PDA

View Full Version : آو حضرت عمر کے راستے پر چلیں



سیما
06-12-2011, 12:47 AM
مظفر اعجاز
ارے سندھ اسمبلی میں کیا ہوگیا‘ پیپلزپارٹی کے رکن نے کہاہے کہ ہمیں حضرت عمر کے راستے پر چلنا ہوگا۔ وہ سندھ میں بدامنی کے مسئلہ پر چیخ پڑے کیونکہ 15 سال کا بچہ بھی بندوق لیے گھوم رہا ہے اور 10 ہزار روپے کی خاطر کسی کو بھی ماردیتاہے۔ بات سندھ کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد پربحث کے دوران سامنے آئی۔ لیکن ایک ایسی بات کہی گئی ہے جس نے اس حقیقت کی جانب اشارہ دیاہے کہ امت مسلمہ کے عام مسلمانوں کی طرح حکمران طبقہ میں بھی یہ خیال کہیں نہ کہیں موجود ہے کہ اگرحکومت چلانی ہے اور ڈھنگ سے چلانی ہے تو خلافت راشدہ ہی نمونہ ہے۔ اس نظام کے حوالے سے ہم تو مثالیں دیتے رہتے ہیں کہ جب کبھی طرز حکمران کی بات آتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کی طرزکا نظام لایاجائے گا۔ جب کبھی حکمران اور فہم وفراست جرات وبے باکی کا ذکرآتاہے تو ان میں خلفاءکا نام آتاہے۔ فتوحات کا نام آئے تو حضرت عمرفاروقؓکا نام آئے گا‘ منکرین زکوٰة سے جہاد کا ذکرآئے گا تو حضرت صدیق اکبرؓ کانام بھی لیاجائے گا۔ حلم وبردباری اور عمل کا ذکرآئے تو حضرت عثمان غنیؓ اور حکمت ودانائی وتدبرکانام آئے تو حضرت علی ؓ کانام آتاہے۔ اور چاروں ہی حق گو بے باکی‘ ایماندار‘ خلق خدا کے لیے تڑپنے والے اللہ کا نظام اللہ کی زمین پر اس کے بندوں پر اس کی خلافت قائم کرنے والے تھے۔ ایک نام اور تاریخ میں آتاہے وہ بھی حضرت عمر کا ‘ حضرت عمربن عبدالعزیز کا ....نہ جانے ہمارے رکن اسمبلی سید بچل شاہ کے ذہن میں کون سے حضرت عمرکانام تھا لیکن حکمرانی کے حوالے سے کسی ایک کو بھی اسوہ بنالیں امن وامان بھی مثالی ہوجائے گا اور حکمرانی بھی۔ اور غیروں کے حملے اوریلغار سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ اسمبلی میں تو بات امن وامان کے حوالے سے ہورہی تھی اورکہاگیا کہ صوبہ بدامنی کا گڑھ بن گیاہے‘ حضرت عمرؓ کے راستے پر چلناہوگا۔ لیکن اسمبلی کے اراکین اورحکمران پارٹی کے اراکین کے لیے خاص توجہ کے لیے عرض کرتے چلیں کہ حضرت عمرؓ کا راستہ محض اقتداروالا نہیں تھا۔ محض امن وامان والا نہیں بلکہ حضرت عمرکے راستے پرچلنے کے لیے انہیں پوری زندگی بھی ویسی ہی بنانی چاہیے۔یہ ابن حضرت عمرؓ ہیں جن کے بارے میں اللہ کے رسول نے فرمایاکہ پہلی امتوں سے بعض لوگوں کو الہام کیے گئے ۔ اگرمیری امت میں کوئی ہوا تو وہ عمرہوگا۔ (متفق علیہ)لیکن ہم بات کریںگے حکمرانی کے حوالے سی.... اگر آج اسلحہ کے خوف سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ حضرت عمرؓ کے راستے پرچلنا ہوگا تو ضرورچلیں۔ یہ خلیفہ ثانی جب تنہائی میں اپنی رعایا کی فکرکرتے تھے روتے تھے گڑگڑاکر روتے تھے رعایا کے حوالے اسے قدر فکرمندرہتے تھے کہ کہیں کوئی بھوکا تو نہیں سوگیا۔ وہ صرف امن وامان کے حوالے سے امت کے لیے فکرمند نہیں رہتے تھے بلکہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ڈرہے کہ فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مرگیا تو میری پوچھ گچھ ہوگی....ہمیں حکمرانوں سے‘ اسوہ فاروق پر چلنے کے لیے ان کے پورے طرز حکمرانی کو نمونہ بنائے جانے کی توقع نہیں ہے لیکن اگر وہ امن وامان اور لوگوں کی معاش کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اسے سدھارلیں تو پھر شاید خدا ان کے لیے کوئی راہ نکال لے۔یہ فرات کے کنارے کتّے یا بکری کے بچے کے پیاس سے مرجانے پر بازپرس کا خوف ہے یہ صرف خلافت کے نظام میں ممکن ہے۔ سید بچل شاہ نے یقیناً پرائمری تک تو پڑھاہی ہوگا اور اس حوالے سے پرائمری کے اسباق میں خلفائے راشدین کی سیرت نصاب میں شامل تھی۔ ہر پاکستانی اورہرمسلمان کے ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں یہ حقیقت ضرور محفوظ ہوگی کہ ہمارے مسائل کا سبب اللہ کے نظام سے دوری اور مسائل کا حل خلافت راشدہ کے نظام میں ہے۔ یہ جو ہم نے خود کو تقسیم کرنے کا ‘عطاکرنے کا اور روکنے اوردینے لینے کا مختار بنالیاہے یہی خرابی ہے۔ اللہ نے توہرچیزکی تقسیم بالکل واضح کردی ہے۔ زمین کے وسائل اور اختیارات سب واضح ٹھیک ٹھیک کھول کھول کر بیان کردیے ہیں جب سے ہم زمین کے اندر کے وسائل کے بھی مالک بن بیٹھے ہیں اور اللہ کی جانب سے دیے گئے اختیارات کے بعد بھی خود ہی مالک بن بیٹھے جب سے ہمارے مسائل بڑھ رہے ہیں جب تک ہمارے حکمران اللہ کے سوا کسی اور قوت کو اپنے دکھ دردکا مداوا سمجھیں گے اس وقت تک خرابیاں اسی طرح بڑھتی رہیں گی۔ اب ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں کہ امریکا پاکستانی عوام کی خوشحالی کا باعث ہے۔ وہ امریکا سے طویل المدت اسٹریٹجک شراکت داری چاہتے ہیں اس کے لیے ان کی خواہش ہے کہ امریکا پاکستانی عوام کے جذبات کا خیال رکھے۔ وہ امریکاسے آزادانہ تجارت بھی چاہتے ہیں۔ لیکن ہم ان کو بھی یہی مشورہ دیں گے کہ جو بات سید بچل شاہ نے کہی ہے اس پر کاربند ہوجائیں۔ امریکا تو پاکستانی عوام کی خوشحالی کا باعث بنانے کی فکر چھوڑدیں۔ طویل المدت اسٹریٹجک تعلقات کی مدت کب سے شروع ہوگی۔ 60 سال تو ہورہے ہیں امریکاسے اسٹریٹجک تعلقات کو پوری تاریخ میں امریکا کبھی پاکستان کی خوشحالی اور عوام کی خوشحالی کا باعث نہیں بنا۔ہمارا مشورہ ہے کہ ہمارے حکمران امریکا کے راستے پر چلنے کے بجائے ‘مغرب کی جمہوریت کو شعاربنانے کے بجائے امریکاسے طویل المدت اسٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے طویل المدت اسٹریٹجک تعلقات قائم کریں۔ یہ تعلقات تو اگلی زندگی میں بھی جاری رہیں گے جوکبھی نہ ختم ہونے والی ہوگی۔ وہ نہ صرف عوام کی خوشحالی کا باعث بنے گی بلکہ حکمران کی ابدی خوشحالی کا باعث بنے گی۔ پھر کسی کو امریکا سے ڈرنہیں لگے گا بلکہ اللہ کی مخلوق سے ڈرہی نہیں لگے گا جس دل میں اللہ کا خوف آگیا اس میں دوسرا کوئی خوف نہیں آسکتا۔ بہرحال ہمیں سید بچل شاہ کا مشورہ بالکل صائب لگاہے کہ حضرت عمرؓ کے راستے پر چلناہوگا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی اورپارلیمنٹ کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے بہت سے لوگ یہ جانے بوجھے بغیر حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم اس ملک میں اللہ کے قانون کی بالادستی کو برقرار رکھیں گے۔ ارکان صوبائی اسمبلی بھی یہی حلف اٹھاتے ہیں ان سب سے ہماری درخواست ہے کہ آو حضرت عمرؓ کے راستے پر چلیں‘ جانتے سب ہی ہیں کہ اس دنیا میں خلافت اسلامیہ کا نظام ہی سب سے زیادہ کامیاب نظام رہاہے اور آج بھی اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو کسی آئی ایم ایف کسی ورلڈ بینک کسی امریکا اوریورپ کو آواز دینے کے بجائے اپنے اور رب کے پیدا کرنے والے سے لو لگائیں اس سے اسٹریٹجک تعلقات اپنائیں اور اسٹریٹجی یہ ہے کہ پہلے اس کا خوف اپنے دل میں لائیں۔ اس پر ایمان کو مضبوط بنائیں پھر دیکھیں گے کہ کون یہاں سے عافیہ کو لے کرجاتاہے کون ریمنڈ ڈیوس کو لے جاتاہے اور کون یہ کہتاہے کہ ایبٹ آباد جیسے واقعات دوبارہ کریں گے۔ بس سب کے سب حضرت عمرؓ کے نفاذ اسلام والے اللہ کی مخلوق کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے والے نظام کی طرف بڑھیں جو لوگ اس کی جدوجہد کررہے ہیں اس کا حصہ بنیں ان کے دست وبازو بنیں‘ یہی کامیابی ہے۔

بےباک
06-12-2011, 07:41 PM
جزاک اللہ ، نائس شیرنگ.
:-):-):-)