PDA

View Full Version : حملہ بھی کرے اور ملبہ بھی مانگے



سیما
05-27-2011, 01:05 PM
اسامہ بن لادن کی پا کستان میں ہلاکت کے بعد اس ہفتے امریکی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری نے پا کستان کا دورہ کیا۔ ایبٹ آباد کے واقعہ کے بعد یہ کسی اعلیٰ غیر فوجی امریکی اہلکار کا پہلا دورہ ہے اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان کشیدہ ترین حالات میں بہتری کے لئے صدر باراک اوباما نے سینیٹر کیری کو اسلام آباد بھیجا تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ پہلے تو صدر اوباما نے اپنے اعلیٰ اہلکاروں کے ذریعے پاکستان کے بخیے ادھڑوائے اور اس کے بعد ان کی رفوگری کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔ اپنی گرتی ہوئی ساکھ اور نیچے جاتی ریٹنگ کو بڑھانے کیلئے باراک اوباما نے جس خود غرضانہ طریقہ سے اس آپریشن کو استعمال کیا وہ امریکی تاریخ میں پہلی مثال نہیں ہے۔ اسامہ کی ہلاکت کا سارا کریڈٹ لینے کیلئے نہ صرف انہوں نے اس آپریشن میں پاکستان کو شامل نہیں کیا بلکہ لیون پنیٹا جیسے سی آئی اے کے ا علیٰ حکام کے ذریعے پاکستان پر یہ الزام بھی لگوایا کہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پا کستانی حکام کو علم تھا مگر شاید انہیں پاکستانی عوام کے ری ایکشن کا اندازہ نہ ہو سکا۔ ساتھ ہی ساتھ ان کی شماریات یہاں بھی کم رہیں کہ پاکستانی افواج' آئی ایس آئی اور حکومت پاکستان اس پاکستان کی خود مختاری کے چیلنج کیے جانے کے ایشو پر ایک ہو جائیں گے۔ پا کستان کے سر کاری اور عوامی ردعمل اور رائے عامہ اوباما کے لئے بالکل غیر متوقع رہے جس کے بعد انہیں دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے ہر کارے دوڑانے پڑے۔ امریکی حکومت پر عوامی بداعتمادی اور بے اعتباری کو دور کرنے کے لئے سینیٹر جان کیری کو یہ تک کہنا پڑا کہ میں اپنے خون سے لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ امریکہ سے پاکستان کے جوہری اثاثوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان کو ایبٹ آباد آپریشن کے متعلق مطلع کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بات نہیں ہے کہ امریکہ کو پاکستان پر بھروسہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک بہت خفیہ آپریشن تھا جس کا علم خود ان کو بھی بالکل آخری لمحے میں ہوا جبکہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر پاکستان کو نہیں بتایا گیا کیونکہ ہمارا پاکستان پر بھروسہ نہیں تھا۔ اس بات سے قطع نظر کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ایسا ہوا ہے میاں نوازشریف کے زمانے میں کوئٹہ سے امریکی کھلم کھلا ایمل کاسی کو جہاز میں بٹھا کر لے گئے تھے او ر پاکستان سے سارا آپریشن چھپایا گیا تھا اسی طرح سے کلنٹن کے دور میں افغانستان میں موجود اسامہ بن لادن کو مارنے کے لئے بحیرہ عرب میں موجود امریکی فریگیٹ سے جو میزائل پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارے گئے تھے اس کی بھی پیشگی اطلاع پاکستان کو نہیں دی گئی تھی بلکہ میزائل داغنے کے بعد پاکستان کو بتایا گیا تھا کہ ہم امریکی یہ کارروائی کر رہے ہیں کہیں بھارتی میزائل سمجھ کر انہیں مار نہ گرایا جائے یہ تینوں واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ چاہے ری پبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ کسی بھی امریکی حکومت کو پاکستان پر اعتبار یا بھروسہ نہیں ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ آخر کار موجودہ حکومت نے پاک امریکی تعلقات میں بالکل تھوڑا سا منتخب موقف اختیار کیا ہے بلکہ فوج اور حکومت دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایبٹ آباد میں اسامہ کے کمپائونڈ میں گرے ہوئے امریکی ہیلی کاپٹر کا ملبہ واپس کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی رات کے اندھیرے میں آن کر آپ کے گھر پر ڈاکہ ڈالے' قیمتی اشیا اٹھا کر لے جائے پھر دوسرے دن آکر آپ سے مطالبہ کرے کہ میرا پستول ڈاکے کے دوران آپ کے گھر میں رہ گیا تھا اسے واپس کر دیجئے ۔ پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی حدود کی پامالی کرتے ہوئے ایک تو امریکی فورسز ملک کے اندر گھس آئیں اور پھر اپنے گر جانے والے ہیلی کاپٹر کے ملبے کا بھی واپسی کامطالبہ کریں کوئی تک بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جان کیری کی ساری باتیں بناوٹی اور جعلی بول بچن ہیں انہیں پاکستان کی سرحدوں کی
خلاف ورزی کرنے پر کوئی ندامت وغیرہ نہیں ہے جبکہ معافی مانگنے سے تو پہلے ہی انکار کر چکے ہیں۔ ہیلی کاپٹر کے ملبے کی واپسی کامطالبہ ایک مرتبہ پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی انتظامیہ کو پا کستان پر بھروسہ نہیں ہے انہیں خدشہ ہے کہ پاکستان چین یا کوریا کی مدد سے یہ ہیلی کاپٹر تیار کرلے گا اسی طرح سے پاکستان کے بار بار اصرار پر ڈرون طیاروں کی ٹیکنالوجی امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ٹرانسفر نہ کرنا بھی اسی بے اعتباری کا نتیجہ ہے۔ یہاں یہ امر ناگزیر ہے کہ ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے سے ہمیشہ کے لئے روکا نہیں جا سکتا۔ ہاں البتہ دیر ضرور ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے آخر کار ایٹمی ٹیکنالوجی اور میزائل ٹیکنالوجی بھی تو حاصل کی ہی ہے۔مگر کسی نے پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کیا۔ ہمارے خیال میں جب تک دونوں ممالک کے درمیان اس بے اعتباری اور شکوک وشبہات کے عنصر کو ختم نہیں کیا جاتا۔دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانا بے کار ہے ۔ دو خود مختار ممالک کے در میان دوطرفہ تعلقات برابری اور مساویانہ بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں ان میں بڑے یا چھوٹے ' کمزور یا طاقتور' غریب یا امیر اور ترقی پذیر یا ترقی یافتہ کی تمیز نہیں روا رکھی جا سکتی۔ وگرنہ وہ تعلقات یکطرفہ محبت میں تبدیل ہو جاتے ہیں اب وقت آگیا ہے چونکہ سویلین حکومت' عسکری ادارے اور افواج پاکستان تمام تر امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تجدید وفا چاہتے ہیں ۔لہٰذا اب دوطرفہ تعلقات کی نئی بنیادیں رکھی جانا چاہئیں-

محمداکرم
05-28-2011, 04:42 PM
:aslamalum:

اسی موقعے پر کہا جاتا ہے:

وہ قتل بھی کرے ہے اور لے ثواب الٹا !!!