PDA

View Full Version : پی این ایس نیول بیس پر حملہ



بےباک
05-23-2011, 09:10 AM
http://cdn-www.airliners.net/aviation-photos/photos/9/5/7/1791759.jpg

http://cdn-www.airliners.net/aviation-photos/photos/0/2/7/1779720.jpg
ایران کا ایک پی تھری اورین جہاز
http://cdn-www.airliners.net/aviation-photos/photos/5/9/7/1787795.jpg
http://i1.tribune.com.pk/wp-content/uploads/2011/05/PAF-base-attack-AFP-640x480.jpg

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ دھشت گردوں نےاتوارکی شب کراچی میں نیوی کے ایک ایوی ایشن بیس پر اچانک حملہ کردیا اوراس کارروائی میں کم ازکم نیوی کےچار افراد اور رینجرز کا ایک نوجوان شہید ہو گئے ،

خودکار ہتھیاروں اور دستی بموں سے لیس حملہ آوروں اور بیس پر موجود نیوی کی کمانڈو فورس کے درمیان بہت دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جبکہ عینی شاہدین کےمطابق اس دوران اندر سے کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی آتی رہیں۔

اطلاعات کےمطابق پندرہ سےبیس حملہ آورپاکستان بحریہ کےمہران بیس میں موجود تھے اور اُنھوں نے تین ایسے مقامات کو ہدف بنایا جہاں نیوی کےجہاز کھڑے تھے۔


عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اُنھیں بہت دیر تک بیس کے اندر سےفائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں جبکہ آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل آسمان کی طرف اٹھتے دکھائی دے رہے تھے۔

مقامی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والےمناظر میں رات کی تاریکی کےباوجود آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل واضع طور پر نظر آرہے تھے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایک نجی ٹی چینل کےمطابق، نیوی کے اورین طیارے کے دو طیارے (چار انجن والے) جس سے ایک پی تھری اورین مکمل تباہ ہو گیا جبکے دوسرے طیارے کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق یہ P-3 اورین جہاز ہیں. جسے پاکستان نیوی سمندری حدود کی نگرانی کے لیے استعمال کرتی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بیان میں اس حملے کی مذمت کی ہے۔ ” دہشت گردی کی یہ بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستانی حکومت اور عوام کےعزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔“
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند تین طرف سے بیس میں داخل ہوئے تھے اور اب انہوں نے ایک عمارت پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سکیورٹی فورسز ان کو ہلاک یا گرفتار کرنے کے لیے آپریشن کر رہی ہیں۔

سورج طلوع ہونے کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے، خود کار اسلحے اور دستی بم کے دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔ پاکستان بحریہ کے ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کرتے نظر آتے ہیں۔
کراچی میں نیوی کی تنصیبات پر حالیہ دنوں میں یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔

اس سےقبل، 28اپریل کو بحریہ کے افسران کو لےجانے والی ایک بس پر کیے گئے بم حملے میں چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ اس واقعہ سے دو روز قبل کراچی میں نیوی کی دو بسوں کو چند منٹ کے وقفے سےنشانہ بنایا گیا تھا، جس میں چار افراد ہلاک اور50سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

دو مئی کو ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے ایک خفیہ امریکی آپریشن میں ہلاکت کے واقعہ کے بعد طالبان عسکریت پسندوں نے اس کا بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی۔ القاعدہ کےسربراہ کی ہلاکت کے بعد سے اب تک ملک میں شدت پسندوں نے کئی ہلاکت خیز کارروائیاں کی ہیں۔

ان میں چارسدہ میں یکے بعد دیگرے دوخودکش بم دھماکوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے90سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت، کراچی میں ایک سعودی سفارت کار کا قتل اورپشاور میں دو روز قبل امریکی قونصل خانے کی دو گاڑیوں پر بم دھماکے شامل ہیں، جس میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔ امریکی سفارت خانے نے اس حملے میں دو امریکیوں کو معمولی چوٹیں آنے کی تصدیق کی تھی۔

کراچی میں نیوی کے فوجی اڈے پر حملے سے 2009 ء میں راولپنڈی میں پاکستان کی بری فوج کے ہیڈکوارٹر پر حملے کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نیوی کی اس حساس تنصیب تک عسکریت پسندوں کا پہنچنا پاکستانی حکام کے لیے یقینا باعث تشویش امر ہے۔
...............
یہ پاکستان کو پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان ہوا ہے ، اسے دھشتگردوں سے زیادہ انڈین یا سی آئی اے کے ایجنٹوں کا کام سمجھا جا رھا ہے ،کیونکہ یہ طیارے صرف سمندری حدود میں کام کرتے ہیں اور اس سے آبدوزوں کی اور سمندری حدود کی نگرانی کی جا سکتی ہے ،اسے ایک لحاظ سے آواکس طیارہ ہی کہا جا سکتا ہے ، یہ طیارہ 24 گھنٹے فضاء میں رہ سکتا ہے ، عام دھشت گردوں کا اس طیارے کو خاص طور پر نشانہ بنانا ھضم نہیں ہوتا ، یہ معمولی بات نہیں ہے ، اور اب پاکستان کے پاس اس قسم کے دفاعی طرز کے مزید اورین طیارے فی الحال موجود نہیں ،
دو اورین جہازوں کی سپردگی کے وقت امریکن بریگیڈئر جنرل تھامس مسیلو نے کہا تھا کہ ''ہمیں یاد رکھنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی دوستی غیر متوازن نہیں ہے۔ پاکستان ایک بڑا غیر نیٹو اتحادی ہے جس نے 11 ستمبر، 2001 کو القاعدہ کے حملے کے بعد امریکہ کی پُر زور حمایت کی ہے۔ اب تقریباً نو سال کے بعد پاکستان انتہا پسندوں کو روکنے اور آپریشن آزادیٔ عراق اور آپریشن دیرپا آزادی کی حمایت میں مشترکہ ٹاسک فورس 150 کے کثیر الملکی اتحاد کے بحری سلامتی کے آپریشنز میں اس کی قیادت کر رہاہے۔
اس پروگرام کے حصے کے طور پر 2012 تک پاکستان کو کل آٹھ P-3C طیارے ملیں گے۔ تمام آٹھ طیاروں کو فضائی دیکھ بھال اور تجدید نو گروپ (AMARG) سے حاصل کیا گیا تھا اور انہیں جدید مشن کے نظاموں اور ہوابازی کےمتعلق اطلاقی برقیریات (ایوی آنیکس) کے ساتھ بہتر بنایا جا رہا ہے جو پاکستان کو ساحلی خطوں اور گہرے پانی کے ماحول میں سمندری گشت انجام دینے کی صلاحیت مہیا کرے گا۔
.[/size][/color][/font][/b]

بےباک
05-23-2011, 09:23 AM
پی تھری سی اورین طیارہ کے بارے تفصیل
http://cdn-www.airliners.net/aviation-photos/photos/8/5/3/1371358.jpg

http://islamabad.usembassy.gov/uploads/SY/Bh/SYBhGmJ70s1tjyjpioL6sA/navy_florida_10032607_500.jpg
جیکسن وِل ، فلوریڈا (30 اپریل،2010 ) – امریکی بحریہ نے غیرملکی عسکری سیلز (FMS) پروگرام کے ایک جزو کے طور پر بحریہ فضائیہ اسٹیشن جیکسن ول فلوریڈا میں 30 اپریل کو ہونے والی ایک تقریب میں دو P-3C اورین طیارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو منتقل کئے۔
اور تیسرا طیارہ کراچی میں اسمبل کیا گیا ،اور اس کی فنی ٹریننگ بھی پاکستان میں ہی کی گئی .
امریکی ساختہp-3 اورین زمینی اڈوں سے آپریٹ کیا جاتاہے اور بنیادی طور پر ایک میری ٹائم پیٹرول طیارہ ہے لیکن اسے کئی کرداروں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس میں اینٹی سلب میرین وارنیٹر اینٹی شپنگ overland surveillance and Reconnaissance Search & Resere drug interdiction logestic- Mine lying اور Threat simulation crew training قابل ذکر ہیں p-3 اورین کو دراصل پرانے L-188 ایکسٹرا سول ایئر لائنز پر بیس کرکے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اورین کو چار عدد انتہائی طاقتور انجنوں سے آراستہ کیا گیا ہے اور ان انجنوں کی بدولت اورین پروپیلرز انجن ہونے کے باوجود تیز رفتاری سے پرواز کرنے کا اہل ہے اور اپنے ہمصر پروپیلر انجنوں سے آراستہ طیاروں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ p-3 اورین کو نسبتاً دھیمی رفتار سے پرواز کرنے والے A-10 گراونڈ اٹیکر جیٹ سے میچ کیا جاسکتا ہے۔ اورین کے کامیاب ہونے کا سب سے بین ثبوت یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک نے بھی میرین ٹائم پیٹرول طیاروں کو ڈیزائن کرتے وقت اورین ہی کو مدنظر رکھا ہے ان میں روسی ساختہ طیارے بھی شامل ہیں اورین کے ہم پلہ یاقریبی حریف طیاروں میں برطانیہ کے نمرود اور فرانس کے اٹلانٹک طیاروںکو شمار کیاجاسکتا ہے۔p-3 اورین نے اپنی پہلی پرواز 1958 کوکی تھی اور 1960ء میں اسے باقاعدہ طور پر امریکی بحریہ کے حوالے کیا گیا لیکن اورین نے اپنی افادیت اکتوبر 1962ء سے ثابت کرنا شروع کی جب اس نے اکتوبر 1962ء کو کیوبا میزائل بحران میں لاتعداد کامیاب پروازیں کرکے امریکیوں کو انتہائی باخبر رکھا۔ 1963میں امریکی سی آئی اے کی فرمائش پر p-3 اورین طیاروں میں کئی تبدیلیاں کی گئیں اور یوں اسے ایک انتہائی موثر Reconnaissance plat form میں تبدیل کردیا گیا جہاں انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کی مسلسل جاسوسی کے مشن انجام دینا شروع کئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کے لئے امریکی P-3 اورین طیاروں کو تائیوان کی فضائیہ کے رنگ اور نشانات کے ساتھ استعمال کیا جاتا رہا۔ ویت نام کی جنگ کے دوران بھی p-3 اورین طیاروں کے کئی اسکواڈرن استعمال کئے گئے جنہوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ شمالی ویت کے ساحلوں اور اس کی بحریہ کی نگرانی اور جاسوسی کے مشن سر انجام دیئے۔اس کے علاوہ امریکی p-3 اورین طیاروں نے کئی اور یادگار اور اہم مشن سر انجام دیئے مثلاً لائبیریا کی خانہ جنگی کے دوران امریکی بحریہ کے p-3 اورین طیارے امریکی فورسز کی آنکھیں اور کان بنے رہے اور امریکی سفارتخانے اور دیگر تنصیبات کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا، صومالیہ میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران p-3 اورین صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کی سڑکوں پر ہونے والے واقعات کوساحل سمندر پر پرواز کے دوران مانیٹر کرتے رہے۔ روانڈا میں یہ طیارے لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین کیمپوں تک پہنچنے والے لوگوں کی رہنمائی اور مدد کرتے رہے۔1991ء کی جنگ خلیج کے دوران بھی اورین طیاروں نے اہم کردار ادا کیا اس جنگ میں اورین طیاروں نے مجموعی طور پر بارہ ہزار گھنٹوں پر مشتمل بارہ سو کے قریب پرواز کیں اور اتحادی افواج کو معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔p-3 اورین کو اس کی منفرد اور طویل دم کی مدد سے با آسانی شناخت کیا جاسکتا ہے اس طویل دم میں Magnatic Anamoly Detector سسٹم نصب ہوتا ہے جو زیر سمندر موجود آبدوزوں کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس طویل دم میں domed windows بھی ہوتی ہیں جن کے ذریعے آبزرویشن کا کام لیا جاتا ہے۔ 1998ء میں p-3 اورین کو الیکٹرانک انٹیلی جنس جمع کرنے کے قابل بنانے کے لئے اس میں جدید direction radar signal Analyzer Fiader سسٹم نصب کیا گیا۔ بائی بینڈ سینسرز پر مشتمل اس سسٹم سے اورین کی جاسوسی کی صلاحیت میں قابل قدر اضافہ ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکی بحریہ کے پاس اس قسم کے بارہ طیارے موجود ہیں جنہیں EPSE کا نام دیا گیا ہے۔امریکی بحریہ کے زیر استعمال p-3 c طیارے دنیا کے جدید طیاروں میں شمار کئے جاسکتے ہیں ان طیاروں کی خاص خوبیوں میں ایڈوانس آپٹیکل سینسرز کی تنصیب ہے جس کے بعد اب یہ طیارے AGm -84E اور اسٹینڈ آف لینڈ اسٹیک میزائل (SLAM) فائر کرنے کے بھی اہل ہوگئے ہیں۔ امریکی طیاروں میں SLAM-ER لانچ سسٹم کو اب اورین کے مشن سسٹم سے intigrated ہے جبکہ پہلے یہ اس کے carry on computer سے منسلک ہوا کرتا تھا۔ اس سسٹم کی تنصیب کے بعد اب p-3c اورین طیارے دنیا کے ایڈوانسڈ اور جدید ترین طیاروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت امریکی بحریہ کے زیر استعمال ان طیاروں کی تعداد لگ بھگ چودہ اسکواڈرن پر مشتمل ہے۔
p-3 اورین ایک کثیر المقاصد طیارہ ہے اور خاصا طویل رینج ہے۔ یہ سمندریا پھرزمین Battle space Reconnaissance کا مشن عمدگی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔ فضا میں طویل عرصے تک موجود رہنے کی صلاحیت کے باعث اورین کو ایک reliable طیارہ تسلیم کیا جاتا ہے گزشتہ برسوں میں p-3 اورین جن تبدیلیوں سے گزرا ہے اور اس میں جو اپ ڈیٹ کی گئی ہیں اس میںاس کے کمیونیکشن، نیوی گیشن، ایکوسٹک، نان ایکوسٹک، آرڈیننس / ویپن سسٹم کو زیادہ جدید اور ایڈوانس بنایا گیا ہے جس کے بعد اورین طیارے اب 21 ویں صدی کے چیلنجز سے عہدہ برا ہونے کے اہل ہوچکے ہیں۔ اورین میں کی جانے والی اپ ڈیٹ سے اس کی سروس لائف میں بھی اضافہ ہوا ہے p-3 c اورین ایک مقبول اور کامیاب ماڈل ہے اس ماڈل نے اپنی پہلی پرواز 18 ستمبر 1968ء کو کی تھی۔ p-3 s اورین کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے متعدد اپ ڈیٹ سے گزارا گیا ہے جس میں قابل ذکر expended computer ایڈوانس نیوی گیشن سسٹم اور نئے Tacfical displays ہیں۔p-3 c اورین کی اینٹی سلپ میرین صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے اس میں ایڈوانس قسم کا سب میرین وار فیئر سسٹم نصب کیا گیا ہے جبکہ جدید ایوانکس بھی نصب کی گئی ہیں ان میں سب سے اہم اور قابل ذکر IBM proteus Anluys-1 acoustic processors ہیں۔ اس سسٹم نے p-3 s اورین کو ایڈوانس سگنل پروسیسنگ صلاحیتوں کا حامل بنا دیا ہے اور اس اپ گریڈ کے بعد اب اورین نئی نسل کی خاموش تیز رفتار اور زیادہ گہرائیوں تک آپریٹ ہونے والی آبدوزوں سے موثر طور پر نمٹنے کا اہل ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ p-3c کو ریتھون کمپنی کے تیار کردہ جدید ترین اور ایڈوانسڈ Surveillance Radar An/ APs-137-v سے بھی آراستہ کیا گیا ہے جس سے اس کے دیکھنے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔
p-3c اورین میں نصب اہم سسٹمز کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
Protected Instrument landing system
IFF Mode- S
Global positioning system (GPS)
AN/ASQ-60 Auto piloat system
Littoral surveillance system (LSRS)
Marifime, littorad and over- land Targeting system
AN/USc-42 V-3 for secure voice
Over the horizen Air bor ne Sensor Information system
AN/AAr-47 Missile Warning
System (MWS)
AN/Ale-47 Counter measure dispensing system
AN/AAS - 36A Infra- red Detecting set (IRDs)
AN/ Avx-1 Electro- optical sensor system (eoss)
AN/APS-137 B-V-S Radar with navigation SAR weather- Multi- made operations
EP- 2060 pulse analyser
AN/ALR 66 C-V-3 ELINT/Electronic support Receiver
Passive and active sonobuoy sensors
Magnatic Anomaly Detection (MAD)
AN/usq - 78 v Single Advance signal processor
AN/ALQ- 158 V Adapted Controlled phased array system (ACPA)
VHF Sonobuoy Receiving Antena system
AN/ARR - 78 V-1 Advanced sonobuoy communication link system
AN/ uys-1v single Advance signal processor system (SASP)
ts- 4271/ UYS-1V Analyzer Detection set
CP- 1808/usq-78 v single Advance signal processor display control unit
AN / ARS-S Receiver Converter Sonobuoy System
AN/ ARC-230 High frequency Radio (HFR)
usq - 130 /AN usq-130 Data Link system
AN/ASX-6 Multi- mode Imaging system
Teleseapic secure Digital Inter-communications system (SDI)
Over the horizen C-41 International Marine / Maritime satellite (Inmarsat)
ایک p-3c اورین میں کم سے کم پانچ عمومی طور پر چودہ اور زیادہ سے زیادہ اکیس افراد پر مشتمل عملہ ہوسکتا ہے لیکن عام طور پر اس میں چودہ افراد پر مشتمل عملہ خدمات انجام دیتا ہے جس میں ایک ہوا باز ایک نائب ہوا باز ایک فلائٹ انجینئر اس کے کاک پٹ میں موجود دیتے ہیں جبکہ دیگر عملہ جس میں ایک کو آرڈی نیٹر ایک نیو گیٹر ایک کمیونیکشن آپریٹر جبکہ سات عدد افراد اس کے مختلف سسٹمز پر کام کرتے ہیں اور یہ تمام افراد p-3c اورین کے کیبن میں موجود ہوتے ہیں اس کے علاوہ مزید دو افراد بطور آرڈیننس کریو اور فلائٹ ٹیکنیشن کے اپنی ذمے داریاں ادا کرتے ہیں اورین کے اگلے حصے میں کاک پٹ کے پیچھے واقع Circular protruding ونڈو ہوتی ہے جس سے 180 درجے کے زاویے سے باہر کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔اورین میں جدید ترین اینٹی سب میرین وارفیئر سسٹم نصب کیا گیا ہے جس میں کا شمار دنیا کے بہترین سب میرین وارئیر سسٹمز میں کیا جاتا ہے۔ جب کسی زیر سمندر آبدوز کا کوئی سگنل اس کا سسٹم detect کرتا ہے تو اس کے سسٹم کا سوئچ خودکار طریقے سے direct finding موڈ کے ذریعے اس کی سمت کا تعین کرتا ہے جس کے بعد ریسور سگنلرز اپنا کام کرنا شروع کردیتے ہیں اور یوں سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں موجود آبدوز کا بھی سراغ لگا لیا جاتا ہے۔اورین مجموعی طور پر 20,000 پونڈ یا 4000 کلو گرام وزن کے ہتھیار لے جانے کا اہل ہے یہ ہتھیار اس کے اندرونی internal bomb bay اور اس کے دونوں پروں کے نیچے نصب دس عدد اسٹور اسٹیشن میں لے جائے جاتے ہیں۔ اس کا internal bomb bay اس کے فیوز لیج میں ونگز کے درمیان ہوتا ہے اس حصے میں 2000 پونڈ وزن کی سمندری سرنگیں ہوتی ہیں جن میں قابل ذکر MK-39- MK-25 اور MK-55 قسم کی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ متبادل کے طور پر اس میں 2000 پونڈ وزن کی ڈیتھ بم یا تارپیڈو لے جا ئے جاسکتے ہیں۔ امریکی بحریہ کے اورین نیو کلیئر ڈیتھ بم بھی لے جاسکتے ہیں۔اورین کے پروں کے نیچے موجود اسٹور اسٹیشن میں 2000 پونڈ وزن کے تار پیڈوز راکٹس اور 500 پونڈ وزن کی سرنگیں لے جائی جاسکتی ہیں۔ امریکی بحریہ کے اورین طیارے AGM-84 ہارپون اینٹی شپ میزائیل اور اسٹینڈ آف لینڈ اٹیک میزائل بھی لے جاسکتے ہیں۔ امریکہ نے 1990ء کی دہائی میں ہارپون میزائیلوں سے لیس اورین طیاروں کو یوگوسلاویہ میں بھی تعینات کیا تھا۔ فروری 2009ء سے امریکی اورین طیارے جدید ترین Slem-er لینڈ اٹیک میزائل لے جانے کے بھی اہل ہوچکے ہیں اور اس مقصد کیلئے امریکی طیاروں میں جدید wescam-20 ملٹی سینسرز تھرمل امیجرز اور ccd سینسرز بھی نصب کئے گئے ہیں۔
p-3c اورین میں چار عدد Allison T-56 A-14 قسم کے ٹرلوپروپ انجن نصب کئے گئے ہیں ہر انجن چار عدد constant speed پروپیلر پر مشتمل ہے۔ ان چاروں انجنوں کی مجموعی قوت 19640 ہاوس پاور 14644kw کلو واٹ کے مساوی ہوتی ہے۔ اس کے انجن کے پروپلر type 54 H60 -77 کے ہوتے ہیں اور اسے ہملٹن اسٹینڈرڈ نے ڈیزائن کیا ہے۔p-3c اورین میں ایندھن کے لئے پانچ ٹینکس نصب کئے گئے ہیں ان میں سے ایک عدد اس کے فیوز لیج کے وسط میں جبکہ چار فیول ٹینک میں سے ہر پر کے نیچے دو ٹینک نصب کئے گئے ہیں ان پانچ ٹینکوں میں اورین مجموعی طور پر 34800 لیٹر ایندھن لے جاسکتا ہے اورین ایک گھنٹے میں چار ہزار تا پانچ ہزار پونڈ ایندھن استعمال کرتا ہے۔ اورین میں پرواز کے دوران ایریل ری فیولنگ ٹینکرز سے ایندھن حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔p-3c اورین کے پروں کا پھیلائو 99 فٹ7 انچ لمبائی 116 فٹ 7انچ اونچائی 35 فٹ 7انچ جبکہ فیوز لیج کا قطر 3.45 میٹر ہے۔ خالی حالت میں اس کا وزن 77200 پونڈ نارمل حالت میں وزن 90,760 پونڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن 189760 پونڈ ہوتا ہے۔ اورین کی نارمل رفتار 745 کلو میٹر فی گھنٹہ جبکہ کرورنگ رفتار 330 ناٹ فی گھنٹہ اور پیٹرول کرنے کی رفتار 380 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اورین 3140 فٹ فی منٹ کی رفتار سے فضا میں بلند ہوسکتا ہے اس کی سروس سیلنگ 28300 فٹ ہے۔ اورین کا حربی دائرہ کار 2380 ناٹیکل میل جبکہ اس کی انتہائی رینج 4165 ناٹیکل میل ہے اورین فضا میں مسلسل چودہ گھنٹوں تک پرواز کرنے کا اہل ہے اس کی قیمت تقریباً 36 ملین ڈالر ہوتی ہے۔p-3c اورین اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک کی بحری اور فضائی افواج کے زیر استعمال ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
(1) ارجنٹائن ۔ 6 عدد (2) آسٹریلیا 18 عدد (3) برازیل 12 عدد (4) کینیڈا 18 عدد (5) چلی 4 عدد (6) جرمنی 8 عدد (7) یونان 6 عدد (8) ایران 5 عدد (9) جاپان 112 عدد (10) نیوزی لینڈ 6 عدد (11) ناروے 4 عدد (12) پاکستان 10 عدد (13) پرتگال 6 عدد (14) تائیوان 12 عدد (15) جنوبی کوریا 8 عدد (16) اسپین 10 عدد (17) تھائی لینڈ 3 عدد (18) امریکہ 154 عدد
پاکستان نے حال ہی میں امریکہ سے 7 عدد استعمال شدہ p-3c اورین طیارے حاصل کئے ہیں جبکہ دو اورین طیارے پہلے ہی سے پاکستان کے زیر استعمال ہیں پاکستان کے زیر استعمال طیاروں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے اور ان طیاروں میں پاکستان نے اپنی ضرورت کے مطابق جدید ترین Synthetic Aperture Radar ( ISAR/SAR) الیکٹرانک سپورٹ میسرز اور نئے کمیونیکشن سسٹم نصب کروائے ہیں پاکستانی p-3c اورین طیارے کس قسم کا اسلحہ استعمال کرسکتے ہیں اس کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں۔
(ایس انجم آصف ..امت رپورٹ)

http://www.aviationspectator.com/files/images/P-3C-Orion-190.preview.jpg

میزائیل لوڈ کرتے ہوئے

بےباک
05-23-2011, 10:21 AM
ابھی تازہ خبر یہ آئی ہے ،چھ نیول کے افراد شہید ہوئے جن میں ایک آفیسر لیفٹیننٹ یاسر تھا ،اور 2رینجر کا اھلکار بھی شہید ہوئے ،نیوی کے گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں ،

دھشت گرد تین مختلف طریقوں اور راستوں سے داخل ہوئے تھے ،تفصیلات کے مطابق 10 سے 15 مسلح دہشت گرد پی این ایس میوزیم کے راستے یا ساتھ میں ایک نالہ ہے اس راستے پی این ایس مہران میں داخل ہوئے اور یکے بعد دیگرے آٹھ دھماکے کئے اور رن وے پر کھڑے پی تھری سی اورین طیارے کو راکٹ مارا جس کے نتیجے میں طیارہ تباہ ہوگیا۔ نیوی کے ایک ترجمان کے مطابق دہشت گردوں نے دو طیاروں کو نشانہ بنایا۔

چار کو زندہ گرفتار کیا ہے اور چار دھشت گردوں نے خود کو گولی مار لی ،ایک مشتبہ شخص کو باھر سے گرفتار کیا گیا ، وہ شخص دوربین سے سارے علاقے کا جائزہ لے رہا تھا ،
ان کے پاس سے جعلی شناختی کارڈ ملے ہیں ، اور انہوں نے اپنی وردیاں بھی ویسی ہی بنائی ہوئیں تھیں ، کالے اور سرمئی یا گہرے رنگ کے کپڑے انہوں نے پہنے ہوئے تھے ،

بےباک
05-23-2011, 08:16 PM
http://www.jang.com.pk/jang/may2011-daily/23-05-2011/updates/5-23-2011_71475_1.gif
بشکریہ جنگ 23 مئی 2011

ھارون رشید
05-23-2011, 09:50 PM
http://www.youtube.com/watch?v=d38J2ce_fp4&feature=player_embedded#at=91

محمدمعروف
05-23-2011, 10:24 PM
اے اللہ اس قوم کو خوان غفلت سے بے دار فرما آمین۔

بےباک
05-24-2011, 02:39 AM
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2011/05/23/110523083041_navy_base_33.jpg

تباہ شدہ طیارے کا ملبہ،

’نئی قسم کے عسکریت پسند‘

سید شعیب حسن

بی بی سی نیوز، کراچی



حملہ آوروں نے بیس میں داخل ہونے کے چند منٹوں کے اندر طیاروں کو نشانہ بنایا

کراچی میں بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر حملے میں حملہ آوروں کی کارروائی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو فوجی درجے کی تربیت دی گئی تھی اور اس اندازے سے ایک بار پھر یہ شبہ سامنے آرہا ہے کہ ان حملہ آوروں کو اندر سے کوئی مدد حاصل تھی۔

تئیس مئی کو پی این ایس مہران میں داخل ہونے والے ان حملہ آوروں نے پندرہ گھنٹے تک نیوی کے کمانڈوز سے مقابلہ کیا جس کے بعد اب یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ چند طالبان جنگجوؤں نے نیوی کے مخصوص ایس ایس جی کمانڈوز کا مقابلہ اس طرح کیسے کر لیا۔

’یہ عام مزاحمت کار نہیں تھے، یہ طالبان تو بالکل نہیں تھے‘۔ یہ کہنا ہے ایک سکیورٹی اہلکار کا جو اپنا نام نہیں ظاہر کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق ’طالبان حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ تباہی اور ہلاکتیں ہوتا ہے، لیکن ان حملہ آوروں کا کوئی واضح مقصد تھا۔‘

مہران بیس پر حملے میں شروع سے یہ واضح تھا کہ حملہ آوروں کو اس بیس کے بارے میں تفصیلی معلومات تھی اور ان کو یہ بھی پتہ تھا کہ اس کی سکیورٹی کمزوریاں کیا ہیں۔

یہ عام مزاحمت کار نہیں تھے، یہ طالبان تو بالکل نہیں تھے۔ طالبان حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ تباہی اور ہلاکتیں ہوتا ہے، لیکن ان حملہ آوروں کا کوئی واضح مقصد تھا۔

سکیورٹی اہلکار

ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ لوگ تار کاٹ کر اور بیس کے مشرقی جانب سے دیوار کے اوپر سے آئے تھے‘ جو سکیورٹی کے لحاظ سے ایک کمزور علاقہ تھا اور حملہ آوروں کو اس کا علم تھا۔

اس اہلکار کے مطابق حملہ آوروں کو اور بھی اندر کی کافی معلومات تھی۔ ’وہ جہاں سے اندر آئے وہ رن وے کے بالکل ساتھ ہے اور اس سے نگرانی کا ٹاور کافی فاصلے پر ہے کیونکہ یہاں طیارے اترتے ہیں‘۔ حملہ آوروں کو پہلی مرتبہ رن وے کے اوپر ہی دیکھا گیا جب وہ مسلح ہو کر لڑائی کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ اہلکار کے مطابق ’نیوی کے سپاہی حیران رہ گئے‘۔

کئی اہلکاروں نے مجھے اس حملے کے بارے جو کچھ بتایا ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب سکیورٹی اداروں کو ایک نئے قسم کے عسکریت پسند کا سامنا ہے۔ ان حملہ آوروں کی کارروائی میں کچھ نمایاں نکات یہ ہیں:

فوج کی طرح صف بندی

نیوی کے ایک زخمی سیلر نے اس اہلکار کو بتایا کہ یہ حملہ آور ’ہماری طرح کے لباس پہنے ہوئے تھے اور ان کی نقل و حرکت ہماری طرح کی تھی‘۔ یہ حملہ آور فوجی انداز میں کارروائی کر رہے تھے، فوجی انداز میں رابطے کر رہے تھے۔ وہ آپس میں اردو کے علاوہ کسی اور زبان میں بھی بات کر رہے تھے۔
لباس، ہتھیار اور آلات

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے کمانڈو نما لباس پہنا ہوا تھا، ان کے پاس نائٹ ویژن گوگلز (اندھیرے میں دیکھنے کے لیے مخصوص چشمے) اور راکٹ لانچر (آر پی جی) تھے۔ اہلکار نے مجھے بتایا کہ ’نائٹ ویژن گوگلز کی عادت ڈالنے کے لیے مہینوں بلکہ سالوں کی تربیت درکار ہوتی ہے‘۔
منصوبہ بندی

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ان کو دیکھ لیا تھا لیکن ’انہوں نے ہم پر زیادہ توجہ نہیں دی، انہوں نے سیدھا ٹارمیک پر کھڑے دونوں اورائن طیاروں پر راکٹ داغے۔‘ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انہیں یہ احکامات یہ تھےکہ طیاروں کو نقصان پہنچائیں۔ اس کے علاوہ یہ حملہ آور اپنی کارروائی میں تبدیلی آسانی سے کرتے نظر آئے اور وہ چھوٹے گروپوں میں بھی تقسیم ہوئے جن کے شاید مختلف مقاصد اور اہداف تھے۔
ماہر نشانہ باز

سکیورٹی آپریشن کے اہلکار کے مطابق یہ حملہ آور ’ماہر نشانہ باز تھے، ہمارے اچھے نشانہ بازوں کے درجے کے‘۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حملہ آور نے نائٹ ویژن گوگلز کو بھی موثر طریقے سے استعمال کیا جس سے کمانڈوز کے آنے تک ان کو برتری رہی۔ حملہ آوروں کے پاس ایم 16 کاربین اور سنائپر رائفل بھی تھے۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ واضح تھا کہ یہ حملہ آور زیادہ سے زیادہ جانی نقصان میں نہیں بلکہ فوجی ساز و سامان کی تباہی پر مرکوز تھے۔

یہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بدلے کے لیے کیا گیا حملہ نہیں لگتا کیونکہ اس میں مہینوں تک کی تیاری اور منصوبہ بندی کی گئی ہوگی اور یہ ممبئی حملوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

اہلکار

بحریہ کے ایک فوجی ترجمان نے بتایا کہ بیس کے باقی طیارے ان کے حملے سے صرف اس لیے بچے کہ نیوی سپاہیوں کی بڑی تعداد ان سے مقابلہ کرنے آگئی۔ ہر چیز بہت تیزی سے ہوئی، چند منٹوں کے اندر ہی طیارے میں آگ بھی لگ چکی تھی اور لڑائی بھی شروع ہو گئی تھی۔

عینی شاہدین نے ایک حملہ آور کا خاص ذکر کیا ہے۔ ’چھوٹا سا نوجوان تھا، جس کی ہلکی سی داڑھی تھی۔ اس نے اپنی ایم 16 چھوڑ کر دو یوزی سب مشین گن لے لی تھی۔ وہ بہت خطرناک تھا اس نے تقریباً 600 گز کے فاصلے سے ایک سپاہی کو صرف ایک گولی مار کر ہلاک کیا‘۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ آور اپنی کارروائی میں تبدیلی بھی لائے۔ حملہ آور ان بیریکس کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں چینی انجینئرز موجود تھے لیکن نیوی اہلکاروں نے ان کو فائرنگ کے تبادلے سے روکے رکھا تاکہ مزید کمک چینی انجینئروں کے پاس پہنچ سکیں۔ جب حملہ آوروں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے ان بکتر بند گاڑیوں پر فائرنگ شروع کر دی جن میں چینیوں کو لے جایا جا رہا تھا۔

جب چینی انجینئیروں کو بیریکس سے لے جایا گیا تو یہ حملہ آور الگ الگ گروپوں میں ہو گئے اور ایک گروپ قریبی بیریکس میں گُھس گیا۔

ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ان حملہ آوروں کو بیس کے جغرافیہ کا بھی پورا علم تھا۔’معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بیریکس کے اندر کا سب پتہ تھا اور یہ بھی کہ کس طرف کیا ہے‘۔ ان کے مطابق بعد میں ان حملہ آوروں سے پورے احاطے کے نقشے بر آمد ہوئے۔

حملہ آور اپنے ساتھ راشن کے طور پر خشک میوے کی تھیلیاں لے کر آئے تھے۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بدلے کے لیے کیا گیا حملہ نہیں لگتا کیونکہ ’اس میں مہینوں تک کی تیاری اور منصوبہ بندی کی گئی ہوگی اور یہ ممبئی حملوں سے مماثلت رکھتا ہے‘۔

سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شاید یہ اس نوعیت کا پہلا حملہ ہے ’لیکن یقیناًً یہ ایسا آخری حملہ نہیں ہے‘۔

بےباک
05-25-2011, 07:56 PM
کراچی:تحقیقات کا آغاز، اہلکاروں کی تدفین
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2011/05/24/110524102242_yasir_funeral466.jpghttp://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2011/05/24/110524081504_yasir_abbas.jpg
یاسر عباس شہید کا جنازہ
کراچی میں پی این ایس مہران پر دہشتگردوں کے حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی ٹیم نے کام شروع کر دیا ہے جبکہ حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو ان کے آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

ادھر وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ یہ قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور بدھ کو دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں اس صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان نیوی کے ترجمان کموڈور عرفان الحق نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا حکم نیول چیف نے جاری کیا تھا اور ایک رئر ایڈمرل عہدے کے افسر اس کے سربراہ ہیں۔

کلِک آپریشن کے بعد جنازے اور سکیورٹی:تصاویر

ان کے مطابق اس ٹیم میں ایف آئی اے، ائرفورس، رینجرز اور پولیس کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقاتی ٹیم جلد ہی اپنی رپورٹ مکمل کر کے نیول چیف کو پیش کرے گی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے روز میں یہ رپورٹ مکمل ہوگی۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بدھ کو پی این ایس مہران کا دورہ کیا اور حملہ آوروں کا نشانہ بننے والے طیاروں کا معائنہ کیا۔

بعد میں انہوں نے پی این ایس شفا ہپستال میں زخمی اہلکاروں کی بھی عیادت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو دہشتگردی سے ڈرایا دھمکایا نہیں جا سکتا اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔

انہوں نے آپریشن میں ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعریف کی اور کہا کہ انہیں ان پر فخر ہے اور انہوں نے قومی اثاثوں کو بچایا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈ مرل نعمان بشیر نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ بحریہ سے سکیورٹی میں کوتاہی یا غفلت ہوئی ہے۔ ’جس نظریے سے آپ غفلت کو دیکھیں گے اسی کے تحت اس کی تشریح کریں گے، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لڑکوں نے بہادری کا ثبوت دیا اور انہوں نے اس احتیاط کے ساتھ آپریشن کیا کہ مزید کوئی نقصان نہ ہو‘۔
بیانات میں تضاد

دریں اثنا اس واقعے کی ایف آئی آر اور نیول چیف نعمان بشیر اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

نیول چیف اور وفاقی وزیر رحمان ملک نے حملہ آوروں کی تعداد چھ بتائی تھی جبکہ شاہراہ فیصل تھانے میں درج ایف آئی آر میں پی این ایس مہران میں رات کی ڈیوٹی پر تعینات لیفٹیننٹ عرفان اصغر نے بتایا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب چیک پوسٹ نمبر نو کےقریب سے دس سے بارہ لوگ نیول بیس میں داخل ہوئے اور دہشتگردی کی کارروائی کی۔
پاکستان نیوی کے ترجمان کمانڈر سلمان علی کا کہنا ہے کہ بحریہ کا موقف وہی ہے جو نیول چیف نے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق ایف آئی آر میں غلطی سے بارہ حملہ آوروں کا ذکر کر دیا گیا ہے جس کی تصحیح کرائی جائےگی۔

پاکستان نیوی نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کیاکہ حملہ آوروں نے نیوی کا اسلحہ استعمال کیا تھا ، کمانڈر سلمان کے مطابق حملہ آوروں سے روسی ساخت کا اسلحہ اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں جبکہ پاکستان نیوی روسی اسلحہ استعمال نہیں کرتی۔
اہلکاروں کی تدفین

ادھر آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے نیوی اور رینجرز کے اہلکاروں کی میتیں لاہور، نارووال، ہری پور اور ملتان روانہ کر دی گئی ہیں جہاں نمازہِ جنازہ کے بعد ان کی تدفین کی گئی ہے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق کراچی نیول بیس پر ہلاک ہونے والے لیفٹنٹ یاسرعباس کو لاہور میں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ منگل کو عسکری ٹین میں ان کے والد کے گھر کے نزدیکی میدان میں ادا کی گئی جس میں گورنر پنجاب لطیف کھوسہ،صوبائی وزراء اور سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ کے بعد میں ان کا پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تابوت کیولری گراؤنڈ لے جایا گیا جہاں ان کی تدفین کی گئی۔

چوبیس سالہ یاسر عباس تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے اور صرف چار مہینے بعد ہی ان کی شادی ہونے والی تھی۔

یاسر عباس کے بہنوئی عدنان ہمدانی نے بی بی سی کو بتایا کہ نیول بیس پر ہونےوالے پہلے دھماکے کی آواز ان کی والدہ نے یاسر کے فون پرہی سنی تھی۔ عدنان ہمدانی نے بتایا کہ لاہور میں ان کے گھر والوں کو کچھ ہی دیر بعدیاسر عباس کے زخمی ہونے کی اطلاع مل گئی تھی اوران کے چچا نے نیول بیس پر پہنچنے کی کوشش لیکن ایک گھنٹے تک وہ ہسپتال نہیں پہنچ پائے۔

یاسر عباس ایروناٹیکل انجینئر تھے لیکن ان کے بہنوئی کا کہنا ہے کہ اس رات ان کی ڈیوٹی نیول بیس کے اس خاص حصے میں بطور انچارج لگی ہوئی تھی۔ ’انہیں ان کی والدہ نے منع کیا کہ وہ دھماکے والے جگہ نہ جائیں خود سیکیورٹی گارڈز نے بھی روکا لیکن یاسر عباس نے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی اور نیول بیس کے جہاز بچانے کی کوشش کرتے ہوئے شدت پسندوں لڑتے رہے‘۔(بشکریہ: بی بی سی )

این اے ناصر
05-25-2011, 08:02 PM
معلومات کے لیے بہت شکریہ.

بےباک
05-29-2011, 08:20 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20110529/Sub_Images/1101251976-1.gif