PDA

View Full Version : اسامہ زندہ ہے



سیما
05-23-2011, 04:48 PM
اسامہ بن لادن ایک سعودی شہزادے کی طرح پروان چڑھا۔ اندرونی کرب اور بے چینی جوان ہوئی تو شاہ خالد سے ٹکراو اور تصادم کا غیرمعمولی راستہ اختیار کیا۔ ملک بدر ہوکر حجاز کو خیرباد کہا اور پھر وہ روسی اور امریکی استعمار کے خلاف جہاد کے طویل سفر پر نکل گئے اورمڑ کر کبھی اس پُرتعیش زندگی کی طرف نہ دیکھا جو اُن کی دسترس میں تھی۔ صدیوں قبل جنگ قادسیہ کے ابومحجن ثقفی کا وعدہ یاد آجاتا ہے ”میں نے بارگاہ خداوندی میں عہد کیا ہے اور اس عہد سے پھروں گا نہیں۔ اگر میرے لیے میخانوں کے دروازے کھول بھی دیے جائیں تو میں اُدھر کا رخ نہیں کروں گا۔“ صدربارک اوباما جس وقت اسامہ کی شہادت کا اعلان کررہے تھے وہ دراصل یہ کہہ رہے تھے کہ ”ہم ایک عظیم الشان طاقت ہیں۔ ہم اپنی حقیقتیں خود تخلیق کرتے ہیں۔“امریکی میڈیا کی رپورٹس میں بھی تعصب اور نیوامپریل لہجہ موجود ہے لیکن یہ دنیا پر اثر انداز امریکی میڈیا کی صلاحیت ہے کہ دنیا نائن الیون کی اسیر ہے جس سے اس احمقانہ جنگی جنون کا شعلہ بھڑکا جسے ”وار آن ٹیرر“ کا نام دیا گیا۔ ہم آج تک ان لمحات کے حصار میں ہیں امریکا جسے اسامہ کے فکر و عمل سے منسوب کرتا ہے۔ القاعدہ کی قیادت نے یہ کارنامہ انجام دینے والوں کو ”کواکب من کواکب الاسلام“ اسلام کے ستاروں میں سے ستارے قرار دیا لیکن اس الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ بعد میں نہ جانے کس اشارے پر اس کے بعض رہنما نائن الیون حملوں کے بارے میں اس ساری کہانی کی تائید کرنے لگے خود امریکا کے سائنس دانوں اور محققین نے جسے مکمل طور پر مسترد کردیا تھا۔ نائن الیون اسٹوریز کی طرح اسامہ کی شہادت کے پیش کردہ واقعات میں بھی اتنے داخلی تضادات ہیں کہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یہ امریکی صدر کو اگلے الیکشن میں کامیاب کرانے کے لیے ایک منظم سوچا سمجھا منصوبہ اور ڈراما ہے یا اس کی آڑ میں پاکستان کو ٹریپ کیا جارہا ہے۔ جس طرح امریکا نے نائن الیون اور القاعدہ کی قیادت کی تلاش کے بہانے خطے میں اپنے ہاتھ پاﺅں پھیلائے اسی طرح اسلام آباد سے صرف 65 کلو میٹر دور اسامہ بن لادن کی موجودگی کو جواز بنا کر ڈیوڈ پیٹریاس کے منصوبے کے مطابق کیا پاکستان کو اگلا محاذ جنگ بنانے کی سمت بڑھنا مقصود ہے۔ پاکستان ایک ایسے ملک کا تاثر دے رہا ہے جس کا چاروں طرف سے دشمن افواج نے محاصرہ کر رکھا ہے۔ ایک طرف عالمی برادری میں عزت مشکوک تو دوسری طرف بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھنے کی ہماری ریاستی صلاحیت کے گرد ایک بڑا انمنٹ سوالیہ نشان۔ اسامہ بن لادن کی شہادت کے ساتھ ہی پاکستان میں ایک نیا عہد بدامنی طلوع ہورہا ہے۔ پاکستان کے سینئر جرنیل جب امریکا سے ”اب کے مارکے دکھا“ کے اندازدفاعی عزم کا اظہار کررہے تھے اسی دن شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملہ میں 18 افراد کی شہادت نے پاکستان کی خودمختاری کو ایک ایسا پرانا لطیفہ بنادیا ہے جس پر اب کسی کو ہنسی نہیں آتی۔میرا المیہ یہ ہے کہ شیخ اسامہ کی پرعزم شخصیت کے اعتراف کے باوجود ان کے طریق کار کے نظری اور عملی پہلوﺅں کی مکمل تائید میرے لیے ممکن نہیں۔ اسلام اور کفر کے حوالے سے مسلم ممالک کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ ممالک جو کارفر جارح قوتوں کے براہ راست قبضے میں ہیں۔ نائن الیون کے بعد ان ممالک میں موجود آزادی کی تحریکوں اور مسلح مزاحمت کو جہاد کی بجائے دہشت گردی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسامہ بن لادن کا کارنامہ ہے کہ اس فضا میں انہوں نے استعماری طاقتوں کی علم اور ٹیکنالوجی کی خوفناک قوت او ربے حد و حساب طاقت اور سنگدلی کو ذرہ برابر اہمیت دیے بغیر جہاد کو ایک ولولہ تازہ عطا کیا۔ یہ مجاہدین اسلام ہی تھے جن کی ہیبت سے سمٹ کر کل بھی پہاڑرائی بن گئے تھے او رآج بھی۔ روس اور آج امریکا خاک چاٹنے پر مجبور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ممالک میں کفر اور استعمار کے خلاف جہاد کے سوا کچھ بھی موثر ثابت نہیں ہوا ہے۔ ان ممالک میں شیخ اسامہ کے فکر و عمل کا مرکز و محور جہاد حکم ربی اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے لیکن اسامہ کے فکر و عمل سے اُس وقت اتفاق ممکن نہیں رہتا جب وہ یہی طریق کار ان ممالک میں اختیار کرتے ہیں جہاں براہ راست کفر کا تسلط نہیں ہے لیکن ایسے حکمران مسلط ہیں جو امریکی اور مغربی استعمار کی اسلام دشمن پالیسیوں میں معاون بلکہ ”امریکیوں سے بڑھ کر امریکی“ ہیں۔ ان ممالک میں اسامہ نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور مسلم ممالک کی ان افواج ‘ ایجنسیوں‘ پولیس اور دیگر ریاستی اداروں سے تصادم کی راہ پر چل نکلے جو مسلمان ہیں یوں دونوں طرف سے مسلمان مارے گئے اور مسلمانوں کو عظیم سانحات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان جس کی مثال ہے۔ اللہ کے آخری نبی کی سنت کا تقاضا یہ ہے کہ ان ممالک میں مکی دور کی پیروی کرتے ہوئے باطل قوتوں کو ہٹانے کے لیے فکری اور سیاسی جدوجہد کی جائے رائے عامہ ہموار کی جائے اور مقتدر طبقے اور اہل خوف کے سامنے اسلام کو بھرپور طریقے سے پیش کیا جائے اور انہیں اسلام پر آمادہ کیا جائے۔گلبدین حکمت یار نے کہا تھا ”امریکی شیخ اسامہ کو ہر قیمت پر قتل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ مسلح مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں۔“ شہید اسامہ بن لادن بھی امریکا کی بربادی کے درپے تھے۔ مسلمانوں کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا ہوگی اس بات کی پروا نہ کرتے ہوئے انہوں نے حکمت عملی یہ اختیار کی کہ امریکی افواج کو زیادہ سے زیادہ مسلم ممالک میں مصروف رکھ کر امریکی معیشت کو بالکل زمین بوس کردیاجائے۔ امریکیوں کو خوف اور دہشت زدہ کرنے کے لیے ”امریکیوں کو جہاں پاﺅ قتل کرو“ کا نعرہ بلند کیا اور ان کی تنصیبات پر حملے کیے۔ ایسی کوششوں سے ایک طرف مغرب میں اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا دوسری طرف یہ حکمت عملی امریکا کی قوت سے عدم واقفیت پر مبنی ہے۔ امریکا کی فوجی طاقت دنیا میں سب سے بڑی ہے۔ صنعتی میدان میں کوئی ملک اس کے برابر نہیں۔ دنیا میں توانائی کے 70 فیصد ذخائر امریکا کے پاس ہیں اس طرح اور بھی شعبے ہیں لیکن یہ سب کچھ امریکی قوت کا ”اصل“ نہیں ہے۔ امریکا کی طاقت اس کے تعلیمی اور انتظامی نظام میں ہے ۔ تعلیمی میدان میں سب سے زیادہ نوبل پرائز امریکی حاصل کرتے ہیں۔ انتظامی نظام ایسا کہ ہر چار سال بعد نئی قیادت سامنے آجاتی ہے۔ علم‘ صنعت اور تازہ انسانی مہارتوں کے میدان میں امریکا نے جو عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ سرمایہ دارانہ نظام کی مرہون منت ہیں لیکن اس نظام کے دردسر بھی عظیم ہیں اتنے کہ امریکا کی تمام پیش رفت اس کے سامنے کم پڑسکتی ہے۔ دنیا انسانوں کے لیے جہنم بن گئی ہے۔امریکی جانتے ہیں کہ سرمایہ داریت کی مقابل کوئی برتر نظریہو وہ اسلام ہے۔

روزنامہ جسارت

بےباک
05-24-2011, 02:32 AM
اسامہ کی زندگی میں بھی پاکستان مشکلات سے گھرا رہا ، اور اب اس کی موت کے بعد میں پاکستان خطرات میں گھرا ہوا ہے ،
اصل میں پاکستان کو داخلی انتشار سے دو چار کر دیا گیا ، اور ہماری ایر فورس کی چیکنگ اور نیول فورس کی چیکنگ دشمن نے مکمل کر لی ،کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں ، اب بھی وقت ہے ہمیں ہوش میں آ جانا چاھیئے ،

نورمحمد
05-25-2011, 12:43 PM
جزاک اللہ

نورمحمد
05-25-2011, 12:49 PM
ایسی کوششوں سے ایک طرف مغرب میں اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا . . .

جناب . . اپنا اپنا خیال ہے .. مگر.. . . . 9-11 کے بعد سے مغرب میں اسلام تو بہت تیزی سے پھیلا ہے جناب