PDA

View Full Version : حبس بڑھ رہا ہے طوفان آسکتا ہے؟



سیما
06-12-2011, 05:31 AM
مظفر اعجاز
عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق ڈی جی رینجرز سندھ نے جو وضاحت کی ہے وہ مزید افسوسناک ہے، وہ کہتے ہیں کہ بے گناہوں کو مارنے کی اجازت نہیں۔ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو سزا ملے گی۔ وہ کوئی اپوزیشن لیڈر ہیں جو یہ فرما رہے ہیں کہ نوجوان کی ہلاکت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ واقعہ کی تحقیقات ہوگی اور منظرعام پر لائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بریگیڈیئر اس واقعہ کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ سرفراز شاہ پر کون سا مقدمہ چلا تھا، کون سی تحقیقات ہوئی تھی کس مجاز عدالت نے حکم دیا تھا کہ اسے گولی مار دی جائی،کس سطح کے افسر کو اس وقت مقرر کیا گیا تھا کہ سادہ لباس والا جو شخص سرفراز کو ٹھڈے مارتا ہوا لارہا ہے وہ درست کہہ رہا ہے یا نہیں اور جو کچھ بوٹ بیسن پر ہوا اس کی تحقیقات اور پورٹ کے اجرا کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ اب واقعہ کو تیسرا دن ہوگیا ہے اب تک اس پوری رنیجرز ٹیم کو اور اس سفید لباس والے شخص کو اس جگہ یا تو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے گولی ماردی جانی چاہیے یا پھر اس مقام پر سرعام پھانسی دی جانی چاہیے۔ یہ کوئی جذباتی بات نہیں ہے۔ اگر رینجرز کے جوان کی غلطی کو چھپانے کی کوشش کی جائے گی اور کوئٹہ کی ڈاکٹر والے کیس کی طرح معاملے کو الجھانے کی کوشش نہ کی جائے ورنہ سانحہ مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ جب کبھی ملک کے بااختیار لوگوں کے گناہوں سے پردہ پوشی کی جائے اور چھوٹے لوگوں کو معمولی خطاﺅں پر پکڑ لیا جائے تو عذاب آیا کرتے ہیں امت مسلمہ اس اعتبار سے خوش نصیب ہے کہ اس پر ان معنوں میں عذاب نہیں آئے گا جیسا کہ پہلی امتوں پر آیا تھا لیکن عذاب کے بجائے اگر زلزلے اور سیلاب جیسی وعیدیں ہی آجائیں تو ہمارا نظام اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ سرفراز شاہ مجرم بھی تھا تو بھی رینجرز کو اسے مارنے کا اختیار نہیں تھا، ڈی جی یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بے گناہوں کو مارنے کا حق نہیں کیا وہ گناہ گاروں کو مارنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ کون ہے یہ ڈی جی رینجرز جاﺅ سرحدوں کی حفاظت کرو جب سرحدیں محفوظ نہیں، مہران بیس محفوظ نہیں، چاق و چوبند رینجرز کی موجودگی میں 8 افراد ٹارگٹ کلنگ میں مارے جائیں اور 9 ویں کو خود رینجرز کے جوان مار دیں تو پھر رینجرز کیا کررہے ہیں۔ یہ معاملہ صرف ڈی جی رینجرز کی حد پر ختم نہیں ہوسکتا یہ تو رہبران ملک و قوم کا مسئلہ بن گیا ہے اگر سرفراز شاہ کی جگہ کوئی سیاسی کارکن مارا جاتا کوئی سیاسی لیڈر مارا جاتا تو کیا ہوتا۔ کچھ بھی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ برطانوی ویب سائٹ کا تبصرہ درست ہے کہ میڈیا پر چند روزہ مہم کے نتیجے میں کیا رینجرز اہلکار پھانسی چڑھ جائیں گے۔ جہاں قانون صبح و شام وردی والوں کی چوکھٹ پر سلامی دیتا ہو وہاں کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ گرفتاری کے نام پر چند دن لاک اپ اور پھر لوگ سب بھول جائیں گے۔ کم از کم اب تک تو ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ اگر اب بھی یہی وتیرہ اختیار کیا گیا تو پھر لوگوں کو سب کچھ یاد آنے لگے گا۔ جس قسم کا حبس آج کل ہے موسم کے معاملہ میں اس قسم کا حبس تو ملک میں سیاسی اور انسانی آزادیوں اور حقوق کے حوالے سے ہے اور حبس ہے کہ لوگ لُو چلنے کی دعا مانگ رہے ہیں لیکن شاید طاقت ور جب تک طاقتور رہتا ہے اسے انجام کی فکر نہیں ہوتی بلکہ اسے کوئی توجہ دلائے تو اور اکڑتا اور بگڑتا ہے جس طرح آواز ٹی وی کے کیمرہ مین کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور تو اور آرمی چیف کورکمانڈرز کانفرنس کررہے ہیں اور کانفرنس کی جانب سے بیان داغا جارہا ہے کہ فوج کو نیچا دکھانے کی کوشش ناکام بنادیں گے۔ بات تو ایبٹ آباد سانحہ اداروں کی تحقیقات کے حوالے سے ہورہی ہے لیکن یہ جملہ بتا رہا ہے کہ اصل دھمکی ان ہی لوگوں کو دی جارہی ہے جو کسی بھی حوالے سے فوج کے کردار پر تنقید کررہے ہیں۔بات تو بالکل درست ہے ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ فوج کو نیچا دکھانے کی ہر کوشش کو ناکام بنادیا جائے لیکن جناب فوج کو نیچا دکھانے کی کوشش کون کررہا ہے۔ کیا سانحہ ایبٹ آباد میڈیا نے کیا تھا، کیا اپوزیشن نے کیا تھا، کیا مہران بیس کا واقعہ اپوزیشن کی سازش تھی، کیا کراچی میں رینجرز گردی اپوزیشن نے کی ہے۔ ظاہری بات ہے کہ فوج کو نیچا دکھانے کی کوشش بھی تو اس کی طرف سے ہورہی ہے۔ یہ کام اپنے ہاتھوں کا ہے پھر کسی اور کو دھمکی کیوں؟ اگر کوئی ایک واقعہ ہو تو شبہ کیا جاسکتا ہے یہاں تو ایک طویل فہرست ہے اب بھی بھرم باقی ہے اگر اس بھرم کے کھلنے کا انتظار ہے تو اور بات ہے ورنہ تاریخ کا یہ سبق تو سارے طاقتور لوگوں سے مخفی رہا ہے کہ اللہ نے ہر فرعون کے لیے موسیٰ ؑ پیدا کیا ہے آج کے فرعونوں کے لیے بھی موسیٰ ؑتو پیدا ہوں گے ۔ لیکن ایک بات شاید اوپر بہت اوپر بیٹھے لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی.... کیونکہ وہاں تک شاید آواز نہیں جاتی کمرے اے سی کی وجہ سے بند ہوتے ہیں۔ کوئی خود نہیں پہنچ سکتا اور پہنچنے کی کوشش کرے تو دہشت گرد قرار پائے گا۔ خبردار ہم سے زیادہ جانتے ہو.... جب سننے کے راستے بند کردیئے جائیں، بولنے والوں کی تصویر آرہی ہو اور آواز بند ہو.... وہ چیخ رہے ہوں لیکن ان کی آواز ایوان اقتدار کے باہر ہی موٹی موٹی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہو تو پھر یہ صورت حال حبس کہلاتی ہے اور حبس کے بعد طوفان آتا ہے، طوفان میں جو کچھ ہوتا ہے اسے پاکستان بھر کے لوگ دیکھ چکے ہیں، دنیا بھر کے طوفانوں کا مشاہدہ کرچکے ہیں، نتائج سے واقف ہیں بس حکمرانوں اور مقتدر طبقے کو سمجھ ہی نہیں آتا.... وہ سیاسی حبس کی طرف توجہ نہ دیں لیکن ایک مرتبہ حبس کے بعد بھی طوفان کا مشاہدہ کرلیں اب تو یوٹیوب پر ویڈیو موجود ہیں۔ ظلم و جبر کے کوہ گراہ ایسے بہتے نظر آتے ہیں جیسے سیوریج کی لائن میں کیڑے مکوڑی، باتیں تلخ ہیں لیکن اگر اب بھی کوئی سیفٹی ویلیو نہیں کھولا.... ظالموں قاتلوں کو سر عام سزا نہ دی گئی تو طوفان تو آئے گا۔ پھر سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا....

بےباک
06-12-2011, 08:47 AM
ٹھیک کہا سیما ،
تجزیہ زبردست ہے ،
ہم اسوقت تک سکون سے نہیں رہ سکتے جب تک ہم اپنے حقوق نہیں لے سکتے ، پاکستان میں بنیادی حقوق ہی سلب کیے ہوئے ہیں
پاکستان میں جس کے پاس طاقت ہے وہی اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھتا ہے، جیسے اسوقت موجودہ حکومت ،
جس نے عدالت کو یہ باور کرانا شروع کیا ہے کہ وہ کسی ایک حکم کو بھی نہیں مانیں گے ،
اس کے بعد ،،،، آپ کیا توقع کر سکتے ہیں ،