PDA

View Full Version : امریکا کا اگلا ہدف پاکستان کے ایٹمی اثاثی



سیما
05-22-2011, 02:39 PM
ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے امریکی ڈرامے کے بعد ہی یہ اندازہ ہورہا تھا کہ اب وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کا مسئلہ اٹھائے گا۔ جو کچھ شک و شبہ تھا امریکی اخبار نے وہ بھی دور کردیا ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستان میں جوہری اثاثوں کے تحفظ کے ممکنہ اقدامات نے امریکا کو پریشان کردیا ہے اور واشنگٹن انتظامیہ پاکستانی ایٹمی پروگرام روکنے کا مطالبہ تیار کرچکی ہے۔ یہ مطالبہ لے کر امریکی سینیٹر جان کیری پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جان کیری اپنے دورہ پاکستان میں 3 ارب ڈالر کی امریکی امداد روکنے کا انتباہ بھی دیں گے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جان کیری نے پاکستان، افغانستان کے دورے پر روانگی سے قبل صدر اوباما کے مشیر قومی سلامتی ٹام ڈونیکن اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ اوباما انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ جان کیری کے دورے کے دوران پاکستان کو سالانہ 3 ارب ڈالر کی امداد بند کرنے کی دھمکی دی جائے گی، جبکہ اسامہ بن لادن کے کمپاﺅنڈ سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر بھی دباﺅ بڑھایا جائے گا۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ پاکستان اسامہ کو پناہ دینے میں ملوث تھا، تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان سے مذاکرات میں جان کیری پاکستان کی اس بے یقینی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے کہ اسامہ کے مکان سے برآمد ہونے والے ڈیٹا میں کیا کچھ نکلا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پاکستان کے اعلیٰ رہنما اسامہ کی موجودگی سے واقعی بے خبر تھی، تاہم سرکاری اداروں میں موجود افراد پر شبہ ہے کہ وہ القاعدہ رہنما کے بارے میں آگاہ تھے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کا سب سے اہم انکشاف یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کے اقدامات پر امریکی انتظامیہ پریشان ہے اور جان کیری پاکستان میں ایٹمی اسلحے کی پیداوار روکنے کا مطالبہ کریں گی، چونکہ اراکین کانگریس یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان امریکی امداد جوہری اسلحے کی پیداوار بڑھانے کے لیے خرچ کررہا ہے۔ اخبار کا کہنا تھا کہ جان کیری پاکستان میں وہ معاملہ اٹھائیں گے جس پر اوباما انتظامیہ کھلے عام بات نہیں کرتی، پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار بڑھ گئی ہے اور اراکینِ کانگریس نے بند کمرہ اجلاسوں میں شکایت کی ہے کہ 3 ارب ڈالر کی سالانہ امداد دے کر امریکا پاکستان کو ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد دے رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جان کیری کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار جاری رکھی تو امداد خطرے میں پڑجائے گی۔ اخبار کے مطابق امریکا نے پاکستانی پارلیمنٹ کے احتجاج کو اہمیت نہیں دی تاہم بعض حکام کے بقول اوباما انتظامیہ یہ جاننے کے لیے الرٹ ہے کہ کہیں اسامہ بن لادن کے قتل کے بعد پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں اضافے اور ان کی ”ری پوزیشننگ“ تو نہیں کررہا۔ اخبار کے مطابق ایک عہدیدار نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ پر جاری بحث کے نتیجے میں پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کو پھیلا سکتا ہے اور ان میں اضافہ کرسکتا ہی، اور یہ نمایاں تشویش کی بات ہی، کیونکہ ایٹمی ہتھیار جتنے بکھرے ہوئے ہوں گے ان کے ”کھونے“ کا اتنا ہی ڈر ہوگا۔ادھر برطانوی اخبار سنڈے ایکسپریس نے انکشاف کیا ہے کہ اگر پاکستان کی جوہری تنصیبات کو دہشت گردوں سے خطرہ ہوا تو امریکا پاکستان میں اپنی فوج اتار دے گا، کیونکہ دہشت گرد اسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لینے کے لیے ان تنصیبات پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ صدر اوباما نے اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر فوجیوں کو کارروائی کا حکم دیں گے۔پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے آج سے ستاون، اٹھاون سال پہلے یہ خدشہ ظاہر کردیا تھا کہ امریکا مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ امریکا اور سوویت یونین کے علاوہ پاکستان اور بھارت کی جن شخصیات نے امریکی سازش اور منصوبے کی تکمیل میں حصہ لیا وہ سب غیر فطری طور پر ہلاک ہوکر دنیا سے رخصت ہوگئی، لیکن امریکا کی پالیسیاں جاری ہیں۔ وہ برسوں سے اسرائیل اور بھارت جیسے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی بلاوجہ سرپرستی نہیں کررہا ہے۔افغانستان پر حملے کے لیے امریکا نے اپنے دو شہروں پر حملے کا جو الزام لگایا تھا وہ آج تک اسے ثابت نہیں کرسکا ہی، بلکہ حملے کے ڈرامے پر عالمی برادری آج تک حیران و ششدر ہے کہ امریکا کے واشنگٹن اور نیویارک جیسے محفوظ شہروں پر چند ”دہشت گرد“ اپنے محدود وسائل سے کس طرح حملہ کرکے غائب ہوسکتے ہیں! افغانستان کے معدنی وسائل امریکی منصوبہ سازوں کے مقاصد کا ایک حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن اسے القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کے نام پر دراصل پاکستان کی جانب بڑھنا تھا۔ اگر القاعدہ اور طالبان امریکا کے دو شہروں پر حملوں میں ملوث تھے تو افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم ہوئے ایک عشرہ بیت چکا ہے اور اب اوباما کہتے ہیں کہ ہم نے القاعدہ کے سربراہ کو ہلاک کرکے نائن الیون کا بدلہ لے لیا ہے۔ اس کے بعد تو امریکی اور اتحادی فوجیوں کے افغانستان یا پاکستان میں موجود رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ دس سال کے عرصے میں امریکی خفیہ ایجنسیوں نے دونوں ملکوں میں ریاستی دہشت گردی کے علاوہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی کا جو بازار گرم کیا اور جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں کے علاوہ لاکھوں بے گناہ مسلمان شہید ہوئی، امریکا اس سلسلے کو اب بھی جاری رکھنا چاہتا ہی، تاوقتیکہ اسے مسلم دنیا کے واحد ایٹم بردار ملک پاکستان کو انتشار سے دوچار کرکے یہاں براہِ راست مداخلت کا موقع نہ مل جائے۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے ہونے والا آپریشن اور اس سے پہلے ریمنڈ ڈیوس کی دہشت گردی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، ورنہ امریکی صدر اوباما یہ کیوں کہتے کہ پاکستان اور افغانستان ہمارے اصل اہداف ہیں، جن کی جانب ہم بڑھ رہے ہیں۔ حالانکہ وہ تو یہاں موجود ہیں۔ انہیں بڑھنا کسی اور طرف ہے۔ امریکا نے ابتدائی طور پر پاکستان کی معتمد علیہ فوج کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں کہ وہ ملک کی جغرافیائی حدود اور نظریاتی اساس کی کہاں تک حفاظت کرسکتی ہے۔ اگلا ہدف پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہیں۔سابق وزیراعلیٰ صوبہ خیبر پختون خوا سردار مہتاب عباسی کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ امریکا اپنے عزائم پورے کرنے کے لیے خطے میں موجود ہے اور انہی عزائم کے تحت اس نے پاکستان کو مسلسل دباﺅ میں رکھا ہوا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکی اہداف میں سے ایک ہے۔ افغانستان میں طویل امریکی قیام ہمارے مفاد میں نہیں، جب تک امریکی یہاں رہیں گے خطہ عدم استحکام سے دوچار رہے گا اور اس کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان ہی بنے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ایٹمی اثاثوں پر امریکا اور مغرب کی نظر تو پہلے سے ہی تھی، وہ نیوکلیئر پروگرام کو نشانہ بناکر پاکستان کو کمزور کرنا اور بھارت کو خطے میں بالادستی دلانا چاہتے ہیں، وہ کسی بھی اسلامی ملک کو ایٹمی طاقت کے طور پر برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کی دلچسپی بھارت کے بھی مفاد میں ہے۔ یہ سب مل کر ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں منفی پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں۔گوکہ امریکی سینیٹر جان کیری اپنے دورہ¿ اسلام آباد میں اس بات کی یقین دہانی کراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ اپنے خون سے لکھ کر دے سکتے ہیں کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ اثاثے مناسب کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت محفوظ ہوں۔ حالانکہ یہ بات بڑی خوش کن نظر آتی ہے مگر ان کے یہ الفاظ کہ یہ اثاثے مناسب کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت محفوظ ہوں، یہی تو خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اسی پر تو امریکا کو تحفظات ہیں۔ اسے ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے کہیں دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ یہ ایک ایسا حربہ ہے جسے امریکا پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کے لیے بار بار استعمال کرتا رہتا ہے اور امریکی میڈیا جس پر یہودیوں کا کنٹرول ہی، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے اور دہشت گردوں کے قبضے میں جانے کا پروپیگنڈا کرکے ان خدشات کو اور ہوا دیتا رہتا ہے۔ جان کیری نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ایٹمی پروگرام میں پیش رفت بند کردے۔ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ امریکا اسرائیل کو محفوظ بنانے اور یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے کسی وقت بھی ہماری ایٹمی تنصیبات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ گویا پاکستان کے ایٹمی اثاثے پاکستان کی آزادی کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہیں۔محسنِ پاکستان اور پاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس حقیقت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ایٹمی پروگرام نے پاکستان کو عراق یا لیبیا جیسے انجام سے محفوظ رکھا۔ نیوز ویک میگزین میں اپنے ایک مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو روک دیا ہے۔ بھارت سپر پاور بننے کے لیے اپنے ایٹمی پروگرام کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھا رہا ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی ایٹمی ملک جارحیت کا شکار نہیں ہوا، نہ اس پر تسلط جمایا گیا۔ اگر عراق اور لیبیا ایٹمی طاقت ہوتے تو انہیں تباہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر 1971ءمیں پاکستان کے پاس ایٹم بم ہوتا تو بنگلہ دیش کبھی نہ بنتا۔اب یہی کہا جاسکتا ہے کہ اگر پاکستان کے جوہری اثاثوں کو بچانا ہے تو امریکا کے ساتھ ساتھ قوم کو پاکستان کے موجودہ حکمرانوں سے بھی جان چھڑانا ہوگی۔

بےباک
05-23-2011, 09:53 AM
زبردست مضمون شئیر کرنے پر آپ کا شکریہ ،