PDA

View Full Version : حضرت فتویٰ دیجئے



بےباک
06-11-2011, 07:36 AM
حضرت فتویٰ دیجئے!

محمد اسلم احمدانی


ہفت روزہ القلم




ہمارے وطن پاکستان کے جو بھی حکمران آتے ہیں ان کا سب سے پہلے ہدفِ تنقید مدارس ، مساجد اور علماءکرام ہوتے ہیں۔اامریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے حدود اللہ تک توڑ بیٹھتے ہیں۔امدارس کو دہشت گردوں کی فیکٹریاں کہنے تک نہیں شرماتے لیکن اب انھیں غیروں کی جنگ لڑتے ہوئے جب پانی سر سے گزر جانے کے احساس نے آ لیا ہے تو اب ہمارے وفاقی وزیرِ داخلہ ہانپتے کانپتے بوریا اور چٹائی نشینوں کے قدموں میں آ کر بیٹھ گئے کہ ” حضرت آپ فتویٰ دیجئے ، حضرت آپ فتویٰ دیجئے کہ خود کش حملے حرام ہیں “۔ملک صاحب ! کاش یہ احساس آپ کو پہلے ہوتا اور فتویٰ مشرف پالیسیوں کو جاری رکھنے سے پہلے لیتے تو قوم و ملک کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ، ہمارے حکمرانوں کو یہ احساس تب ہوتا ہے جب چڑیاں کھیت چگ جاتی ہیں۔اکاش وہ اپنے افغانی مسلمان بھائیوں کے مقابلے میں امریکہ کی مدد کرنے سے پہلے فتویٰ لیتے۔تم جامعہ حفصہ لال مسجد کے طلبہ و طالبات کا خون اپنے اوپر حلال کرنے سے پہلے فتویٰ مانگتے ، تم قبائیلیوں کے گھروں کو آگ لگانے سے پہلے دارالافتاءکا رخ کرتے ، تم صلیبیوں کی جنگ کو اپنی جنگ کہنے سے پہلے فتویٰ لیتے ، تم اپنے ہی بے گناہ لوگوں کو امریکہ کے ہاتھوں بھیڑ بکریوں کی طرح بیچنے سے پہلے کوئی فتویٰ لیتے ، تم نے بے گناہ لوگوں کو غائب کیا ، ٹارچر سیلوں میں تشدد کر کے قتل کیا اس وقت کاش تم فتویٰ کی اہمیت کو سمجھتے۔ااے کاش تم سوچتے سمجھتے علماءسے ، عوام سے رائے لیتے۔اتمھارے غلط فیصلوں اور غلط خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے جو خود کش حملوں کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔اتمھیں ڈرون حملوں کی اجازت دینے سے پہلے دارالافتاءکیوں نظر نہیں آئے۔اتم نے عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کرتے وقت کیوں نہ فتویٰ مانگا ، تم لوگوں نے اپنے بھائیوں کے گھروں کو اجاڑ دیا ، تم نے ڈرون حملے کروا کر اپنے ہی بھائیوں کے گھروں کو ملیا میٹ کر دیا ان کے اعضاءفضاؤں میں بکھر گئے۔اان کے معصوم بچے ، عورتیں ، مائیں ، بہنیں آگ میں جل گئیں۔ان کی چیخ پکار کو تم میڈیا تک نہیں آنے دیتے ، تم نے بڑا ظلم کیا ہے۔اجن کے گھر تباہ ہو گئے ، جن کے بچے یتیم ہو گئے ، جن کی بیویاں بیوہ ہو گئیں ، جن پر آج تک امریکہ ڈرون آگ برسا رہا ہے ، جن کو تم زمین پر گولیوں سے بھون رہے ہو ، جو وطن میں بے وطن ہو گئے ، جن کا کچھ نہ بچا۔ عزیزو اقارب صلیبی ڈرون حملوں اور تمھاری گولیوں کا شکار ہو گئے۔اذرا سوچو ، غور کرو ، وہ نہیں مانتے کسی فتویٰ کو ، ان پر دارالعلوم کا فتویٰ اثر نہیں کرے گا۔ وہ خیر المدارس کا فتویٰ نہیں مانتے ، وہ جامعہ بنوریہ یا کسی مفتیٔ دارالافتاءکے فتویٰ کے قائل نہیں ہو سکتے ، جو آگ تم لوگوں نے امریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے لگائی ہے وہ اب کسی مفتی یا دارالافتاءکے فتوی سے نہیں بجھ سکتی۔املک صاحب ! اب یہ آگ بجھانے کے لیے تمھیں اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑے گی۔ااب تمھیں اللہ کے حضور توبہ کرنی پڑے گی ، تمھیں عوام سے معافی مانگنی پڑے گی ، تمھیں اس صلیبی جنگ کو اپنی جنگ کہنے سے باز آنا پڑے گا ، تمھیں قبائیلیوں سے مذاکرات کر کے وہاں سے افواج کو واپس بلانا پڑے گا۔ تمھیں بلیک واٹر اور ان جیسی بدنامِ زمانہ تنظیموں کو ملک سے بھگانا پڑے گا ، اپنے ہوائی اڈے اور بحری سہولتیں امریکیوں سے واپس لینی پڑیں گی ، اپنے ملک سے صلیبیوں کو لاجسٹک سپورٹ ختم کرنی پڑے گی ، تب جا کر ملک میں امن قائم ہو گا اور فتوے اثر انداز ہوں گے۔اواپس لوٹ آؤ ، سوچو غور کرو اے میرے وطن کے وقتی حکمرانو! جب یہ سب کچھ کر لو گے تب تمھیں کسی فتویٰ کی ضرورت نہیں پڑے گی ، تب تمھیں کسی دارالافتاءمیں جا کر یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ ” حضرت فتویٰ دیجئے “۔ا

(بشکریہ ہفت روزہ القلم)