PDA

View Full Version : کِتنی سفاّک ہے حقیقت



سیما
05-30-2011, 04:43 AM
طوفان ہے ہمرکاب میرا
ہر خیمہ ہے بے طناب میرا

کِتنی سفاّک ہے حقیقت
مٹی میں مِلا ہے خواب میرا

ہاں، شب تو گزر چکی ہے کب کی
اُبھرا نہیں آفتاب میرا

مَیں خود کو چھُپا رہا ہوُں خُود سے
بادل میرے، ماہتاب میرا

دُھندلے دُھندلے سبھی مناظر
ہے دیدئہ دل پُر آب میرا

اے کاش، کہیں برس بھی جاتا
گرجا تو بہت، سحاب میرا

شاید میرے رہنما سمجھ لیں
شعروں میں سہی خطاب میرا

جو پوُچھتے تھے سوال مُجھ سے
سُنتے ہی نہ تھے جواب میرا

کتراتے رہے جو آئینوں سے
کرتے رہے احتساب میرا

اے سنگ زنو! بہار آئی
پتھّر پہ کھِلا گلاب میرا

مَیں دشتِ بلا میں لَو دِئے کی
بامعنی ہے پیچ و تاب میرا

دُنیا بھی تو حشر ہے الٰہی!
دُنیا ہی میں کر حساب میرا

آسوُدہ ہیں سارے انقلابی
اب آئے گا انقلاب میرا

عبادت
05-31-2011, 03:06 AM
دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کے گھرجانا ہے

اس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھہر جاتی ہے
جیسے پانا ہی اسے اصل میں مر جانا ہے

بول اے شام سفر رنگ رہائی کیا ہے
دل کو رکنا ہے تاروں کو ٹھہر جانا ہے

کون ابھرتےہوے مہتاب کا رستہ روکے
اس کو ہر طور سوے دشت سحر جانا ہے

میں کھلا ہوں تو اس خاک میں ملنا ہے مجھے
وہ تو خوشبو ہے اسے اگلے نگر جانا ہے

وہ ترے حسن کا جادو ہو کہ میرا غم دل
ہر مسافر کو کسی گھاٹ اتر جانا ہے

این اے ناصر
03-31-2012, 01:06 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ