PDA

View Full Version : سایہ دار تدفین .سیدہ زائرہ عابدی



بےباک
06-13-2011, 02:53 AM
سایہ دار قبر اور تدفین


صبح کے وقت انتقال کر جانے والے مر حوم ,کے ورثاء کی ضد تھی کہ ان کے والد کو ڈیفنس کے عزّت والے قبرستان میں ہی دفن کیا جا ئے اور قبر بھی درخت کی چھاؤں میں ہو ،مرحوم کے ایک بھائی جو نارتھ ناظم آباد کے پوش علاقے میں رہتے تھے ان کا خیال تھا کہ ڈیفنس کے قبرستان میں تو اب چڑیا کے بچّے کی قبر کی بھی جگہ نہیں ہے اس لئے سخی حسن کا قبرستان بہتر رہے گا ،لکن بہر حال ڈیفنس کا قبرستان کہاں اور بیچارے ٹٹ پونجئے مرحومین کا سخی حسن قبرستان کہاں ،ان کے ورثاء نے حتمی فیصلہ دے دیا کہ تدفین ہو گی تو ڈیفنس کے قبرستان میں ہوگی چناچہ مرحوم کے دو بیٹے ڈیفنس کے قبرستا ن پہنچ گئے اور قبرستان کا جائزہ لیتے ہوئے ان کو ایک جگہ پھاؤڑا اور کدال رکھّے چار پانچ آدمی خوش گپّیاں کرتے نظر آئے ،مرحوم کے بیٹے نے ان کے پاس پہنچ کر ان سے پوچھا کہ کیا تم لوگ گور کن ہو ایک نے جواب دیا ،ہاں ، تو بیٹے نے کہا ہم کو درخت کی چھاؤں میں قبر چاہئے ،تو آدمی نے کہا ضرور مل جائے گی بیٹے نے پوچھا کہاں ؟؟؟گورکن نے ایک درخت کے سامنے بنی ہوئی قبر کی طرف ا شارہ کر کے کہا یہاں !بیٹے نے کہا لیکن یہاں تو قبر بنی ہوئی ہے گورکن نے کہا کوئ بات نہیں ہم قبر کھود کر ہڈّیاں نکال ایک کھڈّے میں ڈال دیں گے اور تم کو قبر تیار کر کے دے دیں گے ،بیٹے نے یہ بات منظور کرتے ہوئے کہا قبر کتنے میں تیّار ہو گی ,صاحب جی قبر پانچ ہزار میں تیّار ہوگی ،کب تک تیّار کردو گے تو نوجوان نے کہا رات گیارہ بجے قبر تم کو تیّار ملے گی ،کیونکہ ادھر سارا دن مرنے والوں کی فاتحہ پڑھنے لوگ آتے ہیں اگر اس قبر کے وارثوں نے ہمیں قبر کشائی کرتے دیکھ لیا تو ہنگامہ ہو جائے گا اس لئے ہم بعد مغرب اس قبر کو تمھارے لئے تیّار کریں گے ،مرحوم کے بیٹوں نے گورکن کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے پوچھا ہم جنازہ کب تک لائیں تو نوجوان نے کہا رات گیارہ بجے تک ہی لانا ،مرحوم کے بیٹوں کو درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بنی کسی نامعلوم مردے کی قبرکا غاصبانہ سودا بُرا نہیں محسوس ہوا اور اس نے پرس سے پانچ ہزار روپے نکل کر خوشی خوشی اس آدمی کو دے دئیے جس نے اپنے آپکو گورکن بتایاتھا اور گھر چلے آئے ,جس جس کو مرحوم کے انتقال کے بارے میں معلوم ہوا کہ انتقال تو صبح کو ہوا ہے تو ان کو حیرت ہوئی کہ صبح کو انتقال کرنے والے کا جنازہ بعد نماز ظہر اٹھنے کے بجائے رات گیارہ بجے کیوں اٹھایا جارہا ہے جس کی بظاہر تو کوئی توجیح نظر نہیں آ رہی تھی لیکن بہرحال وہ ایک صاحب مرتبہ انسان کا جنازہ تھا اس لئے رات گیارہ بجے صحیح لیکن جنازے میں شرکت فرض تھی ،چناچہ وہ بھی دن بھر کی تھکن کی وجہ سے بادل نخواستہ رات گیارہ بجے سے کچھ پہلے مرحوم کے گھر پہنچ گیا ،دو بسوں اور ان گنت گاڑیوں پر مشتمل جنازہ اور اس کے شرکاء جلوس جنازہ کی شکل میں کافی فاصلہ طے کر کے قبرستان پہنچے تو قبرستان میں دور دور تک گھپ اندھیرا تھا ,, روشنی کی کرن بھی کہیں سے نہیں آ رہی تھی جو قبرستان کے اندر کے ماحول کو دیکھ لیا جاتا ،لیکن چونکہ مرحوم کے صاحبزادے نے دن کی روشنی میں آ کر خود اپنے والد کی قبر کی جگہ منتخب کی تھی اس لئے وہ قبر کی متعین کردہ جگہ کو پہچان سکتے تھے لیکن مسئلہ روشنی کا تھا ,, ایک مصلحت بین انسان نےجو رات ہونے کی بنا پر ٹارچ اپنے ساتھ لائے تھے انہوں نے مر حوم کے بیٹے کو وہ ٹارچ دی ,,,یاد رہے کہ اس وقت کراچی میں لائٹ جانے کا رواج نہیں تھا ,, مرحوم کے بیٹے ٹارچ کی مدھم روشنی کی رہ نمائی میں اپنے ہمراہ چند افراد کو لے کر قبر دیکھنے کے قبرستان کے اندر گئے قبر دیکھنے سے لے کر ڈھونڈنے تک کافی وقت لگا تب صاحبزادے پر یہ عقدہ کھلا کہ والد کی قبر تیّا ر کرنے کے بہانے ان سے ایڈوانس پیسے لینے والا گورکن ان کو دھوکہ دے کر پانچ ہزار روپے لے کر غائب ہو چکا تھا اس طرح رات گئے جنازہ میں شریک شرکاء تو اپنے گھروں کو واپس ہو گئے اورمرحوم کے بیٹوں نے جنازہ گھر واپس لانے کے بجائے ایدھی ہوم میں رکھوا کر تد فین اگلی صبح پر رکھّی

اب اگلی صبح پر تدفین کے لئے عزّت والا قبرستا ں درکار تھا

جنازہ ایدھی ہوم کے سرد خانے میں اپنی منزل کے انتظار میں تھا اور اور گھر میں پھر وہی گرما گرم بحث تھی کہ قبر کہاں بنوائ جائے چناچہ خرابئ بسیار کے بعد سخی حسن کے قبرستا ن کو ہی ان کی آخری آرام گاہ کے طور پر چنا گیا اور یوں وہ صاحب عزّت انسان اپنی عزّت کے پیمانے سے نچلے درجے کے قبرستان میں دفن ہو سکا ،اب سننے میں آیا ہے کہ اسلام آباد کی آغوش میں بھی ایسا ہی عزّت والا قبرستان وجود میں آچکا ہے جس میں معاشرتی کیٹٰگری کے لحاظ سے مردوں کی تدفین ہو رہی ہے


سیدہ زائرہ عابدی

تانیہ
06-14-2011, 08:20 PM
بہت زبردست
بہت دلچسپ
اور حقیقت کے بالکل قریب
کچھ دن پہلے ایسا ہی ایک پروگرام ٹی وی پہ بھی دیکھنے کو ملا جس میں یہی حالات تھے
ایک بات اکثر میرے ذہن میں آتی
ہم نے اس دنیا میں کیا معیار بنا رکھے عزت کے
لیکن جب ہم اگلی دنیا میں ہونگے تب ایسا کوئی معیار نہ ہو گا
تب سب برابر ہونگے
یہی بات تسلی دیتی ہے
ورنہ یہاں تو ایسا کچھ اچھا نہیں جس پہ اچھا بولا جا سکے
بہت شکریہ سیدہ زائرہ عابدی جی
امید ہے خوبصورت و مفید اور دلچسپ شیئرنگ کا یہ سلسلہ جاری رہے گا

این اے ناصر
05-05-2012, 12:56 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔