PDA

View Full Version : سلیم شہزاد سے الیاس کاشمیری تک



سیما
06-08-2011, 04:41 AM
مشتاق احمد خان
پاکستان میں صحافت پر شاید ہی کبھی اچھا وقت آیا ہو۔ کبھی کاغذ کے کوٹے کی بندش۔ کبھی اشتہارات کے ذریعے کسی اطاعت گزار کو نوازنے اور کسی ”باغی“ کی معیشت کا گلا گھونٹنے کا سلسلہ۔ خبریں چھاپنے کے لیے لفافوں کی پیش کش سے لے کر نہ چھاپنے پر اخباری دفاتر پر حملوں تک۔ پھر کسی وقت اس سب کچھ میں ذاتی عناد اور تشدد کا عنصر بھی شامل ہوگیا۔ صحافی دھونس اور دھمکیوں کا نشانہ بننے لگے۔ سچ لکھنے کا جرم کرنے والوں سے جسمانی طور پر نمٹا جانے لگا۔صرف حکومتی اشارے پر سرکاری ادارے ہی نہیں سیاسی جماعتوں کے اشارے پر ان کے مسلح جتھے بھی اپنا اپنا سچ چھاپنے اور ناگوار سچ ”چُھپانے“ کے لیے سرگرم عمل ہوگئے۔ مدیر تکبیر صلاح الدین مہینوں ہفت روزہ کراچی کے بجائے لاہور سے چھپوانے پر مجبور رہے کہ کراچی کا کوئی پریس ان کا ”سچ“ چھاپنے کا ”خطرہ“ مول لے کر اپنا پریس جلوانے اور بند کروانے پر تیار نہ تھا۔ بالآخر اس کشمکش کا انجام محترم صلاح الدین کی شہادت کی صورت میں ہوا۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی سلیم شہزاد کی شہادت ہے۔ زمانہ طالب علمی میںدائیں بازو کی طلبہ تنظیم سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان ، جس نے روایتی اخبار نویسی کے بجائے الیکٹرانک اخبار نویسی کا میدان چنا اور اس میں بھی مشکل ترین شعبہ اختیار کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے بارے میں لکھنا شروع ہوگیا۔اسے جلد ہی اس شعبے کے باخبر ترین فرد ہونے کا افتخار حاصل ہوگیا۔ ان کی صحافت کے ساتھ ساتھ ان کا معیار زندگی بھی بلند ہوتا رہا۔ وہ اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے ایف ایٹ میں قیام پذیر تھے۔ اور ان عسکریت پسندوں سے بھی رابطے میں تھے جن کی حیثیت ایک دیومالائی کردار کی بن کر رہ گئی تھی۔ ان کی لکھی گئی اسٹوریز پر حساس اداروں کو اعتراض بھی ہوتا رہا اور اس پر ان سے وضاحتیں بھی طلب کی گئیں جو یقینا کوئی انوکھی اور انہونی بات نہیں ہے۔دنیا بھر کے حسا س ادارے اپنے بارے میں اتنے ہی حساس ہوتے ہیں ۔ خصوصا ًاس صورت میں جب ان کی ہی فراہم کردہ معلومات کو انہی کے خلاف استعمال کیا جائے۔ سلیم شہزاد کی تازہ ترین اسٹوری کراچی میں پی این ایس مہران پر حملے کے حوالے سے تھی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ حملہ پاکستان نیوی کے لیے نقصان مایہ و شماتت ہمسایہ کے مترادف تھا کہ اربوں روپے کی مالیت کے 2 اورین طیاروں کے علاوہ دیگر تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور ایک درجن کے لگ بھگ اہلکاروں کی شہادت معمولی بات نہیں تھی۔لیکن اس سب سے بڑھ کر یہ کہ اس حملے کے نتیجے میں پاکستان نیوی کی استعداد کار، دشمنوں سے نمٹنے کی صلاحیت، انٹیلی جنس نظام اور سب سے بڑھ کر پاک نیوی سے وابستہ افراد کی وفاداریوں پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ آج کل ہمارے دفاعی اداروں کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ان پر ہونے والے کسی بھی حملے کے بعد کسی بھی تحقیقات کے آغاز سے قبل ہی رحمان ملک اس کے ذمہ داروں کا تعین بھی کردیتے ہیں اور ذمہ دار قرار دی جانے والی تحریک طالبان اس کی ذمہ داری بھی قبول کرلیتی ہے۔حالانکہ مہران بیس پر حملے کا سب سے بڑا فائدہ بھارت کو ملنے کی وجہ سے اس معاملے میں بھارت اور امریکا کے ملوث ہونے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔پھر حملہ آوروں کی طرف سے بیس میں موجود چینی انجیئنروں کو گھیرنے اور نشانہ بنانے کی کوششوں سے بھی حملہ آوروں کے پس منظر کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔لیکن سلیم شہزاد وہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے اس سارے معاملے کاماسٹر مائنڈ الیاس کاشمیری کے بریگیڈ 313کو قرار دیا۔ جس کے نتیجے میں دیگر امکانات پر گفتگو پس منظر میں چلی گئی۔ الیاس کاشمیری اس عمر میں جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرلیا تھا۔ جہادافغانستان میں شرکت کے لیے پہنچا تھا۔ وہ ان نوجوانوں میں سے تھا جو چند ہفتوں کے لیے افغانستان جاتے جہاد میں شرکت کا شرف حاصل کرتے اور واپس اپنے گھروں کو پلٹ کر معمول کی زندگی گزارنے لگتے تھے۔ گزشتہ دنوں مجھے ایک ایسے فرد نے جو مجاہدین افغانستان کی سفارتکاری کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں خبر دی کہ الیاس کاشمیری چند ہفتے افغانستان میں گزار کر واپس جانا چاہتا تھا، کیونکہ اسے مقبوضہ کشمیر میں سرکاری ملازمت مل رہی تھی۔لیکن تب مجاہدین کے سرپرستوں نے اسے وہیں روک لیا اور الیاس کاشمیری نے میدان جہاد ہی کو اپنا مستقبل بنا لیا۔افغانستان میں اس کی ایک آنکھ ضائع ہوئی لیکن اس کے بدلے میں اسے گوریلا جنگ کا انمول تجربہ حاصل ہوا۔ افغانستان سے روس کی واپسی کے بعد کشمیری نوجوان مقبوضہ کشمیر کی طرف نکل گئے جہاں الیاس کاشمیری گرفتار ہوا اور2 برس بھارتی قید میں گزارنے پر مجبور ہوا فروری2000میں الیاس کاشمیری نے مقبوضہ پونچھ کے نوشہرہ سیکٹر میں اہم کارروائی کی بھارتی فوج کے مہاراشٹرا لائٹ انفنٹری کے اہل کار پی ایم رتنا کو قتل کیا اور اس کا سر لے کر پاکستان آگیا۔کہا جاتاہے کہ الیاس کاشمیری نے یہ سر جنرل پرویز مشرف کو پیش کرکے ان سے انعام اور آشیر باد حاصل کی ۔ اور پھر یوں ہوا کہ امریکا نے اقوام متحدہ کے ذریعے اسے بین الاقوامی دہشتگرد قرار دلوادیا۔ حکومت پاکستان نے اس سر پھرے اور سر چڑھے نوجوان کو 2003میں گرفتار کرلیا۔ اس قید سے الیاس کاشمیری کو 2005میں رہائی ملی۔ اس قید نے الیاس کاشمیری کو پرویز مشرف کا مخالف بنادیا اور شاید پاکستان کا بھی ۔ اس کے بعد اس کے بارے میں خبریں آتی رہیں کہ وہ پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ سلیم شہزاد نے خبر دی کہ پی این ایس مہران پر حملوں کاماسٹر مائنڈ الیاس کاشمیری ہے ۔ یقینا اسے یہ خبر اس کے کسی ”سورس“ نے دی ہوگی۔ ممکن ہے اس نے دیگر ذرائع سے اس کے تصدیق بھی کی ہو۔ لیکن کسی خبر کی تصدیق کے لیے انہی عناصر میں موجود ذرائع پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات یہ ذرائع کسی ”خبر“ کو خود ہی ”لیک“ کرتے اور خود ہی ”تصدیق“ کراتے ہیں ۔ اس معاملے میں صرف بھروسہ چلتا ہے۔ تحقیق و تفتیش نہیں۔ سلیم شہزاد ایشیاءآن لائن میں یہ خبر دینے کے بعد راستے سے غائب کردیے گئے۔ پھر ان کی لاوارث کار ملی اور پھر ایک تشدد زدہ لاش۔۔ اس کے ساتھ ہی یہ واویلا بھی شروع ہوگیا کہ سلیم شہزاد کا قتل آئی ایس آئی کی سازش ہے۔یہ راگ اتنے اونچے سروں میں الاپا گیا کہ آئی ایس آئی کے ترجمان کو اس کی واضح تردید کرنا پڑی۔میں نہیںکہتا کہ پاکستان کے حساس ادارے لوگوں کو اٹھانے اور منظر سے غائب کرنے میں ملوث نہیں لیکن سلیم شہزاد کا کیس بظاہر مختلف محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے کہ سلیم شہزاد جیسے باخبر اور آ¾ی ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے کئی گروپوں سے موثر رابطہ رکھنے والے فرد کی زندگی آئی ایس آئی کے لیے اور ان کی موت سی آئی اے کے مقاصد کے لیے بہت ضروری تھی ۔ ابھی سلیم شہزاد کے قتل کی گتھی سلجھائی نہیں جاسکی تھی کہ امریکا نے اعلان کیا کہ الیاس کاشمیری ایک ڈرون حملے میں ہلاک کردیا گیا ہے ۔ رحمان ملک نے فورا ہی بیان دیا کہ زمینی حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ الیاس کاشمیری ہلاک ہوگیا ہے۔ مہران بیس پر حملہ اس پر سلیم شہزاد کی رپورٹ اور ان کا قتل، الیاس کاشمیری کا مہران بیس پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جانا اور ان کی ہلاکت ،3 واقعات نہیں ایک ہی واقعے کی کڑیاں ہیں ۔پہلے سلیم شہزاد کے ذریعے یہ خبر چلوا کر کہ کراچی نیول بیس پر حملے میں الیاس کاشمیری گروپ ملوث ہے جسے نیوی کے حاضر سروس لوگوں کا تعاون حاصل ہے ۔حملے کے حاصل ذمہ داران کو پس منظر میں دھکیلا گیا۔ پھر سلیم شہزاد کو قتل کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ آئی ایس آئی نے جھنجھلا کر اسے قتل کیا ہے ۔ اور پھر اعلان کردیا گیا کہ الیاس کاشمیری ہلاک ہوگیا ہے۔ یعنی پولیس کی زبان میں کیس فائل بند ہوگئی ۔ لیکن اس فائل کی بندش پھر ایک سوال پیدا کرتی ہے کہ آخر الیاس کاشمیری کو افواج پاکستان کیوںنہ تلاش کرسکیں؟ حالانکہ اسامہ بن لادن کی طرح الیاس کاشمیری کی ہلاکت بھی ایک ایسی خبر ہے جس کی تصدیق کی ضرورت ہے۔