PDA

View Full Version : میری پسند



تانیہ
11-19-2010, 10:14 PM
ذات سے باہر نکل کر جاؤں تو جاؤں کہاں
تیرے غم کی ہر طرف پھیلی ہوئی زنجیر ہے
شام تیری سُرخیوں کی ہے قسم، اُس کے بغیر
سانس لینا بھی مجھے اب جیسے اک تعزیر ہے[hr]
تیری کوشش تیری تدبیر ھونا چاہتی ھوں
میں تیرے ھاتھ کی تحریر ھونا چاھتی ھوں
تو میرے پاس آئے اور پلٹ کے نہ جائے
میں تیرے پاؤں کی زنجیر ھونا چاھتی ھوں
مجھے حجت نہیں اب دوسروں کے مشوروں کی
میں خود بھی شبِ تقدیر ھونا چاھتی ھوں
ازل سے خواب بن کر میری آنکھوں میں رھا ھے تو
میں اب شرمندئہ تعبیر ھونا چاھتی ھوں
میں اس لیے مسمار خود کو کر رھی ھوں کہ
میں تیرے ھاتھ سے تعمیر ھونا چاھتی ھوں[hr]
کارگر ہوتے ہیں کب عشق کے پہلے آنسو
مدتیں چاہئیں قطروں کو گُہر ہونے تک[hr]
کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو
بہت کڑا ہے سفر تھوڑي دور ساتھ چلو

تمام عمر کہاں کوئي ساتھ ديتا ہے
يہ جانتا ہوں مگر تھوڑي دور ساتھ چلو

نشے ميں چور ہوں ميں بھي تمہيں ہوش نہيں
بڑا مزہ ہو اگر تھوڑي دور ساتھ چلو

يہ ايک شب کي ملاقات بھي غنيمت ہے
کسے ہےکل کي خبر تھوڑي دور ساتھ چلو

ابھي تو جاگ رہے ہيں چراغ راہوں کے
ابھي ہے دور سحر تھوڑي دور ساتھ چلو

طواف منزل جاناں ہميں بھي کرنا ہے
فراز تم بھي اگر تھوڑي دور ساتھ چلو


شاعر احمد فراز[hr]
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
زندگی تیری عطا تھی سو تیرے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احساں جاناں
دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہو فُسردہ تو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں
اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیئے بھی تیرا چہرہ تھا گلستاں جاناں
آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگِ مینا سلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں
مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جانا! جاناں !
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جانا
سر بہ زانوں ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سایے سے ہراساں جاناں
جس کو دیکھو وہ ہی زنجیز بپا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل ہوا زِنداں جاناں
ہم بھی کیا سادہ تھےہم نےبھی سمجھ رکھاتھا
غمِ دوراں سے جدا ہے غمِ جاناں جاناں
ہم، کہ روٹھی ہوی رُت کو بھی منالیتےتھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں
ہوش آیا تو سب ہی خاک تھے ریزہ ریزہ
جیسے اُڑتے ہوئے اُوراقِ پریشاں جاناں


شاعر احمد فراز[hr]
سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں
تو اس کے شہر میں*کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں
سنا ہے حشر ہیں*اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں*کاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہےجب سے حمائل ہے اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کےدیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں*اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا
سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اك نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل كا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر كے دیكھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں* ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کے بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی درودیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کرکے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں*ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں**

شاعر احمد فراز[hr]
جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی
مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ پیار آتا ہے
تری الفت نے محبت مری عادت کر دی
پوچھ بیٹھا ہوں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تیری حالت کر دی
کیا ترا جسم تیرے حسن کی حدّت میں جلا
راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی
[hr]
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگِیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے
لمحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجالیں گے رہِ شہرِ تمنا
مقدور نہیں صبح، چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گِلہ ہم سفروں سے
جِس رہ سے چلے تیرے درو بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کُوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ، ادا دشتِ جنوں کی
دل میں اگر اندیشۂِ انجام ہی آئے

بےباک
11-19-2010, 10:55 PM
بہت خوب ، شاندار ،
آپ نے بہت اچھی شاعری پوسٹ کی ہے ،
ماشاء اللہ سلسلہ جاری رہے ،

علی عمران
11-19-2010, 11:26 PM
بہت خوب کمال کی شئیرنگ ہے..............جاری رہنی چاہیے..........

ہم تم
11-19-2010, 11:43 PM
کمال کہیا ہے آپ نے واہ

تانیہ
11-21-2010, 10:37 PM
بہت شکریہ سب ساتھیوں کا[hr]
شاعر سعد اللہ شاہ
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے
اب تک ہے وہ اک نغمہء بے ساز و صدا یاد

کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں
کیجیئے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد

جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرم نوازش
اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد

کیا جانیے کیا ہو گیا ارباب جنوں کو
مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

مدت ہوئی اک حادثہ ء عشق کو لیکن
اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد [hr]
شاعر جگر مراد آبادی
ہر ايک زخم کا چہرہ گلاب جيسا ہے
مگر يہ جاگتا منظر بھي خواب جييسا ہے
يہ تلخ تلخ سا لہجہ، يہ تيز تيز سي بات
مزاج يار کا عالم شراب جيسا ہے
مرا سخن بھي چمن در چمن شفق کي پھوار
ترا بدن بھي مہکتے گلاب جيسا ہے
بڑا طويل، نہايت حسيں، بہت مبہم
مرا سوال تمہارے جواب جيسا ہے
تو زندگي کےحقائق کي تہہ ميں يوں نہ اتر
کہ اس ندي کا بہاؤ چناب جيسا ہے
تري نظر ہي نہيں حرف آشنا ورنہ
ہر ايک چہرہ يہاں پر کتاب جيسا ہے
چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ريت کي لہر
مرے خيال کا دريا سراب جيسا ہے
ترے قريب بھي رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو
ترے خيال کا جلوہ حباب جيسا ہے

علی عمران
11-22-2010, 12:55 AM
واہ جی واہ بہت خوب.....................کیا بات ہے........

تانیہ
11-22-2010, 03:01 PM
مجھ سا جہان میں نادان بھی نہ ہو
کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو
کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا ضرور ہے
بِن میرے شائد آپ کی پہچان بھی نہ ہو
آشفتہ سر جو لوگ ہیں مشکل پسند ہیں
مشکل نہ ہو جو کام تو آسان بھی نہ ہو
محرومیوں کا ہم نے گلہ تک نہیں کیا
لیکن یہ کیا کہ دل میں یہ ارمان بھی نہ ہو
خوابوں سی دلنواز حقیقت نہیں کوئی
یہ بھی نہ ہو تو درد کا درمان بھی نہ ہو
رونا یہی تو ہے کہ اسے چاہتے ہیں ہم
اے سعد جس کے ملنے کا امکان بھی نہ ہو

شاعر سعد اللہ شاہ

تانیہ
11-22-2010, 05:31 PM
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے
اب تک ہے وہ اک نغمہء بے ساز و صدا یاد

کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں
کیجیئے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد

جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرم نوازش
اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد

کیا جانیے کیا ہو گیا ارباب جنوں کو
مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

مدت ہوئی اک حادثہ ء عشق کو لیکن
اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد

علی عمران
11-23-2010, 12:21 PM
واہ بہت خوب............

تانیہ
11-23-2010, 09:24 PM
بکھرتی ریت پر کس نقش کو آباد رکھے گا
وہ مجھکو یاد رکھے بھی تو کتنا یاد رکھے گا
اسے بنیاد رکھنی ہے ابھی دل میں محبت کی
مگر یہ سنگ سینے پر وہ میرے بعد رکھے گا
پلٹ کر بھی نہیں دیکھی تیری بے رخی ہم نے
بھلا دونگا تجھے ایسا کہ تو بھی یاد رکھے گا[hr]
کہیں سے لا کے دکھاؤ وفا جو مل جائے وصی
ترس جاؤ گے پر کوئی ہم سا نہ ملے گا[hr]
تیری اک دعا کے جواب میں کیا لکھوں
کہ ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں سوال کو
تجھے رب کبھی نہ ملال دے
تجھے رب کبھی نہ زوال دے
تیری سب بلاؤں کو ٹال دے
تیری زندگی کو سنوار دے
تجھے دیکھ کر کھلیں گل یہاں
تجھے ایسا حسن جمال دے
تجھے کیا لکھوں ، تجھے کیا میں دوں
میری رب سے ہے یہی التجا
اپنی رحمتوں کے گلاب سب
وہ تیری خزاؤں میں ڈال دے

تانیہ
11-24-2010, 03:06 PM
شاعر اعتبار ساجد

مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں
مری زیست کے کسی موڑ پر جو مجھے ملا تھا بہار میں
وہی اک امید ہے آخری اسی ایک شمع سے روشنی
کوئی اور اس کے سوا نہیں, میری خواہشوں کے دیار میں
وہ یہ جانتے تھے کہ آسمانوں, کے فیصلے ہیں کچھ اور ہی
سو ستارے دیکھ کے ہنس پڑے مجھے تیری بانہوں کے ہار میں
یہ تو صرف سوچ کا فرق ہے یہ تو صرف بخت کی بات ہے
کوئی فاصلہ تو نہیں, تیری جیت میں میری ہار میں
ذرا دیکھ شہر کی رونقوں سے پرے بھی کوئی جہان ہے
کسی شام کوئی دیا جلا کسی دل جلے کے مزار میں
کسی چیز میں کوئی ذائقہ کوئی لطف باقی نہیں رہا
نہ تیری طلب کے گداز میں نہ میرے ہنر کے وقار میں[hr]
جسے آنسوؤں سے مٹائیں ہم جسے دوسروں سے چھپائیں ہم
سو یہ خیریت رہی عمر بھر کوئی حرف ایسا لکھا نہیں
ہمیں اعتبار نہیں ملا کوئی لمحہ اپنے لئے کبھی
لکھے دوسروں کے عذاب جاں, مگر اپنا نوحہ لکھا نہیں[hr]
شاعر اعتبار ساجد

یہی نہیں کہ فقط ہم ہی اضطراب میں ہیں
ہمارے بھولنے والے بھی اس عذاب میں ہیں
اسی خیال سے ہر شام جلد نیند آئی
کہ مجھ سے بچھڑے ہوئے لوگ شہرِ خواب میں ہیں
وہی ہے رنگِ جنوں ، ترکِ ربط و ضبط پہ بھی
تری ہی دھن میں ہیں اب تک اسی سراب میں ہیں
عزیز کیوں نہ ہو ماضی کا ہر ورق ہم کو
کہ چند سوکھے ہوئے پھول اس کتاب میں ہیں
شناوروں کی رسائی کے منتظر ساجد
ہم اپنے عہد کے اک شہرِ زیر آب میں ہیں[hr]
شاعر اعتبار ساجد

تھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہا
اب دل کو اعتبارِ ہوا بھی نہیں رہا
تو بجھ گیا تو ہم بھی فروزاں نہ رہ سکے
تو کھو گیا تو اپنا پتہ بھی نہیں رہا
کچھ ہم بھی ترے بعد زمانے سے کٹ گئے
کچھ ربط و ضبط خدا سے بھی نہیں رہا
گویا ہمارے حق میں ستم در ستم ہوا
حرفِ دعا بھی ، دستِ دعا بھی نہیں رہا
کیا شاعری کریں کہ ترے بعد شہر میں
لطف کلام ، کیفِ نوا بھی نہیں رہا

علی عمران
11-25-2010, 11:13 AM
واہ جی واہ بہت خوب.........................

محمدانوش
11-26-2010, 03:40 PM
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں

بہت ہی خوب کی پسند ہے تانی بہنا[hr]
ترس ترس کے برستے میرے آنسو ہر روز اس وقت
کہ آج کا دن بھی گزر گیا رب کی نافرمانی کرتے کرتے

این اے ناصر
03-31-2012, 12:47 PM
ویری نائس شئیرنگ۔