PDA

View Full Version : اوراب ایرانی صدرکی گواہی



سیما
06-12-2011, 12:56 AM
متین فکری
اب اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب محموداحمدی نژاد نے بھی گواہی دی ہے کہ امریکا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنارہاہے۔انہوں نے مستند اطلاعات کی بنیا دپر انکشاف کیاہے کہ اگر وہ براہ راست ان ایٹمی اثاثوں پرحملہ آورہونے میںناکام رہا تو وہ یہ کام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لے گا اور پاکستان میں داخلی عدم استحکام پیداکرکے سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی اثاثوںکو اپنی تحویل میں لینے کا فیصلہ کن اقدام کرے گا۔ جناب محموداحمدی نژادکو یہ بیان دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام خود ایران کے لیے ایک ایٹمی حصار کا درجہ رکھتاہے اگرچہ ماضی میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو پاکستان سے منسلک کرنے کی باربار کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن ایران نہایت دانشمندی سے اس کوشش کو ناکام بناچکاہے تاہم ایران اس حقیقت کا پوری طرح ادراک رکھتاہے کہ اگرامریکا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے اور اس کے ایٹمی اثاثوں پرخدانخواستہ قبضہ کرنے میں کامیاب رہا تو پھر ایران کا ایٹمی پروگرام بھی محفوظ نہیں رہے گا اور امریکا زورزبردستی سے اسے تباہ کرنے کے لیے ہرممکن کارروائی کرگزرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں یکساں تشویش ہے اور اس نے پاکستان کو خبردارکرنا ضروری سمجھاہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو لاحق خطرات کوئی واہمہ نہیں ہیں۔ ایبٹ آباد میں فوجی آپریشن کے ذریعے اسامہ کی شہادت کے بعد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف زوروشورسے پروپیگنڈا شروع ہوگیاہے۔ امریکی اوریورپی میڈیا عالمی رائے عامہ کو یہ باورکرانے میں مصروف ہے کہ اگر اسامہ بن لادن فوج کی ناک کے نیچے پناہ لے سکتاہے تو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک دہشت گردوں کے ہاتھ پہنچناکیا بعید ہے۔اگرایسا ہوا تو امریکا کے لیے یک طرفہ کارروائی کرنا ناگزیرہوجائے گا۔ امریکی جریدے ”نیشنل جرنل“ نے لکھاہے کہ امریکی فورسز پاکستان کے ایرڈیفینس سسٹم کو جام کرکے ایٹمی تنصیبات پر ویسا ہی حملہ کرسکتی ہیں جیسا انہوں نے ایبٹ آباد میں کیاتھا۔ مغربی میڈیا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ہوّا بناکر بھی پیش کردیاہے کہاجارہاہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایک سو سے زیادہ وارہیڈز(ایٹمی ہتھیار) موجود ہیں اور وہ ہرسال 8 سے 20تک نئے ایٹمی ہتھیاربنانے کی صلاحیت رکھتاہی” وال اسٹریٹ جنرل“ نے دعویٰ کیاہے کہ خوشاب میں اربوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر کردہ ایٹمی پلانٹ تیزترین ایٹمی سرگرمیوں کا مرکز بن گیاہے اور وہاں پلاٹینیم کی پیداوارکو انتہائی سطح پر پہنچاگیاہے۔ مقصد اس پروپیگنڈے کا یہ ہے کہ عالمی برادری کو یہ باورکرایاجائے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام یوں تو بجائے خود انتہائی خطرناک اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے لیکن اگریہ دہشت گردوں کے ہاتھ چڑھ گیا تو پوری دنیا تباہ ہوجائے گی۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف یہ پروپیگنڈا انتہائی عیّاری اور ماہرانہ تکنیک سے کیاجارہاہے۔ کبھی کہاجاتاہے کہ اسامہ کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے دہشت گرد ایٹمی تنصیبات پرقابض ہوسکتے ہیں کبھی یہ ڈراوا دیاجاتاہے کہ دہشت گرد ایٹمی قوت حاصل کرکے دنیا پر اسلام کو غالب کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کی زبان سے ”وال اسٹریٹ جرنل“ کو جو ٹیلیفونک انٹرویو دلوایاگیاہے وہ اسی تکنیک کا مظہرہے۔ طالبان کے ترجمان نے کہاہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے مسلمانوں کی امانت ہیں وہ ان پر ہرگزحملہ نہیں کریں گے البتہ ان اثاثوں کو حاصل کرکے ان سے مسلمانوں کی حفاظت اور اسلام کے غلبے کاکام لیاجائے گا‘ ایک اور طالبان لیڈر نے بی بی سی کو ایک انٹرویومیں بتایا ہے کہ اگر امریکا افغانستان سے چلابھی گیا تو طالبان پھربھی پاکستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور ملک میں اسلامی نظام نافذ کرکے ہی دم لیں گے۔ طالبان کے ایک گروہ کے بارے میں اب شاید ہی کسی کو یہ شبہ ہوکہ وہ امریکا کی پشتپناہی میں کام نہیں کررہے۔!واقعہ یہ ہے کہ امریکا ہو یا یورپ یا اسرائیل یا بھارت کوئی بھی کسی اسلامی ملک کو ایٹمی طاقت کے طورپرنہیں دیکھنا چاہتا۔ یہ تو قدرت نے ایسے حالات پیدا کردیے تھے کہ امریکا سمیت دنیا کی طاقت پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھنے سے نہ روک سکی اور حالات خودبخود سازگارہوتے چلے گئے ۔امریکا کو اس پروگرام کی سن گن لگ گئی تھی لیکن وہ افغان جہاد کے سبب اس سے صرف نظر کرنے پر مجبورتھا۔ جب سابق سوویت یونین کو مجاہدین کے ہاتھوں افغانستان میں عبرتناک شکست کی گئی تو امریکا کا مقصد بھی پورا ہوگیا اس نے پاکستان سے نظریں پھیرلیں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر اعتراض کرتے ہوئے اس کی فوجی واقتصادی امداد روک دی۔ امریکا نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بندکرانے کے لیے ہرممکن دباو ڈالا ہے ترغیب وترہیب کے تمام حربے آزمائے لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ پاکستان نے 28 مئی 2008ءکو بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں بیک وقت 6 ایٹمی دھماکے کرکے پوری دنیا سے ساتویں عالمی ایٹمی قوت کی حیثیت سے اپنا وجود منوالیا ‘کسے نہیں معلوم کہ امریکا نے اس موقع پر بھی بہت دباو ڈالا تھا اس وقت کے امریکی صدرکلنٹن نے وزیراعظم نوازشریف کو ٹیلی فون کرکے انہیں ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کی بڑی کوشش کی تھی۔ انہیں ڈرایا دھمکایا بھی تھا اور انہیں لالچ بھی دیا تھا لیکن نوازشریف پر ایٹمی دھماکے کرنے کے لیے قوم کا زبردست دباو تھا بزرگ اخبارنویس جناب مجید نظامی نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں صاحب اگر آپ نے ایٹمی دھماکے نہ کیے تو قوم آپ کا دھماکا کردے گی چنانچہ امریکابری طرح ناکام رہا اب وہ اس ناکامی کا بدلہ ایٹمی اثاثوں پر حملہ آورہوکر لینا چاہتاہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارا دفتر خارجہ تو قوم کو مغالطہ دینے میں مصروف ہے لیکن خود امریکیوں میں سے کوئی بھی یہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ پاکستان میں ایبٹ آباد آپریشن جیسی کارروائی دوبارہ نہیں ہوگی۔ وہ یقین دہانی کرابھی کیسے سکتے ہیں کہ ان کا ایجنڈا ہی مختلف ہے۔ کتاب ”بے نظیربھٹو کا قاتل کون“ کے مطابق بے نظیربھٹو نے ایک انٹرویو میں کہا تھاکہ امریکیوں کا واحد ایجنڈا یہ ہے کہ وہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام چھیننا چاہتے ہیں۔محض یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنتی کہ ہمارا ایٹمی پروگرام اور ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور دشمن اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ امریکا تو ہمارا روایتی معنوں میں دشمن ہی نہیں وہ تو دوست ‘ اتحادی ‘ ہمارا سرپرست اور ہمارا آقاہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اس کے وارسے کیسے بچ سکتے ہیں۔ کیا ہم اسے اپنے اوپرمسلط رکھ کر اس کا مقابلہ کرسکتے ہیں یا اس کا بوجھ اپنے سرسے اتارکر اس کے وارکو ناکام بناسکتے ہیں؟ ہماری ایٹمی قبا اس سوال کے صحیح جواب پرمنحصرہے۔

بےباک
06-12-2011, 04:07 PM
زبردست سیما جی
ایسی شاندار شئیرنگ پیش کرنے پر شکریہ
ویسے یہ اطلاعات ہمیں باوثوق ذرائع سے خود امریکا نے بھی اپنے تھنک ٹینک کے واسطے سے کھلم کھلا بیان کر دی ہیں ، وہ الگ بات ہے کہ ہم امریکا کے اتحادی ہونے کے ناطے یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا، اور یہ صرف امریکا کے لوگوں کی ذاتی سوچ ہے ہ
وہ ہماری بربادیوں کی قصے کھلم کھلا بیان کرتے ہیں ، مگر ہم چونکہ اپنے آپ کو عادی بنا چکے ہیں تساھل پسندی کے ،اور اپنی گردن پر کسی قسم کا دباؤ لینے کے عادی نہیں اس لیے ہم کو پراوہ نہیں ،

.........
امریکا کا صدر کہے ، ایران کا صدر کہے ، سوڈان کا وزیر کہے ، یا کوءی اور دوست ملک بھی کہے تو بھی ہم یہی بیان کرتے رہیں گے کہ ہمارا انتظام سب سے بڑھیا ہے ،،ہم پر کوئی بغیر پئشگی اطلاع دیے حملہ نہیں کر سکتا ،
ھاھاھاھا............