PDA

View Full Version : ایک جگنو ہی سہی،



سیما
06-17-2011, 03:54 AM
ایک جگنو ہی سہی، ایک ستارا ہی سہی
شبِ تیرہ میں اجالوں کا اشارا ہی سہی

اک نہ اک روز اُتر جائیں گے ہم موجوں میں
اک سمندر نہ سہی اس کا کنارا ہی سہی

ہیں ابھی شہر میں ناموس پہ مرنے والے
جینے والوں کے لیے اتنا سہارا ہی سہی

جب یہ طے ہے کہ ہمیں جانا ہے منزل کی طرف
ایک کوشش ہے اکارت تو دوبارہ ہی سہی

اک تغیر تو ضروری ہے، کسی سمت بھی ہو
کچھ منافع جو نہیں ہے تو خسارا ہی سہی

ہم کو جلنا ہے بہر رنگ سحر ہونے تک
اک تماشا ہی سہی، ایک نظارا ہی سہی

اب کے ایسا بھی نہیں ہے کہ گنوا دیں سب کچھ
ہم کو حکمت میں کوئی بات گوارا ہی سہی

سعدؔ ہم ساتھ ہیں تیرے کسی مجبوری سے
کچھ نہیں ہے تو کوئی درد کا مارا ہی سہی

٭٭٭

اذان
06-17-2011, 04:22 AM
http://i53.tinypic.com/10o4dv8.gif
ویری نائس شیئرنگ

اذان
06-17-2011, 04:28 AM
جگنو
http://static.howstuffworks.com/gif/willow/firefly-info0.gif


جگنو کی روشنی ہے کاشانہ چمن میں - یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں

آیا ہے آسمان سے اڑ کر کوئی ستارہ - یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں

یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیرآیا - غربت میں آ کے چمکا گمنام تھا وطن میں

حسن قدیم کی یہ پوشیدہ اک جھلک تھی - لے آئ جس کو قدرت خلوت سے انجمن میں

چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی - نکلا کبھی گہن سے آیا کبھی گہن میں

پروانہ اک پتنگا جگنو بھی اک پتنگا
وہ روشنی کا طالب یہ روشنی سراپا

(علامہ محمّد اقبال)

بےباک
06-17-2011, 09:57 AM
پروانہ

پروانے کي منزل سے بہت دور ہے جگنو
کيوں آتش بے سوز پہ مغرور ہے جگنو

جگنو

اللہ کا سو شکر کہ پروانہ نہيں ميں
دريوزہ گر آتش بيگانہ نہيں ميں

.................................................. ...............

جگنو کو دن میں پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے دور کے چالاک ہو گئے