PDA

View Full Version : سلیم شہزادکو کس نے قتل کیا؟



سیما
06-15-2011, 06:44 AM
ایس اے قدوائی
29 مئی 2011ءکو شام 6 بجے کے لگ بھگ سلیم شہزاد اسلام آباد میں اپنے گھرسے تھوڑے ہی فاصلہ پر واقع ایک کیبل ٹیلی ویژن اسٹیشن روانہ ہوئے جہاں انہیں ایک سیاسی مذاکرے میں شرکت کرنا تھی مگر حقائق کی چھان بین اورکڑی گرفت کا خوگریہ نڈرصحافی وہاں نہیں پہنچا اور راستے میں ہی کہیں گم ہوگیا۔ اس کی گمشدگی کے بارے میں عام خیال یہ ہی تھاکہ یہ پاکستانی انٹیلیجنس کی کارروائی کا نتیجہ ہے ۔ پاکستان میں ہیومن رائٹس واچ کے نمائندے علی دایان حسن نے نیوزویک (مجریہ10 جون 2011ئ) کو بتایا کہ جب انہوں نے شہزادکی گمشدگی کی خبرسنی تو اپنے ذرائع سے ٹوہ لینے کی کوشش کی اور ”قابل اعتماد“ ذرائع نے انہیں بتایاکہ شہزاد انٹر سروسزانٹیلیجنس کے ایجنٹس کی تحویل میں ہیںاور وہ پیر (30مئی)کی رات تک گھر پہنچ جائیں گے۔ دایان حسن نے بتایا کہ شہزادکے گھروالوں کوبھی ایسی ہی یقین دہانی کرائی گئی۔ پیرکو شہزادکی اہلیہ کو مبینہ طورپر ایک گمنام کال موصول ہوئی جس میں کہاگیا کہ ان کے شوہراگلے 24 گھنٹے کے اندر گھر پہنچ جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔31 مئی کو ان کی کاراورگھڑی اسلام آباد سے تقریباً100 کلومیٹر کے فاصلہ پر ملی۔ جبکہ اس مقام سے کئی کلومیٹردور ایک نہر سے ان کی لاش ملی۔ ان کے چہرے اورجسم پرتشدد کے نشانات تھے اورانہیں سینہ پر ضرب لگاکر ہلاک کیاگیا تھا۔ 40 سالہ شہزاد اور پراسرارحالات میں موت کا شکارہونے والے پاکستانی صحافی کی ہلاکت کی یہ تازہ ترین واردات تھی۔ 2010ءسے اب تک 15پاکستانی صحافی ہلاک کیے جاچکے ہیں جس کے نتیجہ میں ”ماہ رائے سرحدرپورٹر“ کے مطابق اس پیشہ سے تعلق رکھنے والوں کے لیے پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک بن گیاہے۔ تین بچوں کا باپ شہزاد انتہائی خطرناک نوعیت کے واقعات رپورٹنگ کررہا تھا اور ایسی خبریں دے رہا تھا جو کسی اور نے نہیں دی تھیں۔ 2008ءمیں اس نے پاکستانی طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود کا انٹرویو لیا تھا جو اگلے ہی سال ڈرون حملہ میں ماراگیا۔ دوسال قبل شہزاد نے القاعدہ جہاد کی تنظیم سے منسلک الیاس کشمیری کا انٹرویولیا تھا جس کے بارے میں خیال ہے کہ 2008ءمیں ممبئی میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی اس نے کی تھی جس کے نتیجہ میں 160 سے زائد لوگ مارے گئے تھے۔ سلیم شہزادکی تازہ ترین کتاب "Inside alqaeda and taliban Beyond binladen and 9/11" شائع ہوگئی ہے۔ اپنی گمشدگی سے صرف دو دن قبل انہوں نے کراچی میں مہران نیول ایئراسٹیشن پر 22 مئی کے ہلاکت خیز حملے کے بارے میں ایشیا ٹائمز آن لائن پر ایک خبر چلائی تھی جس کے مطابق کراچی میں 22 مئی کو مہران نیول ایئر اسٹیشن پر حملہ القاعدہ نے اس وقت کیا جب بحریہ اور القاعدہ کے درمیان القاعدہ سے روابط کے شبہ میں بحریہ کے گرفتار افسران کی رہائی کے لیے ہونے والی بات چیت ناکام ہوگئی۔ پاکستان کے تقریباً سب ہی ٹی وی نیوز چینلز نے شہزاد کے اغواء اور موت کا ذمہ دار آئی ایس آئی کو ٹھہرایا۔ آئی ایس آئی اور پاکستان کی دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں پرخاصے عرصہ سے لوگوں کو ہراساں کرنے کے علاوہ کسی پابندی کو خاطرمیں لائے بغیر کھری کھری سنانے اور تعاون نہ کرنے والے رپورٹرز اورسیاستدانوں کے اغواءکے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ملک کے ایک بہت بڑے انگریزی اخبار”دی نیوز“کے رپورٹر عمرچیمہ کے بعض مضامین میں مسلح افواج پرتنقیدکی گئی تھی جس پر آئی ایس آئی نے انہیں خبردار بھی کیا تھا۔عمرچیمہ نے ”نیوزویک“ کو بتایا کہ ان لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور جوکچھ کہناچاہتے تھے وہ سب بہت اچھے طریقے سے کہہ دیا۔ جو کچھ میں نے سنا اس سے میں نے بھانپ لیاکہ آئندہ ان سے کسی اچھے رویہ کی توقع نہیں رکھنی چاہیے اور اب وہ زیادہ سخت انداز اور درست رویہ کا مظاہرہ کریں گے۔ 4 ستمبرکو عمرچیمہ اسلام آباد میں ایک ڈنرمیں شرکت کے بعد گھرواپس جارہے تھے کہ چار افراد نے ان کی کار روکی ۔یہ لوگ کمانڈو طرز کی سیاہ قمیض پہنے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے چیمہ کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور ایک مکان میں لے گئے جہاں ان کو لباس سے محروم کردیا گیا اور زدوکوب کیاگیا۔ پھرتوہین آمیز اور شرمناک زاویوں سے ان کی ویڈیو بنائی گئی۔ چیمہ کو یقین ہے کہ یہ لوگ آئی ایس آئی سے تعلق رکھتے تھے۔ آئی ایس آئی کے مسلسل انکار اور تردید کے باوجود چیمہ کویقین ہے کہ ان ہی لوگوں کی کارروائی تھی تاہم چیمہ کہتے ہیں کہ شہزاد کے قتل کا الزام آئی ایس آئی پرعائد کرنے میں عجلت اور جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ القاعدہ اورطالبان سے متعلق خبروں کے حصول اور ترسیل پرمامورتھے اس لیے ممکن ہے کہ ان ہی لوگوں نے انہیں قتل کیاہو۔ لیکن اگریہ آئی ایس آئی کاکام نہیں تو پھر آئی ایس آئی کو ان لوگوں کی نشاندہی ضرورکرنی چاہیے جو شہزادکے قتل کے ذمہ دار ہیں کیونکہ آئی ایس آئی یقیناً ان لوگوں کا سراغ لگا سکتی ہے۔ عمرچیمہ اب خود اپنے تحفظ کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ فکرمند ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ظاہر ہے میں خود کو بہت کمزوراور بے بس محسوس کرتا ہوں۔ ہمیں ایک آزادانہ طور پر کام کرنے والے کمیشن کی ضرورت ہے جوشہزاد کی موت کے بارے میں تحقیقات کرسکے۔ گزشتہ اکتوبر میں آئی ایس آئی کے اسلام آباد ہیڈکوارٹرمیں اپنی طلبی کے بعد سے شہزادہ کو خود اپنے اور اپنی فیملی کے تحفظ کے بارے میں خوف لاحق ہوگیا تھا چنانچہ اگلے ہی دن انہوں نے ہیومن رائٹس واچ کے حسن کو ایک ای میل بھیجی تھی جس میں آئی ایس آئی میڈیا ونگ کے ڈائریکٹرجنرل ریئرایڈمرل عدنان نذیر اور ان کے نائب کموڈور خالد پرویز کے ساتھ اپنی ملاقات کی روداد بیان کی گئی تھی۔ آئی ایس آئی کے ان افسران نے شہزاد سے ایشیا ٹائمز میں ان کے تحریرکردہ اس مضمون کی وضاحت طلب کی تھی جس میں یہ الزام عائد کیاگیا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان کے سابق سیکنڈ ان کمانڈ ملاعبدالغنی برادرکو رہا کر دیا ہے جنہیں گزشتہ سے پیوستہ سال فروری میں گرفتارکیاگیا تھا ۔شہزادکے بیان کے مطابق ریئرایڈمرل عدنان نذیرکا کہناتھا کہ یہ خبر ملک کے لیے بڑی خفت کا سبب بنی ہے انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ شہزاد اپنے مضمون کے ذریعہ تحریری طورپر اس الزام کی تردید کریں۔ تاہم شہزاد نے یہ مشورہ قبول کرنے سے انکارکر دیا اور اس تجویز کو ناقابل عمل قرار دے کر اسے مسترد کردیا۔ انہوں نے کہاکہ مجھے یہ خبرانٹیلی جنس ہی کے ایک ذریعہ یعنی آئی ایس آئی ایجنٹ سے ملی ہے اور طالبان کے قابل اعتماد ذرائع نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ شہزاد کی ای میل میں کہا گیا تھا کہ آئی ایس آئی حکام کے ساتھ یہ گفتگو انتہائی نرم اور دوستانہ ماحول میں ہوئی لیکن آخرمیں عدنان نذیر نے دھمکی آمیز لب ولہجہ میں شہزاد سے کہاکہ حال ہی میں آئی ایس آئی نے ایک دہشت گردکو گرفتارکیاہے جس کے قبضہ سے بہت سی چیزیں برآمد ہوئی ہیں جن میں ایک ”ہٹ لسٹ“ بھی شامل ہے اور اگر مجھے اس لسٹ میں آپ کا نام ملا تو میں یقیناً آپ کو اس کی اطلاع دوں گا“ حسن کو ارسال کردہ ای میل میں شہزاد نے لکھا تھا کہ میں آپ کو یہ ای میل صرف خیال سے ارسال کررہا ہوں کہ مستقبل میں اگر میرے یا میری فیملی کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے تو آپ کے پاس اس کا ریکارڈ موجود ہو۔ حسن کے بیان کے مطابق شہزادکاکہنا تھا کہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزمیں ہونے والی اس ملاقات کے بعد اس کا تعاقب کیاجاتا رہا اور ٹیلی فون پر دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ مگر شہزاد کے لیے یہ سب کچھ زندگی کا معمول بن چکاتھا اور وہ اپنا کام کرتا رہا۔ حسن کا کہناہے کہ شہزاد کے قتل کا الزام آئی ایس آئی پر عائد کرنا ابھی بہت قبل ازوقت بات ہے مگر ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اس بارے میں جن پرشبہ کیاجاسکتاہے ان میں ڈائریکٹریٹ سرفہرست ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ انہیں آئی ایس آئی نے ہی ہلاک کیاہے مگر جس انداز سے انہیں ہلاک کیاگیا وہ قتل کی ان دیگر وارداتوں کے اندرسے پوری مطابقت رکھتاہے جن میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا قابل اعتبار ثبوت موجودہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی فوجی یا انٹیلی جنس اہلکار کو کبھی ان جرائم کی کوئی سزا نہیں ملی جن کے وہ مرتکب رہے ہوں۔ حسن نے خود اپنے تحفظ کے بارے میں سوال پرکہاکہ”تااطلاع ثانی میں بھی بالکل ٹھیک ہوں“اس انکشاف کے بعد کہ ملک کی صف اول کی ملٹری اکیڈمی سے کچھ ہی فاصلہ پر اسامہ بن لادن آرام دہ اور پُرسکون زندگی گزاررہے تھے ‘ آئی ایس آئی دفاعی اندازاختیار کرنے پرمجبورہوگئی ہے۔ شہزادکی سخت ‘ مشکل اور خطرناک خبر رسانی کی ذمہ داریوں کے حوالے سے پاکستانی صحافیوں نے اس خدشہ کا اظہارکیاہے کہ ممکن ہے کہ آئی ایس آئی نے انہیں ڈائریکٹریٹ پرنکتہ چینی سے باز رکھنے اورخوفزدہ کرنے کی غرض سے شہزاد کو عبرت کی مثال بنادینے کا فیصلہ کیاہو ۔ ایک پاکستانی صحافی نے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پرکہاکہ آئی ایس آئی ملک کے اندر اور بیرون ملک بھی شدید تنقید کی جارہی ہے اس لیے شاید یہاں ابلاغ کے دیگر ذرائع کو خوف وہراس سے دوچارکرنے کے لیے ایک صحافی کے خون سے رنگین یہ پیغام دیاگیاہو۔ گزشتہ بدھ کو آئی ایس آئی کے ایک افسر نے یہ بیان دیاکہ سیدسلیم شہزاد کی افسوسناک اور الم انگیز موت پوری قوم کے لیے سخت تشویش کا باعث ہے مگر اس سانحہ کو ملک کی سیکورٹی ایجنسی کو ہدف بنانے اور بدنام کرنے کے لیے استعمال نہیں کیاجانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایس آئی اس گھناونے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے میں ہرممکن مدد کے لیے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی کے انفارمیشن منیجمنٹ ونگ کی جانب سے اکتوبرمیں سلیم شہزاد سے ہونے والی ملاقات کے موقع پر کسی بھی قسم کی ڈھکی چھپی یا کھلی دھمکیاں نہیں دی گئیں۔ اس ملاقات کا مقصد انہیں قومی سیکورٹی کے معاملات کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا تھا۔ آئی ایس آئی مختلف اداروں اورافراد کے حوالے سے موصولہ دھمکیوں کے بارے میں بھی انہیں ضرورآگاہ کرتی ہے۔ شہزادکی ہلاکت میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے الزامات بالکل بے بنیادہیں۔ نیوزویک رپورٹ کے مطابق سلیم شہزاد کی بیوہ انیقہ سلیم شدید صدمے اوربے یقینی کی کیفیت سے دوچارہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج کرانا چاہتی ہیں اور نہ ہی کسی ادارے یا تنظیم کو مورد الزام ٹھہرانا چاہتی ہیں اورنہ لاش کے تجزیہ (اٹاپسی)کی کوئی ضرورت ہے۔ وہ اس بات پر مصرہیں کہ ہرمعاملہ ان کے شوہرکے ساتھ ہی دفن ہوجانا چاہیے۔ ٹی وی کے خبرنامہ میں اپنے شوہرکی بری طرح مضروب لاش کے مناظر پرتبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ”ذرا دیکھیے توسہی انہوں نے میرے خوبروشوہرکا کیاحال کردیاہے“!

بےباک
06-15-2011, 08:14 AM
سیما جی ، یہ خبر دردناک ہے ،
ہمارے ملک کے حالات دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں قانون نام کا نہیں ،
کسی بھی محکمہ کو لے لیں ، مسلسل کرب کی زندگی پاکستانیوں کے نصیب میں ہے ، ایک سے ایک گندہ سیاست دان اور پھر اس کے بعد حکومتی محکمہ جات منافق اور صرف مطلبی ۔
محاسبہ اور گرفت کا نہ ہونا ایک بہت بڑا مسلہ ہے ،
صحافیوں کے قتل کرنے والے جانتے تھے اور انہوں نے آئی ایس آئی کو اس قتل میں ہر حالت میں ملوث کرنا ہے ، اس لیے ان کے گھر والوں کو فون کیا گیا ، اطلاع دی گئی اور یہ باور کرایا گیا کہ وہ آئی ایس آئی کی تحویل میں ہیں ، اور وہ نام استعمال کیے گئے جو کہ معروف تھے کہ یہ لوگ اسی محکمہ میں کام کرتے ہیں ، اب اس کو قتل کیا گیا ، تو سب سے پہلا نام آئی ایس آئی پر ہی لگے گا ،
کاش کوئی ایسا ادارہ وجود میں ہو جو سنجیدہ تفتیش کرے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے ،اور ہر ایسے جرم کے کرداروں کو کھلے عام سزا دلوائی جائے ،
،،،،،،،،،،،