساکھ میں بے انتہاءکمی، مسلم دنیا میں امریکا کے خلاف نفرت میں اضافہ اور ان سب کے نتیجے میں امریکی معیشت دیوالیہ کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ اسامہ کی لاش کی قیمت....6 ٹریلین ڈالر حسین خاں .... ٹوکیو میں نی8 سال پہلے 2003ءمیں اس موضوع پر انگریزی میں ایک مضمون لکھا تھا جو بہت سارے نیٹ اخبارات، ایشیا ٹائمز وغیرہ کے علاوہ روزنامہ ڈان میں بھی چھپا۔ڈان اخبار نے اس کی سرخی یہ لگائی تھی:9/11: Is it the end of US economic supremacy? ایشیا ٹائمز میں قارئین کے خطوط میں اس کے حق اور مخالفت میں کافی بحث و تمحیص بھی ہوئی تھی۔ اب اسامہ بن لادن کی شہادت کے بعد گزشتہ دس سال کا جائزہ لیتے ہوئے CNNMONEY نے جو اعداد و شمار اور جائزہ شائع کیا ہی، اس سے میری 8 سال پہلے کی پیش قیاسی کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایشیائی ممالک، خصوصاً بھارت اور چین کی تیز رفتار ترقی اور امریکا کی سست رفتاری بھی میری 8 سال پہلے کی باتوں کو صحیح ثابت کرتی ہے۔13 مئی کے ٹورنٹو اسٹار میں بھی David Olive کا اسی نوعیت کا مضمون اور اس کی تائید میں قارئین کے تبصرے شائع ہوئے ہیں کہ اسامہ بن لادن امریکا کو اقتصادی طور پر دیوالیہ کرنے میں کامیاب رہا۔ میں نے اس سلسلے کے سارے مضامین جو زیادہ تر ایشیا ٹائمز میں شائع ہوئے تھی، ان سب کے مجموعہ کو انگریزی میں ایک کتاب کی شکل میں بھی شائع کیا ہے۔ اس میں اسامہ کی شہادت سے متعلقہ تفصیلات اور اپنے علاوہ دیگر مسلمان دانشوروں کے مختصر تبصرے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ابھی تک میری 20کتابیں بھی، جو پرانے شائع شدہ مضامین کے مختلف مجموعوں پر مبنی ہیں، دنیا کے سب سے بڑے اور نامور کتب فروشAMAZON.COM کے Kindler ایڈیشن کے طور پر شائع ہوچکی ہیں۔ اس کتب فروش کی ویب سائٹ کے علاوہ اگر آپ میرا نام "Hussain Khan M. A. Tokyo" کے انداز میں Google یاYahoo کے سَرچ انجن میں ڈال کر ڈھونڈیں تو ان شاءاللہ آپ کو میری ساری کتابوں کے لِنک جلد مل جائیں گے۔ ٹورنٹو اسٹار نے ڈیوڈ اُولیو کے مضمون کی سرخی یہ لگائی ہے : ”اسامہ بن لادن امریکا کا دیوالیہ نکانے کے مقصد کے قریب پہنچ گئے“ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ 9/11 کے واقعات کو رُوبہ عمل لانے کے لیے اسامہ بن لادن کو اپنی جیب سے کتنا خرچ کرنا پڑا، اس کا حتمی فیصلہ کرنا تو ناممکن ہے لیکن ایک متفقہ اندازے کے مطابق ان کے 5 لاکھ ڈالر یا آجکل کینیڈا کے شہر وینکوور میں ایک گھر خریدنے پر جتنی رقم درکار ہوتی ہی، اس کے برابر ان کی رقم لگی ہوگی۔ ایک گھر خریدنے کے برابر اپنے پیسے لگاکر اسامہ نے دونوں جنگوں اور ان کی تلاش میں لگائی جانے والی امریکا کی رقم گزشتہ دس سال میں کتنی رہی ہوگی؟عالمی بینک کے سابق چیف اکنامسٹ اورنوبل پرائز حاصل کرنے والے جوزف اسٹگلٹز اور لِنڈا بلمس، جو ہارورڈ یونیورسٹی کے جان ایف کینیڈی حکومتی اسکول کی لیکچرار ہیں، نے مل کر ایک کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے عراق اور افغانستان پر اب تک جو خرچ آیا ہے اس کا تخمینہ تیار کیا ہے اور یہ 6 ٹریلین ڈالر ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسامہ نے ایک گھر کی قیمت کے عوض امریکا کے 6 ٹریلین ڈالر ضائع کروا دیئے۔ مسٹر اُولیو لکھتے ہیں کہ ”دہشت گردی“ کی تاریخ میں اس سے بہتر سرمایہ کاری کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ امریکا نے ضرورت سے زیادہ ایک جذباتی ردعمل کا اظہار کرکے اپنے پیروں پر آپ کلہاڑی ماری ہے۔ اسامہ کی توقعات سے بہت زیادہ ردعمل کا اظہار کرکے امریکا نے اسامہ کے مقصد کی تکمیل کی ہے۔ اپنے آپ کو دس سال میں دیوالیہ کے قریب پہنچانے کے بدلے میں امریکا کو کیا ملا؟ اسامہ بن لادن کی مردہ لاش! امریکا کو دس سال کے دیگر جانی، مالی، اقتصادی اور سیاسی نقصانات کے علاوہ اس ایک لاش کی قیمت 6 ٹریلین ڈالر سے زائد ادا کرنی پڑی۔ امریکا کو یہ سودا بہت مہنگا پڑا۔ کیا اس ایک لاش کو سمندر میں پھینک کر امریکا اپنے آپ کو اقتصادی دیوالیہ سے بچا سکتا ہی؟ مسٹراولیو لکھتے ہیں کہ اسامہ کا مقصد شروع ہی سے امریکا کا دیوالیہ نکالنا تھا، جیسا کہ انھوں نے پہلے سوویت یونین کا دیوالیہ نکالا تھا۔ اسامہ نے سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کو ناکام بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا تھا۔ افغانستان میں اپنی دس سالہ جنگ سے ناکام و نامراد واپس لوٹنے کے 3 سال کے اندر ہی سوویت یونین بحیثیت ایک سلطنت کے 1991ءمیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر ختم ہوگیا تھا۔ بن لادن نے اپنی 2004ءکی ایک ویڈیو میں واضح طور پر یہ بتادیا تھا کہ اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک امریکی اثاثوں پر جو بھی کاری ضرب لگائی جائے گی، اس کے نتیجے میں یہ ہمارا تو کوئی خاص نقصان نہیں کرسکیں گے لیکن امریکا کے فوجی جنرل پاگل کتوں کی طرح ایسی بے سروپا حرکتیں کریں گے جن کے نتیجے میں امریکا بے شمار اور ان گنت ناقابلِ تلافی انسانی، اقتصادی اور سیاسی نقصانات سے دوچار ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف جنگی سامان بنانے والی کمپنیوں ہی کو ہوگا۔مسٹر اولیو مزید لکھتے ہیں کہ ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اسامہ بن لادن اپنے ان مقاصد میں سو فی صد کامیاب رہے۔ دنیا کی سب سے بڑی سپر طاقت کو اقتصادی طور پر زبردست نقصان پہنچانے والے کی پہچان اسامہ بن گئے۔9/11 کے واقعات کے ردعمل کے طور پر اُس وقت کے امریکی صدر بش نی2000ءکی دہائی میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے 1.4 ٹریلین ڈالر کے خرچ پر اندرونِ ملک کی حفاظت کے نام پر ایک نیا محکمہ قائم کیا۔ اس محکمہ میں اتنی بڑی حکومتی بیوروکریسی تھی کہ 1947ءسے اب تک محکمہ دفاع کے علاوہ کبھی کہیں اتنی بڑی بیوروکریسی دیکھنے میں نہیں آئی۔ واشنگٹن پوسٹ کی پچھلے سال کی ایک رپورٹ کے مطابق ناقص کارکردگی کا اس سے بڑا شاہکار کہیں نہیں ہوگا۔ اس محکمہ کے اندر1271 ایجنسیاں بنائی گئی ہیں جن کا کام دہشت گردی کے خلاف معلومات فراہم کرنا اورکارروائیاں کرنا ہے۔ ان میں سے 51 کا کام صرف دہشت گردی کے خلاف مالی وسائل کی فراہمی ہے۔ اس محکمہ سے سالانہ 50000 خفیہ رپورٹیں جاری کی جاتی ہیں۔ اس کے متعلقہ افسروں کو ان رپورٹوں کا عشرِعشیر بھی پڑھنے کا وقت نہیں ہوتا۔ مسٹر اولیو مزید لکھتے ہیں کہ امریکا نے 9/11 کے واقعات کے ردعمل کے طور پر افغانستان پر حملہ کیا لیکن تورابورا کی جنگ میں اسامہ کو فرار کا موقع دیا گیا۔ اس کے بعد امریکا نے جلدی میں عراق پر حملے کی حماقت کردی۔ ویت نام جنگ کے بعد چار دہائیوں میں یہ امریکی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ ان سب کا نتیجہ کیا حاصل ہوا؟ جیسا کہ اسامہ نے کہا ہے چند امریکی کمپنیوں کو اندھادھند فائدہ ہوا۔ ڈرون جہازوں کی ٹیکنالوجی میں اورہیلی برٹن اور بلیک واٹر جیسی کمپنیوں کے منافعوں میں غیر معمولی اضافہ، امریکا کی ساکھ میں بے انتہاءکمی، مسلم دنیا میں امریکا کے خلاف نفرت میں اضافہ اور ان سب کے نتیجے میں امریکی معیشت دیوالیہ کی طرف بڑھتی چلی گئی۔

بےباک
05-23-2011, 09:51 AM
واہ سیما جی ، زبردست ، مضمون شئیر کیا ،
زبردست، شاندار معلومات آپ نے دیں

نورمحمد
05-23-2011, 04:46 PM
بہت خوب . ..