PDA

View Full Version : اعصاب چٹخنے کی آوازیں



سیما
06-13-2011, 04:16 AM
عارف بہار
کیا خروٹ آباد سے کراچی تک یہ سب ریاست کے چٹختے اعصاب کی آوازیں ہیں؟ کبھی ہم فلسطین اور کشمیر کے بارے میں لکھتے تھے کہ وہاں ریاستی قوتوں کے اعصاب جواب دے رہے ہیں۔ اب ایسا تو نہیں ہم خود اپنی آگ میں جل کر کشمیر اور فلسطین بن رہے ہیں؟۔ آخر دس برس سے جاری پراکسی اور گوریلہ جنگ لڑنے کا کچھ نتیجہ تو برآمد ہونا تھا۔ گوریلہ جنگ کی تاریخ اور مقاصد کا مطالعہ کریں تو گوریلوں کے بے شمار مقاصد میں ایک مدمقابل قوت کو جو جمے جمائے نظام کی علامت ہوتی ہے چھوٹے چھوٹے زخموں کا شکار بنانا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے وہ قوت غصی، جھجلاہٹ، فرسٹریشن، خوف اور ڈیپریشن کا شکار ہوتی ہے اور اس کیفیت میں اس کا پیمانہ ¿ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور وہ ایسی غلطیاں کرتی جاتی ہے جس سے مقامی آبادی بھی اس کے خلاف ہوجاتی ہے اور آزاد اور عالمی ضمیر بھی۔ گوریلہ جنگ کی طوالت سے اس کے اعصاب چٹخنے لگتے ہیں اور اس عالم میں تشدد اور نفرت کی کئی المناک داستانیں رقم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ مشرقی پاکستان میں گھیر گھار کر فوج کو اسی مقام پر لایا گیا تھا۔ کشمیر میں بھارت کی فوج آج اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں مقامی آبادی اب اس سے اس قدر نالاں اور بیزار ہے کہ ہر تدبیر اُلٹی ہوتی جارہی ہے۔ آج پاکستانی معاشرے میں پہ در پہ پیش آنے والے واقعات بتا رہے ہیں کہ اس معاشرے میں وہ تمام قباحتیں پیدا ہو چکی ہیں جو جنگ زدہ معاشرے کا خاصہ ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی قباحت ہی ریاستی اداروں کے اعصاب توڑنا اور ان سے ردعمل اور غصے اور خوف کے عالم میں غلطیاں سرزد کروانا ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں ریاستی ادارے اپنے سائے سے بھی خوف کھانے لگتے ہیں شک کی ایک چادر پورے معاشرے پر تن کر رہ جاتی ہے۔ گوریلوں سے لڑنے والی فورسز ”فانی دوائے درد ِ جگر زہر تو نہیں“ والی کیفیت کا شکار ہوتی ہیں۔ ایسی جنگ زدہ سوسائٹی میں اندھے قتل، تشدد، حراستی ہلاکتیں، غائب کرنے جیسے واقعات عام ہو کر معاشرے کو ایک رستا ہوا زخم بنا ڈالتے ہیں۔ پھر جنگ ایک کاروبار بھی بن جاتی ہے اور محکمانہ ترقی کا زینہ بھی۔ جھنجلاہٹ اور غصہ برداشت کے گراف کو مسلسل گراتا چلا جاتا ہے۔ بلوچستان میں برسوں سے گوریلہ جنگ جاری ہے۔ اور گوریلہ پیچھے سے چھپ کر وار کرتا ہے۔ ایسے میں فورسز کو اپنے سائے اور اپنے قدموں کی چاپ سے بھی ڈر لگتا ہے۔ معمولی سی آہٹ اور سرسراہٹ پر بندوقیں کھڑکنے اور تڑتڑانے لگتی ہیں۔ خروٹ آباد میں جو کچھ ہوا بظاہر اسی کیفیت کا ثبوت ہے جہاں ایف سی اہلکاروں کو یہ گمان گزرا کہ چیچن باشندوں کا گروپ خود کش حملہ آوروں پر مشتمل ہے۔ ان کی عقل اس حد تک ماوف ہو چکی تھی کہ وہ اس پر غور نہ کر سکے کہ بھلا کبھی اتنی بڑی ٹولی نے کہیں خودکش حملہ کیا ہی؟ لیکن ان کا خوف ان کے اعصاب کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا اور خواتین کی چیخ و پکار، آہ و زاری، اپنی مسلمانیت کے ثبوت کے لیے تکبیر کے نعرے کچھ بھی فورسز کی بدحواسی کو کم نہ کر سکا اور وہ نہتے لوگوں پر ٹوٹ پڑے۔ بلوچستان سے آنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں ”پکڑو اور مارو“ ایک آسان نسخہ بن چکا ہے۔ مسخ شدہ لاشیں آئے روز چوکوں اور کھیتوں میں ملتی ہیں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب فورسز کاکیا دھرا ہے۔ پکڑو اور مارو بھی ایک فوری ردعمل کا اصول ہے جس نے انتقام اور غصے سے جنم لیا ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ کسی باغی کو ختم کرنے کا آسان اصول ہے۔ جذبہ انتقام یہ اجازت نہیں دیتا کہ گرفتار شخص کو قانونی عمل سے گزار کر زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے۔ سانحہ خروٹ آباد کے فوراً بعد صحافی سلیم شہزاد کا بے دردانہ قتل ہوا۔ اس کا الزام بھی ریاستی اداروں پر عائد کیا گیا۔ سلیم شہزاد کی جس آخری خبر کو ان کے قتل کی وجہ کہا جارہا ہے کہ وہ پاکستان کے ریاستی اداروں کے حق میں جاتی تھی۔ مثلاً یہ کہ امریکی اس بات کا ذہن بنائے بیٹھے ہیں کہ پاکستان کے بعض اداروں میں القاعدہ کے سیل قائم ہیں۔ سلیم شہزاد نے اگر یہ خبر دی کہ نیوی نے اپنے اندر ایسے افراد کو پکڑ کر گرفتار کر لیا اور القاعدہ کے دباو کے باوجود ایسے افراد کو چھوڑنے سے ا نکار کیا اور جس کے نتیجے میں القاعدہ نے نیوی کو ہدف بنالیا۔ اس خبر سے تو پاکستان کے ایک اہم ادارے کی ساکھ اور اسے کسی بیرونی اثر سے پاک کرنے کے عزم صمیم کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر بات یہی ہے تو اس سے ملکی مفاد کو نقصان پہنچے کے بجائے فائدہ ہی ہورہا تھا۔ اگر سیلم شہزاد کے اہل خانہ اور احباب کے شک کی بنیا د پر یہ عمل بھی ریاستی اداروں کے کھاتے میں ڈالا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے جنگ زدہ معاشرے کی طرح ہمارے ہاں دوست اور دشمن کی تمیز بھی مٹ گئی ہے اور سلیم شہزاد کے قتل نے ہماری فورسز کے خلاف امریکی ایف آئی آر میں ایک شق کا اضافہ کر دیا۔ گویا کہ جس کام کو وقتی فائدے کے لیے کیا گیا تھا وہ دور رس نقصان کا باعث بن گیا۔ کراچی میں ایک نوجوان کو سرعام گولیوں سے بھون ڈالا گیا تو قاضی حسین احمد کے صاحبزادے آصف لقمان قاضی نے اس نوجوان کی وڈیو کو فیس بک پر اپ لوڈ کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا کہ خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں اس طرح کے واقعات تو رو ز کا معمول ہیں۔ اس طرح کے تبصرے ٹیلی ویژن اور اخبارات میں آئے روز چھپتے ہیں لیکن آصف لقمان بہرحال ایک ذمہ دار شخص ہیں اور ان کے تبصرے نے بہت سوں کو چونکا دیا ہوگا۔ اگر اس تبصرے کو درست مان لیا جائے تو انداز لگایا جا سکتا ہے کہ ہم ان علاقوں میں کون سی فصل بو رہے ہیں اور تصور کیا جا سکتا ہے کہ یہ بیج بو کر ہم کاٹنے کے وقت ہم کیا کاٹیںگی؟ رہی سہی کسر کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں ایک نوجوان سرفراز شاہ کے قتل نے پوری کر دی۔ ملک میں کتنے ہی سرفراز شاہ اتنی ہی سفاکی سے شکار ہونے کے بعد تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوں گے لیکن سرفراز شاہ کے قتل کو ایک کیمرہ مین میسر آگیا اور یوں یہ واقعہ دنیا کا موضوع بن گیا۔ یہ ”پکڑو اور مارو“ کی نفسیاتی کیفیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ البتہ الف سے ی تک ساری کہانی کی فلم بندی کیونکر ممکن ہوئی اور کیمرہ مین چھلاوہ بن کر وہاں کیسے پہنچا یہ سوال ابھی جواب طلب ہیں۔ اگر کسی قوت نے ہمارے لیے اعصاب چٹخنے کی سزا تجویز کر رکھی تھی تو آج ہم یہ سزا بھگت رہے ہیں ہمارے ریاستی ادارے غصے اور جھنجلاہٹ میں غلطیاں کر کے اپنے پیروں کی زمین کو خود دلدلی بنارہے ہیں۔ یہ خرابی کا وہ خود کار نظام اور مقام ہوتا جس سے آگے کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔