PDA

View Full Version : پیار کا وعدہ' ففٹی ففٹی ۔ سیدہ زائرہ عابدی



بےباک
06-04-2011, 03:36 AM
ہمارے اردو منظر پر محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کی آمد سے ہمیں ایک بہترین افسانہ نگار اور بہترین مصنفہ کا ساتھ حاصل ہوا ہے ،
ان کا یہ افسانہ کنیڈا کے ھفت روزہ کنیڈا ایکسپریس میں تین قسطوں میں شائع ہوا ہے، یہ ایک معاشرتی المیہ کی کہانی ہے ، اس کہانی میں ایک سبق موجود ہے ،
ہم یہ افسانہ دوبارہ ادھر بغیر اجازت بصد شکریہ شائع کر رہے ہیں ، اور اس کا مقصد محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیار کا وعدہ' ففٹی ففٹی

تحریر : سیدہ زائرہ عابدی ' ایڈمنٹن
(پہلا حصہ)

یہ بات نہیں تھی کہ راحیل کو انیتا سے محبت نہیں تھی لیکن اس کی سست روی نے گھر کو مایوسیوں کا محتاج بنا دیا تھا ۔ راحیل چاہتا تھا کہ کم از کم وہ اس کی ذاتی ضروریات کا تو خیال رکھے ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یونیورسٹی لائف میں چاق و چوبند رہنے والی انیتا شادی کے بعد ایک کاہل الوجود بیوی ثابت ہو گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر وقت خوش خوش رہنے والا راحیل بھی عجیب بوریت اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔

"کیا مصیبت ہے؟"

راحیل گریبان میں ٹوٹے ہوئے بٹن والی شرٹ لئے کھڑا جھنجھلا کر بولا تو انیتا نے اطمینان سے کہا

"ہاں !ماسی نہیں آئی "

بس تمہارے پاس تو ایک ہی جواب ہے'یہ نہیں ہوا 'ماسی نہیں آئی ۔ وہ نہیں ہوا 'ماسی نہیں آئی 'آخر تم کس مرض کی دوا ہو؟ اپاہج ہوتیں توصبر آ جاتا۔

راحیل زبان سنبھال کر بات کرو 'میں کوئی گرے پڑے گھر کی نہیں ہوں 'جسے تم اپنی جوتیاں بنا کر پہن لو۔ انیتا نے جواب دیا تھا ۔ راحیل نے بھی جواب میں فوراً کہا

انیتا جی !بیویاں اپنے شوہروں کی خدمت کر کے جوتیاں نہیں بن جاتی ہیں 'جنت کماتی ہیں ۔

مجھے نہیں کمانا ایسی جنت 'ہونہہ۔ پھر کہنے لگی 'تم ٹی شرٹ بھی پہن سکتے تھے 'خواہ مخواہ جھگڑا بڑھا رہے ہو ۔

ہاں !ایم ڈی کی میٹنگ میں شرکت کے لئے کاءو بوائے بن کر جاءوں اور وہاں بتاءوں کہ ماسی نہیں آئی تھی ۔ اس سے اچھا تھا کہ میں تمہاری بجائے کسی ماسی سے شادی کر لیتا ۔

انیتا نے اس کی بڑبڑاہٹ سنی تھی 'اس لئے ترت کہنے لگی

تو اب کر لو 'تمہاری اوقات ماسی کا شوہر بننے کی ہے تو اپنا یہ شوق بھی پورا کر لو ۔

صبح صبح اتنی چخ چخ راحیل کے لئے ناقابل برداشت تھی 'وہ ہاتھ میں قمیض تھامے کھڑا تھا جس کے گریبان کا ٹوٹا ہوا بٹن اس کو منہ چڑا رہا تھا ۔ راحیل نے ٹوٹے ہوئے بٹن والی شرٹ کارپٹ پر پٹخ دی اور پھر ڈھونڈ کر ایک اور شرٹ نکالی ۔یہ کریم کلر کی تھی جو ٹائی اور پینٹ سے میچ تو نہیں کر رہی تھی لیکن اس وقت کام تو چلانا تھا ۔ وہ تیار ہو کر کمرے سے باہر آیا تو انیتا نے ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگا دیا تھا مگر وہ خود موجود نہیں تھی 'چنانچہ راحیل ناشتہ کئے بغیر ہی گھر سے نکل آیا۔

انیتا کی مزاج داری اس گھر میں ماسیوں کو ٹکنے ہی نہیں دیتی تھی ' لہذا اس مرتبہ اس نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ جو بھی ماسی ملے گی 'وہ اس سے الجھے گی نہیں 'کام میں کیڑے نہیں نکالے گی اور پھر ایک نحیف و نزار ماسی مل ہی گئی ۔ انیتا نے بھی سوچا کہ چلو نہیں سے ہے تو۔ راحیل نے اس مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ چوبیس گھنٹے رہنے والی گھریلو ملازمہ کا بندوبست کر لیا جائے تاکہ ماسی کے آنے اور جانے کا چکر ہی ختم ہو جائے۔ دوسرا مسئلہ ماسی کی مستقل رہائش کا تھا ۔اس کا نتیجہ راحیل نے یہ نکالا کہ گھر کے اندر پیچھے کی جانب وہ پورشن جہاں وہ ناریل کے پودے لگانا چاہتا تھا مگر دو برس کے عرصہ میں بھی نہیں لگا سکا تھا 'سرونٹ کوارٹر بنوا کر چوبیس گھنٹے رہنے والی ملازمہ کا بندوبست کر دے۔

اس نے انیتا سے اپنی خواہش کا تذکرہ کیا تو وہ خوشی سے کھل اٹھی کہ نیکی اور پوچھ پوچھ۔ راحیل نے سرونٹ کوارٹر بنوا کر اس کو تمام سہولتوں سے آراستہ بھی کر دیا۔ یہ عجیب بات تھی کہ وہ بوڑھی ملازمہ جو چند مہینے پہلے ہی ان کے گھر آئی تھی 'ابھی تک انیتا کی مزاج داری کے باوجود گھر میں ٹکی ہوئی تھی ورنہ تو محلے کا یہ واحد گھرانہ تھا 'جہاں سے ماسیاں یا تو خود بیزار ہو کر چلی جاتیں یاانیتا ان کو زیادہ دن برداشت نہیں کر پاتی تھی اور بات ہیر پھر کر وہیں آ جاتی تھی کہ راحیل کو یا تو کھانا باہر سے لانا ہوتا تھا یا گھر کباڑ خانے کا منظر پیش کرنے لگتا تھا ۔یہ دونوں صورتیں راحیل کے لئے ناقابل برداشت تھیں اور انیتا کے پاس شوہر کی شکایات دور کرنے کے لئے وقت نہیں تھا لیکن بیوٹی پارلر میں اپنی خوبصورتی پر توجہ دینے کے لئے وافر وقت ضرور تھا ۔

راحیل نے چوبیس گھنٹے رہنے والی ملازمہ کے لئے اشتہار بھی اخبار میں دے دیا تھا لیکن ابھی تک نتیجہ صفر ہی جا رہا تھا ۔ ایسے میں بوڑھی ملازمہ راحیل کے پاس آ کھڑی ہوئی ۔

ہاں بولئے !ماسی جی " راحیل نے سلیقے سے سوال کیا

صاب جی 'میں گاءوں جا رہی ہوں ۔میرے بھتیجے کی شادی ہے 'واپسی میں ہفتہ دس دن لگ جائیں گے۔ آپ میری کچھ مدد کریں ۔

بیگم صاحبہ کہاں ہیں ؟ راحیل نے ماسی سے پوچھا۔

وہ کہیں کام سے گئی ہیں 'ورنہ میں انہی سے لے لیتی ۔ میرا کام ختم ہو گیا ہے اور اب میں گھر جا رہی ہوں ۔

راحیل نے پرس میں سے پانچ سو روپے کا نوٹ نکال کر ماسی کو دیتے ہوئے کہا

ماسی جی !آپ میرا بہت ضروری کام کرتی ہوئی گائوں سے واپس آئیے گا۔ ایک ایسی اچھے ہاتھ پاءوں والی لڑکی ہمارے گھر کے لئے لیتی آئیے گا کہ جو گھر کو سنبھال سکے اور اسے بتا دیجئے گا کہ اسے ہمارے ساتھ ہی رہنا ہو گا۔ (جاری ہے

(دوسرا حصہ)

ٹھیک ہے صاب جی 'میں چلتی ہوں ۔ ماسی تو چلی گئی اور انیتا پھر حیران پریشان نظر آنے لگی'حالانکہ راحیل اسے سمجھا چکا تھا کہ گاءوں سے مستقل رہنے والی ماسی آنے والی ہے لیکن کام کاج کی عادت نہ ہونے سے زندگی کی فراغت اس کے لئے عذاب سے کم نہیں تھی۔ بہرحال وقت کا کام تو گزر جانا ہے اور دو ہفتے کا وقت بھی گزر گیا اورپھر ایک دن ماسی جیواں اس کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھی۔

بیگم صاب ! یہ میری نواسی ہے۔ شنو نام ہے اس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سلام کر بیگم صاب کو شنو اور شنو نے جھٹ ماتھے پر ہاتھ رکھ کرسلام کیا۔

وعلیکم السلام !یہ بتاءو کیا کیا کام کر لیتی ہو ؟ انیتا نے جیسے ہی پوچھا 'شنو کی نان اسٹاپ زبان چل پڑی ۔

بیگم صاب 'سارے کام کر لیتی ہوں ۔جھاڑوپونچھا 'برتن 'کپڑے 'استری اور اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے کہ شنو کچھ اورکہتی 'انیتا نے کہا۔

ٹھیک ہے 'ٹھیک ہے 'چلو میں تمہیں تمہارے رہنے کی جگہ دکھا دوں ۔ انیتا دونوں ماسیوں کو لے کر سرونٹ کوارٹر میں آئی جسے راحیل نے صرف اس مقصد سے نوک پلک سے سنوار کر تیار کر کے رکھا تھا کہ آنے والی ماسی کا یہاں دل لگ جائے۔

سرونٹ کوارٹر دیکھ کر شنو کی آنکھوں میں خوشی کے ستارے چمکنے لگے اور اس کی بوڑھی نانی کی آنکھیں اس خوشی سے بھیگ گئیں کہ اب وہ بھی اس کوارٹر میں چین سے بیٹھ کر دو وقت کی روٹی کھا سکے گی۔ پھر شنو کے شب و روز انیتا کے احکامات کے تابع ہو گئے۔

شنو صاحب کے کپڑے استری کر دے۔ شنو دیکھ میں کتنی مصروف ہوں ۔اس نے اپنے لمبے لمبے ناخنوں والے ہاتھ نیم گرم پانی میں ڈبوتے ہوئے شنو سے کہا۔ شنو نے سلیقے سے کپڑی استری کئے اور دونوں ہاتھوں پہ کپڑے لے کر راحیل کے روبرو حاضر ہوئی ۔

صاب جی 'کپڑے لے لو۔راحیل نے اس سے کپڑے لیتے ہوئے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا تو شنو نے بھی نظریں جھکائیں نہیں بلکہ راحیل کی آنکھوں میں روبرو دیکھا ۔ راحیل نے کپڑے اس کے ہاتھوں سے لے لئے اور کمرے سے جاتی شنو کو دیکھنے لگا۔ ہلکے سانولے رنگ اور مضبوط قد کاٹھ کی اٹھارہ برس کی شنو آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ اس کی پشت پر لمبا سا کئی رنگوں کی آمیزش سے بنایا ہوا پراندہ بالوں کی چوٹی میں گندھا ہوا لہرا رہا تھا اور اس نے نظروں میں ناگوار کبھ جانے والے نارنجی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا ۔ راحیل پہلے تو اسے دیکھتا رہا' پھر دروازے سے نکلنے سے پہلے بے سبب اسے آواز دے ہی لی۔

شنو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور شنو جہاں کی تہاں پلٹ کر اسے دیکھ کر بولی۔ جی صاب جی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟

راحیل نے اسے آواز تو دے لی تھی مگر اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ اب اسے کیا کہے مگر بات کو قابو کرنے کے لئے فوراً بولا ۔ ذرا میرے لئے ایک پیالی چائے تو بنا لا ۔

شنو راحیل کے لئے چائے بنا کر لے آئی ۔اس وقت انیتا اپنے ہاتھ پیروں کو مینی کیور 'پیڈی کیور کے عمل سے گزار کر صوفے پر بیٹھی اپنے اس سوٹ کے ہم رنگ نیل پالش لگا رہی تھی جو شام کی دوستوں کی گیدرنگ میں اس کو پہننا تھا ۔

شنو چائے لائی تو راحیل بیڈ پر پاءوں پہ پاءوں رکھے سیدھا لیٹا ہوا تھا'اسے دیکھ کر اٹھا نہیں ۔ شنو نے چائے کی ٹرے 'جس میں شکر دانی بھی موجود تھی 'سائیڈ بورڈ پر رکھی اور راحیل سے مخاطب ہو کر بولی۔

صاب جی !چینی نہیں ڈالی ہے 'آپ خود ڈال لینا ۔ اور پھر کمرے سے جانے کے لئے جیسے ہی رخ بدلا 'راحیل کہنے لگا ''تو ہی ڈالتی جا ناں 'میرا چھٹی کا دن ہے اس لئے مجھے سستی آ رہی ہے"۔

کتنی ڈالوں بولو ؟ راحیل نے کہا "ڈیڑھ چمچ"تو اس نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ڈیڑھ چمچ ڈال دئیے اور ساتھ ہی بولی ۔"ناں صاب جی 'اتنی چینی نا پیا کرو 'نقصان کرتی ہے"۔

اتنی دیر میں راحیل اٹھ کر اس طرح بیٹھ چکا تھا کہ اس کے پاءوں بیڈ سے نیچے رکھے تھے ۔شنو نے راحیل کو چائے کی پیالی پکڑائی تو گرم گرم کھولتی چائے راحیل کے پاءوں پہ چھلک گئی اور وہ فورا ً راحیل کے قدموں میں بیٹھ کر اپنے دوپٹے کے آنچل سے اس کو صاف کرنے لگی۔

ارے یہ تو کیا کر رہی ہے؟ راحیل نے چائے کی پیالی سائیڈ بورڈ پر واپس رکھی اور قدموں میں بیٹھی شنو کے بازو پکڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اس نے دیکھا 'شنو کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے ۔ راحیل نے سائیڈ بورڈ سے ٹشو باکس اسے دے کر کہا "جلدی سے آنسو پونچھ لے 'مجھے کچھ نہیں ہوا ہے"۔ شنو ٹشو ہاتھ میں لے کر کمرے سے چلی گئی۔

راحیل نے اگلی صبح اس کا چہرہ دیکھا جو ابھی تک آزردہ تھا ۔انیتا بھی ابھی تک سو رہی تھی۔ راحیل نے دیوار گیر گھڑیال پر نظر ڈالی جو دن کے گیارہ بجا رہا تھا ۔ شنونے راحیل کے آگے تازہ خستے گرم پراٹھے اور نہاری کا ناشتہ رکھا ۔راحیل ناشتہ کرنے بیٹھا تو اس نے پوچھا ۔شنو!تو نے ناشتہ کیا؟ جی صاب جی 'میں کوارٹر سے کر کے آئی ہوں ۔ ابھی تمہارے لئے چائے بنا رہی ہوں تو خود بھی پیوں گی۔

ٹھیک ہے 'میں بازار جا رہا ہوں 'یہ بتا تیرے لئے کیا لاءوں؟

صاب جی 'میرے کول پیسے نئیں ایں۔

ارے پیسوں کی بات چھوڑ 'تو اپنی بات کر۔ راحیل نے پیار بھرے لہجے میں ڈانٹا تو وہ کہنے لگی ۔

صاب جی ! کلائی میں پہننے والی گھڑی اچھی لگتی ہے۔ ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ انیتا اپنی نیند پوری کر کے بیڈ روم سے باہر آ گئی اور شنو کو راحیل کے ساتھ دیکھ کر سخت غصے میں پھنکار کر کہنے لگی۔ "کہاں ہے تیری نانی ؟میں نے کہا تھا ناں کہ نانی کے بغیر نہیں آیا کر۔

انیتا کے جواب میں شنو کہنے لگی ۔"نانی کو تو رات سے ہیضہ ہو گیا ہے'وہ تو غش کھائی پڑی ہے۔تم کہو تو میں واپس چلی جاءوں "۔

چل زیادہ دماغ مت دکھا اور مجھے بھی ناشتہ دے۔ راحیل کو شنو کی دل آزاری دیکھنا گوارہ نہیں تھی 'اس لئے وہ جلدی جلدی ناشتہ ختم کر کے اٹھ گیا ۔

اگلے روز وہ گھر سے نکل رہا تھا تو شنو نے پوچھا 'صاب جی ۔۔۔۔ میری گھڑی ؟

دو چار دن میں تیرے لئے گھڑی لیتا آءوں گا 'ابھی تو کسی اور کام سے نکل رہا ہوں۔ راحیل نے کہا۔

گھڑی تو وہ اسی دن لے آیا تھا مگر انیتا کا میکے جانا ہی نہیں ہو رہا تھا ۔تقریبا ً آٹھ دس دن بعد انیتا میکے گئی تو راحیل آفس سے جلدی اٹھ کر گھر آ گیا ۔ اس وقت تک گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر شنو اپنے سرونٹ کوارٹر میں جا چکی تھی ۔ گرمیوں کی دوپہریں ویسے بھی لمبی ہوتی ہیں ۔ راحیل کو کوئی اور خاص کام تو نہیں تھا 'پھر بھی اس نے سرونٹ کوارٹر کا دروازہ جا کھٹکھٹایا۔ دستک کی آواز پر بوڑھی ملازمہ غافل نیند سے جاگی اور آنکھیں ملتی ہوئی دروازے پر آئی ۔

صاب جی 'شنو ابھی آتی ہے ۔

اچھا " یہ کہہ کر راحیل گھر میں واپس چلا گیا اور ادھر ادھر ٹہل کر وقت گزاری کرنے لگا۔

(تیسرا ' آخری حصہ )

چند منٹ میں شنو اس کے پاس آگئی ۔ اس نے بالوں کو تولیہ میں لپیٹا ہوا تھا۔

جی صاب جی ' شنو نے تولیہ سے بالوں کو باہر نکالا اور پھر تولیہ سے رگڑتے ہوئے اس سے سوال کیا۔

وہ میں تیرے لئے گھڑی لے آیا ہوں۔ ''اچھا 'دکھاءو صاب جی۔ شنو نے گیلے بال جھٹک کر پیچھے کئے تو پانی کی چھینٹیں راحیل کے چہرے پہ آ گریں ۔

اوہ صاب جی ۔۔۔۔۔معاف کرنا ۔

نہیں 'کوئی بات نہیں ۔ اچھا لگا 'ٹھنڈی ٹھنڈی بوندیں ۔ راحیل نے کہا اور گھڑی کی خوبصورت ڈبیا کھول کر شنو کو دے دی۔

ہائے ربا 'کتنی حسین ہے ؟ اس میں تو نگینے جڑے ہوئے ہیں ۔ شنو نے گھڑی کی ڈبیا راحیل کے ہاتھوں سے لے لی۔

ہاں 'مجھے لگا کہ تیری کلائی میں یہی سجے گی۔ پھر راحیل نے اس سے پوچھا ۔ تیری گاءوں میں کسی سے سگائی ہو گئی ہے یا نہیں ؟

نہیں ۔۔۔صاب جی 'وہ میری خالہ کا بیٹا ہےناں 'بھنگی 'چرسی 'جواری ۔۔۔۔۔۔۔ماں میرا ہاتھ اس کے ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے ۔ میں نے بھی ماں سے کہہ دیا ہے کہ اگر میری شادی اس نکمے سے کرنی ہے جو سارا دن چارپائی پر پڑا روٹیاں توڑتا رہتا ہے تو میں خود ساری عمریا محنت مزدوری کر کے پیٹ بھر لوں گی لیکن اس سے شادی نہیں کروں گی۔ اب راحیل کے لئے میدان صاف تھا 'جس کے لئے اس نے منصوبہ بندی شروع کر دی۔

میں جاءوں صاب جی ؟ شنو نے کھڑے کھڑے سوال کیا۔

میں ابھی تو آیا ہوں ' تو نے کچھ پوچھا بھی نہیں ۔ ٹھنڈا پانی 'گرم چائے ۔

اچھا بولو صاب جی۔ کیا لے آءوں ؟

دو گلاس شربت بنا لا ۔راحیل نے کہا۔

دو کیوں ؟ اتنا مت پیو میٹھا 'نقصان کرے گا۔ شنو نے کہا تو وہ بولا ۔ ایک تیرا 'ایک میرا۔

شنو دو گلاس شربت کے لے آئی اور ابھی انہوں نے آدھا گلاس شربت ہی پیا ہو گا کہ دروازے پر زوردار دستک ہوئی ۔ شنو نے گھبرا کر اپنا آدھا بھرا گلاس کچن میں سنک میں الٹ دیا اور گھڑی کی ڈبیا راحیل کو دیتے ہوئے بولی ۔

صاب جی 'اسے چھپا لیں 'میں ابھی دروازہ کھول کر آتی ہوں۔ راحیل نے ڈبیا اپنی الماری میں کپڑوں کے نیچے چھپا دی ۔

اور پھر راحیل انیتا کے گھر سے جانے کے اوقات ٹیلی فون کر کے معلوم کر لیتا اور اس کے نکلتے ہی کوئی بہانہ بنا کر گھر واپس آ جاتا۔ کبھی سردرد کا بہانہ'کبھی باس کے میٹنگ میں چلے جانے کا بہانہ اور شنو کے لئے کوئی انمول سا تحفہ بھی لیتا آتا۔ گلے کا گلو بند شنو کو بہت پسند تھا اور اس بار راحیل نے گلو بند کے ساتھ ساتھ ایک عدد جڑاءو ٹیکہ اور نتھ بھی لے لی تھی ۔انیتا خوش تھی کہ بہت اچھی ماسی ملی ہے'جس نے گھر کو ہاتھوں ہاتھ سنبھال لیا ہے۔ اس نے راحیل سے کہا کہ لانگ ویک اینڈ وہ اپنے میکے میں گزارے گی اور اگر راحیل چاہے تو وہ بھی ساتھ چلے لیکن راحیل نے انیتا سے معذرت کرلی۔

اور پھر ایک روز جب راحیل اور شنو گھر میں اکیلے تھے 'راحیل نے پیچھے سے آ کر شنو کو اس طرح سے گھیر لیا کہ نکلنے کا راستہ مسدود ہوگیا ۔ شنو بھل بھل رونے لگی۔

صاب جی 'تم شریف آدمی ہو ۔۔۔۔۔دیکھو میری چنری میں داغ مت لگانا ورنہ مجھ سے پہلے میری ماں مر جائے گی۔ مجھے نانی کے بھروسے پر اماں نے بھیجا ہے اور میں تمہیں شریف آدمی سمجھ کر تمہاری بہت عزت کرتی ہوں ۔

شنو تم نے مجھے بازاری نہیں شریف آدمی سمجھا ہے تو میں بھی تجھے اپنے نام کا تاج پہناءوں گا ۔ میں تجھ سے نکاح کروں گا ۔

صاب جی 'ہم کمی کمین تمہارے محلوں کے لائق نہیں ہیں ۔ تمہاری بیگم کتنی حسین ہیں اور میں چمارن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں شنو ۔۔۔۔۔۔۔۔ راحیل نے اسے بازوءوں میں بھر لیا ۔ تیرا انگ انگ پیارا ہے۔ تیرا ہر روپ نیارا ہے۔ تو کہہ دے تو میں تجھے اپنے نام کا دوشالہ اوڑھا کر دلہن بنا دوں ۔ شنو نے اپنے آپ کو راحیل کے سپرد کر دیا اور سسکاری لے کر بولی۔

سوچ لو صاب جی ۔۔۔۔۔۔۔ بیگم صاب نے اگر مجھے نکال دیا تو میں کہیں کی نہیں رہوں گی۔

نہیں شنو 'تو اگر نکلے گی تو میں تیرے ساتھ ہوں گا ۔ راحیل نے کہا اور پھر جلدی سے الماری میں چھپائے ہوئے ڈبے کھول کر اس کے سامنے رکھ دئیے ۔ سرخ زرتار دوپٹے والا 'لہنگا سوٹ' نتھ ٹیکہ 'گلوبند'چوڑیاں اور شنو دلہن بن گئی۔ راحیل نے سرونٹ کوارٹر کو ہی حجلہ عروسی بنا دیا۔۔۔۔۔۔ انیتا تین دن کے بعد آئی اور اس نے شنو کوجو دیکھا تو کافی حیران ہوئی ۔ پھر شنو سے پوچھا ' ارے لگ رہا ہے ' تیری شادی ہو گئی ہے۔

ہاں جی 'میری شادی ہو گئی ہے۔

کب ہوئی 'کس سے ہوئی 'تو گاءوں گئی تھی کیا؟

نہیں بیگم صاب گاءوں کیوں جاءوں گی ؟ تمہاری خدمت کے لئے میں نے صاب جی سے شادی کر لی ہے۔ شنو نے ادائے بے نیازی سے کہا اور انیتا بے ہوش ہو کر پیچھے بیڈ پر گر گئی ۔

راحیل گرنے کی آواز سن کر بھاگ کر کمرے میں آیا۔ ارے شنو جلدی سے پانی لا ۔راحیل نے گھبرا کر کہا تو شنو کہنے لگی 'نہیں صاب جی ۔۔۔۔۔ ایسے میں پانی نہیں پلاتے ہیں ۔ بڑی بیگم کو جوتی سونگھا دو 'ابھی ہوش آ جائے گا۔

انیتا ہوش میں آ گئی تھی اور مسلسل روئے جا رہی تھی ۔

یہ کیسی محبت تھی کہ تم چند روز میں ایک ماسی کو میری سوکن بنا بیٹھے ۔ انیتا نے روتے ہوئے کہا تو راحیل نے جواب دیا ۔

انیتا بیگم شادی عورت کے لئے کل وقتی جاب ہوتی ہے۔ تم کو میرے کام ناگوار گزرتے تھے 'اس لئے میں نے تمہاری محبت کو ففٹی ففٹی تقسیم کر کے اپنے لئے وہ آرام خرید لیا 'جس کی مجھے ضرورت تھی ۔ اور یہ راستہ بھی تم ہی نے مجھے دکھایا کہ گھر کو ایک مستقل ملازمہ دینے کے لئے میں ایک ماسی کا شوہر بن جاءوں ۔ راحیل انیتا کو روتا چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا۔[/align]

admin
06-05-2011, 07:09 PM
بہت خوب.............:blush:

تانیہ
06-06-2011, 04:27 PM
:aslamalum:
:tumb:بہت خوب :th_smile:
نائس:-)
بہت خوب سیدہ زائرہ عابدی جی
امید ہے کہ مزید ایسی ہی خوبصورت پوسٹس سے نوازتی رہیں گی
انتظار رہیگا:heart:
اپکا ساتھ ہمارے لیے باعث افتخار ہے:roseanimr:
th_smilie_schild

این اے ناصر
05-05-2012, 12:56 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔