PDA

View Full Version : کیا آپ یہی چاہتے ہیں؟



اذان
06-12-2011, 09:46 PM
http://rajafamily.com/lib/00051A08A.jpg
http://rajafamily.com/lib/00051A08C.jpg،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،http://rajafamily.com/lib/00051A08D.jpg
اس دن بھی جماعت پنجم کے ماسٹر لطیف صاحب پڑھاتے پڑھاتے حسبِ معمول بہت دور نکل گئے ۔ انہوں نے تاریخِ پاکستان کا مضمون ایک طرف لپیٹ کر رکھ دیا اور انسانی درندگی پر شروع ہوگئے۔ پھرماسٹر لطیف نے اپنے تھیلے سے ایک اخباری مضمون کا تراشہ نکالا۔


مضمون جنگِ ویتنام کے بارے میں تھا اور اس میں چھپی تصویر میں ایک ویتنامی پولیس افسر ایک امریکی فوجی کی موجودگی میں ایک مشکوک مقامی نوجوان کو کنپٹی کے قریب ریوالور رکھ کر گولی مار رہا تھا۔اس نوجوان نے موت سے لمحہ بھر پہلے شتر مرغ کی طرح اپنی آنکھیں بند کی ہوئی تھیں اور ہونٹ بھینچ رکھے تھے۔

یہ تصویر دیکھتے ہی سب بچوں کے چہرے سپاٹ ہوگئے۔ماسٹر لطیف صاحب اگلے آدھے گھنٹے تک کچھ بولتے رہے لیکن ہماری قوتِ سماعت یہ تصویر اغوا کر کے دور لے جاچکی تھی۔
پھر ہم بڑے ہوتے گئے، پڑھتے چلے گئے، دیکھتے چلے گئے، سنتے چلے گئے۔
بہت دکھ ہوتا تھا جب لاطینی امریکہ سے ہولناک خبریں آتی تھیں۔ جیسے کولمبیا اور گوئٹے مالا میں سرکاری ڈیتھ سکواڈز کسی بھی راہ چلتے کو مشکوک سمجھ کر گولی مارنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
پھر ہم اور بڑے ہوتے چلے گئے اور بے حسی کی حدود سے بھی نکل گئے۔قبائلی علاقوں میں کیا ہو رہا ہے ہمیں کیا ! یہ لوگ تو صدیوں سے صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ سوات میں جو بھی قتل و غارت ہوئی اس میں کوئی بے گناہ شہری نہیں مارا گیا۔اگر کوئی مرا بھی ہے تو اس کے زمہ دار طالبان ہیں۔ بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے یہ آپس کی لڑائی ہے۔چند مٹھی بھر شرپسند بیرونی طاقتوں کی شہ پر کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں، اکثریت آج بھی محبِ وطن ہے۔
ارجنٹینا میں حکمران جنتا کے کارندوں نے ہیلی کاپٹرز میں زندہ لوگوں کو بٹھا کر انہیں بحراوقیانوس میں پھینک دیا۔ چلی میں پنوشے حکومت نے ساڑھے تین ہزار افراد کو غائب کردیا۔برازیل کی پولیس سٹریٹ چلڈرنز کو اغوا کرکے جنگل میں گولی مار کے پھینک دیتی ہے۔
پھر ہم اور بڑے ہوتے چلے گئے اور بے حس ہوتے چلے گئے۔
کیا ہوا اگر جنوبی افریقہ کی گوری پولیس کالوں کو لاتیں مار مار کر سڑک پر ہی ہلاک کردیتی ہے۔ کتنی بری بات ہے کہ اسرائیلی سپاہیوں نے مغربی کنارے پر ایک آٹھ سالہ بچے کے سر میں گولی مار دی۔
کتنے دکھ کی خبر ہے کہ سوویت کمانڈوز نے قندھار کے قریب پورا گاؤں مسمار کردیا اور مکین ملبے تلے دب گئے۔ کیا یہ بھی کوئی طریقہ ہے کہ نیشا پور میں بارہ سیاسی مخالفین کو پاسداران نے پکڑ کر کرینوں سے لٹکا دیا۔
یہ صدام حسین پر کیا پاگل پن سوار ہوا ہے جس نے ہلہ قصبے کی مین شاہراہ کے کنارے جتنے مکانات تھے ان میں رہنے والوں کو قتل کی سازش میں شریک سمجھ کر ایک ہی قبر میں اتار دیا۔
توبہ توبہ۔۔۔صومالیہ میں کس قدر لاقانونیت ہے ۔پورا ملک پرائیویٹ ملیشیاز کے قبضے میں ہے۔خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔
پھر ہم اور بڑے ہوتے چلے گئے اور بے حسی کی حدود سے بھی نکل گئے۔
مضمون جنگِ ویتنام کے بارے میں تھا اور اس میں چھپی تصویر میں ایک ویتنامی پولیس افسر ایک امریکی فوجی کی موجودگی میں ایک مشکوک مقامی نوجوان کو کنپٹی کے قریب ریوالور رکھ کر گولی مار رہا تھا۔اس نوجوان نے موت سے لمحہ بھر پہلے شتر مرغ کی طرح اپنی آنکھیں بند کی ہوئی تھیں اور ہونٹ بھینچ رکھے تھے۔
یہ تصویر دیکھتے ہی سب بچوں کے چہرے سپاٹ ہوگئے۔ماسٹر لطیف صاحب اگلے آدھے گھنٹے تک کچھ بولتے رہے لیکن ہماری قوتِ سماعت یہ تصویر اغوا کر کے دور لے جاچکی تھی۔
پھر ہم بڑے ہوتے گئے، پڑھتے چلے گئے، دیکھتے چلے گئے، سنتے چلے گئے۔
بہت دکھ ہوتا تھا جب لاطینی امریکہ سے ہولناک خبریں آتی تھیں۔ جیسے کولمبیا اور گوئٹے مالا میں سرکاری ڈیتھ سکواڈز کسی بھی راہ چلتے کو مشکوک سمجھ کر گولی مارنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
پھر ہم اور بڑے ہوتے چلے گئے اور بے حسی کی حدود سے بھی نکل گئے۔قبائلی علاقوں میں کیا ہو رہا ہے ہمیں کیا ! یہ لوگ تو صدیوں سے صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ سوات میں جو بھی قتل و غارت ہوئی اس میں کوئی بے گناہ شہری نہیں مارا گیا۔اگر کوئی مرا بھی ہے تو اس کے زمہ دار طالبان ہیں۔ بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے یہ آپس کی لڑائی ہے۔چند مٹھی بھر شرپسند بیرونی طاقتوں کی شہ پر کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں، اکثریت آج بھی محبِ وطن ہے۔
ارجنٹینا میں حکمران جنتا کے کارندوں نے ہیلی کاپٹرز میں زندہ لوگوں کو بٹھا کر انہیں بحراوقیانوس میں پھینک دیا۔ چلی میں پنوشے حکومت نے ساڑھے تین ہزار افراد کو غائب کردیا۔برازیل کی پولیس سٹریٹ چلڈرنز کو اغوا کرکے جنگل میں گولی مار کے پھینک دیتی ہے۔
پھر ہم اور بڑے ہوتے چلے گئے اور بے حس ہوتے چلے گئے۔
کیا ہوا اگر جنوبی افریقہ کی گوری پولیس کالوں کو لاتیں مار مار کر سڑک پر ہی ہلاک کردیتی ہے۔ کتنی بری بات ہے کہ اسرائیلی سپاہیوں نے مغربی کنارے پر ایک آٹھ سالہ بچے کے سر میں گولی مار دی۔
کتنے دکھ کی خبر ہے کہ سوویت کمانڈوز نے قندھار کے قریب پورا گاؤں مسمار کردیا اور مکین ملبے تلے دب گئے۔ کیا یہ بھی کوئی طریقہ ہے کہ نیشا پور میں بارہ سیاسی مخالفین کو پاسداران نے پکڑ کر کرینوں سے لٹکا دیا۔
یہ صدام حسین پر کیا پاگل پن سوار ہوا ہے جس نے ہلہ قصبے کی مین شاہراہ کے کنارے جتنے مکانات تھے ان میں رہنے والوں کو قتل کی سازش میں شریک سمجھ کر ایک ہی قبر میں اتار دیا۔
توبہ توبہ۔۔۔صومالیہ میں کس قدر لاقانونیت ہے ۔پورا ملک پرائیویٹ ملیشیاز کے قبضے میں ہے۔خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔
پھر ہم اور بڑے ہوتے چلے گئے اور بے حسی کی حدود سے بھی نکل گئے۔

وسعت اللہ خان