PDA

View Full Version : کفران نعمت



سیما
06-15-2011, 05:58 AM
متفرق
یہ ملک جو بڑی دعاوں بڑی عزت، جان اور مال کی قربانی کے بعد حاصل کیا گیا، صرف دو قومی نظریے کی بنیاد پر معروض وجود میں آیا۔ ہم ایک اللہ اور رسول کے پیروکار ہیں، کلمہ ہماری بنیاد ہے۔ جس ملک میں ہم رہتے تھے وہاں کی اکثریت کے ساتھ چل نہیں سکتے تھے ان کی کوئی چیز ہم سے میل نہیں کھاتی تھی ہم اپنے قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر چلنا چاہتے تھے وہ اپنے طریقے پر چلتے تھی، جگہ جگہ ٹکراو ہوتا تھا ہم سورہ کافرون کے پیغام کو لے کر چلنا چاہتے تھے۔ اللہ نے ہماری یہ خواہش پوری کر دی ایک بابرکت مہینے کی بابرکت رات کو اللہ نے ہمیں یہ پاک سرزمین بطور امانت ہمارے سپرد کر دی، مگر افسوس! ہم اس نعمت کو سنبھال نہ سکے اور کفران نعمت کرنے لگی، ہم نے اپنی پہچان کھو دی اپنا آپ بھلا دیا، ہم نے قرآن کا سبق بھلا کر اپنا راستہ چھوڑ کر دوسروں کے نقش پا پر چلنا شروع کر دیا ہماری منزل و مقصد ہی کچھ اور ہو گیا۔ آج ہماری محفلیں ایسی کہ شیطان خوشی سے پھولے نہ سماتا ہوگا، ہم اسی محفلوں میں لوگوں کو دعوت نامے دے دے کر بلاتے ہیں، جن میںمردوں، عورتوں کو ساتھ بیٹھنا ہوتا ہے ایک مخلوط محفل میں عورتیں سجی بنی، مختصر لباس میں مردوں کے شانہ بشانہ فخر سے بیٹھتی ہیں، کھلے عام سورة حجرات کا انکار ہو رہا ہی، گلی کی نکڑ پر اگر مدرسہ ہے تو پھر مئے خانے بھی قریب میں کھولے جارہے ہیں، حکومت کی سرپرستی اور حفاظت میں۔ اگر مسجدیں جابجا ہیں تو نیٹ کیفے بھے گلی گلی ہیں بچوں کو اگر گھر میں نیٹ استعمال کرنے میں کوئی دشواری ہو تو یہاں مکمل آزادی ہے اور یہ آزادی کیا گل کھلا رہی ہی، اس کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اس دن میں کیوں نہ چلو پھر پانی میں ڈوب کر مر گئی، جب Peace چنیل کے ایک پروگرام میں کسی غیر مسلم نے ایک نو مسلم عبدالرحیم گرین سے سوال کیا کہ یہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے یہاں ہر وقت علاقائی بنیادوں پر آپس میں کیوں جھگڑتے رہتے ہیں، تو اس نو مسلم نے جو جواب دیا وہ ذرا سنبھل کر سنیے۔ ”پاکستان اسلامی ملک نہیں ہے میں پاکستان کے دورے پر تھا، اس دوران ایک شادی میں جانے کا اتفاق ہوا، وہاں لڑکیاں رقص کر رہی تھیں مرد حضرات تالیاں بجا رہے تھی، کسی قسم کا کوئی پردہ نہیں تھا، اسلام تو نامحرم مرد عورتوں کا ایک ساتھ بیٹھنا، محفلوں میں شرکت کرنا منع کرتا ہی، وہاں تو مخلوط پارٹیاں ہوتی ہیں، وہ کیسے اسلامی ملک ہو سکتاہے۔“ آج ہم یہ ثابت کررہے ہیں جس ملک سے ہم الگ ہوئے تھے وہ فیصلہ شائد غلط تھا اب ہم ایک ہیں، ہمارے راستے ایک ہیں، ہمارے لباس، ہماری رسمیں، ہماری خوشی ہمارے غم ایک ہو گئے ہیں، آج ہمارے بچے سوال کرتے ہیں پھیرے کب ہوں گی؟ بچیاں بندیا لگا کر اپنے بڑوں کے چرن چھوتی ہیں، مہندی مایوں عروج پر ہی، اب ہم صرف گیندے کے پھول استعمال کرتے ہیں، اس لیے کہ ہمارا دوست ملک بھی یہی کرتا ہی، شادی کو پررونق بنانے کے لیے ہفتہ بھر پہلے سے لڑکے لڑکیاں ڈانس کی پریکٹس کرتے ہیں لڑکوں کے پیلے دوپٹے رنگوائیں جاتے ہیں جو انہیں گلے میں ڈالنے ہوتے ہیں۔ ان کا میڈیا ہمارا میڈیا کوئی فرق نہیں ایک سے لباس ‘ایک جیسی ذو معنی باتیں شادی سے پہلے ماں بننے کے تذکرے۔ اور تو اور آغا خان بورڈ آجانے کے بعد تو تعلیمی نظام بھی ایک جیسا ہوگیا۔ شرم و حیا کو ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔ شیطان کے لیے دوزخ بھرنے کا کام جتنا آسان اب ہے شاید پہلے نہ تھا۔ اب اس مسئلے کا حل صرف یہی ہے کہ جو لوگ ابھی تک اللہ سے کیے ہوئے عہد کو یاد رکھے ہوئے ہیں، جو اقامت دین کی ذمہ داری کا احساس رکھتے ہیں، جو نبی کے آخری خطبے میں دی گئی امانت کو سنبھالے ہوئے ہیں انہیں اب پہلے سے زیادہ چوکس اور متحرک ہوجانا چاہیے تاکہ شیطان کو شکست دی جاسکے۔ وہ رب جو رحیم بھی ہی، کریم بھی، وہ صفتِ قہاری اور جباری بھی رکھتا ہے۔ وہ رحمتوں کو زحمتوں میں بدلنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔ جو زمین سونا اگلتی ہے وہ آگ بھی اگلتی ہے۔ قوم نوحؑ کا قصہ ہم سب کو معلوم ہے۔ وہ ہوا جو ہمیں خوش کردیتی ہے جس سے راحت ملتی ہے وہ قوم ثمود والی ہوا کا روپ بھی دھار سکتی ہے۔ وہ سمندر جہاں جاکر بڑا مزہ آتا ہی، تازہ دم ہوجاتے ہیں، وہ فرعونیوں کی طرح غرق بھی کرسکتا ہے۔ وہ زلزلہ جو ہمیں صرف چھو کر گزر گیا ہمیں دبوچ بھی سکتا تھا ہمیں ملیا میٹ بھی کرسکتا تھا، ہمیں صفحہ ¿ ہستی سے مٹا بھی سکتا تھا۔ 2005ءمیں کیا ایسا نہیں ہوا تھا؟ خدارا پلٹ آئیں اپنی ہدایت کے ذریعے کو مضبوطی سے تھام لیں، سنتوں کو دوبارہ زندہ کرلیں، جنتیں ہماری منتظر ہیں جو رب نے بڑی محبت سے ہمارے لیے سجائی ہیں، ہم ہی اس کے وارث ہیں بس شرط وراثت ثابت کرنی ہے۔ شیطان کو دھکے دے کر اپنے گھروں سے نکالنا ہی، پھر ابدی آرام نہ ختم ہونے والے مزے ، خوشیاں ‘انشاءاللہ