PDA

View Full Version : یہ کیسا مسیحا ہے؟



سیما
06-04-2011, 04:30 AM
مظفر اعجاز
ایک طرف بجٹ ہے دوسری طرف کے ای ایس سی ہے تیسری طرف مہنگائی اورلوڈشیڈنگ ‘ امریکی مداخلت کے خلاف دھرنے کی خبریں ہیں لیکن ہم تو ایک خبر پڑھنے کے بعد باربارپڑھنے پرمجبورہوئے یقین نہیں آیا۔ ایک ڈاکٹر ایک مسیحا ایک ایسا شخص جس کے حلف میں لکھا ہوتاہے کہ اس کا بنیادی کام انسانی جان بچاناہے انسانوں کو صحت دینے کی کوشش کرنا ہوتاہے اس کو مسیحا کہاجاتاہے وہ کہہ رہاہے کہ اگر مجھے علم ہوتا تو اسامہ کے بچوں کا علاج ہرگز نہ کرتا ڈاکٹر مہر وزیرعلی نے بڑی سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر مجھے حقیقت کا علم ہوتا تو ہرگز ایسا نہیں کرتا۔ اسامہ کے بچوں کے 2 افراد ارشد اور طارق شاہ میرے کلینک لاتے تھے اور اپنے آپ کو پائلٹ ظاہرکرتے تھے۔ ڈاکٹر مہروزیر علی کے تجویزکردہ نسخے اس مبینہ کمپاونڈ سے برآمد ہوئے ہیں جسے اسامہ کا کمپاونڈ کہتے ہیں اورڈاکٹر وزیرعلی کو شامل تفتیش کرلیاگیا جس کے بعد انہوں نے یہ وضاحت کی ہے۔ اگر تفتیشی ایجنسیوں سے بچنے کے لیے بھی انہوں نے یہ بات کی ہے تو ان کو یہ کہنے کا حق نہیں بلکہ طبی اخلاقیات میں یہ کہیں نہیں ہے کہ کوئی زخمی یا بیمار اگر مجرم ہے تو اس کا علاج نہیں کیاجائے گا ڈاکٹر کاکام تو صرف علاج کرناہوتاہے وہ پھانسی گھاٹ کا تارامسیح نہیں ہے ۔ایک ڈاکٹر کے پاس اگر سامہ بن لادن بھی زخمی حالت میں پہنچ جاتے تو اس ڈاکٹر کا فرض ہے کہ وہ ان کا علاج کرتا عام طوپر پولیس اسپتالوں میں چوروں ڈاکووں اور پولیس سے مقابلے میں زخمی ہونے والوں کو لاتی ہے تو کیا کوئی ڈاکٹران کا علاج کرتے یہ کہہ کر انکار کرسکتاہے کہ نہیں جناب یہ مجرم ہیں۔ یہ فائرنگ کررہے تھے اس لیے ان کا علاج ہم نہیں کرسکتے۔ ایسا صرف امریکی اور انڈین فلموں میں دیکھاگیاہے یا 12 مئی 2007ءاور اس سے پہلے 12 مئی 2004ءکو ضمنی انتخابات میں دیکھاگیا تھا کہ زخمی کو بھی ماراگیا اور اسپتال پہنچ کر بھی انہیں قتل کیاگیا۔ ایمبولینس ڈرائیورکوبھی نشانہ بنایاگیا ورنہ دنیا کی کوئی اخلاقیات اس کی تعلیم نہیں دیتی کہ اگرکسی کا تعلق کسی ایسے فردسے ہے جس کو یک طرفہ طورپر مجرم قراردے دیاگیاہے تو اس کا علاج نہ کیاجائے ۔ڈاکٹر مہروزیرعلی کون ہیں ان کو ڈگری کہاں سے ملی ہے ان کے بارے میں پاکستان بھرکے ڈاکٹرزکیا سوچ رہے ہیں اگر انہوں نے ایسی بات کہی ہے تو کم ازکم پاکستان میں ان کی ڈگری منسوخ کی جانی چاہیے اور یہ جو رپورٹ ہے ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہوئی ہے اور یہ برطانوی اخبارسے انسانی حقوق کے دعویداروں اور چیمپئنوں کا ملک درخت کاٹنے پر ہنگامہ کرنے والوں کا ملک‘ جانورکو پانی نہ ملنے پرہنگامہ کرنے والوں کا ملک ‘حتیٰ کہ جنگلی حیات کے لیے تڑپ اٹھنے والوں کا ملک وہاں یہ خبرچھپ گئی کہ مجھے علم ہوتا تو ہرگز ان بچوں کا علاج نہیں کرتا۔ اس بیان پربرطانیہ کے حقوق انسانی حقوق جانوروں اورحقوق جنگلی حیات والے چپ کیوں ہیں؟ برطانیہ کے انگریزوں کی تو تاریخ کا وہ سبق یاد ہوگا جب نام نہاد شیردل رچرڈ (ہم تو اسے کام نہیں دیں گی) کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے عین حالت جنگ میں اپنا خاص طبیب بھیج کر علاج کروایا تھا اور دوبارہ جنگ کے قابل بنایا تھا نہ تو اس طبیب نے کہاکہ میں اس کا علاج نہیں کروں گا اور نہ اس نے علاج میں کوئی کسر اٹھارکھی۔ جیساکہ مہروزیرعلی نے بے مہری کے ساتھ کہہ دیا کہ علم ہوتا تو میں ان کا علاج نہیں کرتا۔ہمیں یاد پڑتاہے کہ کراچی کے 2 ڈاکٹروں اکمل وحیداور ان کے بھائی پربھی اس قسم کے الزامات تھے کہ انہوں نے کچھ جہادیوں کے علاج میں مدد دی تھی اور اس کے بعد ان کو اغواءکیاگیا اور اب دبئی سے انہیں غائب کردیا گیا ۔ کیونکہ پاکستانی عدالت نے واپس بری کردیاتھا کیا صرف پاکستان ہی میں زخمیوں اور بیماروں کا علاج کرنے والوں پر یہ ظلم ہوتاہے۔ ہم سوال کرتے ہیں پاکستان کا میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور پاکستان میڈیکل کونسل سے کہ وہ فوراً یہ بتائیں کہ ایک ڈاکٹرکی کیا ذمہ داری ہے اورکیا پورے ملک کے ڈاکٹروںکو یہی کرنا چاہیے۔ روزانہ اسپتالوں میں یا پولیس والے ڈاکووں اور فائرنگ کرنے والوں کو گرفتارکرکے لاتے ہیں ان کا علاج کرنے کوکہتے حتیٰ کہ جیلوں سے سزایافتہ قیدیوں کو علاج کے لیے لاتے ہیں تو کیا تمام ڈاکٹرز ان لوگوں کا علاج کرنے سے انکارکردیں۔ اگر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل یہ اعلان کردے تو ہم سمجھیں گے کہ ڈاکٹر مہر وزیر علی نے درست فیصلہ کیاہے۔ ورنہ ڈاکٹرمہروزیرعلی کی ڈگری منسوخ کی جائے۔ان کا یہ بیان انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ اگر وہ تفتیش کاروں کے خوف سے یہ بات کہہ رہے ہیں تو تفتیش کارکو ان کی بات پر یقین کرنے والے نہیں ہمارے خیال میں انہیں بحیثیت ڈاکٹرمریض کا علاج کرنے کے حلف پر عمل کرنا چاہیے تھا پتا نہیں ڈیلی ٹیلی گراف کو یہ بیان دینے کا مقصد پاونڈز اور ڈالرزکا حصول یا ایجنسیوں سے بچنا بہرحال دونوں صورتوں میں ان کایہ بیان سخت گرفت کے قابل ہے ۔ اوریہ بچوں کا علاج بچے تو معصوم ہوتے ہیں وہ خودکہتے ہیں کہ 5 سال سے کم عمرکے بچوں کو شناخت کرنا مشکل تھا کہ شمال مغربی پاکستان کے ہیں یاعرب کے اور یہ کہ جو عورت بچوں کو ایک دفعہ لائی تھی مقامی زبان بول رہی تھی .... اگربالفرض وہ غیرمقامی زبان بھی بول رہی تھی تو ڈاکٹرکا کام بچوں کا علاج کرنا تھا۔ ہوسکتاہے دھرنوں ‘بجٹ‘کے ای ایس سی ہڑتالوں اور ٹارگٹ کلنگ کی خبروں کے درمیان اس خبرپرکسی کی نظرنہ پڑی ہو اور اس پر توجہ نہ دی جائے اس لیے ہم کم ازکم اپنا فرض تو اداکردیں کہ متعلقہ اداروں کو توجہ دلادیں اور پاکستانی حکام کو بھی سوچنا پڑے گا کہ وہ جرائم پر جرائم کررہے ہیں اگر کوئی ڈاکٹرکسی مریض کا علاج کرتاہے اور اس کو پتا نہیں کہ یہ کس کی اولاد ہیں تو اس کو تفتیش میں شامل کرکے ڈاکٹروں پر دباو نہ ڈالاجائے۔ اورخود آج کل وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں آپریشن جاری ہے ایسے میں اگر پاکستانی فوج اور سیکورٹی ریجن کے اہلکار دشمن کے ہاتھ لگ جائیں اور زخمی ہوں تو کیا وہاں ان کے ڈاکٹروں کو علاج نہیں کرنا چاہیے۔ خود ہمارے حکام بھارتی جیلوں میں قیدپاکستانی فوجیوں کے علاج کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔ خدا کے لیے انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو انسانیت کی خدمت کرنے دیں۔ ورنہ مسیحاوں سے بھی اعتماد اٹھ جائے گا۔

بےباک
06-05-2011, 06:23 AM
ڈاکٹر مہر وزیرعلی نے بڑی سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر مجھے حقیقت کا علم ہوتا تو ہرگز ایسا نہیں کرتا۔ اسامہ کے بچوں کے 2 افراد ارشد اور طارق شاہ میرے کلینک لاتے تھے اور اپنے آپ کو پائلٹ ظاہرکرتے تھے۔ ڈاکٹر مہروزیر علی کے تجویزکردہ نسخے اس مبینہ کمپاونڈ سے برآمد ہوئے ہیں جسے اسامہ کا کمپاونڈ کہتے ہیں اورڈاکٹر وزیرعلی کو شامل تفتیش کرلیاگیا جس کے بعد انہوں نے یہ وضاحت کی ہے۔ اگر تفتیشی ایجنسیوں سے بچنے کے لیے بھی انہوں نے یہ بات کی ہے تو ان کو یہ کہنے کا حق نہیں بلکہ طبی اخلاقیات میں یہ کہیں نہیں ہے کہ کوئی زخمی یا بیمار اگر مجرم ہے تو اس کا علاج نہیں کیاجائے گا ڈاکٹر کاکام تو صرف علاج کرناہوتاہے

یہ ہمارے ملک کا المیہ ہے ، ہم زر خرید غلام ہیں ،
ڈاکٹر وزیر علی نے جو بات کہی اس نے موجودہ تناظر میں کہی ، اس سے پہلے پاکستان میں ایسے کئی ڈاکٹر شہید کر دیے جنہوں نے مجاھدین کا علاج کیا تھا ،
ہمارے ایک جاننے والے ہیں ضلع قصور سے ان کا تعلق ہے ، وہ اسی قسم کا معاملہ اس کے ساتھ درپیش ہے ، ایجنسیوں نے اسے مجاھدین کا علاج کرنے کے ضمن میں پکڑ رکھا ہے ، عدالت کہہ رہی ہے کہ اسے چھوڑ دیں ، مگر ،،،، حالات ایسے ہیں کہ اس کو کہتے ہیں کہ ضمانت کی رقم کا بندوبست کرو تب جا کر چھوٹ سکو گے ، عجب معاملہ ہے کہ وہ غریب بندہ 5 لاکھ کی ضمانت کا انتظام نہیں کر سکتا ،اگر بفرض محال کر بھی لے تو وہ ڈرتا ہے کہ اسے امریکن یا پاکستانی ایجنٹ گولی مار دیں گے ، اس کا قصور اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ وہ اسلام آباد میں ایک مشہور ھسپتال میں زخمیوں کا علاج کرتا تھا ، اور زخمیوں سے ھمدردی رکھتا تھا ، جو کہ ایک ڈاکٹر کا فرض تھا ،
ڈاکٹر مہر وزیر علی نے جو بات کہی ، وہ اپنی جان چھڑانے کے ضمن میں کہی ، کیوں کہ وہ اب مختلف تحقیقاتی ایجنسیوں سے بھگت رہا ہے جو دھونس اور دھمکیاں دونوں پر عمل بھی کر سکتے ہیں ، اور سب سے بڑی بات ہماری گورنمنٹ ایسے ڈاکٹروں کی حفاظت کا بھی انتظام نہیں کر سکتی ،

۔۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ سیما جی ،

اذان
06-05-2011, 07:11 PM
زبردست .. اچھی معلومات ہے

سیما
06-06-2011, 04:23 AM
شکریہ چاچاجی آپ نے جو تبصرہ کیا وہ تو زبردست تھا