PDA

View Full Version : سی آئی اے کے مراکز بند نہ کرنے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی امریکی درخواست مسترد



سیما
05-29-2011, 06:08 AM
لاس اینجلس(آئی این پی) ا مریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ایبٹ آباد آپریشن ‘ ڈرون حملوں اور پاکستانی سرزمین پر براہ راست کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد انٹیلی جنس شیئرنگ کرنے اور سی آئی اے کے مراکز بند نہ کرنے کی امریکی درخواست مسترد کر دی اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس اتنی افرادی قوت نہیں کہ بیک وقت مختلف محاذوں پر لڑیں ، قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں پر بھی نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ ہفتہ کو امریکی اخبار ”لاس اینجلس ٹائمز“ نے اپنی رپورٹ میں امریکی اور پاکستانی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستانی قیادت 2 مئی کو ایبٹ آباد کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن ‘ ڈرون حملوں اور امریکہ کی جنگ سے پاکستان کی سرزمین پر براہ راست کارروائیوں کی دھمکیوں پر شدید ناراض ہے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کرنے اور پاکستان میں سی آئی اے کے فیوژن سنٹرز بند نہ کرانے کی امریکی درخواست مسترد کر دی ۔ اخبار کے مطابق پاکستانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے قبائلی علاقوں پر کئے جانے والے ڈروں حملوں پر مکمل نظر ثانی کرے گی ۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنے دورہ پاکستان کے مطابق موقع پر صدر آصف علی زرداری‘ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی‘ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور دیگر رہنماﺅں سے درخواست کی کہ پاکستان میں سی آئی اے کی انٹیلی جنس مراکز ”فیوژن سنٹرز“ بند نہ کرائے جائیں تاہم پاکستانی قیادت نے ان کی درخواست مسترد کر دی ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حال ہی میں پشاور اور کوئٹہ میں قائم ان فیوژن مراکز کو بند کرکے وہاں تعینات عملے کو واپس جانے کا حکم دیا تھا ۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو یقین تھا کہ وہ پاکستانی قیادت کو فیوژن سنٹرز دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تاہم انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے دورہ پاکستان پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم نہیں تھا تاہم اس کے باوجود پاکستان کی قیادت امریکہ کے پاکستان کی حمایت میں بیان سے مطمئن نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے قول و فعل میں تضاد ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت ایبٹ آباد آپریشن کو ملک کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی اور امریکہ کی جانب سے اسلام آباد کیلئے بد اعتمادی کی مثال سمجھتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اس بات پر اعتراف کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے اہم امور پر اتفاق رائے کا مظاہرہ سامنے نہیں آیا ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں پاکستان میں ڈرون حملوں پر نظر ثانی کا مطلابہ کیا اور انہیں حکومت کے تحفظات سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ ڈرون حملے پاکستانی عوام میں انتہائی غیر مقبول ہیں ۔ پاکستانی حکام نے بتایا کہ ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ دہشتگردی کیخلاف مل کر کارروائی کی جائے گی ۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والی ملاقاتوں میں امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت پر زور دیا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کرے تاہم پاکستان نے ان کے مطالبے کو مسترد کیا اور جواز پیش کیا گیا کہ پاک فوج مختلف محاذوں پر دہشتگردوں کیخلاف لڑ رہی ہے اور اتنی افرادی قوت نہیں کہ دوسرے محاذ پر جنگ شروع کی جائے ۔

شاہنواز
04-01-2012, 01:53 AM
اس کیا فرق پڑتا ہے وہ تو امریکہ بہادر اپنے نمائندے سے بھی وہی کام لے لیتا ہے اور تو ہمارے پٹھوں حکمراں بھی تو ساتھ دیتے ہیں ان کا اس سے امریکہ بہادر پر کوئی اثر نہیں ہوگا