PDA

View Full Version : وحشی درندہ



اذان
05-24-2011, 03:48 AM
http://rajafamily.com/lib/00051A03X.gifhttp://rajafamily.com/lib/00051A03X.gif
http://rajafamily.com/lib/00051A03T.gif

ٹی وی آن کیا توکانوں میں آواز گونجی
http://rajafamily.com/lib/00051A03U.gif ہم زندہ قوم ہیں http://rajafamily.com/lib/00051A03U.gif
بھائی کس زندہ قوم کی بات کر رہے ہو؟ وہ زندہ قوم جس کے ہر پیدا ہونے والے
بچے کے ہاتھ میں کشکولِ گدائ تھمادیاجاتا ہے۔وہ زندہ قوم کہ جو اللہ کی بجائے
امریکہ کو اپنا ان داتا سمجھے ہوئے ہے۔۔۔ وہ زندہ قوم؟ جس کے رہنماؤں نے اپنی
غیرت وحمیت اور خودداری کو امریکہ کے پاس اپنی عیاشی کے لئے چند سکوں
کے عوض گروی رکھ دیا ہے۔۔ جو اپنے آئین تک کی رکھوالی نہ کرسکی۔
چور اُچکےدن دہاڑےلوٹ کھسوٹ رہےہیں۔۔۔۔جس آئین کی سرعام دھجیاں بکھیری
جارہی ہیں۔۔اس آئین کی بات کرتے ہو، اونچےمحلات کےگھرکی باندی بن کے رہ
گیا ہےاورغریب عوام کی دلدوزچیخیں بھی اس کے کانوں تک نہیں پہنچ پاتیں۔
پہنچیں بھی توکیسے کہ کانوں مین تواس ملک کےآقاؤں نےسیسہ پگھلا کے ڈال
دیا ہے اس کے باوجود ہم زندہ قوم ہونے کے دعویدارہیں زندہ قومیں تووہ ہوتی ہیں
جواپنے آئیں کی پاسداری کرتی ہیں اپنا سر کٹوالیتی ہیں مگرآئیں پر آنچ نہیں
آنے دیتیں ۔۔۔ آئیں کاذکر چھڑا تو مجھےوہ شخص یاد آگیا کہ جسے لوگ چنگیز
خاں کے نام سےجانتے ہیں وہ وحشت وبربریت زندہ مثال تھا جسے لوگ مختلف
ناموں سےپکارتےرہے کسی نے عزابِ الہی قرار دیا توکسی آثارِقیامت سے تعبیرکیا
۔۔کسی نے دجال کے نام سے پکاراتو کوئی ابلیس کہتا رہا کہ جس نے انسانی
کھوپڑیوں کا مینار سجانے کی زندہ مثال قائم کردی ۔ لوگ خواہ اسے کسی بھی
نام سے پگارتے رہے مگر اس کے ساتھی اس پر اپنی جان نثار کرتے تھےاورچگیز
خان نےاپنےساتھیوں کے بے ترتیب مجمعےکوایک ایسےعظیم الشان لشکرکی صورت میں ڈھال لیاکہ جس کے خلاف نہ توکبھی سازِش ہوئی نہ بغاوت۔
اس میں آخرایسی کون سی خوبی تھی جس نے اسےاس کےعوام کی نظروں میں ـ
، اوتار،، بنادیا۫؟ تاریخ عالم سے ہمیں ایک ہی جواب ملتا ہےکہ اس نےاپنےملک
میں نہ صرف یہ کہ قانون بنایا بلکہ اسے لاگو بھی کرکے دکھایا۔ اس نے ہماری
طرح قانون کی دھجیاں نہیں اڑائیں۔ اس کے آئین میں غریبوں کی مددامیروں پر
لازم قرار پائی اور مالِ غنیمت جس کے ہا تھ آتا، اسی کا ہو جاتا ۔اُس کےہاں چوری،
زنا، باہمی جھگڑےاور الزام تراشی کی سزاموت تھی۔اسی لئے تو وہ اکٹھےرہتے اور
دو دو دن کے بھوکےبھی ملِ بانٹ کر کھاتے ۔جب کہ ہمارے ملک کےسربراہوں کی
بھی جوتیوں میں دال بٹتی ہے ہر کوئ دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بہانے تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔چنگیزخان کے دورحکومت میں گھروں کے دروازےکھلے ہوتے ۔ سامان سے لدے چھکڑے کھلےمیدانوں میں کھڑے رہتے مگر چوری کی کوئ واردات نہ ہو تی جب کہ ہمارےمقفل گھروں کی چار دیواریوں میں بھی ہماری
عزت اور جان ومال محفوظ نہیں ۔ غریب کوسرِ بازارکوڑے مار مار کر ادھ موا کرکے
اُ لٹا لٹکادیا جاتا ہے۔۔۔۔ زندہ گاڑی کے پیچھے باندھ کر گھسیٹا جاتا ہےاور اس کی لاش کوکوڑے کرکٹ کےڈھیرمیں دبا کر جلا دیا جاتا ہے ستم یہ کہ انکاپُرسانِ
حال بھی کوئ نہیں ہوتا اور ظلم ڈھانے والے امیروں و زیروں کے بھانجےبھتیجےسر
عام قانون کی دھجیاں بکھیرتے پھرتے ہیں ۔ ان کو پوچھنے والا کوئ نہیں کہ ان کے تو،، پاوے،، بڑے مضبوط ہیں ناں ۔۔ جیلیں اور سزائیں تو ہیں ہی غریبوں کے لئے ۔ امیروں کا وہاں کیا کام ۔ فرمانِ رسولﷺ ہے:۔ـ تُم سے پہلے قومیں اس لئے برباد
ہوئیں کہ جب کوئ معزز آدمی جُرم کرتا تو چھوڑدیا جاتا اور جب کوئ معمولی
آدمی جُرم کرتا تو سزا پاتا۔
اس فرمانِ رسولﷺکواُس وحشی درندے نےتواپنایا مگر ہماری بدقسمتی
دیکھیے کہ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے اس فرمان کو فراموش کر بیٹھے۔۔ اس وحشی درندے کا قانون اس وقت تک کسی کو خطاکارنہ سمجھتا جب تک وہ خود
اقبال جرم نہ کرلیتا یا جرم کرتاہواپکڑا نہ جاتا ۔ اور جب پکڑا تو اسے سزا سے کوئ
نہ بچا سکتا ۔ جب کہ ہمارے ہاں کرتا کوئ ہے بھرتا کوئ ہے۔ جس کی
پہنچ اوپرتک ہوتی ہے وہ جرم کرکےبھی دندناتے پھرتے ہیں اوراُن کے کرموں کی سزا بھگتنے کے لیے بیچارےغریب ۔ہم میں یہی خرابی ہے کہ ہم آئین وقانون کی
حکمرانی کا کبھی سوچا تک نہیں ۔ اسیلئے تو ہم تباہ وبرباد ہو کر رہ گۓ ہیں
دنیا بھر میں رسوا ہو گۓ ہیں ہماری بد قسمتی تو دیکھیےکہ اپنے خون سے سینچے ہوئے عدلیہ کے اس نخلِ نوکوشائد کبھی پروان چڑھتا نہ دیکھ پائیں۔۔۔۔۔
کاش کہ ہمارے حکمران اب ہوش کے ناخن لیں ۔۔۔۔۔۔۔ کاش کہ وہ کشکول گدائ
ُپھینک کر اپنے اللہ ،، نبیﷺ اور زورِ بازو پر بھروسہ کریں

آمین ثم آمین

بےباک
05-24-2011, 05:42 AM
بھائی کس زندہ قوم کی بات کر رہے ہو؟ وہ زندہ قوم جس کے ہر پیدا ہونے والے
بچے کے ہاتھ میں کشکولِ گدائ تھمادیاجاتا ہے۔وہ زندہ قوم کہ جو اللہ کی بجائے
امریکہ کو اپنا ان داتا سمجھے ہوئے ہے۔۔۔ وہ زندہ قوم؟ جس کے رہنماؤں نے اپنی
غیرت وحمیت اور خودداری کو امریکہ کے پاس اپنی عیاشی کے لئے چند سکوں
کے عوض گروی رکھ دیا ہے۔۔ جو اپنے آئین تک کی رکھوالی نہ کرسکی۔

بہت زبردست امین فیصل صاحب ،
سچ لکھا ہے ،:-)

نورمحمد
05-25-2011, 12:41 PM
:-):-) بہت خوب . . .. :heart::heart: